...
Showing posts with label Urdu. Show all posts
Showing posts with label Urdu. Show all posts

Monday, 12 October 2020

October 12th, 2020

 جب ساری تعلیم اردو میں ہوتی تھی

 

جب ساری تعلیم اردو میں ہوتی تھی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
رضا علی عابدی
آج کوئی مشکل ہی سے یقین کرے گا کہ جب بڑے علاقے پر انگریزوں کی حاکمیت قائم ہوگئی اور جدید علوم کی، جنہیں آپ چاہیں مغربی علوم کہہ لیں، تعلیم شروع ہوئی تو سارے مضامین اردو میں پڑھائے جاتے تھے۔ کیا سائنس، کیا ریاضی، کیا انجینئرنگ اور کیا زبانیں، سب اردو میں پڑھائی جاتی تھیں۔اس سلسلے میں دہلی کالج اور حیدرآباد دکن میں جو بے مثال کام ہوا ، دنیا اسے بھول چلی ہے جس کا دکھ ہوتا ہے۔ جب سارے علاقے میں عوام کی بہبود کے تعمیراتی کام شروع ہوئے تو سو دو سو نہیں، ہزاروں انجینئروں کی ِضرورت پڑی۔ ماہروں کی اتنی بڑی فوج انگلستان سے لانا ممکن نہ تھا۔ تب انگریزوں نے ہمالیہ کے دامن میں چھوٹے سے شہر روڑکی میں ایک بڑا اور جدید سول انجینئرنگ کالج قائم کیا۔ سڑکیں اور نہریں بنانے اور عمارتیں او رتار کا نظام قائم کرنے کے لئے ہندوستانی لڑکوں کو اردو میں تعلیم دینے کا فیصلہ کیا گیا۔ اس مقصد کے لئے ماہرین کی خدمات حاصل کر کے ان مضامین کی نصابی کتابوں کا اردو میں ترجمہ کرایا گیا۔ کالج میں اردو طباعت کا چھاپہ خانہ لگایا گیا اور اس طرح یہ بڑا کام چل نکلا۔
یہاں جی چاہتا ہے اس داستان کے کچھ دل چسپ پہلو بیان کئے جائیں۔سب سے پہلے دیسی ہیڈ ماسٹر مقرر کئے گئے۔ ریکارڈ میں ان کے نام ملتے ہیں: مُنّو لال،رام چندر،مدھو سُدن چٹر جی اور بہاری لال۔اسی طرح نائب ماسٹروں میں مسیح اﷲ، عبدالرحمان، اکبر بیگ، مودود حسین، فصیح الدین، تجمل حسین، رحیم بخش، عبدالغنی اور شیخ بیچا کے نام بھی ملتے ہیں۔یہ سلسلہ سنہ 1847سے 1871 تک جاری رہا۔ان میں کچھ سروے کے استاد تھے اور کچھ ڈرائنگ کے (میرے والد بھی نئی صدی کے آغاز میں ڈرائنگ ماسٹر ہی تھے)،شیخ بیچاتخمینے کے مضمون کے استاد تھے اور سترہ سال تک لڑکوں کو ایسٹیمیٹ پڑھاتے رہے۔
تھامسن انجینئرنگ کالج روڑکی میں کتابیں لکھنے اور چھاپنے کے کام پر آج کے اسکا لروں نے کافی تحقیق کی ہے۔بعض نے لکھا ہے کہ شروع میں ساری تعلیم لڑکوں کو انگریزی زبان میں دی جاتی تھی۔ مگر ہمارے پیش نظر کتاب کے مصنف ساجد صدیق نظامی نے بڑے وثوق سے لکھا ہے کہ یہ دونوں باتیں درست نہیں ۔ سچ تو یہ ہے کہ پہلے دن سے ہندوستانی لڑکوں کی تعلیم ہوئی اور ان کی نصابی کتابیں اردو ہی میں چھاپی جارہی تھیں۔ کالج کا اپنا چھاپہ خانہ سنہ 1850 کے آس پاس کام شروع کرچکا تھا۔یہ بھی لکھا گیا ہے کہ انجینئرنگ جیسے مضمون کی کتابیں ترجمہ کرنے کے لئے کالج میں ایک ترجمہ کمیٹی بھی مقرر کی گئی تھی۔کسی نے لکھا ہے کہ آزادی تک کالج میں مسلمانوں کا داخلہ تقریباً نا ممکن تھا۔ مگر کالج کے ایک پرانے کیلنڈرمیں سنہ 1872تک داخل ہونے والے لڑکوں کی مکمل فہرستیں ملتی ہیںجن سے معلوم ہوتا ہے کہ ہندو اور مسلمان طلبا کی تعداد تقریباً برابر تھی۔کالج کے قیام سے 1870تک ہندوستانی لڑکوں کو سارے مضمون اردو میں ہی پڑھائے جاتے تھے۔ اُس وقت جدید مضامین پر کچھ کتابیں دستیاب تھیں لیکن سول انجینئرنگ کی نصابی کتابوں کا کسی نے ترجمہ نہیں کیا تھا۔تحقیق سے پتہ چلتا ہے کہ اس موضوع پر بنیادی کتابوں کا ترجمہ روڑکی ہی میں شروع ہوا۔پہلے پہلے یہ کتابیں سکندرہ (آگرہ) کے آرفن پریس میں چھپتی تھیں، بعد میں کالج کا اپنا چھاپہ خانہ قائم ہوگیا۔
کالج کی زیادہ تر کتابیں دو استادوں نے ترجمہ کیں، وہ تھے منو لال اور بہاری لال۔ دونوں نے چھ چھ کتابیں اردو میں ڈھالیں۔ باقی کتابیں تیار کرنے والوں میں کنہیا لال، شنبھو داس اور شیخ بیچا کے نام شامل ہیں۔منو لال دہلی کے کائستھ تھے ۔ ان کے والد سوہن لال کو1857کی بغاوت میں انگریزوں کی مدد کے صلے میں بلند شہر کے تین گاؤں جاگیر کے طور پر ملے تھے۔خود منولال نے پہلے آگرہ کے انگلش اسکول میں تعلیم پائی جہاں سے وہ روڑکی آگئے اور تعلیم پوری کرکے یہیں پڑھانے لگے۔اسی دوران حیدرآباد دکن سے سالارجنگ نے روڑکی کالج کے پرنسپل کو لکھا کہ انہیں انجینئرنگ کے ایک استاد کی ضرورت ہے، جس پر منو لال کو وہاں بھیج دیا گیا۔ وہ حیدرآباد انجینئرنگ کالج کے نائب سربراہ مقرر ہوئے۔منولال نے حیدر آباد میں اینگلو ورنا کیولرگرلز اسکول قائم کیا جہاں 1885 میں پچاس ہندو او رچھبیس مسلمان لڑکیا ں تعلیم پا رہی تھیں۔تین سال بعد منو لال کی وفات ہوئی۔
دوسرے مصنف لالہ بہاری لا ل ہیں جو شروع ہی سے استاد کی حیثیت سے کام کر رہے تھے۔ انہوں نے سات کتابیں لکھیں۔اگلے مصنف کنہیا لال ہیں جن کی کتاب ًتاریخ پنجاب‘ آج تک یاد کی جاتی ہے۔وہ 1830 میں ایٹہ یو پی میں پیدا ہوئے ۔ ثانوی درجات کی تعلیم آگرہ میں پائی جس کے بعد روڑکی میں داخلہ لیا۔ تعلیم پوری کرنے پر لاہور میں سب اسسٹنٹ سول انجینئر مقرر ہوئے اور آخر وہیں ریٹائر ہوئے۔لاہور کا ریلوے اسٹیشن اور میو اسپتال ان ہی کی نگرانی میں تعمیر ہوا۔بہت کتابیں لکھیں جن میں گلزار ہندی، یادگار ہندی ، ظفر نامہ معروف بہ رنجیت نامہ، مناجا ت ہندی، اخلاق ہندی، تاریخ پنجاب اور تاریخ لاہور آج تک حوالے کے طور پر نظر آتی ہیں۔بعد میں کالج میں ان کے نام سے ایک انعام بھی جاری ہوا تھا۔ان کی انجینئرنگ کی کتابوں میں ’رسالہ در باب آلات پیمائش ‘ قابل ذکر ہے۔سڑکوں یا نہروں کی تعمیر میں بڑا موڑ آجائے تو کیا کرنا چاہئے، تفصیل سے بتایا گیا ہے۔اسی کتاب میں ایک جگہ ایسی بھی آتی ہے کہ’’جب کبھی ایسا اتفاق آپڑتا ہے کہ سڑک کی سیدھ میں کوئی گاؤں یا اچھا باغ یا کوئی مکان کہ جس کے گرادینے میں بہت نقصان ہوتا ہو، آجاتا ہے تو اس وقت گاؤں یا مکان کو کیسے بچانا چاہئے‘‘۔
اُس زمانے اور اُن لوگوں کے گزر جانے کے بعد حالات نے ایسی کروٹ بدلی کہ کچھ بھی پہلا جیسا نہ رہا ورنہ ہم تصور کر سکتے ہیں کہ یوں بھی ہوتا کہ ہم اور ہمارے بچے دنیا کا ہر مضمون اپنی زبان میں پڑھ رہے ہوتے اور جب پڑھ رہے ہوتے تو انہیں اچھی طرح معلوم ہوتا کہ کیا پڑھ رہے ہیں۔
اب تو یہ کسی دیوانے کا خواب لگتا ہے۔
نقل و ارسال...

 

https://www.facebook.com/syedzaidzamanhamid/posts/3400461743341946

 

 

اسلام آباد ک ایک محفل میں پاکستان کے ماضی حال اور مستقبل پر تفصیلی گفتگوی ہوئی۔۔
اللہ پاکستان کی خیر رکھے، پاکستان کی مسلح افواج کی آبرو سلامت رہے۔۔۔ پاکستان کو پیش آنے والے تمام خطرات کا تجزیہ اور ہماری ڈیوٹی اس حوالے سے۔۔۔

https://www.facebook.com/syedzaidzamanhamid/posts/3401016729953114




 

اسلام آباد ک ایک محفل میں پاکستان کے ماضی حال اور مستقبل پر تفصیلی گفتگوی ہوئی۔۔
یہ پہلی قسط ہے۔۔۔
اللہ پاکستان کی خیر رکھے، پاکستان کی مسلح افواج کی آبرو سلامت رہے۔۔۔ پاکستان کو پیش آنے والے تمام خطرات کا تجزیہ اور ہماری ڈیوٹی اس حوالے سے۔۔۔

https://www.facebook.com/syedzaidzamanhamid/posts/3401016729953114

Saturday, 10 October 2020

October 10th, 2010

 آہ ! اردو۔۔۔ ہوتا ہے دل سیپارہ

 

آہ ! اردو۔۔۔ ہوتا ہے دل سیپارہ

آپ کو معلوم ہے ناں کہ اردو زبان کو شروع کرنے کا حکم حضرت نظام الدین اولیائؒ نے حضرت امیر خسروؒ کو دیا تھا۔حضرت نظام الدین اولیائؒ کس دور میں تھے؟سن 1300 ءکے آس پاس، یعنی اردو کو شروع ہوئے تقریباً 750 سال ہوچکے ہیں۔تاریخی طور پر ہمیں یہ معلوم ہے کہ ٹیپو سلطان نے بھی اردو زبان کی سرپرستی کی تھی۔ مرزا دبیر اور مرزا انیس کے مرثیے 1750 ءکے آس پاس کے ہیں، کہ جو آج بھی محرم کی مجلسوں میں پڑھے جاتے ہیں۔انگریزوں نے 1801 ءمیں فورٹ ولیم کالج میں ”اردو کالج“ قائم کیا تھا۔تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ اردو اپنے آغاز سے لیکر 1857 ءتک تقریباً 550 سال پرانی اور مستند زبان بن چکی تھی، کہ جس میں اعلیٰ ترین کلام، تاریخ، شاعری اور ادب اپنی معراج کو پہنچ چکا تھا۔ مرزا غالب اور میر تقی میر کا دور بھی 1857 ءکے آس پاس کا ہی ہے۔1300ءسے لیکر 1857 ءتک اردو زبان میں پوری تاریخ اسلام، قرآن و حدیث و تفسیر، اور دیگر معاشرتی علوم مسلمانوں کو پڑھائے جاتے رہے۔ یقیناً ہزاروں لاکھوں کتابیں ان 550 سالوں میں لکھی گئی ہونگی۔

ذرا غور کریں۔ یہ لاکھوں کتابیں آج کہاں غائب ہوگئیں۔۔۔؟

یہ ہماری تاریخ کا ایک ایسا دردناک پہلو ہے کہ جس کی تاریخ ہی مٹا دی گئی ہے۔ 1857 ءکی جنگ آزادی کے بعد انگریزوں نے لاکھوں کی تعداد میں اسلامی کتب کہ جس میں عربی، فارسی اور اردو کی لاکھوں قیمتی، ہاتھ سے لکھی ہوئی دستاویزات تھیں، کو جلا کر راکھ کردیا تھا۔آج پوری دنیا میں آپ کو 1857 ءکے بعد کی چھپی ہوئی تو اردو کی کچھ کتابیں تو مل جاتی ہیں، مگر 1857 ءسے پہلے 550 سال کی تاریخ میں ہاتھ سے لکھی گئی اردو کی کوئی کتاب ہی نہیں ملتی۔ یہ کیسے ممکن ہے کہ کتابوں کو آسمان کھا جائے، یا زمین نگل جائے۔جنگ آزادی کے بعد انگریزوں نے مسلمانوں سے جو انتقام لیا اس میں پوری اسلامی تہذیب کو ہی جلا کر راکھ کردیا گیا۔ ہزاروں علماءاور اشرافیہ کو قتل کیا گیا، مدرسے تباہ کیے گئے، لاکھوں کتابیں جلائیں گئیں اور اس ظلم کی تاریخ لکھنے پر بھی پابندی لگادی گئی۔انگریزوں کے دور میں تو پورے ہندوستان میں کسی کی مجال نہیں تھی کہ مسلمانوں کے خلاف ہونیوالے ظلم کو تحریر کرکے کوئی کتاب لکھ سکتا۔ جنہوں نے اپنی آنکھوں سے اس ظلم کو ہوتے دیکھا، وہ چند سالوں میں اس دنیا سے گزر گئے۔ آنے والی نسلوں نے صرف انگریزوں کی غلامی دیکھی۔علامہ اقبالؒ اسی بات پر آنسو بہاتے تھے کہ:

وہ علم کے موتی وہ کتابیں اپنے آباءکی

جو دیکھیں ان کو یورپ میں تو دل ہوتا ہے سیپارہ

عیسائیوں نے اندلسیہ میں مسلمانوں کی لکھی سائنس کی کتب تو ترجمہ کرلیں، مگر ہندوستان میں اردو زبان کو مکمل تباہ کردیا۔ہوسکتا ہے کہ اردو زبان کی ہاتھ سے لکھی ہوئی پرانی کتب کسی کتب خانے میں، عجائب گھر میں یا کسی کی ذاتی لائبریری میں ایک آدھ رکھی ہو۔۔۔ مگر انتہائی تلاش کے باوجود مجھے ذاتی طور پر 1857ءسے پہلے لکھی گئی اردو کی کوئی کتاب آج تک نہیں ملی۔اور قوم کو اس ظلم کا احساس ہی نہیں ہے۔

آج اردو زبان اس ظلم کے باوجود بھی عالم اسلام کی دوسری بڑی نمائندہ زبان ہے۔ بنگلہ دیش سے لیکر ہندوستان، پاکستان، افغانستان، سری لنکا اور اب خلیج کے تمام ممالک میں بولی اور سمجھی جاتی ہے۔مگر المیہ یہ ہے کہ پاکستان میں یہ زبان ظلم کی حد تک رسوا کی جارہی ہے۔

زبانیں بھی پھلدار درختوں اور باغیچوں کی طرح ہوتی ہیں۔ ان کی آبیاری کی جائے تو پھلتی پھولتی ہیں، اپنی خوشبو اور پھل دیتی ہیں، ورنہ اجڑنے لگتی ہیں اور آخر میں سوکھ کر مر جاتی ہیں۔ہمارے پاس اب جو اردو باقی ہے، وہ صرف 1857 ءسے لیکر آج تک کی ہے۔1947 ءکے بعد جو بچی کھچی اردو زبان ہمارے حوالے کی گئی، ہم اس کا بھی حق نہ ادا کرسکے۔

سائنس اور ٹیکنالوجی کی جدید اصطلاحات کو اردو میں ترجمہ نہ کیا، لہذا انگریزی کے محتاج رہے۔حالانکہ تمام حکومتی معاملات اور معاشرتی علوم بہت آسانی سے اردو زبان میں چلائے جاسکتے تھے۔

دنیا کی تمام قوموں نے سائنس اور ٹیکنالوجی کو اپنی اپنی زبانوں میں ترجمہ کرکے اپنی قوم کو اپنی ہی زبان میں تعلیم دی ہے۔روسی ہوں یا چینی، ترک ہوں یا عرب، ایرانی ہوں یا ہسپانوی۔۔۔ کسی کو یہ شکایت نہیں ہے کہ ان کی قومی زبان سائنس اور ٹیکنالوجی کے معاملے میں مجبور و مسکین ہے۔

ہمیں یاد ہے کہ اپنے بچپن میں ہمارے سکول میں کلاس ون، ٹو اور تھری وغیرہ نہیں ہوتے تھے، بلکہ جماعت اول، دوئم، سوئم، چہارم اور پنجم ہوتے تھے۔ہم نے پہاڑے بھی اردو میں یاد کیے تھے، جیومیٹری بھی اردو میں تھی۔زاویہءقائمہ، Right Angle Triangle تھا۔

80 کی دہائی کے بعد تو اردو زبان کو پاکستان میں مکمل طور پر یتیم کردیا گیا۔ اب اردو کو عزت دینا تو دور کی بات، اسے سرکاری طور پر سربازار رسوا کیا جاتا ہے۔”کانسٹیٹیوشن ایونیو“ ہے۔۔۔ مگر ”شاہراہ دستور“ نہیں۔اردو لکھنا تو دور کی بات، یا رومن اردو ہے یا اردو میں انگریزی۔

کسی بھی قوم کا عروج و زوال اور دنیا میں اس کی عزت و غیرت، اس کے زر مبادلہ کے ذخائر کی وجہ سے نہیں، بلکہ اس وجہ سے ہوتی ہے کہ وہ کس قدر اپنی تاریخ، نظریہئ، روایات، اقدار، زبان، ثقافت اور تہذیب کے معاملے میں حساس ہے۔ہر عظیم قوم میں آپ یہ خوبی پائیں گے، اورہر خوار قوم ان سے محروم ہوگی۔جو قوم اپنی تاریخ گم کر بیٹھے، اپنی زبان کو ترک کردے، پھر چاہے کتنی مالدار ہی کیوں نہ ہوجائے، اس کے نصیب میں صرف ذلت و رسوائی ہی ہوتی ہے۔انگریزی زبان سے ہمارا رشتہ صرف غلامی کا ہے۔ جبھی ہماری پارلیمان کا اسپیکر ملکہ کو مخاطب کرکے کہتا ہے:”ہم آج بھی آپ کے غلام شہری ہیں“۔

ریاست مدینہ دنیا کی سب سے مسکین اور غریب ترین ریاست تھی، مگر دنیا کی سب سے زیادہ معزز، غیرت مند، دلیر اور عدل و انصاف کی حامل ریاست۔ریاست مدینہ کا مطلوب معیار زندگی بلند کرنے کی بجائے، معیار انسانیت کو بلند کرنا تھا۔

اپنی تاریخ، زبان، تہذیب، تمدن، اخلاقیات اورروایات کی حفاظت کرنے کے لیے کوئی مال و دولت کی ضرورت نہیں، صرف نیت و غیرت و حکمت چاہیے۔ اگر اردو ہم سے گم گئی، تو سمجھو سب کچھ ہم سے گم گیا۔اردو ایک زبان نہیں، ہماری غیرت، ہماری شناخت اور ہمارے دین و تہذیب و تمدن کی محافظ ہے۔انگریزی ضرور سیکھیں، مگر یہ کس بدبخت نے کہا ہے کہ اردو کو تباہ کردیں؟انگریزی کی ضرورت ہمیں فی الحال صرف سائنس و ٹیکنالوجی کیلئے ہے، کہ اردو کو یہاں پھلنے پھولنے کی ضرورت ہے۔ ورنہ ریاست و عدالت و حکومت کا تمام کام اردو زبان میں کیا جاسکتا ہے۔

جس دن آپ یہ دیکھیں کہ ریاست پاکستان کا پورا نظام اردو زبان میں چلایا جانے لگا ہے، اس دن آپ یہ سمجھ لیں کہ صحیح معنوں میں آزاد اور غیرت مند حکمران آج اس ملک کو ملے ہیں۔غلاموں، بے شرموں، بے غیرتوں اور ملک کے نوکروں کے نصیب میں یہ سعادت ہے ہی نہیں۔۔۔!!!

 

Thursday, 24 September 2020

September 24th, 2020

 اردو کا جنازہ ہے, ذرا دھوم سے نکلے

 

*⭕ اردو کا جنازہ ہے, ذرا دھوم سے نکلے*
*نصاب* کو *کورس* کہا جانے لگا
اور اس کورس کی ساری کتابیں *بستہ* کے بجائے *بیگ* میں رکھ دی گئیں۔
*ریاضی* کو *میتھس* کہا جانے لگا۔
*اسلامیات* ......
*اسلامک سٹڈی* بن گئی-
*انگریزی کی کتاب* *انگلش بک* بن گئی- اسی طرح .....
*طبیعیات*، *فزکس* میں'
*معاشیات،* *اکنامکس* میں، *سماجی علوم*، *سوشل سائنس*
میں تبدیل ہوگئے-
پہلے *طلبہ پڑھائی کرتے تھے*
اب *اسٹوڈنٹس سٹڈی کرنے لگے*۔
*پہاڑے* یاد کرنے والوں کی اولادیں *ٹیبل* یاد کرنے لگیں۔
*اساتذہ کیلیے میز اور کرسیاں لگانے والے، ٹیچرز کے لیے ٹیبل اور چئیرز لگانے لگے۔*
*داخلوں کی بجائے* *ایڈمشنز ہونے لگے* ۔....
*اول، دوم، اور سوم* آنے والے *طلبہ*؛
*فرسٹ، سیکنڈ، اور تھرڈ* آنے والے *سٹوڈنٹ* بن گئے۔
پہلے اچھی کارکردگی پر *انعامات* ملا کرتے تھے پھر *پرائز* ملنے لگے۔
بچے *تالیاں پیٹنے* کی جگہ *چیئرز* کرنے لگے۔
*یہ سب کچھ سرکاری سکولوں میں ہوا ہے۔*
باقی رہے پرائیویٹ سکول، تو ان کا پوچھیے ہی مت۔
ان کاروباری مراکز تعلیم کیلیے کچھ عرصہ پہلے ایک شعر کہا گیا تھا،
*مکتب نہیں، دکان ہے، بیوپار ہے*
*مقصد یہاں علم نہیں، روزگار ہے۔*
اور تعلیمی اداروں کا رونا ہی کیوں رویا جائے، *ہمارے گھروں میں بھی اردو کو یتیم اولاد کی طرح ایک کونے میں ڈال دیا گیا ہے۔*
*زنان خانہ اور مردانہ تو کب کے ختم ہو گئے۔*
*خواب گاہ* کی البتہ موجودگی لازمی ہے تو اسے ہم نے *بیڈ روم* کا نام دے دیا۔
*باورچی خانہ کچن بن گیا اور اس میں پڑے *برتن کراکری کہلانے لگے*۔
*غسل خانہ* پہلے *باتھ روم* ہوا پھر ترقی کر کے *واش روم* بن گیا۔
*مہمان خانہ یا بیٹھک* کو اب *ڈرائنگ روم* کہتے ہوئے فخر محسوس کیا جاتا ہے۔
مکانوں میں *پہلی منزل* کو *گراونڈ فلور* کا نام دے دیا گیا اور *دوسری منزل* کو *فرسٹ فلور۔*
*دروازہ* اب *ڈور* کہلایا جانے لگا،
پہلے مہمانوں کی آمد پر *گھنٹی* بجتی تھی اب *ڈور بیل* بجنے لگی۔
*کمرے* کب کے *روم* بن گئے۔
کپڑے *الماری* کی بجائے *کپبورڈ* میں رکھے جانے لگے۔
*"ابو جی" یا "ابا جان"* جیسا پیارا اور ادب سے بھرپور لفظ دقیانوسی لگنے لگا، اور ہر طرف *ڈیڈی، ڈیڈ، پاپا، پپّا، پاپے* کی گردان لگ گئی حالانکہ پہلے تو پاپے(رس) صرف کھانے کے لئے ہوا کرتے تھے اور اب بھی کھائے ہی جاتے ہیں-
اسی طرح ....
*شہد کی طرح میٹھا* لفظ *"امی" یا امی جان* اب تو *"ممی" اور مام* میں تبدیل ہو گیا۔
سب سے زیادہ نقصان رشتوں کی پہچان کا ہوا۔
*چچا، چچی، تایا، تائی، ماموں ممانی، پھوپھا، پھوپھی، خالو خالہ* سب کے سب *ایک غیر ادبی اور بے احترام سے لفظ "انکل اور آنٹی"* میں تبدیل ہوگئے۔
بچوں کے لیے ریڑھی والے سے لے کر سگے رشتہ دار تک سب انکل بن گئے۔
یعنی *محمود و ایاز ایک ہی صف میں کھڑے ہوگئے۔*
ساری *عورتیں* *آنٹیاں*، بن گیٸں
*چچا زاد، ماموں زاد، خالہ زاد بہنیں اور بھائی* سب کے سب *کزنس* میں تبدیل ہوگئے،
*نہ رشتے کی پہچان رہی اور نہ ہی جنس کی*۔
نہ جانے ایک نام تبدیلی کے زد سے کیسے بچ گیا ۔ ۔ ۔ *گھروں میں کام کرنے والی خواتین* پہلے بھی *ماسی* کہلاتی تھیں اب بھی *ماسی* ہی ہیں۔
گھر اور سکول میں اتنی زیادہ تبدیلیوں کے بعد بازار انگریزی کی زد سے کیسے محفوظ رہتے۔
*دکانیں, شاپس* میں تبدیل ہو گئیں اور ان پر *گاہکوں کی بجائے کسٹمرز* آنے لگے،
آخر کیوں نہ ہوتا کہ *دکان دار بھی تو سیلز مین* بن گئے جس کی وجہ سے لوگوں نے*خریداری* چھوڑ دی اور *شاپنگ* کرنے لگے۔
*سڑکیں* , *روڈز* بن گئیں۔
*کپڑے* کا بازار *کلاتھ* مارکیٹ بن گئی، یعنی کس ڈھب سے *مذکر کو مونث بنادیا گیا*۔
*کریانے* کی دکان نے *جنرل اسٹور* کا روپ دھار لیا،
*نائی* نے *باربر* بن کر *حمام* بند کردیا اور *ہیئر کٹنگ سیلون* کھول لیا۔
ایسے ماحول میں دفاتر بھلا کہاں بچتے۔
پہلے ہمارا *دفتر ہوتا تھا جہاں مہینے کے مہینے تنخواہ ملا کرتی تھی*، وہ اب *آفس بن گیا اور منتھلی سیلری ملنے لگی ہے*
اور جو کبھی *صاحب* تھے وہ *باس* بن گئے ہیں،
*بابو* بن گئے *کلرک* اور *چپراسی* بن گئے *پِیُّٶن*
پہلے *دفتر کے نظام الاوقات* لکھے ہوتے تھے . ...... اب *آفس ٹائمنگ* کا بورڈ لگ گیا-
*سود* جیسے قبیح فعل کو *انٹرسٹ* کہا جانے لگا۔
*طوائفیں* تو کب کے *آرٹسٹ* بن گئیں
اور
*محبت* کو *لَوّ* کا نام دے کر محبت کی ساری *چاشنی اور تقدس* ہی چھین لیا گیا۔
*صحافی رپورٹر بن گئے اور خبروں کی جگہ ہم نیوز سننے لگے*۔
کس کس کا اور کہاں کہاں کا رونا رویا جائے۔
*اردو زبان کے زوال کی صرف حکومت ہی ذمہ دار نہیں، عام آدمی تک نے اس میں حتی المقدور حصہ لیا ہے-*
اور دکھ تو اس بات کا ہے کہ ہمیں اس بات کا احساس تک نہیں کہ *ہم نے اپنی خوبصورت زبان اردو کا حلیہ مغرب سے مرعوب ہو کر کیسے بگاڑ لیا ہے*۔
وہ الفاظ جو اردو زبان میں پہلے سے موجود ہیں اور مستعمل بھی ہیں
ان کو چھوڑ کر انگریزی زبان کے الفاظ کو استعمال کرنے میں فخر محسوس کرنے لگے ہیں
*وائے ناکامیِ متاع کارواں جاتا رہا*
*کارواں کے دل سے احساس زیاں جاتا رہا*
ہم کہاں سے کہاں آگئے اورکہاں جارہے ہیں؟
دوسروں کا کیا رونا روئیں،
*ہم خود ہی اس کے ذمہ دار ہیں. دوسرا کوئی نہیں۔*
بہت سے اردو الفاظ کو ہم نے انگریزی قبرستان میں مکمل دفن کر دیا ہے اور مسلسل دفن کرتے جا رہے ہیں. اور روز بروز یہ عمل تیزتر ہوتا جا رہا ہے۔

 

https://www.facebook.com/syedzaidzamanhamid/posts/3337455399642581

 

ہم کئی برس سے سے اردو کو زندہ رکھنے کی تحریک چلا رہے ہیں۔۔

احیا اردو کے نام سے ہمارے فیس بک کے صفحے بھی ہیں ۔۔

میں جاہلوں کے طنز اور طعنہ پڑھ رہا ہوں ہو جو اس کا مذاق اڑا رہے ہیں۔۔ بے ادب بد نصیب۔۔

جس قوم کی جڑ نہ ہو وہ اکھڑ جاتی ہے۔۔

اردو ہماری جڑ ہے۔

 

ہم کئی برس سے سے اردو کو زندہ رکھنے کی تحریک چلا رہے ہیں۔۔

احیا اردو کے نام سے ہمارے فیس بک کے صفحے بھی ہیں ۔۔

میں جاہلوں کے طنز اور طعنہ پڑھ رہا ہوں ہو جو اس کا مذاق اڑا رہے ہیں۔۔ بے ادب بد نصیب۔۔

جس قوم کی جڑ نہ ہو وہ اکھڑ جاتی ہے۔۔

اردو ہماری جڑ ہے۔

‏ہمیں رومن اردو پر پابندی لگانی ہے۔۔ اردو زبان کو تباہ کرنے کا کا سب سے مہلک ہتھیار یہ ہے کہ اردو رسم الخط کو تبدیل کردیا جائے۔ آپ لوگ یا اردو لکھیں یا انگریزی۔۔ مگر رومن اردو نہ لکھیں۔

ہم اردو ترجمہ کا ایک منظم سلسلہ شروع کر رہے ہیں۔ اسے اپنی عام گفتگو میں استعمال کریں۔

‏انگریزی الفاظ کو اردو میں استعمال کرنا اردو کے ساتھ زنا بالجبر ہے۔۔۔

اس ظلم کو ہمیں بند کرنا ہوگا۔۔

یہ حکومت اور ادارہ ترقی اردو کی ذمہ داری ہے کہ جدید الفاظ کے تراجم کرے۔۔

ہم نے مذاق بنا لیا ہے اپنی زبان اور ثقافت کو۔۔

کسی ایک حکمران اور وزیر کو ٹھیک اردو نہیں آتی۔

‏جب پاکستان بنا تو حیدرآباد دکن میں تمام سائنس کی تعلیم اردو میں دی جاتی تھی۔ طب اور انجینئرنگ کے شعبے بھی اردو میں تھے۔۔ جب بھارتی فوج نے حیدرآباد پر قبضہ کیا تو تمام کتب خانوں کو جلا دیا گیا ۔۔ صدیوں کی محنت ضائع ہوگئی۔

اس سے قبل کل جنگ آزادی کے بعد انگریزوں نے بھی یہی کیا تھا

‏روزمرہ زندگی اور حکومت چلانے کے تمام معاملات اردو زبان میں انتہائی خوش اسلوبی سے انجام دیے جا سکتے ہیں۔ پاکستان کا تمام عدالتی نظام اردو میں بہتر چلایا جا سکتا ہے۔

پاک فوج کو بھی اب اردو زبان کی جانب آنا چاہیے۔

پاکستان کی ریاست آئین کی بھی خلاف ورزی کر رہی ہے اردو کو رسوا کرکے۔

 
 
 

 اردو زبان کو دوبارہ زندہ کرنا ہے۔۔

کم ازکم اپنے حلقے میں تو ہم اردو کو زندہ کر سکتے۔۔۔

زبانیں پودوں کی طرح ہوتی ہیں۔۔ اگر ان کی آبیاری نہ کی جائے تو مرجھا جاتی ہیں۔

ہم تو اپنی اردو کے جنازے نکال رہے ہیں۔۔

آئیں مل کر اردو کو دوبارہ زندہ کرتے ہیں۔

 
 


 

اردو زبان کو دوبارہ زندہ کرنا ہے۔۔

کم ازکم اپنے حلقے میں تو ہم اردو کو زندہ کر سکتے۔۔۔

زبانیں پودوں کی طرح ہوتی ہیں۔۔ اگر ان کی آبیاری نہ کی جائے تو مرجھا جاتی ہیں۔

ہم تو اپنی اردو کے جنازے نکال رہے ہیں۔۔

آئیں مل کر اردو کو دوبارہ زندہ کرتے ہیں۔

 


آزادی کے 75 سال بعد ھم نے اردو کا یہ حشر کیا ہے۔۔۔۔ شرم سے ڈوب مریں اس ملک کے حکمران اور ذرائع ابلاغ۔۔

 
 

 
 

آزادی کے 75 سال بعد ھم نے اردو کا یہ حشر کیا ہے۔۔۔۔ شرم سے ڈوب مریں اس ملک کے حکمران اور ذرائع ابلاغ۔۔

 

 
 
 
 

 

 

 

Thursday, 12 May 2016

May 12th, 2016


Don't be despondent or hopeless from the chaos and crisis you see around. This destruction is the beginning of a new construction of khair.



Dont be despondent or hopeless from the chaos and crisis you see around. This destruction is the beginning of a new construction of khair.

The present system of Kufr, democracy, Riba, anglo-saxon laws, free for all liberal beyghairat media -- are all too powerful and will never reform themselves.

So, Allah (swt) will use His forces to destroy this system.. to bring it down... either through internal chaos and implosion, or through Pak army or through a war from India... ! This system will be destroyed before we build it again in the model of Khilafate Rashida.. !

We want Pak army to do the clean up. If Pak army delays, then Allah will bring Mushriks earlier to start the Ghazwa e Hind... a bloody final conflict with Mushriks of India.. which will totally clean up the mess... Modi is already waiting to start this war... his troops in the form of Khawarij, BLA and MQM as well as geo are already attacking..

Allah has His own plans. He wont let any rascal politician, any geo, any Nawaz, any Chief Justice to stop this divine destiny.... !

We ask Allah for mercy but these napaak filthy political rascals are asking for azaab of Allah (sm).

https://www.facebook.com/syedzaidzamanhamid/photos/a.109687115752775.23119.109463862441767/995301527191325/?type=3


 

A beautiful lecture on critical importance of Urdu.. you have got to hear these few minutes.. fantastic..

https://www.facebook.com/revivingurdu/videos/927323450713494/

A beautiful lecture on critical importance of Urdu.. you have got to hear these few minutes.. fantastic..

InshAllah, we will not just make Urdu our official language but also an international highly respected language. We need men with courage and dignity not beyghairat slaves of the West..

https://www.facebook.com/syedzaidzamanhamid/posts/995540140500797

Wednesday, 21 November 2012

November 21, 2012

  

 Do not destroy our Urdu language please

 

 


Please write in pure English or Pure Urdu. You know our page policy. All text written in Roman Urdu will be deleted. Do not destroy our Urdu language please. Zero tolerance towards destruction of Urdu. Jazak Allah.

 

 

 

Allah will make your dream come true inshAllah,

 if you are sincere and are willing to pay the price.

 

 

 

 



InshAllah, one day, this will be a reality. We promise you. Allah will never leave us in the sad state we are in today. Allah will bless us with dignified leadership who will protect our honor and dignity of this millat e Marhoom. Have the courage to dream what others consider impossible. Allah will make your dream come true inshAllah, if you are sincere and are willing to pay the price. By Allah, we have this dream and one day Allah will honor us with this khair. 




Supreme court cases have been postponed

 for tomorrow

 

 

We have just been informed that due to D8 summit in Islamabad, supreme court cases have been postponed for tomorrow. No problem. Next date would be fixed urgently within the next week InshAllah. We are not going to court tomorrow then. Khair inshAllah.





Now our azaan will roar in the SC in front of the entire 

judiciary, InshAllah.

 

 

 


Alhamdolillah, today we took our war against Najam Sethi and Hamid Mir to new levels in the Supreme Court! We went to SC today and have filed an application to become a direct party in this case and InshAllah, would defend this case in front of CJ ourselves.

The case was originally filed by our friend Advocate Sardar Ghazi sb and was being argued by our advocate Raja Irshad sahib. BrassTacks was assisting the two lawyers and was acting as advisers on the information war being waged by the traitors in media. But now, we have moved the file to become direct petitioners and would be presenting our case ourselves InshAllah. Now our azaan will roar in the SC in front of the entire judiciary, InshAllah.

Our petition against Akbar Bugti case is also close to being fixed for hearing. InshAllah, that petition will also destroy the war of BLA against Pakistan and the hostile propaganda being waged by the snakes in media especially by Najam Sethi and Hamid Mir.

The BLA, traitor Media and the TTP deserve the punishments for Fasad fil Ard, as mentioned in Quran. They spread lies, are working to destroy the median e Sani and are waging a war against Muslims of Pak Sarzameen and Ummat e Rasul (sm). Their punishment is already defined by Allah (swt). Now we only have to see who will implement this justice. Soon, InshAllah, through a fair trail under Islamic laws. Very soon, InshAllah.

Sunday, 29 July 2012

July 29, 2012

 

 Pakistani nation convicts you and sentence

 you as traitors!



Today, when the liberals have their say in Pakistani media, they have blocked all conservative, nationalist, Islamic and ideological views and arguments. They have forced their own obnoxious, vulgar, filthy, western immoral brand of shameless immorality upon the nation. Then they have the audacity of calling themselves as champions of freedom of expression as well.

So tomorrow when the conservatives will come to power, they will also have the right to block all liberal views harshly. Then liberals should not complain. This is only natural justice!

We have given clear and firm warning to Pak media. You have been measured and found to be gravely wanting. The time for your accountability is now closer than you think. Pakistani nation convicts you and sentence you as traitors!

The great news is that now our book

 From Indus to Oxus  has been translated into 

Urdu as well, alhamdolillah

 

 

We would urge you to see this 3 minutes video, MashAllah. The great news is that now our book From Indus to Oxus has been translated into Urdu as well, alhamdolillah. Though the final print edition will take another 3 months in composing, proofing, designing and printing, the most difficult mountain of translating the epic has been crossed, MashAllah.

Here are the comments of the translator Waqas Wasti who took on the project as an academic exercise and came out as a transformed soul jolted by the extreme passions, emotions and adventures of that forgotten era. We had to share these with you! Need your dua for the project to be completed with khair and afiat. It is another gift we want to leave for our future generations!

Two most critical weapons of mass destruction are : 

Medicine system and education system

 

Under the umbrella of political, judicial, economic systems of Dajjal, there are many sub-systems which are used to control and destroy the society from within. Media is also one of them. In addition to that, two most critical weapons of mass destruction are : Medicine system and education system -- both run by the Masonic Mafias to control the body and mind. Here, on our blog, read about both the systems which will also need massive overhaul and must be surgically removed. This is the knowledge the Kufr system do not want you to have. Read it, absorb it, ponder over it, spread it and then become a soldier against them.

If we want to create a system of Khilafat e Rshida, then we must know what are we fighting against and why it would take such time and force to remove the existing systems of Kufr to replace them with natural organic systems of health, education and knowledge. We have no choice but to return to the system of Ilm gifted by Sayyadi Rasul Allah (sm). Khair inshAllah.

 

 

 

 The most stunning and strongest slap on the face of 

US Democracy which our liberals worship as god!

 

 


This 8 minutes video video is the most stunning and strongest slap on the face of US Democracy which our liberals worship as god! The US General is exposing the coup of Zionists in the USA and talking about the project of new American century as the instrument of destruction in the Middle East which we are seeing now. This was recorded in 2007 and now we see the dirty wars unfolding around us.

When we talked about these wars, they called us Conspiracy theorists. Now what they would say to Wesley Clark, the 4 star US general? He did not mention Pakistan in the list but we know now that we are on this list as well.

Let them plot and plan. Allah has His own plans. But do note the shamelessness of our political leaders and media who want to remain in denial about the US grand strategy.

Khair inshAllah
http://www.youtube.com/watch?v=Ha1rEhovONU






More than the terrorism and wars --

 Its the medical industry and doctors who kill !


You want to meet the real terrorists and the weapons of mass destruction? These are the doctors and pharma mafia of the Zionist controlled medicine companies.

This video must be seen by all people of the world. The Mafia of pharmaceuticals and medical profession which kills millions each year, more than the wars and terrorism combined.

The solutions are reverting back to nature and medicine of the Rasul Allah (sm). The alternate medicines which are herbal, homeopathic, acupuncture and even greek herbal (hikmat) must be aggressively promoted instead of this Mafia driven allopathic medicine. Watch this video. It will shatter many myths, shake your soul and radically alter the way the way you look at doctors and medicine. The entire Zionist system is fasad fil ard. Their economics is based on Riba, their politics is based on democracy and their healthcare is based on mass murder for profits, Astaghfurullah! Shall post more on this Mafia InshAllah.
http://www.youtube.com/watch?v=FPI7zdGdqo4&feature=player_embedded