...
Showing posts with label nawaz shareef. Show all posts
Showing posts with label nawaz shareef. Show all posts

Wednesday, 16 December 2020

December 14th, 2020

 

آرمی پبلک اسکول پشاور کا انتقام صرف دہلی لے کر ہی لیا جا سکتا ہے۔۔

سقوط ڈھاکہ سے لیکر آرمی پبلک اسکول تک اور کشمیر میں جاری ہر جرم کا حساب دہلی میں ہوگا۔۔۔

ہندوتوا مشرک زنجیروں میں لپیٹ کر لائے جائیں گے اور آرمی پبلک اسکول کے صحن میں ان کو سولی چڑھایا جائے گا۔۔۔

یہ وعدہ ہے!

https://www.facebook.com/syedzaidzamanhamid/posts/3577932498928202 


 

 

آرمی پبلک اسکول پشاور کا انتقام صرف دہلی لے کر ہی لیا جا سکتا ہے۔۔

سقوط ڈھاکہ سے لیکر آرمی پبلک اسکول تک اور کشمیر میں جاری ہر جرم کا حساب دہلی میں ہوگا۔۔۔

ہندوتوا مشرک زنجیروں میں لپیٹ کر لائے جائیں گے اور آرمی پبلک اسکول کے صحن میں ان کو سولی چڑھایا جائے گا۔۔۔

یہ وعدہ ہے!

 

https://www.facebook.com/syedzaidzamanhamid/posts/3577932498928202 

 

 

سمیع ابراہیم کے ساتھ ہمارا پورا پروگرام ۔۔

 https://www.facebook.com/syedzaidzamanhamid/posts/3578440092210776

 


 

 سمیع ابراہیم کے ساتھ ہمارا پورا پروگرام ۔۔

 

 https://www.facebook.com/syedzaidzamanhamid/posts/3578440092210776

Thursday, 5 November 2020

November 6th, 2020

 غدار کون ہے؟ حکمرانوں کی نظریاتی غداری اور اجتہادی غلطی میں کیا فرق ہے؟ پاکستان کے غلیظ سیاسی نظام میں کوئی محب وطن باقی بھی ہے؟

 

https://www.facebook.com/syedzaidzamanhamid/posts/3467549259966527

 


 

  

غدار کون ہے؟ حکمرانوں کی نظریاتی غداری اور اجتہادی غلطی میں کیا فرق ہے؟ پاکستان کے غلیظ سیاسی نظام میں کوئی محب وطن باقی بھی ہے؟

 

https://www.facebook.com/syedzaidzamanhamid/posts/3467549259966527 

 

 

حکومتوں کو جو مرضی کہو، لیکن اگر پاکستان کے خلاف بولا تو بدنصیب ہو جاؤ گے۔۔۔

اللہ نے جو تقدیر اس پاک سرزمین کی لکھ دی ہے وہ ہوکر رہنی ہے۔۔ اپنے آپ کو بدنصیب نہ کر لینا۔۔

غزوہ ہند میں صرف مشرکوں کی سرکوبی نہیں ہوگی، بلکہ اپنی صفوں کے اندر غداروں کو بھی صاف کیا جائے گا۔۔

 

https://www.facebook.com/syedzaidzamanhamid/posts/3469440006444119 

 


 

 

حکومتوں کو جو مرضی کہو، لیکن اگر پاکستان کے خلاف بولا تو بدنصیب ہو جاؤ گے۔۔۔

اللہ نے جو تقدیر اس پاک سرزمین کی لکھ دی ہے وہ ہوکر رہنی ہے۔۔ اپنے آپ کو بدنصیب نہ کر لینا۔۔

غزوہ ہند میں صرف مشرکوں کی سرکوبی نہیں ہوگی، بلکہ اپنی صفوں کے اندر غداروں کو بھی صاف کیا جائے گا۔۔

 

https://www.facebook.com/syedzaidzamanhamid/posts/3469440006444119

Monday, 27 July 2020

July 28th, 2020

مشرکوں کے ایماء  پر پاک فوج کے شیروں پر بھونکنے والے کتوں کے لیے ہمارا واضح پیغام۔۔۔ جنگ ہے تو پھر جنگ ہے۔۔! ⁦ 🇵🇰🇵🇰🇵🇰 ⁩⁦  ⁩⁦




Saturday, 16 November 2019

November 16th, 2019

الحمدللہ، آپ یہاں سے یہ رزق مفت ڈاؤنلوڈ کر سکتے ھیں۔

اب آپ کا نصیب ھے کہ اس سے آپ کتنی خیر حاصل کر سکتے ھیں۔

آنے والے وقتوں میں ھماری قوم کو ایسی ھی آزمایش سے گزرنا ھو گا۔ یہ تجربات و مشاہدات ایک بابرکت رزق ھے‌ ۔۔ اسے ضایع نہ کرنا


https://www.scribd.com/document/435269327/Darya-e-Sindh-Se-Darya-e-Aamu-Tak-by-Syed-Zaid-Zaman-Hamid?fbclid=IwAR2je5JXiNeaL4s1jI-NpKNQr81sw5xJfdcYiR_CCe8Sc9is08vaCLpA6b0

الحمدللہ، آپ یہاں سے یہ رزق مفت ڈاؤنلوڈ کر سکتے ھیں۔
اب آپ کا نصیب ھے کہ اس سے آپ کتنی خیر حاصل کر سکتے ھیں۔
آنے والے وقتوں میں ھماری قوم کو ایسی ھی آزمایش سے گزرنا ھو گا۔ یہ تجربات و مشاہدات ایک بابرکت رزق ھے‌ ۔۔ اسے ضایع نہ کرنا۔
اللہ کرم فرمائے۔۔

https://www.facebook.com/syedzaidzamanhamid/posts/2518625014858961?__xts__%5B0%5D=68.ARD7matNqkl6QLJjofQN0OjwYnAfFnwiO5fQTFnenGXXObBYDhroOEM5Nigr1JMw2NCeK9jPYjs2xH8k6mG-FuOcQO6IlaCXuYxQZQhINJmSn-ojn5pp1KU5FelauxHb8czuD774oVM4EsiytlOY7QwtsOGU1VZKioyQ5a1Wn3hhNh8hnuFMa4aN0p4hzfNskN7cWviAP799NQXVoc7ov_4m47_WIfdQuCEJ9aDeIZXxXBGH1Wg6CszmRNvCM-9hlKLKgCcOtP95VJYz3w5aVNcjlQyLgg9Bt98ICr9RI0i5oZi7FidYUjyqfNekThTT9IEGs3z1eA3EF4bMXGYC-A&__tn__=-R

 


آج کے عدالتی فیصلے کے بعد آپکو مغل حکمرانوں کی عبرتناک رسوای کی وجہ سمجھ آ جاے گی۔ پاکستانی قوم عبرت پکڑے۔۔۔اب عذاب زیادہ دور نہیں۔ بھوک و خوف و ذلت کا عذاب۔۔۔


آج کے عدالتی فیصلے کے بعد آپکو مغل حکمرانوں کی عبرتناک رسوای کی وجہ سمجھ آ جاے گی۔ پاکستانی قوم عبرت پکڑے۔۔۔اب عذاب زیادہ دور نہیں۔ بھوک و خوف و ذلت کا عذاب۔۔۔

------------------------------------------------------

جب ہندوستان کے آخری شہنشاہ بہادر شاہ ظفر کو میکنن میکنزی بحری جہاز میں بٹھا دیا گیا‘
یہ جہاز17 اکتوبر 1858ء کو رنگون پہنچ گیا‘
شاہی خاندان کے 35 مرد اور خواتین بھی تاج دار ہند کے ساتھ تھیں‘
کیپٹن نیلسن ڈیوس رنگون کا انچارج تھا‘
وہ بندر گاہ پہنچا‘
اس نے بادشاہ اور اس کے حواریوں کو وصول کیا‘
رسید لکھ کر دی اور دنیا کی تیسری بڑی سلطنت کے آخری فرمانروا کو ساتھ لے کر اپنی رہائش گاہ پر آ گیا‘
نیلسن پریشان تھا‘
بہادر شاہ ظفر قیدی ہونے کے باوجود بادشاہ تھا اور نیلسن کا ضمیر گوارہ نہیں کر رہا تھا وہ بیمار اور بوڑھے بادشاہ کو جیل میں پھینک دے مگر رنگون میں کوئی ایسا مقام نہیں تھا جہاں بہادر شاہ ظفر کو رکھا جا سکتا‘
وہ رنگون میں پہلا جلا وطن بادشاہ تھا‘
نیلسن ڈیوس نے چند لمحے سوچا اور مسئلے کا دلچسپ حل نکال لیا‘
نیلسن نے اپنے گھر کا گیراج خالی کرایا اور تاجدار ہند‘ ظِلّ سُبحانی اور تیموری لہو کے آخری چشم و چراغ کو اپنے گیراج میں قید کر دیا‘
بہادر شاہ ظفر17 اکتوبر 1858ء کو اس گیراج میں پہنچا اور 7 نومبر 1862ء تک چار سال وہاں رہا‘
بہادر شاہ ظفر نے اپنی مشہور زمانہ غزل
"لگتا نہیں ہے دل میرا اجڑے دیار میں‘
"کس کی بنی ہے عالمِ ناپائیدار میں"
اور
"کتنا بدنصیب ہے ظفردفن کے لیے‘
"دو گز زمین بھی نہ ملی کوئے یار میں،
اسی گیراج میں لکھی تھی‘
یہ 7 نومبر کا خُنَک دن تھا اور سن تھا 1862ء۔
بدنصیب بادشاہ کی خادمہ نے شدید پریشانی میں کیپٹن نیلسن ڈیوس کے دروازے پر دستک دی‘ اندر سے اردلی نے بَرمی زُبان میں اس بدتمیزی کی وجہ پوچھی‘
خادمہ نے ٹوٹی پھوٹی بَرمی میں جواب دیا‘
ظِلّ سُبحانی کا سانس اُکھڑ رہا ہے‘
اردلی نے جواب دیا‘
صاحب کتے کو کنگھی کر رہے ہیں‘ میں انھیں ڈسٹرب نہیں کر سکتا‘
خادمہ نے اونچی آواز میں رونا شروع کر دیا‘
اردلی اسے چپ کرانے لگا مگر آواز نیلسن تک پہنچ گئی‘
وہ غصے میں باہر نکلا‘
خادمہ نے نیلسن کو دیکھا تو وہ اس کے پاؤں میں گر گئی‘ وہ مرتے ہوئے بادشاہ کے لیے گیراج کی کھڑکی کُھلوانا چاہتی تھی‘
بادشاہ موت سے پہلے آزاد اور کھُلی ہوا کا ایک گھونٹ بھرنا چاہتا تھا‘
نیلسن نے اپنا پسٹل اٹھایا‘ گارڈز کو ساتھ لیا‘
گیراج میں داخل ہو گیا۔
بادشاہ کی آخری آرام گاہ کے اندر بَدبُو‘ موت کا سکوت اور اندھیرا تھا‘
اردلی لیمپ لے کر بادشاہ کے سرہانے کھڑا ہو گیا‘
نیلسن آگے بڑھا‘
بادشاہ کا کمبل آدھا بستر پر تھا اور آدھا فرش پر‘
اُس کا ننگا سر تکیے پر تھا لیکن گردن ڈھلکی ہوئی تھی‘ آنکھوں کے ڈھیلے پپوٹوں کی حدوں سے باہر اُبل رہے تھے‘ گردن کی رگیں پھولی ہوئی تھیں اور خشک زرد ہونٹوں پر مکھّیاں بِھنبھِنا رہی تھیں‘ نیلسن نے زندگی میں ہزاروں چہرے دیکھے تھے لیکن اس نے کسی چہرے پر اتنی بے چارگی‘ اتنی غریب الوطنی نہیں دیکھی تھی‘
وہ کسی بادشاہ کا چہرہ نہیں تھا‘
وہ دنیا کے سب سے بڑے بھکاری کا چہرہ تھا اور اس چہرے پر ایک آزاد سانس,
جی ہاں.......
صرف ایک آزاد سانس کی اپیل تحریر تھی اور یہ اپیل پرانے کنوئیں کی دیوار سے لپٹی کائی کی طرح ہر دیکھنے والی آنکھ کو اپنی گرفت میں لے لیتی تھی‘
کیپٹن نیلسن نے بادشاہ کی گردن پر ہاتھ رکھا‘
زندگی کے قافلے کو رگوں کے جنگل سے گزرے مدت ہو چکی تھی‘
ہندوستان کا آخری بادشاہ زندگی کی حد عبور کر چکا تھا‘
نیلسن نے لواحقین کو بلانے کا حکم دیا‘
لواحقین تھے ہی کتنے ایک شہزادہ جوان بخت اور دوسرا اس کا استاد حافظ محمد ابراہیم دہلوی‘ وہ دونوں آئے۔

انھوں نے بادشاہ کو غسل دیا‘ کفن پہنایا اور جیسے تیسے بادشاہ کی نمازِ جنازہ پڑھی‘ قبر کا مرحلہ آیا تو پورے رنگون شہر میں آخری تاجدار ہند کے لیے دوگز زمین دستیاب نہیں تھی‘
نیلسن نے سرکاری رہائش گاہ کے احاطے میں قبر کھدوائی اور بادشاہ کو خیرات میں ملی ہوئی مٹی میں دفن کر دیا‘
قبر پر پانی کا چھڑکاؤ ہورہا تھا ‘
گلاب کی پتیاں بکھیری جا رہی تھیں تو استاد حافظ ابراہیم دہلوی کے خزاں رسیدہ ذہن میں 30 ستمبر 1837ء کے وہ مناظر دوڑنے بھاگنے لگے
جب دہلی کے لال قلعے میں 62 برس کے بہادر شاہ ظفر کو تاج پہنایاگیا‘
ہندوستان کے نئے بادشاہ کو سلامی دینے کے لیے پورے ملک سے لاکھ لوگ دلی آئے تھے اور بادشاہ جب لباس فاخرہ پہن کر‘ تاج شاہی سَر پر سَجَا کر اور نادر شاہی اور جہانگیری تلواریں لٹکا کر دربار عام میں آیا تو پورا دلی تحسین تحسین کے نعروں سے گونج اٹھا‘
نقارچی نقارے بجانے لگے‘ گویے ہواؤں میں تانیں اڑانے لگے‘
فوجی سالار تلواریں بجانے لگے
اور
رقاصائیں رقص کرنے لگیں‘ استاد حافظ محمد ابرہیم دہلوی کو یاد تھا بہادر شاہ ظفر کی تاج پوشی کا جشن سات دن جاری رہا اور ان سات دنوں میں دِلّی کے لوگوں کو شاہی محل سے کھانا کھلایا گیا مگر سات نومبر 1862ء کی اس ٹھنڈی اور بے مہر صُبح بادشاہ کی قبر کو ایک خوش الحان قاری تک نصیب نہیں تھا۔
استاد حافظ محمد ابراہیم دہلوی کی آنکھوں میں آنسو آ گئے‘
اس نے جوتے اتارے‘
بادشاہ کی قبر کی پائینتی میں کھڑا ہوا
اور
سورۃ توبہ کی تلاوت شروع کر دی‘
حافظ ابراہیم دہلوی کے گلے سے سوز کے دریا بہنے لگے‘
یہ قرآن مجید کی تلاوت کا اعجاز تھا یا پھر استاد ابراہیم دہلوی کے گلے کا سوز,
کیپٹن نیلسن ڈیوس کی آنکھوں میں آنسو آ گئے‘
اس نے ہاتھ اٹھایا اور اس غریبُ الوطن قبر کو سیلوٹ پیش کر دیا اور اس آخری سیلوٹ کے ساتھ ہی مغل سلطنت کا سورج ہمیشہ ہمیشہ کے لیے غروب ہو گیا‘
آپ اگر کبھی رنگون جائیں تو آپ کو ڈیگن ٹاؤن شِپ کی کچّی گلیوں کی بَدبُودار جُھگّیوں میں آج بھی بہادر شاہ ظفر کی نسل کے خاندان مل جائیں گے‘
یہ آخری مُغل شاہ کی اصل اولاد ہیں مگر یہ اولاد آج سرکار کے وظیفے پر چل رہی ہے‘
یہ کچی زمین پر سوتی ہے‘ ننگے پاؤں پھرتی ہے‘ مانگ کر کھاتی ہے اور ٹین کے کنستروں میں سرکاری نل سے پانی بھرتی ہے,
مگر یہ لوگ اس کَسمَپُرسی کے باوجود خود کو شہزادے اور شہزادیاں کہتے ہیں‘
یہ لوگوں کو عہد رفتہ کی داستانیں سناتے ہیں اور لوگ قہقہے لگا کر رنگون کی گلیوں میں گم ہو جاتے ہیں۔
یہ لوگ‘
یہ شہزادے اور شہزادیاں کون ہیں؟
یہ ہندوستان کے آخری بادشاہ کی سیاسی غلطیاں ہیں‘ بادشاہ نے اپنے گرد نااہل‘ خوشامدی اور کرپٹ لوگوں کا لشکر جمع کر لیا تھا‘
یہ لوگ بادشاہ کی آنکھیں بھی تھے‘
اس کے کان بھی اور اس کا ضمیر بھی‘
بادشاہ کے دو بیٹوں نے سلطنت آپس میں تقسیم کر لی تھی‘
ایک شہزادہ داخلی امور کا مالک تھا
اور دوسرا خارجی امور کا مختار‘
دونوں کے درمیان لڑائی بھی چلتی رہتی تھی اور بادشاہ ان دونوں کی ہر غلطی‘ ہر کوتاہی معاف کر دیتا تھا‘
عوام کی حالت انتہائی ناگُفتہ بہ تھی‘
مہنگائی آسمان کو چھو رہی تھی‘
خوراک منڈیوں سے کٹائی کے موسموں میں غائب ہو جاتی تھی‘
سوداگر منہ مانگی قیمت پر لوگوں کو گندم‘ گڑ اور ترکاری بیچتے تھے‘
ٹیکسوں میں روز اضافہ ہوتا تھا‘
شہزادوں نے دلی شہر میں کبوتروں کے دانے تک پر ٹیکس لگا دیا تھا‘
طوائفوں کی کمائی تک کا ایک حصہ شہزادوں کی جیب میں چلا جاتا تھا۔

شاہی خاندان کے لوگ قتل بھی کر دیتے تھے تو کوئی ان سے پوچھ نہیں سکتا تھا‘ ریاست شاہی دربار کے ہاتھ سے نکل چکی تھی‘ نواب‘ صوبیدار‘ امیر اور سلطان آزاد ہو چکے تھے اور یہ مغل سلطنت کو ماننے تک سے انکاری تھے‘ فوج تلوار کی نوک پر بادشاہ سے جو چاہتی تھی منوا لیتی تھی‘
عوام بادشاہ اور اس کے خاندان سے بیزار ہو چکے تھے‘ یہ گلیوں اور بازاروں میں بادشاہ کو ننگی گالیاں دیتے تھے اور کوتوال چپ چاپ ان کے قریب سے گزر جاتے تھے جب کہ انگریز مضبوط ہوتے جا رہے تھے‘
یہ روز معاہدہ توڑتے تھے اور شاہی خاندان وسیع تر قومی مفاد میں انگریزوں کے ساتھ نیا معاہدہ کر لیتا تھا۔
انگریز بادشاہ کے وفاداروں کو قتل کر دیتے تھے اور شاہی خاندان جب احتجاج کرتا تھا تو انگریز بادشاہ کو یہ بتا کر حیران کر دیتا تھا ’’ظل الٰہی وہ شخص آپ کا وفادار نہیں تھا‘ وہ ننگ انسانیت آپ کے خلاف سازش کر رہا تھا‘‘ اور بادشاہ اس پر یقین کر لیتا تھا‘ بادشاہ نے طویل عرصے تک اپنی فوج بھی ٹیسٹ نہیں کی تھی چنانچہ جب لڑنے کا وقت آیا تو فوجیوں سے تلواریں تک نہ اٹھائی گئیں‘
ان حالات میں جب آزادی کی جنگ شروع ہوئی اور بادشاہ گرتا پڑتا شاہی ہاتھی پر چڑھا تو عوام نے لاتعلق رہنے کا اعلان کر دیا‘
لوگ کہتے تھے ہمارے لیے بہادر شاہ ظفر یا الیگزینڈرا وکٹوریا دونوں برابر ہیں‘
مجاہدین جذبے سے لبریز تھے لیکن ان کے پاس قیادت نہیں تھی۔
بادشاہ ڈبل مائینڈڈ تھا‘ یہ انگریز سے لڑنا بھی چاہتا تھا اور اپنی مدت شاہی بھی پوری کرنا چاہتا تھا چنانچہ اس جنگ کا وہی نتیجہ نکلا جو ڈبل مائینڈ ہو کر لڑی جانے والی جنگوں کا نکلتا ہے‘ شاہی خاندان کو دلی میں ذبح کر دیا گیا جب کہ بادشاہ جلاوطن ہو گیا‘
بادشاہ کیپٹن نیلسن ڈیوس کے گیراج میں قید رہا‘ گھر کے احاطہ میں دفن ہوا اور اس کی اولاد آج تک اپنی عظمت رفتہ کا ٹوکرا سر پر اٹھا کر رنگون کی گلیوں میں پھر رہی ہے‘
یہ لوگ شہر میں نکلتے ہیں تو ان کے چہروں پر صاف لکھا ہوتا ہے‘
جو بادشاہ اپنی سلطنت‘ اپنے مینڈیٹ کی حفاظت نہیں کرتے‘ جو عوام کا اعتماد کھو بیٹھتے ہیں‘ ان کی اولادیں اسی طرح گلیوں میں خوار ہوتی ہیں‘
یہ عبرت کا کشکول بن کر اسی طرح تاریخ کے چوک میں بھیک مانگتی ہیں
لیکن ہمارے حکمرانوں کو یہ حقیقت سمجھ نہیں آتی‘
یہ خود کو بہادر شاہ ظفر سے بڑا بادشاہ سمجھتے ہیں۔
~ وائے ناکامی متاع کارواں جاتا رہا ---
کارواں کے دل سے احساس زیاں جاتا رہا۔۔
کیا سبق لیا جاے، مصلیحت یا بیغیرت بن کر سربراہ کنبا یا سلطنت اپنی نسلوں کو وہی مقدر مسلط کروادیتا ھے جو اسکے عمال کے نتیجے میں پیدا ھوتے رہتے ہیں۔

https://www.facebook.com/syedzaidzamanhamid/posts/2518770371511092?__tn__=K-R


Sunday, 16 June 2019

June 12th, 2019

For those who cannot access to our website because of ip blockade in your country, you all can download books from these links


You can download all our books from the following links directly in PDF format. For those who cannot access to our website because of ip blockade in your country, you all can download books from these links.

01. Khilafat e Rashida
https://drive.google.com/file/d/0B8Gs2NKjdaDFTC0xczBKRG9GNVE/view?fbclid=IwAR2iX-XfM19z6pGpliV_Y9VFuK0lcSNrWD_Ox8dgy6WL6o45q46iPUKhRHo

02. Halqa e Yaaran
.https://drive.google.com/file/d/0B8Gs2NKjdaDFd2xFUVVKSm5CSEU/view?fbclid=IwAR1MYmCmw-OcAqdAefz3psrM1awvY6KLroULqQ02aYUmFFycHJ4D4Yn1Fvs

03. Iqbal Purisrar.
https://drive.google.com/file/d/0B8Gs2NKjdaDFWGlsM1VtTWF2bFE/view?fbclid=IwAR2f6XaGrlOKI2SCe5bHvTBTKAh6JnTDbbkunkYsivWmK1KQHQlnqW1dwqY

04. Hazrat Khalid bin Waleed(RA)
https://drive.google.com/file/d/0B8Gs2NKjdaDFaFdqVGVVR2JOdnM/view?fbclid=IwAR3Mm8yrMjL0D-dUQ4586XFhTyUNPy6bigAeEqkBFMT40AmrDG8fWvd3t18


05. Sultan Salahuddin Ayubi & Noor uddin Zangi
https://drive.google.com/file/d/0B8Gs2NKjdaDFdTJQOHdiYldrNFU/view?fbclid=IwAR3pjZMZiI-EzpLv98-xOXd0zYUf0YZSi5IEyocsfU341NUwk9_o6XD3gPQ

06. Sultan Muhammad Fateh.
https://drive.google.com/file/d/0B8Gs2NKjdaDFdmZUeGlibVhEYmM/view?fbclid=IwAR1hD01Aj1uKKYObUgYCvlQpNcsIIgP6XfuxnRx83vIZ8720Q9wzfqjRU3M


07. Mujahideen e Ghazwa hindh
https://drive.google.com/open?id=0B8Gs2NKjdaDFRFV2TUgyZVBkeXc&fbclid=IwAR2w2ezULZUcp8Ne524CcvheGDwgEOfrSKW0jzqO3PfRB_8m1UwcHDMrJOY

08. WHERE THE HUNTING EAGLES SOAR
https://drive.google.com/open?id=0B8Gs2NKjdaDFZHRpelVONUhCRXc&fbclid=IwAR2d2tAKeS0QHu0FcvNw6HDyl8VMLp3nBWQ2N3UAycpAzj8PwpNW0dGqZBM

09. Pridiction of Naimat ullah Shah wali
https://drive.google.com/file/d/1q-0GThYWzrwBM5edEAqDsMEdjO5aKACV/view?fbclid=IwAR2HEBEHOiEolZgLKzxCJjb44jB48Ab3dKW3MrNudkhwmTnwv4W53ywNQCE


10. FLAMMING MOTH
https://drive.google.com/file/d/0B8Gs2NKjdaDFYWJHR0hLb1JhSzA/view?fbclid=IwAR28t6GUto0yNe4_EBO6C8UXqiNQnOSLwlwhSxnWtMCBjoFFhpVOIckTEBI

11. Takbeer e Musalsal
https://drive.google.com/file/d/0B8Gs2NKjdaDFVEFZZDN6N0d6UGc/view?fbclid=IwAR3V_jJl1PBX8TPOAZoqgIwcj9aA7Jz4pyEWI5MEzMNEnvLSUCAlsU5aR-o

12. Shadbaad Manzile Muraad
https://drive.google.com/file/d/0B8Gs2NKjdaDFcGxkbUczM0RkMmM/view?fbclid=IwAR2tQL616sMqUP9hdfFAbQNvxMFjAjoSCFSyYdI9A31ZmAynJP12kWFQrGk

https://www.facebook.com/syedzaidzamanhamid/posts/2213556208699178?__xts__%5B0%5D=68.ARC3LqfCtI3lyTF5k4LhJpBJGYtHu4vxvu349JKwM-6r9kln96xRV14kHsa8aBdWM_plsw6hw8ok1xq58g75s_xTUYsqGdQ6EyeacRPViP0Ct-6U5KCNlFmWiIB7jNgWLHa2Xfa-hqhR3hlapAwMI-b-TYEStpGhrxx5xQ9IPS4IyqU6s0ziakGfWbFbIFal_KkYFfKLTSc7oeySFM8BWCeB-qUE2rZl2aHpf8b281MfABlsVRrQwyN42JUJa42HRYdNDyKpp0Cv95n-JDslK5bTB6coR8f3EQSPlc6CffJdUnPdR1jyxpafEeE6cxK2GXZDCFMMaBXnm1mKqVSp57tnbQ&__tn__=-R



 

‏ھماری نوجوان نسل ان غداروں کے خاندانی جرایم سے واقف نھیں ھے۔‌

یہ غدار ابن غدار ہیں اور ھمارا ناپاک جمھوری نظام انھیں تحفظ دیتا ھے



‏ھماری نوجوان نسل ان غداروں کے خاندانی جرایم سے واقف نھیں ھے۔‌
یہ غدار ابن غدار ہیں اور ھمارا ناپاک جمھوری نظام انھیں تحفظ دیتا ھے۔
انھیں بھی لٹکانا ھو گا، اس نظام کو بھی بدلنا ھو گا۔
ھم انکی ساتھ دوبارہ الیکشن میں نھیں جا سکتے۔۔ انھیں ٹانگنا ھو گا ھر حال میں۔

https://www.facebook.com/syedzaidzamanhamid/photos/a.1643903065664498/2213715818683217/?type=3&__xts__%5B0%5D=68.ARCKoya_Sljne_LQW0zDzt5pC88tC5822PMM_usa6tamZ3-7a1UI9spp1P_JwYtbfGtEQRMCtur8OEdDQNPJKMuUnvg5bl0Pam_wY0Kyu35WOPbwAyWGEjVmtwDnLKjc5Fy6LgZvUHrsgRNf2rLDm6_z_zDkTNtpbu9xC6PJUFWEQcNBxE-fEnxFID4HzBsPRNvtP9I0QcfUJNC_OuOxUKFkdnK9tPdCBilSt8IHMtydRbvTKszDumFv6sxvew_JYzAxt90LYI3hNyHdu7qSqmD0YjhmMZYfcU8LBy-Fu_mC4cwpxR6lh49kW3tl0Mmqa6ozgb68KrTNoYTjmbVgd7GWng&__tn__=-R

Saturday, 8 June 2019

June 8th, 2019

From Hunza to Karachi....they fought & died together. This is Pakistan's soul!!!... You have to note this amazing bond which is so unique to Pakistan...makes it the Islamic ideological state that we are...



Lt Col Raashid Karim Baig resident of karimabad, Hunza.
Major Moeez Maqsood Baig resident of Karachi.
Captain Arif Ullah resident of Lakki Marwat.
Lance Havaldar Zaheer resident of Chakwal.

From Hunza to Karachi....they faught & died together.
This is Pakistan's soul!!!...

You have to note this amazing bond which is so unique to Pakistan...makes it the Islamic ideological state that we are...
One was a Hunzai, other was an Urdu speaking, third was a Pashtoon, fourth was a Punjabi...all bled to defend this land & died together defending it

https://www.facebook.com/syedzaidzamanhamid/photos/a.1643903065664498/2206688609385938/?type=3&theater

Wednesday, 20 March 2019

March 12th, 2019

آج ایک صاحب نظر درویش ولی اللہ سے ملاقات ھویء۔ اھل اللہ کی باتیں رمز میں ھوتی ھیں۔۔سمجھنے کے لیے کانوں سے زیادہ دل کھلے ھونے چاھیۓ۔ فرماتے ھیں دشمن ابھی تاک میں ھے مگر اور رسوا ھو گا۔ اس پاک فوج کو اللہ نے اور عزت دینی ھے۔ ۔ دشمن آنا چاہتا ھے مگر خوفزدہ ھے، آپس میں پھوٹ ھے۔





‏آج ایک صاحب نظر درویش ولی اللہ سے ملاقات ھویء۔ اھل اللہ کی باتیں رمز میں ھوتی ھیں۔۔سمجھنے کے لیے کانوں سے زیادہ دل کھلے ھونے چاھیۓ۔ فرماتے ھیں دشمن ابھی تاک میں ھے مگر اور رسوا ھو گا۔ اس پاک فوج کو اللہ نے اور عزت دینی ھے۔ ۔ دشمن آنا چاہتا ھے مگر خوفزدہ ھے، آپس میں پھوٹ ھے۔

‏خان بابا فرماتے ھیں کہ ہندوؤں کے مقابلے میں پاکستان کی حکومت کو مضبوط کرنے کی ضرورت ھے۔ اندرونی طور پر نواز اور زرداری ابھی اور ذلیل ھوں گے۔ ان کا برا وقت شروع ھے۔
بھارت کی جانب سے خطرہ باقی ھے۔ قوم بہت غافل ھے، حکمرانوں میں عقل نھیں مگر ان کی مدد کریں۔ انکو سکھایں۔۔

‏فرماتے ھیں، یہ پاکستان ھے، اسکے معاملات بہت اوپر سے کنٹرول ھوتے ھیں۔ راتوں رات صورتحال تبدیل ھو سکتی ھے۔ کویء زیادہ آگے تک نھیں دیکھ سکتا مگر اس پاکستانی فوج کے نصیب میں اللہ نے عزت لکھ دی ھے۔ اس کے سینگ سونے کے بنا دیے ھیں۔ دنیا میں کسی فوج کا یہ مقام نھیں ھے۔۔۔

الحمدللہ۔۔۔⁦🇵🇰
https://www.facebook.com/syedzaidzamanhamid/photos/a.1643903065664498/2074466745941459/?type=3&theater

Monday, 21 January 2019

January 21st, 2019


زرداری، نواز اورشہباز پر صرف خیانت اور چوری کے مقدمات کیوں بنائے ہیں؟ ان پر اصل مقدمات تو قتل اور غداری کے بنتے ہیں۔

ماڈل ٹاؤن ہو، راؤ انوار ہو، مرتضیٰ بھٹو کا قتل ہو، عزیز بلوچ ہو، پاک فوج میں بغاوت کرانی ہو، میموگیٹ ہو، بینظیر کا قتل ہو۔۔۔ اصل میں تو یہ مقدمات ہیں


سی ٹی ڈی کے بارے میں ایک بات جان لیں کہ مجموعی طور پر اس محکمے نے دہشت گردوں کے خلاف بہت شاندار کام کیا ہے، خاص طور پر ٹی ٹی پی کے دہشت گردوں کے خلاف۔
بیشک ساہیوال کا واقعہ ایک سانحہ ہے، مگر بہتر یہی ہے کہ جے آئی ٹی کی رپورٹ کا انتظار کیا جائے۔

سی ٹی ڈی کا محکمہ شہباز شریف کا بنایا ہوا ہے، اور یقیناًاس میں شہباز شریف کے وفادار ہونگے، مگر جیسا کہ کہا مجموعی طور پر اس محکمے نے پاکستان اور خاص طور پر پنجاب سے مذہبی دہشت گردی کے خاتمے میں بہت اہم کردار ادا کیا ہے۔ کالی بھیڑیں ہر محکمے میں ہوتی ہیں۔

عوام کو تو کیا کہیے، میں تو ان صحافیوں اور سیاستدانوں کی عقلوں پر ماتم کررہا ہوں کہ جو بلا تحقیق اور جے آئی ٹی کی رپورٹ کے بغیر ہی، حکومت کے استعفے اور سی ٹی ڈی کے افراد کی پھانسیوں کا مطالبہ کررہے ہیں۔
کہیں ایسا تو نہیں کہ اس سانحے کے پیچھے شہباز شریف کے وفادار ہوں؟

یہ بات یاد رکھیں کہ شہباز شریف بدنام زمانہ ہے پولیس مقابلوں اور ماورائے عدالت قتل کروانے میں۔
سب جانتے ہیں کہ مجھے جمہوریت اور پی ٹی آئی کی حکومت سے کوئی ہمدردی نہیں ہے، مگر زرداری، نواز، شہباز جیسے ڈاکو اپنے آپ کو بچانے کیلئے کسی بھی حد تک جاسکتے ہیں۔

پی ٹی آئی کی حکومت کی سب سے بڑی حماقت اور جہالت ہی یہی ہے کہ انہوں نے زرداری، نواز اور شہباز جیسے ڈاکوؤں پر بہت ہی ہلکا ہاتھ ڈالا ہے۔ اسی وجہ سے اب یہ سارے ڈکیت اکٹھے ہو کر جوابی وار کررہے ہیں اور حکومت بوکھلائی ہوئی نظرآرہی ہے۔
ان سب کو اندرکریں۔۔۔۔

زرداری، نواز اورشہباز پر صرف خیانت اور چوری کے مقدمات کیوں بنائے ہیں؟ ان پر اصل مقدمات تو قتل اور غداری کے بنتے ہیں۔
ماڈل ٹاؤن ہو، راؤ انوار ہو، مرتضیٰ بھٹو کا قتل ہو، عزیز بلوچ ہو، پاک فوج میں بغاوت کرانی ہو، میموگیٹ ہو، بینظیر کا قتل ہو۔۔۔ اصل میں تو یہ مقدمات ہیں!!!

بہرحال یہ بات تو واضح ہے کہ پی ٹی آئی کی حکومت انتہائی کمزور بنیادوں پر کھڑی ہے۔ ایم کیو ایم کو ساتھ ملانے کی وجہ سے بلدیہ فیکڑی اور کراچی میں ہونیوالی دہشت گردی کے کیس نہیں کھولے جاسکتے۔ مینگل کو ساتھ ملانے کی وجہ سے بلوچستان میں دہشت گردوں پر گرفت نہیں کی جاسکتی۔

ہم بار بار انتہائی مخلص نصیحت کررہے ہیں کہ حکومت کو فوری طور پر ملک میں معاشی اور جنگی ایمرجنسی لگانے کی ضرورت ہے۔ ایمرجنسی طاقت کے بغیر یہ سیاسی اور معاشی دہشت گرد کبھی بھی گھیرے میں نہیں لاجاسکتے۔ انگریزوں کا چھوڑا ہوا گلا سڑا نظام ہی اس دہشت گردی کا محافظ ہے۔

اگر عمران کی حکومت نے اسی گلے سڑے نظام کے ذریعے احتساب اور سیاسی و معاشی دہشت گردوں کی گرفت کرنے کی کوشش جاری رکھی، تو بہت جلد ملک میں یہ دہشت گرد اس قدر بغاوت و فساد و قتل و غارت برپا کریں گے کہ حکومت کا کھڑا رہنا ناممکن ہوجائے گا۔

بزرگوں نے ہمیشہ یہ نصیحت کی ہے کہ کبھی بھی وحشی درندے اور زہریلے سانپوں کو زخمی کرکے چھوڑا نہیں جاتا۔
سیاست میں بھی یہی قوانین نافذ ہوتے ہیں۔
دہشت گردوں پر یا تو مضبوط گرفت کریں یا ہاتھ نہ ڈالیں۔۔۔ زخمی کرکے چھوڑیں گے تو وہ پلٹ وار ضرور کریں گے۔

ایک بات بہت اچھی طرح سمجھ لیں کہ میڈیا نہ تو کوئی مقدس گائے ہے اور نہ ہی ریاست کا چوتھا ستون۔ یہ پرائیویٹ کاروباری ادارے ہیں کہ جو اب صحافتی طوائفوں میں تبدیل ہوچکے ہیں۔ نہ ان کا کوئی نظریہ ہے، نہ انہیں ریاست کی پرواہ ہے، نہ دین کی۔
یہ ادارے ہی ’’میر جعفر‘‘ اور ’’میر صادق‘‘ ہیں۔

ملک میں دہشت گردی کے خلاف کوئی بھی مہم اس وقت تک کامیاب نہیں ہوسکتی جب تک کہ سیاست اور میڈیا میں موجود فسادیوں اور انارکی پھیلانے والے تبلیغاتی دہشت گردوں کے گلے میں رسہ نہ ڈالا جائے۔
ملک میں خوف و ہراس و مایوسی تبلیغاتی ہتھیاروں کے ذریعے پھیلائی جاتی ہے۔

جج کہتے ہیں کہ فوج کو سویلین معاملات میں دخل نہیں دینا چاہیے۔
اچھی بات ہے۔
اسی طرح سویلین اداروں کو بھی فوج کے جنگی معاملات میں دخل نہیں دینا چاہیے۔ اور نہ ہی فوج کو سویلین معاملات میں طلب کرنا چاہیے۔
سویلین حکومت پولیو کے قطرے خود کیوں نہیں پلوا لیتی؟ بیلٹ پیپر خود کیوں نہیں چھاپ لیتی؟ دہشت گردوں سے خود کیوں نہیں لڑ لیتی؟

ہماری سویلین حکومتوں اور عدالتوں کو ابھی تک یہ بات سمجھ میں نہیں آئی کہ جنگیں اب سرحدوں پر نہیں شہروں میں لڑی جارہی ہیں۔ دشمن کے فوجی وردی پہن کر نہیں، سول کپڑوں میں پاک فوج پر حملہ آور ہورہے ہیں۔ دشمن کے فوجیوں سے کیسے نمٹنا ہے، یہ تمام تر اختیار فوج کا ہے، نہ کہ سول اداروں کا۔

ہماری آج کی جنگ ’’پانچویں نسل کی ہمہ جہتی جنگ‘‘ کہلاتی ہے۔ (5GW Hybrid War)۔
اس کا مطلب ہی یہ ہے کہ اب خالصتاً دو فوجوں کے درمیان یہ روایتی جنگ نہیں ہے، بلکہ دشمن ہمارے ملک کے شہروں میں، غداروں کے ذریعے، مسلح جنگجوؤں کو بھیج کر، سیاسی و تبلیغاتی دہشت گردی کروارہا ہے۔

اگر پاکستان کے سول اداروں، حکومتوں اور عدالتوں نے ’’سول بالادستی‘‘ کی یہی جاہلانہ رٹ لگائے رکھی، تو ملک و قوم کا بیڑہ غرق ہو کر رہ جائے گا۔ جنگ کی نوعیت کو سمجھیں۔ دشمن سے کیسے لڑنا ہے اس کا فیصلہ سپہ سالار نے کرنا ہے، وزارت داخلہ اور سپریم کورٹ نے نہیں۔ ورنہ سب مارے جائیں گے!

جب پی آئی اے کا جہاز اڑنا ہو، تو سارا اختیار اور طاقت پائلٹ کے ہاتھ میں ہوتی ہے۔ جہاز میں بیٹھے ہوئے وزیراعظم، سپریم کورٹ کا چیف جسٹس یا کوئی میڈیا کا نمائندہ کبھی بھی پائلٹ پر یہ رعب نہیں ڈالتا کہ جہاز کیسے اڑانا ہے، نہ سوموٹو لیا جاتا ہے، نہ ہی پائلٹ کے کام میں دخل دیا جاتا ہے۔
تو پھر سپہ سالار کے کام میں دخل کیوں؟؟؟

https://www.facebook.com/syedzaidzamanhamid/posts/2003697883018346?__tn__=K-R

Saturday, 13 October 2018

October 4th, 2018

یہ بات بالکل واضح ہے کہ پاکستان ’’پرانا‘‘ ہو یا ’’نیا‘‘۔۔۔ اگر یہی عدالتی نظام چلتا رہا تو ملک میں ظلم و استبداد اور کفر ہمیشہ قائم رہے گا۔ نہ عدل ہوگا، نہ انصاف فوری ہوگا، نہ مفت ہوگا، نہ گھر کی دہلیز پر ہوگا، اور پورا معاشرہ فساد میں مبتلا رہے گا۔ تحریک ’’انصاف‘‘ بھی تحریک ’’ظلم‘‘ ہی رہے گی!!!








سیدنا علیؓ نے فرمایا تھا کہ حکومتیں کفر کے ساتھ تو چل سکتی ہیں، مگر ظلم کے ساتھ نہیں!
آج پاکستان میں ہر فساد کی جڑ یہ ہے کہ یہاں عدالتی نظام 1860 ء کا وہ نو آبادیاتی نظام ہے کہ جو اس وقت کے حاکم انگریزوں نے مقامی لوگوں کو غلام رکھنے کیلئے بنایا تھا۔

انگریزوں کا بنایا ہوا پونے دو سو سال پرانا انگلیو سیکسن عدالتی نظام اور قوانین ظلم اور استبداد کی وہ بدترین مثال ہیں کہ جس کی سفاکی اور غلاظت کی کوئی انتہائی نہیں ہے۔
یہ نظام عدل کیلئے نہیں، جبر کیلئے بنایا گیا تھا۔

انگریزوں کے بنائے ہوئے اس سفاکانہ عدالتی نظام کی بنیاد وکالت کے پیشے پر ہے۔ جب ایک پیشہ ہی ایسا بنایا دیا جائے کہ جس کا ذریعہ آمدن جھوٹ بول کر مقدمات کو طول دینے میں ہو، تو انصاف کا جنازہ تو یہیں نکل جاتا ہے۔

اس نظام کی بنیاد ایسے رکھی گئی ہے کہ جج، وکیلوں کے دلائل اور شہادتوں کی بنیاد پر ہی فیصلے کرتا ہے۔ جج بذات خود تحقیق نہیں کرسکتا، بلکہ جھوٹی گواہیوں اور وکیلوں کے پیچیدہ دلائل کو بنیاد بنا کر فیصلہ کرنے پر مجبور ہوتا ہے۔ عدل کے بجائے قانونی پیچیدگیوں پر زور ہوتا ہے۔

انگریزوں کا بنایا ہوا ظلم و استبداد نو آبادیاتی عدالتی نظام نہ صرف کفر ہے بلکہ پاکستان کے پورے معاشی نظام کو درہم برہم کرنے کا بھی ذمہ دار۔
چاہے وراثت کا مقدمہ ہو یا قتل کا، زمین کا تنازعہ ہو یا ملک و قوم کے خلاف غداری کا، انصاف کئی کئی برس بعد بھی نہیں ملتا۔

قاتل، ڈاکو اور راہزن قیمتی سے قیمتی وکیل کرکے، قانونی پیچیدگیوں کو استعمال کرتے ہوئے، اپنے مقدمات کو سیشن کورٹ، ہائی کورٹ اور پھر سپریم کورٹ میں برسوں گھسیٹ کر سزا سے بچ جاتے ہیں۔ غریب آدمی تو صرف تھک کر ہی ترستا رہ جاتا ہے۔

سب سے کم تجربہ کار اور اکثر نا اہل ترین جج سیشن کورٹ میں لگائے جاتے ہیں۔ پھر ان کی اپیلیں برسوں ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ میں چلتی ہیں۔ مقدمے کی نکل نکلوانے کیلئے بھی عدالتی عملہ پیسے لیتا ہے۔ پورے کا پورا نظام ہی فرعونیت اور ظلم و استبداد پر مبنی ہے۔

پاکستان میں ہر نظام ہی گلا سڑا اور بوسیدہ ہے، مگر ان سب میں عدالتی نظام سب سے زیادہ غلیظ اور کینسر شدہ ہے۔ شریف انسان تو عدالت کا نام سن کر خوف میں مبتلا ہوجاتا ہے، کہ یہاں عدالت ظلم و استبداد کا دور دورہ ہے۔ اسلام تو دور کی بات، یہاں تو عام درجے کی انسانیت بھی نصیب نہیں ہے۔

یہ بات بالکل واضح ہے کہ پاکستان ’’پرانا‘‘ ہو یا ’’نیا‘‘۔۔۔ اگر یہی عدالتی نظام چلتا رہا تو ملک میں ظلم و استبداد اور کفر ہمیشہ قائم رہے گا۔ نہ عدل ہوگا، نہ انصاف فوری ہوگا، نہ مفت ہوگا، نہ گھر کی دہلیز پر ہوگا، اور پورا معاشرہ فساد میں مبتلا رہے گا۔ تحریک ’’انصاف‘‘ بھی تحریک ’’ظلم‘‘ ہی رہے گی!!!

اسلامی عدالتی نظام کی بنیاد عدل پر ہے۔ انصاف فوری ہوتا ہے، ہوتا ہوا نظر آتا ہے، قاضی خود تحقیق و تفتیش کرتا ہے، انصاف مفت ہوتا ہے اور اس میں وکیلوں کے جھوٹ اور ان کی بھاری فیسوں کی کوئی گنجائش سرے سے ہے ہی نہیں!!!!
یہ انتہائی انقلابی عدالتی نظام ہے!

ہماری پوری اسلامی تاریخ میں ہمیں یہ لاکھوں مثالیں ملتی ہیں کہ قتل جیسے مقدموں کے فیصلے بھی ایک ایک گھنٹے میں کیے گیے ہیں، مجرموں کو فوری سزا دی جاتی ہے، عدل مفت ہوتا ہے، سائل عدالت میں آکر خود کو محفوظ تصور کرتا ہے، وکیلوں کا کوئی وجود نہیں ہوتا۔

کیوں آج ہم پاکستان میں اسلامی شرعی عدالتی نظام قائم نہیں کرسکتے؟
اسلامی شرعی عدالت میں نہ قاتلوں اور ڈاکوؤں میں بھاری فیس لیکر وکیل بچا سکتے ہیں، نہ قانونی پیچیدگیاں عدل و انصاف کی راہ میں حائل ہوسکتی ہیں۔ اگر قتل کیا ہے تو یا قصاص ہوگا یا معافی یا سولی!
نہ کوئی اپیل، نہ کوئی تاخیر!!!

پاکستانی قانون میں صدر پاکستان کو قاتل کی سزا معاف کرنے کا اختیار حاصل ہے۔ یہ قطعاً حرام اور غیر شرعی عمل ہے۔ قاتل کو معاف کرنے کا حق صرف مقتول کے ورثاء کو ہوسکتا ہے۔
اگر انصاف حاصل کرنے کیلئے لاکھوں روپے خرچ کرنے پڑیں، سالوں انتظار کرنا پڑے، تو یہ نظام کفر اور ظلم کا کہلائے گا۔

آج بھی پاکستان میں کئی طرح کی عدالتیں چل رہی ہیں۔ انگریزی عدالتیں بھی ہیں، فوجی عدالتیں بھی ہیں، شرعی عدالت کے نام پر ایک مذاق بھی ہے، جرگے بھی ہیں۔۔۔ تو پھر کیا حرج ہے کہ ریاست اصلی اسلامی شرعی عدالتیں بنا کر اپنی نگرانی میں لوگوں کو انصاف فراہم کرے؟

ایک مرتبہ کرکے تو دیکھیں۔ جب قاتل پکڑا جاتا ہے، ثبوت موجود ہیں، خود اقرار کررہا ہے، گواہ موجود ہیں، تو پھر قتل کے مقدمے کا فیصلہ 15 منٹ میں کیوں نہیں کیا جاسکتا؟؟؟
کیا ضروری ہے کہ انصاف کیلئے، سیشن کورٹ، ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ کے بیس سال کے سفر کو لاکھوں روپے دے کر طے کیا جائے؟

ہمیں پاکستان میں ہر حال میں قصاص کو نافذ کرنا ہے۔
ہر حال میں چور کے ہاتھ کاٹنے ہیں۔
ہر حال میں ڈاکو کو سولی چڑھانا ہے۔
ہر حال میں وراثت کو فوری تقسیم کرنا ہے۔
ہر حال میں انصاف کو مفت، فوری اور گھر کی دہلیز تک پہنچانا ہے۔

پاکستان میں 90 فیصد مقدمات بہت آسانی سے چند گھنٹوں یا چند دنوں میں شرعی عدالتوں میں نبٹائے جاسکتے ہیں۔
صرف حکومتی، معاشی یا کاروباری مقدمات کچھ ایسے ہونگے کہ جن کیلئے بین الاقوامی قوانین کی پابندی مجبوری ہو۔ ورنہ معاشرے میں عدل قائم کرنے کیلئے انصاف مفت اور فوری کرنا ہوگا۔

اگر تحریک انصاف کی حکومت یہ جرأت نہیں کرسکتی، تو پھر ’’انصاف‘‘ اور ’’تبدیلی‘‘ کا ڈرامہ بند کرے، اور کھل کر کہے کہ ہم بھی انگریزوں کے نظام کو جاری رکھنے کیلئے ہی آئے ہیں۔
ملک میں جو لاکھوں وکیل ہیں، بدقسمتی سے شریعت اور انصاف کی راہ میں یہی سب سے بڑی رکاوٹ ہیں۔

یہ بات بالکل طے ہے کہ ہمیں معاشرے میں اگر عدل و انصاف کو نافذ کرنا ہے تو اس کیلئے پورے عدالتی نظام میں فوری طورپر ہماری بتائی ہوئی انقلابی تبدیلیاں لانی ہونگی۔ پہلی عدالت میں ہی قابل ترین قاضی لگا کر محکم فیصلے کرنے ہونگے کہ جو فوری اور مفت انصاف یقینی بنائیں۔

اس بات پر غور کریں کہ اسلامی عدالتی نظام میں جیلوں کا تصور نہیں ہے۔ یا مجرم کو سزا دی جاتی ہے، یا دیت لی جاتی ہے، یا معاف کردیا جاتا ہے۔ مگر جیلوں میں رکھ کر سڑانے کا کوئی حکم نہیں ہے۔
ذرا سوچیں کہ اگر شریعت نافذ ہوجائے تو ملک کی جیلیں خالی ہوجائیں گی۔۔۔

اللہ جب چاہے گا، اپنے ایسے شیر دلیر بندوں کو پاکستان کی حکمرانی دے گا کہ جو حقیقی معنوں میں ’’تبدیلی‘‘ لیکر آئیں گے۔ عدل و انصاف کو فوری، یقینی، بے لاگ اور مفت بنائیں گے۔ شریعت نافذ کریں گے، ظلم کا خاتمہ کریں گے، اور پاکستان کو حقیقت میں ’’مدینہ کی ریاست‘‘ بنائیں گے۔ ان شاء اللہ

https://www.facebook.com/syedzaidzamanhamid/posts/1855368541184615?__tn__=K-R








Read this carefully.

  

https://www.facebook.com/syedzaidzamanhamid/photos/a.109687115752775/1855372824517520/?type=3&__xts__%5B0%5D=68.ARBInnjogNBF07oxgkSqSWUVxLbC2UoN1AMuI69D-9xrfpqcJZ5n4q6I4-UFPHKGOBc1gKdAx2O-1C-BPWe4CZwpX9NdH3kdCOPbAHWVgBi7onArBLhLFNgcmUEz9fVjPbq6UBCgRJtogAUYF48ZKiOyGmIaxjG4OKk0wtZW6XipVr35JaGXwg&__tn__=-R



 اسلامی عدالتی نظام کی بنیاد عدل پر ہے۔ انصاف فوری ہوتا ہے، ہوتا ہوا نظر آتا ہے، قاضی خود تحقیق و تفتیش کرتا ہے، انصاف مفت ہوتا ہے اور اس میں وکیلوں کے جھوٹ اور ان کی بھاری فیسوں کی کوئی گنجائش سرے سے ہے ہی نہیں!!!!

یہ انتہائی انقلابی عدالتی نظام ہے


https://www.facebook.com/syedzaidzamanhamid/videos/556479694802141/?__xts__[0]=68.ARBxu-q2pYXuq25lNyyOLInNF_k5F7_tjfCzTsvxhGLpiESGOUTyF5CBXVtNrhTdSgvspGqyiqCh4KiXySzJLMnbmFtdMYbq1rzqDSYG3QEArrB906g4ahVxLkOzJoTlu7wNSUx8uYhIB9qmHDMFw3irQlU5PUXXksObuOfYK4DIQhLNCKgV&__tn__=-R




اسلامی عدالتی نظام کی بنیاد عدل پر ہے۔ انصاف فوری ہوتا ہے، ہوتا ہوا نظر آتا ہے، قاضی خود تحقیق و تفتیش کرتا ہے، انصاف مفت ہوتا ہے اور اس میں وکیلوں کے جھوٹ اور ان کی بھاری فیسوں کی کوئی گنجائش سرے سے ہے ہی نہیں!!!!
یہ انتہائی انقلابی عدالتی نظام ہے! ہماری پوری اسلامی تاریخ میں ہمیں یہ لاکھوں مثالیں ملتی ہیں کہ قتل جیسے مقدموں کے فیصلے بھی ایک ایک گھنٹے میں کیے گیے ہیں، مجرموں کو فوری سزا دی جاتی ہے، عدل مفت ہوتا ہے، سائل عدالت میں آکر خود کو محفوظ تصور کرتا ہے، وکیلوں کا کوئی وجود نہیں ہوتا۔









https://www.facebook.com/syedzaidzamanhamid/videos/556479694802141/?__xts__[0]=68.ARBxu-q2pYXuq25lNyyOLInNF_k5F7_tjfCzTsvxhGLpiESGOUTyF5CBXVtNrhTdSgvspGqyiqCh4KiXySzJLMnbmFtdMYbq1rzqDSYG3QEArrB906g4ahVxLkOzJoTlu7wNSUx8uYhIB9qmHDMFw3irQlU5PUXXksObuOfYK4DIQhLNCKgV&__tn__=-R

Sunday, 7 October 2018

September 21st, 2018

تاج برطانیہ کی چوری


تاج برطانیہ کی چوری

ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ملکہِ برطانیہ کا تاج چوری ہو گیا۔ کچھ دنوں کے بعد برطانوی پولیس نے ایک اطلاع پر محل کے ایک ملازم کے گھر چھاپہ مارا، پولیس وہاں پہنچی تو اس دیکھا کے محل کا ملازم صوفے پر بیٹھا ٹی وی دیکھ رہا ہے اور اسکا پانچ سال کا بچہ اس کے قدموں میں مسروقہ تاج سے کھیل رہا ہے۔ پولیس نے محل کے ملازم کو گرفتار کر کے متعدد دفعات لگا کر اسے عدالت میں پیش کردیا۔ ان دفعات میں سے ایک:

سیکشن 9(4) شاہی محل میں نقب زنی اور چوری
اور دوسری سیکشن 9(5) قبضے سے مال مسروقہ کی برامدگی

تھی۔ استغاثہ نے یہ جانتے ہوئے کی پہلی دفعہ میں جرم ثابت کرنا محال ہے، تمام توجہ دوسری دفعہ پر دی جس پر ، ظاہر ہے، ملزم رنگے ہاتھوں پکڑے جانے کی وجہ سے جرم تقریباً ثابت شدہ تھا،۔

ملزم کو بھرپورموقعہ دیا گیا کہ وہ اپنی صفائی پیش کرے، پر ملزم تاج کی اپنے گھر میں موجودگی کوئی معقول تاویل نہیں کرسکا۔ عدالت نے فیصلہ لکھتے ہوئے لکھا کہ سیکشن 9 (4) میں ملزم پر نقب زنی اور چوری کا جرم ثابت نہیں ہوا مگر سیکشن 9 (5) کے تحت مال مسروقہ کی تحویل کا جرم میں سزا سنا دی گئی۔
اس پر ملزم کے حواریوں نے شور مچا دیا کہ چوری تو ثابت نہیں ہوئی تو سزا کس بات پر دی گئی؟ دوسرا یہ کے تاج تو بچے کے پاس تھا، باپ کو سزا محض مفروضے پر دی گئی۔

یہاں تو یہ بات ایک لطیفہ ہی معلوم ہوتی ہے پر یقین جانیے اس دنیا کے ایک ملک میں چند بڑے بڑے دانشور اور صحافی اس استدلال کو سنجیدگی سے لے رہے ہیں۔

https://www.facebook.com/syedzaidzamanhamid/posts/1840341879353948?__xts__%5B0%5D=68.ARC4bOtwk06oPudw0zF0w8CaJp1Ty1lBmnbiJPrcxOOX1f43Gx8VOFcDsjVi2LPw65ZgLxV36i8Z7w1i6anfDgCEd0wJjddi-CX1gbDYexA70H3yuVQtzgs5g8oOgVziO0RWA7emV3ARlSH68PhYS8nwOJeeJe7J2NZXjGJNn7-oDv9TMC3LFA&__tn__=-R



We need more scholars like him to bring sectarian harmony in the Ummah...  He is a Shia scholar from Pakistan....and a bridge between the two communities. In a time when sectarian wars have ripped the Muslim world apart, sane voices are few and far between...


https://www.facebook.com/syedzaidzamanhamid/videos/964895717030329/?__xts__[0]=68.ARAtfOtEYzz1FXurJLvMoRy08-04HAIspsfxcPV4gy_JBR5W-k9sKcTmeah5grVRoTyJYOylnU45qUpa9xKVnSHv3wJ0-Bk9pgye7_G97toHZLLyHAU2fhubORtfNfvFcIb_zN4DYxmcESwKSi34aRO9T7v3r8Fat0tPVcSFbxTyKCe_UlCk&__tn__=-R

 
We need more scholars like him to bring sectarian harmony in the Ummah...
He is a Shia scholar from Pakistan....and a bridge between the two communities. In a time when sectarian wars have ripped the Muslim world apart, sane voices are few and far between...


 
https://www.facebook.com/syedzaidzamanhamid/videos/964895717030329/?__xts__[0]=68.ARAtfOtEYzz1FXurJLvMoRy08-04HAIspsfxcPV4gy_JBR5W-k9sKcTmeah5grVRoTyJYOylnU45qUpa9xKVnSHv3wJ0-Bk9pgye7_G97toHZLLyHAU2fhubORtfNfvFcIb_zN4DYxmcESwKSi34aRO9T7v3r8Fat0tPVcSFbxTyKCe_UlCk&__tn__=-R

Saturday, 15 September 2018

September 15th, 2018


میری ذاتی رائے ہے کہ پی ٹی آئی کی حکومت نے نواز شریف کو پانچ دن کا پیرول دے کر شدید سیاسی غلطی کی ہے۔ ایک مردہ اور شکست خوردہ مسلم لیگ ن میں ایک نئی سیاسی جان پڑ گئی


میری ذاتی رائے ہے کہ پی ٹی آئی کی حکومت نے نواز شریف کو پانچ دن کا پیرول دے کر شدید سیاسی غلطی کی ہے۔ ایک مردہ اور شکست خوردہ مسلم لیگ ن میں ایک نئی سیاسی جان پڑ گئی۔ اگر مجرموں کو جنازے کیلئے رہا کرنا ہی تھا تو پانچ گھنٹے بھی کافی تھے۔
حکومت نے اپنی کمزوری کا اظہار کیا ہے۔

پوری قوم کی بے انتہا امیدیں پی ٹی آئی کی حکومت اور عمران خان سے وابستہ ہوچکی ہیں۔ فوج اور سپریم کورٹ بھی مکمل طور پر حکومت کے ساتھ کھڑے ہیں۔ ایسے میں پی ٹی آئی کی حکومت کا کمزوری دکھانا اور مجرموں کو ان کی اوقات میں نہ رکھنا اپنی داخلی کمزوری کا بہت خطرناک اظہار ہے۔

ہر حکومت کو اپنے آپ کو مضبوط اور بااختیار ثابت کرنا ہوتا ہے۔ یہ ثابت کرنا ہوتا ہے کہ جو وہ کہہ رہے ہیں اس پر عمل کرنے کی جرأت بھی رکھتے ہیں، ورنہ ان کی رعب اور دبدبہ اگر ایک مرتبہ ختم ہوجائے تو اس کو دوبارہ قائم کرنا تقریباً ناممکن ہوجاتا ہے۔ پہلے 27 دنوں میں کچھ اچھے پیغام باہر نہیں جارہے۔

پی ٹی آئی کی حکومت کو چاہیے کہ دہشت گردوں، قاتلوں، راہزنوں، اغواء کاروں اور غداروں کے خلاف تو کم از کم سخت ترین کارروائی کا آغاز کرے۔
خیانت اور کرپشن کیلئے سزائے موت کا قانون اب لازم ہوچکا ہے۔ اگر پارلیمنٹ یہ قانون نہیں بناتی تو صدارتی آرڈیننس کا استعمال کریں۔

پاکستان کا عدالتی نظام اس ملک اور قوم کو ڈبو کر رکھ دے گا۔ نہ اس میں عدل ہے اور نہ ہی ملک دشمنوں کیلئے کوئی دہشت اور خوف۔
ٹی ٹی پی کے سینکڑوں دہشت گرد جن کو فوجی عدالتوں نے سزائے موت سنائی تھی، اس عدالتی نظام نے انہیں پناہ دی ہوئی ہے۔

دہشت گردوں کے خلاف ہمیں پاک فوج اور آئی ایس آئی کو وسیع ترین اختیارات دینے ہونگے۔ فوج پر اعتبار کرنا ہوگا۔ اگر فوج کسی کو دہشت گرد سمجھتی ہے تو اس غیر ریاستی دہشت گردی کو موت کے گھاٹ اتارنے کا اختیار بھی فوج اور آئی ایس آئی کو لازماً دینا ہوگا۔

اس جنگ میں اب جو پاک فوج اور آئی ایس آئی کے خلاف بھونکے، اسے غیر ریاستی دہشت گرد قرار دے کر جڑ سے اکھاڑنا لازم ہوچکا ہے۔ عدالتوں سے یہ توقع کرنا نادانی ہے۔ فوج اور آئی ایس آئی کو یہ کام خود کرنے ہونگے اور حکومت کو اس کی اجازت دینی ہوگی۔

جس طرح ہم ٹی ٹی پی اور بی ایل اے کے دہشت گردوں کے خلاف عسکری کارروائیاں کررہے ہیں، بالکل اسی طرح ہمیں معاشی دہشت گردوں اور تبلیغاتی دہشت گردوں کے خلاف بھی کارروائیاں کرنی ہونگی۔ ایک دشمن کے ہاتھ بکا ہوا صحافی ایک خودکش بمبار سے زیادہ خطرناک ہوتا ہے۔

حکومت عدلیہ اور فوج یہ بات بہت اچھی طرح سمجھ لے کہ اگر اب یہ دشمنوں کا خون نہیں بہائیں گے تو پھر معصوم پاکستانیوں کا خون بہے گا۔ اب تک بھی جتنا نقصان ہم اٹھا چکے ہیں، اس کی بڑی وجہ ہماری اپنی کوتاہی، کمزور فیصلہ سازی اور غیر فیصلہ کن قوتی ارادی ہے۔

پچھلے 17 سال سے شہادتیں دینے کے باوجود، آج بھی پاکستانی ریاست کی حکمت عملی یہ ہے کہ وہ بیٹھ کر دشمن کی جانب سے حملے کا انتظار کرتی ہے۔ آگے بڑھ کر دشمنوں کو ان کے گھر میں جا کر مارنا، ان کے ارادوں کو مکمل ہونے سے پہلے ہی کچل دینا اور خطے میں ان کا شکار کرنا ابھی تک ہماری پالیسی نہیں ہے۔

پی ٹی آئی کی حکومت کیلئے جہاں اس وقت سب سے بڑا مسئلہ ملک کو معاشی بحران سے نکالنا ہے، اس سے زیادہ بڑا مسئلہ امن و امان کا ہے۔ صاف نظر آرہا ہے کہ گلگت سے کراچی تک دہشت گرد گروہ ایک مرتبہ پھر منظم ہو کر حملہ آوررہے ہیں اور ریاست حسب معمول سکتے کے عالم میں ہے۔

حکومت معیشت سنبھالے، امن و امان فوج اور آئی ایس آئی کے حوالے کرے۔ ظاہری طور پر یا خفیہ طور پر، فوج اور آئی ایس آئی کو پورا اختیار ہو کہ ملک سے داخلی اور خارجی دہشت گردوں اور ان کے حمایتیوں کا جس طرح چاہے صفایا کرے۔ جنگ میں فوجی قانون ہی نافذ کیے جاتے ہیں۔

کالا باغ ڈیم بننا لازم ہے۔ مہمند ڈیم اور بھاشا ڈیم کے مقابلے میں یہ واحد ڈیم ہے کہ جس سے نہریں بھی نکالی جاسکتی ہیں اور اس کی تعمیر بھی سب سے کم وقت میں مکمل کی جاسکتی ہے۔ اس کی مخالفت صرف زرداری اور اسفندیار کررہے ہیں۔ دونوں پر آرٹیکل 6 لگا کر لٹکا دیں۔ ڈیم ہر صورت بننا ہے۔

ملک میں کرپشن کے ہزاروں مقدمات ہیں۔ حکومت کو صرف پچاس بڑے بڑے مقدموں میں توجہ دے کر تیس سے چالیس ارب ڈالر ان حرام خوروں سے نکلوانے چاہئیں۔ صرف زرداری، نواز شریف، ڈاکٹر عاصم، فواد حسن فواد جیسے کیس ہی ملک میں خوشحالی لاسکتے ہیں۔ یہاں سختی کرنی پڑے گی۔

پاکستان کے میڈیا کو ہر حال میں قابو کرنا ضروری ہے۔ یہ تبلیغاتی دہشت گردی ہیں۔ بغیر سختی کے با ز نہیں آئیں گے۔ سرل المیڈا اور حامد میر جیسے سانپ جب تک معاشرے میں معزز رہیں گے، یہ ملک و قوم و ملت و فوج ان پلیدوں کے ہاتھوں ہمیشہ ڈسی جاتی رہے گی۔ فوج کو یہ بات کیوں نہیں سمجھ آرہی؟

اپنے وعدے کے مطابق ہم پی ٹی آئی کی حکومت کو نصیحت بھی کررہے ہیں اور تنبیہہ بھی اور وقت بھی دے رہے ہیں اپنے 100 دن پورے کرنے کا۔ ابھی تک جو کچھ ہم نے دیکھا ہے وہ تکلیف دہ ہے۔
دشمن جتنا کمینہ اور چیلنج جتنا بڑا ہے، حکومت میں اتنا جذبہ، جنون اور عشق نظر نہیں آرہا۔
ان شاء اللہ، اللہ خیر کرے گا!!!

https://www.facebook.com/syedzaidzamanhamid/posts/1833907209997415?__tn__=-R


 

Our brutal dissection of Indian lies on Kashmir...it's tie to destroy this evil empire... Kashmir will be taken by sword....

https://www.facebook.com/syedzaidzamanhamid/videos/257832088204943/

Our brutal dissection of Indian lies on Kashmir...it's tie to destroy this evil empire... Kashmir will be taken by sword....

https://www.facebook.com/syedzaidzamanhamid/videos/257832088204943/

Wednesday, 25 July 2018

July 22nd, 2018

کل تک یہ حنیف عباسی اور اسکی حکومت اقتدار میں ہونے کے باوجود قرآن و سنّت کے قوانین قائم کرنے کی بات پر بڑے غرور اور تکبّر سے عدالت جانے کے طعنے دیتے تھے. الله کی قدرت دیکھیے کہ آج یہ فرعون انہی عدالتوں کے ہاتھوں ذلیل و رسوا ہو رہے ہیں.. الْحَمْدُ لِلّٰهِ


https://www.facebook.com/syedzaidzamanhamid/videos/1753205668067570/

کل تک یہ حنیف عباسی اور اسکی حکومت اقتدار میں ہونے کے باوجود قرآن و سنّت کے قوانین قائم کرنے کی بات پر بڑے غرور اور تکبّر سے عدالت جانے کے طعنے دیتے تھے. الله کی قدرت دیکھیے کہ آج یہ فرعون انہی عدالتوں کے ہاتھوں ذلیل و رسوا ہو رہے ہیں.. الْحَمْدُ لِلّٰهِ.

https://www.facebook.com/syedzaidzamanhamid/videos/1753205668067570/

Sunday, 15 July 2018

July 6th, 2018

اللہ اکبر! الحمدللہ کثیراً! آج پوری قوم پر واجب ہے کہ شکرانے کے نوافل ادا کرے۔ ایک ظالم اور فرعون آج اپنے انجام کو پہنچا۔


اللہ اکبر! الحمدللہ کثیراً! آج پوری قوم پر واجب ہے کہ شکرانے کے نوافل ادا کرے۔ ایک ظالم اور فرعون آج اپنے انجام کو پہنچا۔
جس کسی نے بھی سیدی رسول اللہﷺ کی اس امانت ،مدینہءثانی، پاک سرزمین کو نقصان پہنچایا، اللہ نے اسے دنیا میں بھی رسوا کیا اور آخرت میں بھی ذلیل ہوگا۔

جب پاناما کا مقدمہ شروع ہوا تھا تو پوری قوم پر ایک بے یقینی کی کیفیت طاری تھی۔”کچھ نہیں ہوگا“، ”ڈیل ہوجائے گی“، ”سب ڈرامہ ہے“، ”سارے ادارے ان کی جیب میں ہیں“، ”ایک اور این آر او ہوچکا ہے“، جیسی مایوسی کی باتیں ہر کوئی کررہا تھا۔ ہم نے اس وقت بھی کہا تھاکہ اب کی دفعہ یہ ظالم اپنے انجام کو پہنچیں گے۔

جو کچھ اب کی دفعہ ہوا ہے وہ پاکستان کی تاریخ میں اس سے قبل نہیں ہوا۔ایک طاقتور حکومت وقت کے ہوتے ہوئے ، اس کے اپنے وزیراعظم کے خلاف ،قومی اداروں نے سخت ترین احتساب کرکے اس کو معزول بھی کیا اور اب سزا بھی دلوائی۔ بات بظاہر ناقابل یقین تھی، مگر الحمدللہ، اللہ نے ہمارے یقین کو سچ کردکھایا۔

پاکستان کی تاریخ کے اس بہت بڑے ڈاکو کو سزا دلوانے کا کریڈٹ پاکستان سے پیار کرنے والے افراد کو جاتا ہے کہ جو ملک کے تمام اہم اداروں میں سرفروشی اور جانثاری کے ساتھ پاکستان کے دفاع میں خطرات مول لیتے رہے۔ آج ان تمام محب وطنوں کو ہم مبارکباد پیش کرتے ہیں۔

تحریک انصاف کی سپریم کورٹ میں درخواست تو رجسٹرار کے دفتر سے ہی رد کردی گئی تھی۔ پھر کیا ہوا۔۔۔؟
سپریم کورٹ نے درخواست قبول بھی کرلی، جے آئی ٹی بھی بن گئی، اس میں ایف آئی اے، آئی ایس آئی اور ایم آئی کو ذمہ داری دی گئی، سپریم کورٹ نے نیب کو مقدمے کیلئے کہا۔۔۔ ان سب کا کردار ہے۔

اس میں کوئی شبہ نہیں ہے کہ نواز شریف کو سزا دلوانے میں سب سے بڑا اور اہم ترین کردار جے آئی ٹی کا ہے۔ جے آئی ٹی کی پشت پر پاکستان کے سول اور فوجی تحقیقاتی ادارے تھے۔ ان کی پشت پر پاک فوج اور پاکستان کی سپریم کورٹ کی طاقت تھی۔جنرل راحیل، جنرل باجوہ، چیف جسٹس ثاقب نثار اصل ہیرو ہیں!!!

نیب کے جج بشیر صاحب خاص طور پر قوم کے ہیرو ہیں۔ تمام تر دباﺅ، لالچ اور دھمکیوں کے باوجود پوری استقامت، دیانت اور جرات سے انہوں نے اس مقدمے کا فیصلہ کیا۔ بے شک نیب کے دیگر درجنوں گمنام مجاہد بھی اس جدوجہد میں مبارکباد کے مستحق ہیں کہ جنہوں نے وطن سے وفاداری کا حق ادا کیا۔

جے آئی ٹی نے تنہا کام نہیں کیا تھا۔ جے آئی ٹی کے ہر فرد کے پیچھے اس کے پورے ادارے کی طاقت تھی۔ ڈی جی ایف آئی اے، ڈی جی آئی ایس آئی، ڈی جی ایم آئی اور ڈی جی نیب پوری قوت کے ساتھ قوم کے ساتھ ہونیوالی اس ڈکیتی کے خلاف محاذ آراءتھے۔ ان سب کو بھی مبارکباد!

یہ بات اچھی طرح سمجھ لیں کہ نواز شریف کو سزا بارش کا پہلا قطرہ ہے، آخری نہیں۔ ابھی اس کو بھی نشان عبرت بنانے کا کام مکمل نہیں ہوا۔ اس کے بعد اب دوسروں کی بھی باری ہے، چاہے زرداری ہو، شہباز ہو، الطاف حسین ہو، اچکزئی ہو، فضل الرحمن ہو یا اسفندیار ولی۔

الحمدللہ، آج پاکستان سے کمینوں اور حرام خوروں کی سرکاری صفائی کا باقاعدہ آغاز ہوگیا ہے۔ یہ ظالم اپنی چالیں چل رہے تھے، اور اللہ اپنی چالیں چل رہا تھا، اور بے شک اللہ سب سے بہتر چالیں چلنے والا ہے۔ دنیا میں تمام تر طاقت اور اقتدار رکھنے کے باوجود یہ بدنصیب رسوا ہوئے۔ اب دوسروں کی باری ہے، رسوا ہونے کی۔۔۔!!!
پاکستان سدا سلامت!!!

https://www.facebook.com/syedzaidzamanhamid/photos/a.109687115752775.23119.109463862441767/1729072240480913/?type=3


Friday, 29 June 2018

May 26th, 2018

یہ وہی جنرل درانی ہیں کہ جن پر آج کل سپریم کورٹ میں 1990 کے انتخابات میں اپنے اختیارات کا ناجائز استعمال کرتے ہو ئے نواز شریف کی بھاری فنڈنگ کا الزام ہے۔ ان کی نواز شریف سے پرانی ہمدردیاں ہیں۔ آج جب نواز شریف دوبارہ مشکل میں ہے، تو ایک متنازعہ بیانیے والی کتاب کیا معنی رکھتی ہے؟







جنرل درانی کی کتاب پر مجھے کوئی تجزیہ کرنے کی ضرورت اس لیے نہیں ہے کہ اس میں قصے، کہانیاں اور دیو مالائی داستانیں تو ہیں، مگر کوئی ثبوت اورشواہد نہیں۔ فوجی ضابطے کی کیا خلاف ورزی ہوئی ہے، اس کا فیصلہ تو جی ایچ کیو کرے گا، مگر ہم چند باتیں ضرور کریں گے۔

کسی بھی بات پر اعتبار کرنے سے پہلے دو باتوں کو لازماً پرکھا جاتا ہے۔
-1 کون کہہ رہا ہے۔
-2 کیا کہہ رہا ہے۔
سنی سنائی بات کو بغیر تحقیق بیان کردینے والا ہمارے دین میں جھوٹا کہلاتا ہے۔ جھوٹے اور منافق آدمی کا بیان چاہے سچ ہی کیوں نہ ہو، بدنیتی پر ہی مبنی ہوتا ہے۔

یہ وہی جنرل درانی ہیں کہ جن پر آج کل سپریم کورٹ میں 1990 کے انتخابات میں اپنے اختیارات کا ناجائز استعمال کرتے ہو ئے نواز شریف کی بھاری فنڈنگ کا الزام ہے۔ ان کی نواز شریف سے پرانی ہمدردیاں ہیں۔ آج جب نواز شریف دوبارہ مشکل میں ہے، تو ایک متنازعہ بیانیے والی کتاب کیا معنی رکھتی ہے؟

یہ بھی غور کریں کہ کتاب کی رونمائی تو آج ہوتی ہے، اور 12 گھنٹے کے اندر اندر اسے پوری دنیا اور خصوصاً پاکستان میں بالکل مفت پھیلا دیا جاتا ہے، یہاں تک کہ واٹس ایپ گروپوں تک اس کی PDF ایک منظم طریقے سے پھیلائی جاتی ہے۔ ظاہر ہے کہ جنرل درانی اس کتاب سے پیسہ نہیں کمانا چاہتے، کچھ اور کرنا چاہتے ہیں۔

یہ بات ذہن میں رکھیے گا کہ جنرل درانی کو فوج سے زبردستی نکالا گیا تھا، کیونکہ یہ حاضر سروس ہوتے ہوئے بھی بعد میں آنے والی بینظیر حکومت کے بھی انتہائی قریب ہوگئے تھے۔ ان کو فوج سے نکلے تقریباً 27 برس ہوچکے ہیں، اور یہ آج کے فوج اور آئی ایس آئی کے معاملات کی الف ب بھی نہیں جانتے۔

میرا ان سے ذاتی واسطہ 1991 ءمیں پڑ چکا ہے کہ جب یہ ڈی جی آئی ایس آئی تھے اور میں افغان مجاہدین کی جانب سے ان سے مذاکرات کرنے آیا تھا۔ اس کی ساری تفصیل میں اپنی کتاب ”دریائے سندھ سے دریائے آمو تک“ میں بیان کرچکا ہوں۔ پاکستان کی افغان پالیسی کو تباہ کرنے میں بھی ان کا مرکزی کردار ہے۔

1990 ءکی دہائی میں ،جنرل حمید گل مرحوم نے مجھے ذاتی طور پر خبردار کیا تھا کہ جنرل اسد درانی سے محتاط رہیں، کہ یہ امریکیوں کیلئے کام کرتا ہے۔
افغان جہاد کو تباہ کرنے میں جنرل درانی کے کردار کو تو میں ذاتی طور پر جانتا تھا اور جنرل حمید گل کی نصیحت کے بعد ان کے بارے میں میرے شک کو مزید تقویت ملی۔

جنرل درانی کی اس کتاب کو پاکستان کے موجودہ حالات کے تناظر میں دیکھنا ہوگا۔ نواز شریف کی ذلت و رسوائی، اس کی جانب سے ڈان لیکس 2 ، پاکستان پر منڈلاتے سفارتی، تجارتی اور معاشی پابندیوں کے سائے، منظور پشتین کی تخریبی تحریک کو عالمی حمایت، اور پھر جنرل درانی کی یہ کتاب۔۔۔ سب آپس میں ملا ہوا ہے۔

نظریاتی تخریب کاری، پراپیگنڈہ، نفسیاتی جنگ، اور قوم کے اعصاب پر حملے، تمام ہی اس موجودہ پانچویں نسل کی جنگ (5GW) کے اہم ترین محاذ ہیں۔ خوارج کی پاکستان کے خلاف جنگ ہو، یا نواز شریف کی ناپاک گولہ باری، یا سائرل المیڈا کا زہریلا قلم، یا یہ اب جنرل درانی کی کتاب۔۔۔ یہ سب پاکستان کو ”شام“ بنانے کی سازش ہے!

اس کتاب سے ہونا کچھ بھی نہیں ہے، ان شاءاللہ۔ جیسے منظور پشتین رسواءہوا، نواز شریف ذلیل ہورہا ہے، سائرل کے منہ پر کالک ملی گئی، اب بڑھاپے میں جنرل درانی نے بھی اپنی مٹی پلید کروائی۔
اس پاک سرزمین کا اللہ محافظ و نگہبان ہے، مگر ہمیں زخم اپنی صفوں میں ہی موجود حسین حقانی، جماعت علی شاہ اور میر شکیل جیسے حرام کے نطفوں نے ہی پہنچایا ہے۔

دشمن جو ہمارے خلاف جنگ کررہے ہیں، وہ کرتے رہیں گے۔ روز ایک نیا حملہ ہوگا۔ ان کو ہم پر حملہ کرنے کیلئے کوئی دلیل نہیں چاہیے، فیصلہ وہ کرچکے ہیں، جنگ شروع ہوچکی ہے، اب صرف بہانے بنائے جارہے ہیں عالمی سطح پر اپنے جرائم کی صفائی پیش کرنے کیلئے، اور جس کیلئے یہ تبلیغاتی جنگ کی جارہی ہے۔

جنرل درانی کی یہ کتاب ہمیں ایک اور بہت گہرا سبق دے رہی ہے کہ اب پاکستان کے اس موجودہ سیاسی نظام کو اسی مقام پر روکنا پڑے گا، تاوقتیکہ ہم اس نظام کی پہلے اچھی طرح صفائی اور اصلاح کرلیں۔ ایک مرتبہ ہمیں اپنی گھاس میں چھپے ہوئے سانپوں کو ڈھونڈ ڈھونڈ کر کچلنا ہوگا، ورنہ یہ ہر قدم پرہم کو اور ہمارے بچوں کو ڈستے رہیں گے۔

https://www.facebook.com/syedzaidzamanhamid/posts/1677454915642646

May 16th, 2018

پچھلے دس سال کی جمہوریت نے اب ملک کو تباہی کے دہانے پر لا کھڑا کیا ہے۔ نہ یہ ایک فرد کا قصور ہے، نہ فوج کا، نہ عدالت کا۔ پورا نظام ہی ایسا بنایا گیا تھا کہ اس نے آخر میں آکر اسی طرح تباہی سے دوچار ہونا تھا۔ اب چیخنے چلانے کا کوئی فائدہ نہیں جب کینسر پوری طرح پھیل چکا ہے۔



اس حرام خور نواز شریف کے حامی اس کو شدید فوجی رد عمل سے بچانے کیلئے یہ واویلا کررہے ہیں کہ اس طرح یہ ”سیاسی شہید“ بن جائے گا۔ فوج پر اس کے سیاسی شہید بننے کا خوف طاری کرکے وہ فوج کو عمل سے روکنے کی کوشش کررہے ہیں۔

اچھی طرح سمجھ لیں کہ ایک مردار کبھی بھی ”شہید“ نہیں بن سکتا۔ اب نواز شریف ملک و قوم و قانون کی نظر میں اس قدر غلیظ اور ناپاک ہوچکا ہے کہ اب چاہے مارشل لاءلگے یا یہ پھانسی چڑھے، یہ کبھی بھی نہ شہید بن سکتا ہے نہ فوج کو اس وہم سے خوف کھانے کی ضرورت ہے۔

تین دفعہ وزیراعظم بننے کی وجہ سے اس شخص کے سنیے میں انتہائی اہم قومی راز ہیں۔ اب یہ اس ملک و قوم و فوج سے انتقام لینے کیلئے ان رازوں کو کھولے گا۔ قانونی طور پر اس کی سزا موت ہے، لیکن پھانسی سے پہلے یہ پلید شخص ملک و قوم کو شدید ترین نقصان ضرور پہنچا جائے گا۔

اس کو فوری طور پر جیل میں ڈال کر اس کی زبان بندی لازمی ہے۔ فوج کی خاموشی اس حرام خور کو مزید حوصلہ دے رہی ہے اور یہ دھمکیوں پہ دھکیاں دے رہا ہے کہ یہ مزید قومی راز کھولے گا۔ چاہے یہ جھوٹ ہی بولے، دشمن بہرحال اس کے بیانیے کو پاکستان کے خلاف استعمال کرے گا۔

بھارت نے اس کے بیان کی کاپیاں لیکر اب پوری دنیا میں پاکستان کے خلاف اقتصادی اور فوجی پابندیاں لگانے کیلئے بھرپور مہم کا آغاز کردیا ہے۔ نقصان تو یہ پہنچا ہی چکا ہے، اب یا ہم اسے مزید بھونکنے دیں یا پٹہ ڈالیں، یہ فیصلہ سپریم کورٹ اور فوج کوکرنا ہے۔

ہم نے بہت پہلے آپ کو بتادیا تھا کہ یہ آنے والی گرمیاں پاکستانیوں کیلئے انتہائی سخت، خونی اور مشکل ترین ہونگی۔ اب ہم فرشتوں کی بھی عبوری حکومت لے آئیں تو اس کیلئے ملک کو اقتصادی اور مالی بحران سے نکالنا ایک ناممکن سا امر لگتا ہے۔

اگر تو فوج اور سپریم کورٹ نے ہماری بات مان لی اور ایک محب وطن اور قابل عبوری حکومت آئی، تب بھی آنے والا وقت انتہائی مشکل ترین ہوگا۔ اور اگر انہی حرام خوروں نے اپنی مرضی کی حکومت لائی تو پھر آنے والا وقت تباہ کن ہوگا۔

پچھلے دس سال کی جمہوریت نے اب ملک کو تباہی کے دہانے پر لا کھڑا کیا ہے۔ نہ یہ ایک فرد کا قصور ہے، نہ فوج کا، نہ عدالت کا۔ پورا نظام ہی ایسا بنایا گیا تھا کہ اس نے آخر میں آکر اسی طرح تباہی سے دوچار ہونا تھا۔ اب چیخنے چلانے کا کوئی فائدہ نہیں جب کینسر پوری طرح پھیل چکا ہے۔

پاکستان کی فکر نہ کریں۔ یہ اللہ کے فضل و کرم سے سایہءخدائے ذوالجلال میں ہے۔ پاکستانی اپنی خیر منائیں۔ پاکستان تو ایسے ہی رہے گا، پاکستانیوں کو اللہ اب بھوک اور خوف کے عذاب میں مبتلا کرے گا۔ اب اس قوم کو اللہ سے شکوہ کرنے کا کوئی حق نہیں۔

ہماری خواہش تو یہ تھی کہ بغیر مار کھائے، بغیر ذلیل و خوار ہوئے، یہ قوم فلاح کا راستہ اختیار کرلے۔ مگر نہ تو یہ قوم راضی ہے، نہ اس کی اشرافیہ۔ اب سب مل کر سو پیاز بھی کھائیں گے اور سو جوتے بھی۔

ہم ایک بار پھر کہہ رہے ہیں یہ دشمن ہمیں نقصان پہنچا سکتا ہے، پاکستان کو ختم نہیں کرسکتا، الحمدللہ۔ مگر ہم نے اپنے آپ کو ایک بدنصیب احسان فراموش اور محسن کش قوم ثابت کردیا ہے۔ ایسی اجتماعی غلطیوں کی سزا بھی اجتماعی عذاب کی شکل میں آتی ہے، سو اب استغفار کریں۔

https://www.facebook.com/syedzaidzamanhamid/photos/a.109687115752775.23119.109463862441767/1668070149914456/?type=3


May 14th, 2018

Our brutally harsh truth on treason by Nawaz and other political parties....

https://www.facebook.com/syedzaidzamanhamid/videos/1666293320092139/

Our brutally harsh truth on treason by Nawaz and other political parties....

https://www.facebook.com/syedzaidzamanhamid/videos/1666293320092139/

Saturday, 28 April 2018

April 27th, 2018

What will you say about this Mullah and the Jamaat he belongs to ? is this Islam ? is this sharia? Is this sunnah to use deen to protect such zalim, fasiq, fasid, ghaddar, imaan farosh mulk dushman snakes??

https://www.facebook.com/syedzaidzamanhamid/videos/1650123275042477/

Innalillahe Inna ilehe rajeoon..

What will you say about this Mullah and the Jamaat he belongs to ? is this Islam ? is this sharia? Is this sunnah to use deen to protect such zalim, fasiq, fasid, ghaddar, imaan farosh mulk dushman snakes?? which Islam do these Mullahs practice ??? report says he is friend of Tariq Jameel....we know Tariq Jameel is very close to Nawaz and his family....astaghfurullah, Inna lillahe inna ilehe rajeoon....

You will see many will come here to comment to defend this Mullah.....just watch....

https://www.facebook.com/syedzaidzamanhamid/videos/1650123275042477/


Saturday, 21 April 2018

April 19th, 2018


اب غالباً افغانیوں اور پٹواریوں کو ایک پلیٹ فارم پر پشتون پنجابی اتحاد کا نام دے کر پاک فوج کے خلاف پراپگینڈے اور نفرت پھیلانے کے لیے استعمال کیا جائیگا!


نواز شریف لندن میں،
اسکی فتنہ پرور بیٹی لندن میں،
احسن اقبال لندن میں،
سجن جندال لندن میں،
نریندر مودی لندن میں،
حسین حقانی لندن میں،
الطاف حسین پہلے سے وہاں موجود،
اور پی ٹی ایم کے لیے متحرک خصوصی افغان ایلچی لندن میں،

ہے نا دلچسپ اتفاق؟

ایک اور دلچسپ اتفاق یہ ہے کہ آج ہی پسکین تحریک والے خوشی سے دھمال ڈالتے ہوئے اعلان کر رہے ہیں کہ مریم نواز نے ان کے لاہور میں فوج مخالف جلسے کے لیے تیس ہزار کارکن فراہم کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔

اعلان سے یاد آیا کہ چند دن پہلے نواز شریف نے بھی ایک اعلان کیا تھا کہ " میں آنے والے دنوں میں پاکستان میں انتشار دیکھ رہا ہوں " ۔۔

نواز شریف کے اس اعلان پر میرے ایک پیارے دوست نے تبصرہ کیا ہے کہ ۔۔

"کسی گاؤں میں ایک لڑکی نے نے بھی ایسی ہی پیشن گوئی کی تھی کہ کل اس گھر کا ایک فرد کم ہوجائیگا، اور اگلے دن بھاگ گئی، تو گھر والوں نے کہا کہ بھاگی ضرور لیکن اللہ کی ولی تھی، پیشن گوئی بلکل درست ثابت ہوئی اسکی!"

گمان غالب ہے کہ نواز شریف بھی اپنی پیشن گوئی درست ثابت کرنے کی تگ و دو کر رہا ہے۔

قوم پرستی کے نام پر پنجابی اور پشتون کو ٹکرانے کا پلان غالباً تبدیل کر دیا گیا ہے۔ پشتونوں کی طرف سے بے پناہ مزاحمت اور آئینی گرفت میں آنے کے خوف سے۔

اب غالباً افغانیوں اور پٹواریوں کو ایک پلیٹ فارم پر پشتون پنجابی اتحاد کا نام دے کر پاک فوج کے خلاف پراپگینڈے اور نفرت پھیلانے کے لیے استعمال کیا جائیگا!

جمہوریت سے کبھی کسی خیر کی امید نہیں رہی۔ لوگوں کے افراد بکتے ہیں ہمارے لیڈر بک جاتے ہیں۔ باچاخان مردود سے یہ سلسلہ شروع ہوا اور ابولکلام آزاد سے ہوتا ہوا بھٹو اور شیخ مجیب تک اور وہاں سے نواز شریف تک آن پہنچا!

جب تک اس "تگ و دو" کے اثرات تم لوگوں کے گھروں تک نہ پہنچ جائیں تب تک تم لوگ حقوق اور عصیب کے جھنڈے جمع ہونے والے اس فتنے کو جائز قرار دینے کے جواز ڈھونڈو!

پہلے کی طرح ۔۔۔
پاکستان زندہ باد

written by: Shahid Khan

✌✌

https://www.facebook.com/syedzaidzamanhamid/posts/1642295479158590

Sunday, 21 January 2018

January 19th, 2018

 

https://www.facebook.com/syedzaidzamanhamid/photos/a.307422609312557.80458.109463862441767/1548708721850600/?type=1&theater

 


https://www.facebook.com/syedzaidzamanhamid/photos/a.115682355153251.30867.109463862441767/1548707921850680/?type=1&theater



The anger of the people against Nawaz shareef is now touching the red hot levels.....the feelings expressed in this clip are the feelings of every patriot....

https://www.facebook.com/syedzaidzamanhamid/videos/1548086355246170/


The anger of the people against Nawaz shareef is now touching the red hot levels.....the feelings expressed in this clip are the feelings of every patriot....

The Panama Mafia is miscalculating the anger and the rage....they will suffer a painful end...inshAllah

https://www.facebook.com/syedzaidzamanhamid/videos/1548086355246170/



Sufi Muhemmed is the godfather of TTP....now he has done Tauba and openly attacking them and calling them Khawarij.Now what would JUI, JI and other Deoband mullahs say who have NEVER called TTP as Khawarij????



Alhamdolillah, finally someone said it openly...

Sufi Muhemmed is the godfather of TTP....now he has done Tauba and openly attacking them and calling them Khawarij.

Now what would JUI, JI and other Deoband mullahs say who have NEVER called TTP as Khawarij????

I say again....anyone refusing to call TTP as Khawarij should be killed by the army as he is a supporter of Khawarij.

https://www.facebook.com/syedzaidzamanhamid/posts/1548982211823251


January 17th, 2018

Sayyadi Rasul Allah (sm) has asked us to learn weapon handling seriously....its part of our deen & requirement of our national security. Our duties are not limited to Social Media, TV or writing books....that is another though important axis of our duty....

https://www.facebook.com/syedzaidzamanhamid/videos/1546566088731530/

Sayyadi Rasul Allah (sm) has asked us to learn weapon handling seriously....its part of our deen & requirement of our national security. We share with our nation, the rizq that Allah has given us...we share our knowledge with armed forces, with those who are responsible to defend and protect Pakistan.

Our duties are not limited to Social Media, TV or writing books....that is another though important axis of our duty....

On ground, we share our experience with those who matter...and also motivate the patriots to be ready to defend Pak Sarzameen..

Changing the magazine is an important part of safe gun handing....here we give a demonstration on how to do that with a rifle...

https://www.facebook.com/syedzaidzamanhamid/videos/1546566088731530/




 

کیا قیمت وصول کی ہے تم نے پاکستان سے انتقام لینے کی؟


یہ بے غیرت کہتا ہے کہ الیکشن میں چار مہینے رہ گئے ہیں، تو اب کیوں احتجاج ہورہا ہے؟
یہی تو ہم بھی کہتے ہیں کہ جب تم دفع ہونے والے ہو تو جاتے جاتے پی آئی اے کیوں فروخت کررہے ہو، تمام شہریوں کو غیر مسلح کیوں کررہے ہو؟
کیا قیمت وصول کی ہے تم نے پاکستان سے انتقام لینے کی؟

ہم یہ صاف صاف بتارہے ہیں کہ نواز شریف اب کھلم کھلا پاکستان دشمنی پر اترچکا ہے۔ یہ شیخ مجیب کی طرح حکومت نہ ملنے پر پورے پاکستان کو آگ لگانا چاہتا ہے، مشرکوں سے ساز باز کرچکا ہے، اور اگر اسے مزید وقت دیا گیا تو یہ بچے کھچے ملک کو بھی دشمنوں کے ہاتھوں فروخت کرکے جائے گا۔ اس کو ہر حال میں روکنا ہوگا۔

اگرتلہ سازش اور شیخ مجیب کے واقع سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ غداروں کا سر اسی وقت کچلنا چاہیے کہ جب ان کی سازشیں پکڑی جائیں۔ اگر غداروں کو جمہوریت اور الیکشن کا حصہ بنائیں گے تو پھر ہونگے مشرقی پاکستان جیسے سانحے!!!
ابھی بھی وقت ہے ثاقب نثار صاحب، اس غدار حکومت کو فارغ کریں، ورنہ آپ بھی انہی میں سے شمار ہونگے۔

ہماری ذاتی رائے ہے کہ جنرل باجوہ یہاں پر جمہوریت اور عدالتوں کو خود احتسابی کا موقع دے کر شدید غلطی کررہے ہیں۔ پاکستانی عدالتوں کا ریکارڈ شرمناک رہا ہے، اور جمہوریت سے خیر کی توقع کرنا حماقت ہے۔
فوج کا کام ریاست کا دفاع کرنا ہے، چاہے دشمن سرحدوں پر ہو، سڑکوں پر ہو یا سیاسی جماعتوں میں۔

پوری دنیا کو معلوم ہے کہ قصور میں سینکڑوں بچوں کے ساتھ زیادتی میں نواز حکومت اور اسکے اسمبلی ممبران شامل ہیں۔ تو پھر کیوں چیف جسٹس صاحب قوم کے ساتھ مذاق کررہے ہیں؟ کیا صرف قصور کے واقعے پر پنجاب حکومت کی برطرفی بنتی ہے یا نہیں؟
ثاقب نثار صاحب، اور کتنی زینبوں کے جنازے چاہئیں آپ کو....؟

اس وقت ملک میں جس قدر دل دہلا دینے والے ظلم ہورہے ہیں، ان کی ساری ذمہ داری چیف جسٹس ثاقب نثار پر ہے۔ ملک میں عدالت کے سپہ سالار وہ ہیں، اور آخرت میں اللہ کو بھی جواب وہی دینگے۔
اگر ملکی دفاع کا معاملہ ہو تو ذمہ دار جنرل باجوہ ہیں۔ یہاں ملک میں عدل کا سوال ہے۔ جو بھی ظلم ہورہا ہے، ثاقب نثار ذمہ دار ہیں۔

https://www.facebook.com/syedzaidzamanhamid/photos/a.109687115752775.23119.109463862441767/1546815328706606/?type=3