...

Tuesday, 22 October 2019

October 17rh, 2019

What role does national honor and dignity plays in forming national politics?  What can Pakistan learn from Turkish example ...?


https://www.facebook.com/watch/?v=393653528253255

What role does national honor and dignity plays in forming national politics?
What can Pakistan learn from Turkish example ...?
Our brief analysis with anecdotes from history....

https://www.facebook.com/watch/?v=393653528253255

October 16th, 2019

‏کیسے کیسے ھیرے ھم سے کھو گیے۔۔۔۔⁦☹️⁩😓


آج آپکا یوم شہادت ھے۔ فاتحہ پڑھ کر ان کے لیے دعا کیجیے۔۔



 

‏کیسے کیسے ھیرے ھم سے کھو گیے۔۔۔۔⁦☹️⁩😓

آج آپکا یوم شہادت ھے۔ فاتحہ پڑھ کر ان کے لیے دعا کیجیے۔۔


https://www.facebook.com/syedzaidzamanhamid/posts/2448494271872036?__xts__%5B0%5D=68.ARD1JTfMgylcJg3qV4MHB8_y0cUHcY7HEoRLezHQi7TuaC__1uydz1m7EKgYQ862PxQs6L74oZaf8wPnCvClqPaBscuJTSMqzj4k3D6b86Jzqhy-4ySmCZpEbdMp-Q-Gq23UcIN-FyDY8ksR0hO1bDcKHiJMsO4lqv2So9YuVg0S4vvpSOfINzuLL3N10K5KYa-DKtXhHzbVot92gG4phAENrZm6wj843Y0lTHmMXILjJsGOed7L0gzefrJoJJJMtsbijUE8lWeLxe15dtuSKAi-eO40auTe2p6Xf0CLBJ5NlrCCr3lm_Z9kfTlYrPKE6uwp7iHq2CsAvsDkx4Ppomeedw&__tn__=-R

October 15th, 2019


بابا اقبالؒ نے بھی ہند کے مسلمانوں کی غلامانہ ذہنیت پر اللہ سے یوں شکوہ کیا تھا

لیکن مجھے پیدا کیا اس دیس میں تو نے

جس دیس کے بندے ہیں غلامی پر رضا مند!


آج آزادی کے 73 برس بعد، ہمارا بھی اللہ سے یہی شکوہ ہے



آزادی کے بعد قائداعظم نے ایک مرتبہ فرمایا تھا کہ جس کا مفہوم ہے کہ میری قوم آزاد تو ہوچکی ہے، مگر ذہنی طور پر ابھی بھی غلام ہے۔ اس کو احساس ہی نہیں ہے کہ یہ آزاد ہوچکے ہیں۔ جس دن اسے اپنی آزادی کا ادراک ہوگیا، پھر انہیں آسمان کی بلندیوں کوچھونے سے کوئی نہیں روک سکے گا۔

قائد کے اس فکر انگیز بیان کی تصدیق آج پاکستان کا پورا نظام اور معاشرہ کررہا ہے۔ اپنے سابق نو آبادیاتی آقاﺅں کے گلے سڑے اور ظالمانہ بوسیدہ نظام کو جس طرح یہ عقیدت اور محبت سے چوم کر سر پر سجائے ہوئے ہیں، یہ شیوہ صرف انہی غلاموں کا ہوتا ہے کہ جنہیں اس بات کا ادراک ہی نہیں کہ وہ آزاد کرادیئے گئے ہیں۔

1997 ءمیں ملکہءبرطانیہ نے پاکستان کا دورہ کیا۔ سابق غلام اپنی سابق آقا کے آگے بچھے چلے جارہے تھے، یہاں تک کہ پوری قوم کی نمائندگی کرنے والے سپیکر قومی اسمبلی نے بھری پارلیمان میں ملکہ کی موجودگی میں برملا اعتراف کیا کہ:
”We are still your loyal subjects“
ہم آج بھی آپ کے وفادار غلام ہیں۔۔۔

بابا اقبالؒ نے بھی ہند کے مسلمانوں کی غلامانہ ذہنیت پر اللہ سے یوں شکوہ کیا تھا:
لیکن مجھے پیدا کیا اس دیس میں تو نے
جس دیس کے بندے ہیں غلامی پر رضا مند!

آج آزادی کے 73 برس بعد، ہمارا بھی اللہ سے یہی شکوہ ہے!!!

ذہنی غلامی کا سب سے بڑا عذاب یہ ہوتا ہے کہ غلام اپنی غلامی پر نہ صرف راضی ہوجاتا ہے بلکہ ہر اس شخص کے خلاف بھڑک اٹھتا ہے کہ جو اس کو غلامی سے نجات دلانے کیلئے اذان دے۔
یورپ کی غلامی پہ رضا مند ہوا تُو
مجھ کو تو گلا تجھ سے ہے، یورپ سے نہیں ہے!
(اقبال)

ایک مرد آزاد کیلئے سب سے بڑی آزمائش ہی یہی ہے کہ اسے غلام ذہنیت اور ذلت وپستی میں لت پت قوم کو عزت و وقار و غیرت کا سبق پڑھانا ہوتا ہے۔ پستی کے کیڑوں کو وسعت افلاک میں تکبیر مسلسل کی معراج کی راہ دکھانی ہوتی ہے، اور پھر غلاموں کے ہاتھوں پتھر بھی کھانے ہوتے ہیں۔۔۔

تھا جو ’ناخوب‘ بتدریج وہی ’خوب‘ ہوا
کہ غلامی میں بدل جاتا ہے قوموں کا ضمیر

آج جب ہم قوم کو غیرت و حمیت و شجاعت کا سبق دیتے ہیں تو غلام ذہن آگے سے جواب دیتے ہیں:
”پہلے ملک کی معیشت ٹھیک کرلیں، پھر غیرت کی بات کریں گے۔“

صرف ایک بات ہمیشہ یاد رکھیے گا۔
مدینے کی وہ ریاست کہ جس نے انسانیت کے عظیم ترین انسان پیدا کیے، عادل ترین معاشرہ تیار کیا، اخلاقیات کی بلندی و عروج پر فائز تھی، غیرت و حمیت و جلال سے قیصر و قصریٰ کو شکست دی۔۔۔۔
وہ اپنے دور میں دنیا کی سب سے کمزور معیشت اور غریب ترین ریاست تھی!!!

https://www.facebook.com/syedzaidzamanhamid/posts/2445128358875294?__xts__%5B0%5D=68.ARD8eiCsIX_Tyr98sM5XMW6Ne--MDLkzkwZpTDXWvEjjgbbGYKadxi15h3w62q3DdYTYZjWPju1LeE2n7TRdX0OxAsInwnhuIYouiu3RFJqz5Js15xKyodEv4JbJAQMCD4rXq5vT8Qc_XKsR2DMc-C981n0cA8BbHI2M2bmkOfMadRPasE6sEmnk2IoTVw4gjOn12lw3sccZoU-cFL_kkSbV8wNUKxVV2prN-1Au6ERzUFl6-fV9EgCqWLTPdoLr44OB1BRF0UzST1nAsRC_tKMvbaOpM_uWJWaGhsjS5Pmt_gS9hThPZh-MaoduSWUUkrbOvMlTJwALQiRU7ktAvg&__tn__=-R



مدینے کی وہ ریاست کہ جس نے انسانیت کے عظیم ترین انسان پیدا کیے، عادل ترین معاشرہ تیار کیا، اخلاقیات کی بلندی و عروج پر فائز تھی، غیرت و حمیت و جلال سے قیصر و قصریٰ کو شکست دی۔۔۔۔

وہ اپنے دور میں دنیا کی سب سے کمزور معیشت اور غریب ترین ریاست تھی!!!




صرف ایک بات ہمیشہ یاد رکھیے گا۔
مدینے کی وہ ریاست کہ جس نے انسانیت کے عظیم ترین انسان پیدا کیے، عادل ترین معاشرہ تیار کیا، اخلاقیات کی بلندی و عروج پر فائز تھی، غیرت و حمیت و جلال سے قیصر و قصریٰ کو شکست دی۔۔۔۔
وہ اپنے دور میں دنیا کی سب سے کمزور معیشت اور غریب ترین ریاست تھی!!!‏ذہنی غلامی کا سب سے بڑا عذاب یہ ہوتا ہے کہ غلام اپنی غلامی پر نہ صرف راضی ہوجاتا ہے بلکہ ہر اس شخص کے خلاف بھڑک اٹھتا ہے کہ جو اس کو غلامی سے نجات دلانے کیلئے اذان دے۔
یورپ کی غلامی پہ رضا مند ہوا تُو
مجھ کو تو گلا تجھ سے ہے، یورپ سے نہیں ہے!
(اقبال)‏1997 ءمیں ملکہء نے پاکستان کا دورہ کیا۔ سابق غلام اپنی سابق آقا کے آگے بچھے چلے جارہے تھے، یہاں تک کہ پوری قوم کی نمائندگی کرنے والے سپیکر قومی اسمبلی نے بھری پارلیمان میں ملکہ کی موجودگی میں برملا اعتراف کیا کہ:
”We are still your loyal subjects“
ہم آج بھی آپ کے وفادار غلام ہیں

https://www.facebook.com/syedzaidzamanhamid/posts/2445546828833447?__tn__=-R

October 14th, 2019

آج جو آپ پاکستان اور بھارت کے بیچ نسبتاً ٹہراﺅ دیکھ رہے ہیں، یہ دراصل ایک بڑے طوفان کی آمد سے پہلے کی خاموشی ہے۔ امن پسندی اور عدم تشدد کی نفسیات سے پاکستان کی قیادت کے کچھ بھی ہاتھ نہیں آئے گا۔ بلکہ یہ ممکنہ بھارتی حملے کی صورت میں قوم کو شدید نقصان پہنچانے کا باعث ہوگا


عالمی جغرافیائی سیاست کی بساط
تحریر: سید زید زمان حامد
ترجمہ: ابو حذیفہ

مشرق وسطیٰ میں اس وقت عقل کو چکرا دینے والا فساد و انتشار برپا ہے۔ یہ دور دجل و فریب، جھوٹی اطلاعات کی نشرواشاعت اور نفسیاتی جنگ کا ہے۔ جہاں سحر سامری کے جدید حربے انسان کے ذہن کو غلام بنانے کا کام دے رہے ہیں۔جس میں میڈیا جدید ترین اور وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے والا سب سے مہلک ہتھیار ہے۔ سی این این، بی بی سی، فاکس وغیرہ محض نیوز چینلز ہی نہیں ہیں، یہ ابلاغی جنگ میں ان جدید نفسیاتی ہتھیاروں سے لیس پلیٹ فارمز ہیں کہ جو ایٹمی ہتھیاروں کی طرح وسیع پیمانے پر تباہی پھیلارہے ہیں۔اگر آپ پوری طرح چوکنا نہیں ہیں تو یہ اپنے جھوٹے بیانیوں سے آپ کو مخمسے میں مبتلا کرکے نظریاتی تذبذب اور خوف کے اندھے کنویں میں دھکیل دیں گے۔ عام آدمی کیلئے میڈیا کے جھوٹ سے بچنا ناممکن ہے۔

عالمی جغرافیائی سیاست کا تجزیہ کرکے تہہ میں پہنچیں توپتہ چلے گا کہ مشرق وسطیٰ میں فساد اور افراتفری کا ایک ہی مقصد ہے اور وہ یہ ہے کہ ”عظیم تر اسرائیل“ کا قیام۔ باقی جو بھی انتشار جہاں بھی ہے، اسی ”عظیم مقصد“ کا شاخسانہ ہے۔اسرائیل کے دفاع اور تحفظ کیلئے اس کے گرد و پیش میں موجود تمام تر مسلم ممالک کا خاتمہ لازم ہے۔ اوراس کے دفاع اور تحفظ کیلئے یہ بھی اتنا ہی لازم ہے کہ کسی اسلامی ملک کے پاس جوہری ہتھیار بھی نہ ہوں۔اسرائیل اور بھارت کے اتحاد کا بھی یہی مقصد ہے اور آنے والے دنوں میں اسی اتحاد کی وجہ سے جنوبی ایشیاءمیں پاکستان اور بھارت کے درمیان ایک خونریز جنگ بھی برپا کی جائے گی۔

اگرچہ ترکی ایک جوہری طاقت نہیں ہے، لیکن وہ ماضی کی ایک شاندار تاریخ اور تہذیب کا امین ہے، لہذا اسرائیل کیلئے ترکی کو راستے سے ہٹانا بھی ضروری ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسرائیل اور امریکہ پوری عرب دنیا میں خلافت عثمانیہ کے احیاءکا خوف پیدا کرکے اسے ترکی کے خلاف متحرک کررہے ہیں۔

جنوبی ایشیاءمیں آر ایس ایس کی نازی جماعت کا ابھرنا اور اس کا اسرائیل کے ساتھ پاکستان کے خلاف اشتراک بھی اس سارے تناظر کا ایک منطقی نتیجہ ہے۔ کیونکہ پاکستان ہی اپنے جوہری ہتھیاروں، اسلامی نظریاتی اساس اور جنگ کی بھٹی میں تپائی گئی فوج کے ساتھ، اسرائیل کے وجود کو درپیش سب سے بڑا خطرہ ہے۔ اسی خطرے کے سدباب کیلئے آر ایس ایس کی قیادت میں بھارت کو جلد از جلد پاکستان کے خلاف مشن سونپا جانا لازمی تھا۔

دوسری طرف امریکہ کے بڑے تزویراتی اہداف میں : اسرائیل کا دفاع، مسلم دنیا کوجوہری طاقت سے محروم کرنا، اسلام کا بحیثیت ایک سیاسی قوت سدباب کرنا، زیادہ سے زیادہ قدرتی وسائل اور ایندھن کے ذرائع پر اختیار حاصل کرنا، پانی اور تجارتی راستوں پر اجارہ داری اور چین اور روس کی جغرافیائی و اقتصادی پیش رفت کے آگے بند باندھنا شامل ہیں۔

اسرائیل یہ سمجھتا ہے کہ وہ ابھی تک پوری طرح محفوظ نہیں ہوا،اگرچہ وہ یہ کہتا ہے کہ اسے اپنے ہمسایہ عرب ممالک سے اب کوئی خطرہ نہیں ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ جب تک پاکستان اور ترکی اپنی جوہری اور فوجی طاقت کے ساتھ اپنے پیروں پر کھڑے ہیں، اسرائیل کبھی بھی خود کو محفوظ تصور نہیں کرسکتا۔ اسی خطرے کا قلع قمع کرنے کیلئے اسرائیل، امریکہ۔عرب اتحاد کو ترکی کے خلاف، اوربھارت کو پاکستان کے خلاف استعمال کررہا ہے۔

یعنی اگر ہم حقیقت کی دنیا میں رہتے ہوئے صورتحال کا جائزہ لیں تو اسرائیل کو اپنی بقاءکیلئے مزید جنگوں کی ضرورت ہے اور اب یہ جنگیں شروع بھی ہوچکی ہیں۔ مشرقی وسطیٰ میں بھی اور جنوبی ایشیاءمیں بھی۔ پاکستان اورترکی کو گرانا اس مقصد کیلئے ناگزیر ہے، اور اس مقصد کے حصول کیلئے خلیجی ممالک، عرب دنیا اور بھارت کے تمام وسائل بروئے کار لائے جائیں گے۔

بھارت جانتا ہے کہ پاکستان اسرائیل کیلئے خطرہ ہے اور اسی اسرائیلی خوف کو آر ایس ایس کے صیہونی استعمال کرکے اپنے توسیعی مقاصد حاصل کرنا چاہتے ہیں کہ جن میں سرفہرست ”اکھنڈ بھارت“ کے دیو مالائی تصور کو عملی جامہ پہنانا ہے۔ اور جس کے لیے انہیں پاکستان سے ایک آخری اور نتیجہ خیز جنگ لڑنا ہوگی۔اسی مقصد کے حصول کیلئے بھارت اسرائیل کی دلالی کررہا ہے کہ جس کے صلے کے طور پراسے عالمی سطح پر امریکہ اور ا سکے حواریوں کی طرف سے تحفظ، اسلحہ اور ٹیکنالوجی مل رہی ہے، اور یہی وہ وجہ اور ضمانت ہے کہ جس کے بل بوتے پر مودی نے تمام تر دباﺅ کے باوجود نوے لاکھ کشمیریوں پر کرفیو نافذ کر رکھا ہے۔عالمی سیاست کا غنڈہ اسرائیل اپنے تمام تر سفارتی اثرورسوخ، اقتصادی طاقت اور وائٹ ہاﺅس میں اپنے اثر کو استعمال کرتے ہوئے پاکستان کے خلاف بھارت کی پوری طرح پشت پناہی کررہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ 70 دن کے شدید ظالمانہ کرفیو کے باوجود بھارت اس حوالے سے کوئی خاص دباﺅ محسوس نہیں کررہا۔

وزیراعظم عمران خان اپنی تمام تر نمائشی خود اعتمادی کے ساتھ بھی بھارت پر کوئی دباﺅ ڈالنے میں ناکام ہوچکے ہیں۔ اورا ب یہ صورتحال ہے کہ پاکستان کے پاس مزید چالیں چلنے کو بھی کچھ نہیں بچا، سوائے اس کے کہ اب انتظار کریں۔ یہ بات مودی کے لیے نہایت اطمینان کا باعث ہے کہ وہ کشمیر کے محاذ پر پاکستان کے خلاف سفارتی جنگ جیت رہا ہے۔ اس موجودہ صورتحال کو اگر بدلنا ہے تو پاکستان کو کوئی بہت بڑا غیرروایتی قدم اٹھاناہوگا۔ کچھ ایسا کرنا ہوگا کہ جو مودی کو اس قدر تکلیف میں مبتلا کردے کہ اسے اپنی موجودہ پالیسی بدلنی پڑے۔ بصورت دیگر مودی اپنے منصوبے کے اگلے مرحلے کی طرف پیش قدمی کرتا جائے گا، اور نتیجتاً ریاست پاکستان کا وجود ہی خطرے میں پڑسکتا ہے۔

اس سب سے یہ بھی اخذ ہوتا ہے کہ ہم جنگوں کے ایک طویل سلسلے میں داخل ہوچکے ہیں کہ جو مسلم ممالک کے قلب میں لڑی جائیں گی اور جس کی لپیٹ میں پاکستان سمیت پوری مسلم دنیا ہوگی۔ مشرق میں پاکستان سے لیکر مغرب میں ترکی تک، اور اس کے بیچوں بیچ مشرق وسطیٰ کا میدان جنگ، کہ جسے فتح کرنا اسرائیل کا سب سے بڑا خواب ہے۔

آج جو آپ پاکستان اور بھارت کے بیچ نسبتاً ٹہراﺅ دیکھ رہے ہیں، یہ دراصل ایک بڑے طوفان کی آمد سے پہلے کی خاموشی ہے۔ امن پسندی اور عدم تشدد کی نفسیات سے پاکستان کی قیادت کے کچھ بھی ہاتھ نہیں آئے گا۔ بلکہ یہ ممکنہ بھارتی حملے کی صورت میں قوم کو شدید نقصان پہنچانے کا باعث ہوگا۔پاکستان کی قیادت اور قوم کو یہ سمجھتا ہوگا کہ اب فیصلے کی گھڑی آن پہنچی ہے!!!

https://www.facebook.com/syedzaidzamanhamid/posts/2443549059033224?__tn__=K-R


October 13th, 2019

Indian RSS Zionists see the Israeli fear of Pakistan as a historic opportunity to regain their own mythical glory of "greater India" by waging a final war against Pak.

It is such a freaking mess in the Greater Middle East & South Asia region....its mind boggling actually..
This is the age of ultimate confusion, deception, disinformation, Psy-Ops & lies.....where magical illusion of Samri is used as a strategic weapon to enslave humanity....
Media is the new WMDs....weapons of mass deceptions..!
CNN, FOX, BBC etc....are not news channels....they are weaponized platforms of Information warfare...!
If you are not careful, they will destroy you with lies, confusion & fear.!
Ordinary human cannot identify their lies.

Complex Geo-politics actually break down to simplest of goals...for which the entire global turmoil is created...
Entire ME chaos is for ONE purpose only...to create Greater Israel!
Rest of the chaos are only the derivatives of this grand objective!!

Defense of security of Israel requires destruction of all Muslim lands around it. It also requires NO Muslim country has nuclear weapons. That reason creates an Israeli-India alliance against Pakistan & the next phase of Pak-India wars outside the greater Middle East region..

Turkey is potential threat for Israel, so it must be neutralized too......it is not a nuclear power yet but has a proud history & can be dangerous for Israel in future, so Israel/US mobilize entire Arab world against Turkey, playing on old fears of an Ottoman empire rising again.

In SouthAsia, rise of RSS Nazis created a natural alliance between Israel & India against Pakistan...the most mortal threat for Israel due to the nuclear weapons, Islamic ideology & a battle hardened army which can beat Israel.
RSS led India had to be deployed fast against Pak.

For the US, grand strategic goals are slightly wider.
Defense of Israel & denuclearization of Muslim world.
Control of Political Islam.
Control of global fuel assets & natural resources.
Control of global water ways/trade routes.
Containment of China.
Containment of Russia.

For India, now the goals are very well defined.....start their final march towards creation of a "Hindu Rashtra", or Hindu society...which requires elimination of 200 Million Indian Muslims from India & then destruction of Pakistan for creation of "Akhnad Bharat", greater India..

Israel is NOT secure yet, even though it says that a military threat to Israel from neighboring Arab lands is over. As long as Turkey & Pakistan are standing with nuclear weapons, Israel will never feel safe.
So, Arabs/US will be launched against Turkey & India against Pak.

So, lets come into the real world....
Israel need more wars...& so there shall be...both in the Middle East & in South Asia.
Both Pakistan & Turkey must be degraded & for that entire resources of Gulf Arabs/US as well as India will be deployed to serve Israeli interests.

Indian RSS Zionists see the Israeli fear of Pakistan as a historic opportunity to regain their own mythical glory of "greater India" by waging a final war against Pak.
For this, they are willing to do the bidding of Israel in return for global protection, weapons & technology.

This is the reason you see Modi is so confident in crushing the 9 million Kashmiris under a deathly curfew despite pressure. The global bully Israel, with all its diplomatic clout, financial powers & influence in the White House is fully backing India right now against Pakistan.

After 67 crushing days of curfew, there is NO pressure on India to lift it anytime soon. Pakistan has failed to generate any pressure on Delhi despite all the bravado & flamboyance of the PM IK.
Now Pak has ran out of options...& this is very satisfying for Modi. He is winning..

Now to break the status quo, Pakistan will have to embark on something radical. Something that inflict deep pain on Modi to force him to change his present posture.
Alternatively, Modi will move to the next phase of his plan very soon...threaten Pakistan's mainland !!

So lets make it very clear....
We have entered into an era of very long wars in the entire Muslim heartland...across the entire "Islamic Crescent" from Pakistan in the East to Turkey in the extreme West, with Middle East being the prize Israel wants to grab in this chaos.

The relative "peace" you see between Pakistan & India today is only a lull before a huge storm. Being "pacifists" will not help Pakistani leadership, in fact, it will sink the nation under a huge invasion that is coming. Pakistani leadership need to prepare the nation. Its time!!

~ Syed Zaid Hamid

https://www.facebook.com/syedzaidzamanhamid/posts/2439361572785306?__tn__=K-R