...
Showing posts with label Pakistan Turkey alliance. Show all posts
Showing posts with label Pakistan Turkey alliance. Show all posts

Monday, 12 October 2020

October 12th, 2020

 جب ساری تعلیم اردو میں ہوتی تھی

 

جب ساری تعلیم اردو میں ہوتی تھی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
رضا علی عابدی
آج کوئی مشکل ہی سے یقین کرے گا کہ جب بڑے علاقے پر انگریزوں کی حاکمیت قائم ہوگئی اور جدید علوم کی، جنہیں آپ چاہیں مغربی علوم کہہ لیں، تعلیم شروع ہوئی تو سارے مضامین اردو میں پڑھائے جاتے تھے۔ کیا سائنس، کیا ریاضی، کیا انجینئرنگ اور کیا زبانیں، سب اردو میں پڑھائی جاتی تھیں۔اس سلسلے میں دہلی کالج اور حیدرآباد دکن میں جو بے مثال کام ہوا ، دنیا اسے بھول چلی ہے جس کا دکھ ہوتا ہے۔ جب سارے علاقے میں عوام کی بہبود کے تعمیراتی کام شروع ہوئے تو سو دو سو نہیں، ہزاروں انجینئروں کی ِضرورت پڑی۔ ماہروں کی اتنی بڑی فوج انگلستان سے لانا ممکن نہ تھا۔ تب انگریزوں نے ہمالیہ کے دامن میں چھوٹے سے شہر روڑکی میں ایک بڑا اور جدید سول انجینئرنگ کالج قائم کیا۔ سڑکیں اور نہریں بنانے اور عمارتیں او رتار کا نظام قائم کرنے کے لئے ہندوستانی لڑکوں کو اردو میں تعلیم دینے کا فیصلہ کیا گیا۔ اس مقصد کے لئے ماہرین کی خدمات حاصل کر کے ان مضامین کی نصابی کتابوں کا اردو میں ترجمہ کرایا گیا۔ کالج میں اردو طباعت کا چھاپہ خانہ لگایا گیا اور اس طرح یہ بڑا کام چل نکلا۔
یہاں جی چاہتا ہے اس داستان کے کچھ دل چسپ پہلو بیان کئے جائیں۔سب سے پہلے دیسی ہیڈ ماسٹر مقرر کئے گئے۔ ریکارڈ میں ان کے نام ملتے ہیں: مُنّو لال،رام چندر،مدھو سُدن چٹر جی اور بہاری لال۔اسی طرح نائب ماسٹروں میں مسیح اﷲ، عبدالرحمان، اکبر بیگ، مودود حسین، فصیح الدین، تجمل حسین، رحیم بخش، عبدالغنی اور شیخ بیچا کے نام بھی ملتے ہیں۔یہ سلسلہ سنہ 1847سے 1871 تک جاری رہا۔ان میں کچھ سروے کے استاد تھے اور کچھ ڈرائنگ کے (میرے والد بھی نئی صدی کے آغاز میں ڈرائنگ ماسٹر ہی تھے)،شیخ بیچاتخمینے کے مضمون کے استاد تھے اور سترہ سال تک لڑکوں کو ایسٹیمیٹ پڑھاتے رہے۔
تھامسن انجینئرنگ کالج روڑکی میں کتابیں لکھنے اور چھاپنے کے کام پر آج کے اسکا لروں نے کافی تحقیق کی ہے۔بعض نے لکھا ہے کہ شروع میں ساری تعلیم لڑکوں کو انگریزی زبان میں دی جاتی تھی۔ مگر ہمارے پیش نظر کتاب کے مصنف ساجد صدیق نظامی نے بڑے وثوق سے لکھا ہے کہ یہ دونوں باتیں درست نہیں ۔ سچ تو یہ ہے کہ پہلے دن سے ہندوستانی لڑکوں کی تعلیم ہوئی اور ان کی نصابی کتابیں اردو ہی میں چھاپی جارہی تھیں۔ کالج کا اپنا چھاپہ خانہ سنہ 1850 کے آس پاس کام شروع کرچکا تھا۔یہ بھی لکھا گیا ہے کہ انجینئرنگ جیسے مضمون کی کتابیں ترجمہ کرنے کے لئے کالج میں ایک ترجمہ کمیٹی بھی مقرر کی گئی تھی۔کسی نے لکھا ہے کہ آزادی تک کالج میں مسلمانوں کا داخلہ تقریباً نا ممکن تھا۔ مگر کالج کے ایک پرانے کیلنڈرمیں سنہ 1872تک داخل ہونے والے لڑکوں کی مکمل فہرستیں ملتی ہیںجن سے معلوم ہوتا ہے کہ ہندو اور مسلمان طلبا کی تعداد تقریباً برابر تھی۔کالج کے قیام سے 1870تک ہندوستانی لڑکوں کو سارے مضمون اردو میں ہی پڑھائے جاتے تھے۔ اُس وقت جدید مضامین پر کچھ کتابیں دستیاب تھیں لیکن سول انجینئرنگ کی نصابی کتابوں کا کسی نے ترجمہ نہیں کیا تھا۔تحقیق سے پتہ چلتا ہے کہ اس موضوع پر بنیادی کتابوں کا ترجمہ روڑکی ہی میں شروع ہوا۔پہلے پہلے یہ کتابیں سکندرہ (آگرہ) کے آرفن پریس میں چھپتی تھیں، بعد میں کالج کا اپنا چھاپہ خانہ قائم ہوگیا۔
کالج کی زیادہ تر کتابیں دو استادوں نے ترجمہ کیں، وہ تھے منو لال اور بہاری لال۔ دونوں نے چھ چھ کتابیں اردو میں ڈھالیں۔ باقی کتابیں تیار کرنے والوں میں کنہیا لال، شنبھو داس اور شیخ بیچا کے نام شامل ہیں۔منو لال دہلی کے کائستھ تھے ۔ ان کے والد سوہن لال کو1857کی بغاوت میں انگریزوں کی مدد کے صلے میں بلند شہر کے تین گاؤں جاگیر کے طور پر ملے تھے۔خود منولال نے پہلے آگرہ کے انگلش اسکول میں تعلیم پائی جہاں سے وہ روڑکی آگئے اور تعلیم پوری کرکے یہیں پڑھانے لگے۔اسی دوران حیدرآباد دکن سے سالارجنگ نے روڑکی کالج کے پرنسپل کو لکھا کہ انہیں انجینئرنگ کے ایک استاد کی ضرورت ہے، جس پر منو لال کو وہاں بھیج دیا گیا۔ وہ حیدرآباد انجینئرنگ کالج کے نائب سربراہ مقرر ہوئے۔منولال نے حیدر آباد میں اینگلو ورنا کیولرگرلز اسکول قائم کیا جہاں 1885 میں پچاس ہندو او رچھبیس مسلمان لڑکیا ں تعلیم پا رہی تھیں۔تین سال بعد منو لال کی وفات ہوئی۔
دوسرے مصنف لالہ بہاری لا ل ہیں جو شروع ہی سے استاد کی حیثیت سے کام کر رہے تھے۔ انہوں نے سات کتابیں لکھیں۔اگلے مصنف کنہیا لال ہیں جن کی کتاب ًتاریخ پنجاب‘ آج تک یاد کی جاتی ہے۔وہ 1830 میں ایٹہ یو پی میں پیدا ہوئے ۔ ثانوی درجات کی تعلیم آگرہ میں پائی جس کے بعد روڑکی میں داخلہ لیا۔ تعلیم پوری کرنے پر لاہور میں سب اسسٹنٹ سول انجینئر مقرر ہوئے اور آخر وہیں ریٹائر ہوئے۔لاہور کا ریلوے اسٹیشن اور میو اسپتال ان ہی کی نگرانی میں تعمیر ہوا۔بہت کتابیں لکھیں جن میں گلزار ہندی، یادگار ہندی ، ظفر نامہ معروف بہ رنجیت نامہ، مناجا ت ہندی، اخلاق ہندی، تاریخ پنجاب اور تاریخ لاہور آج تک حوالے کے طور پر نظر آتی ہیں۔بعد میں کالج میں ان کے نام سے ایک انعام بھی جاری ہوا تھا۔ان کی انجینئرنگ کی کتابوں میں ’رسالہ در باب آلات پیمائش ‘ قابل ذکر ہے۔سڑکوں یا نہروں کی تعمیر میں بڑا موڑ آجائے تو کیا کرنا چاہئے، تفصیل سے بتایا گیا ہے۔اسی کتاب میں ایک جگہ ایسی بھی آتی ہے کہ’’جب کبھی ایسا اتفاق آپڑتا ہے کہ سڑک کی سیدھ میں کوئی گاؤں یا اچھا باغ یا کوئی مکان کہ جس کے گرادینے میں بہت نقصان ہوتا ہو، آجاتا ہے تو اس وقت گاؤں یا مکان کو کیسے بچانا چاہئے‘‘۔
اُس زمانے اور اُن لوگوں کے گزر جانے کے بعد حالات نے ایسی کروٹ بدلی کہ کچھ بھی پہلا جیسا نہ رہا ورنہ ہم تصور کر سکتے ہیں کہ یوں بھی ہوتا کہ ہم اور ہمارے بچے دنیا کا ہر مضمون اپنی زبان میں پڑھ رہے ہوتے اور جب پڑھ رہے ہوتے تو انہیں اچھی طرح معلوم ہوتا کہ کیا پڑھ رہے ہیں۔
اب تو یہ کسی دیوانے کا خواب لگتا ہے۔
نقل و ارسال...

 

https://www.facebook.com/syedzaidzamanhamid/posts/3400461743341946

 

 

اسلام آباد ک ایک محفل میں پاکستان کے ماضی حال اور مستقبل پر تفصیلی گفتگوی ہوئی۔۔
اللہ پاکستان کی خیر رکھے، پاکستان کی مسلح افواج کی آبرو سلامت رہے۔۔۔ پاکستان کو پیش آنے والے تمام خطرات کا تجزیہ اور ہماری ڈیوٹی اس حوالے سے۔۔۔

https://www.facebook.com/syedzaidzamanhamid/posts/3401016729953114




 

اسلام آباد ک ایک محفل میں پاکستان کے ماضی حال اور مستقبل پر تفصیلی گفتگوی ہوئی۔۔
یہ پہلی قسط ہے۔۔۔
اللہ پاکستان کی خیر رکھے، پاکستان کی مسلح افواج کی آبرو سلامت رہے۔۔۔ پاکستان کو پیش آنے والے تمام خطرات کا تجزیہ اور ہماری ڈیوٹی اس حوالے سے۔۔۔

https://www.facebook.com/syedzaidzamanhamid/posts/3401016729953114

Sunday, 11 October 2020

October 11th, 2020

ملت کے اتحاد کا شیرازہ بکھر رہا ہے۔۔۔ اور مشرقی پاکستان کی طرح ذلیل دشمن حملہ آور ہونے کے لئے تیار ہے۔۔۔

میں پھر کہہ رہا ہوں فوجی قیادت کو اپنا کڑا احتساب کرنا ہے۔۔ حالات درست سمت میں نہیں جا رہے۔۔۔ 

 


 
 

آج سب سے کڑا احتساب خود فوج کی قیادت کو اپنا کرنا ہے۔۔۔۔

بے شک ملک ہائبرڈ وار کا شکار ہے۔۔

بے شک ملکی قیادت پر حملے ہو رہے ہیں۔۔

بے شک پاک فوج کے خلاف ناپاک پروپیگنڈاجاری ہے۔۔۔

مگر یہ ہمہ جہتی جنگ ١٩٧١ میں بھی تھی۔

اس وقت فوج کی قیادت کا کیا کردار تھا؟

‏ملک پارلیمان، سیاستدانوں اور سپریم کورٹ کی غلطیاں تو برداشت کر سکتا ہے مگر پاک فوج کی غلطی ملک کا وجود خطرے میں ڈال دے گی۔۔

١٩٧١ میں بھی پاکستان کو ہائی بریڈ وار کا سامنا تھا۔۔۔ اس وقت بھی دشمن نے فوج اور قوم کے درمیان اختلاف پیدا کیا۔۔ اس وقت بھی قومی قیادت کو نشانہ بنایا گیا۔

‏اس وقت بھی فوج آئی ایس آئی اور سپریم کورٹ موجود تھی۔۔۔ مگر پھر بھی ملک ٹوٹ گیا۔

کیوں؟ ہم اس وقت کیوں ہائبرڈ وار کا مقابلہ نہیں کرسکے؟

فوج کی اس وقت کی قیادت بہت بے شرم بے حیا اور نااہل تھی۔۔۔ ہائی بریڈ وار کا مقابلہ کیا جاسکتا اگر یحییٰ خان اور اس کے مشیروں میں قابلیت ہوتی۔۔

‏آج پاکستان اگر قائم ہے تو اللہ کے فضل سے پاک فوج کی وجہ سے۔۔

اسی لیے پاک فوج کو سب سے زیادہ کڑے احتساب کی ضرورت ہے کہ کہیں انیس سو اکتر والی غلطیاں دہرائی نہ جائیں۔۔۔

آج ایک مرتبہ پھر قوم اور فوج کے درمیان فاصلے پیدا کیے جا رہے ہیں۔۔ قومیت لسانیت اور فرقہ واریت بڑھ رہی ہے۔۔

‏ملت کے اتحاد کا شیرازہ بکھر رہا ہے۔۔۔ اور مشرقی پاکستان کی طرح ذلیل دشمن حملہ آور ہونے کے لئے تیار ہے۔۔۔

میں پھر کہہ رہا ہوں فوجی قیادت کو اپنا کڑا احتساب کرنا ہے۔۔ حالات درست سمت میں نہیں جا رہے۔۔۔

یہ بات ایک دشمن کی جانب سے نہیں ایک مخلص ترین خیر خواہ کی جانب سے آ رہی ہے۔۔۔۔

 https://www.facebook.com/syedzaidzamanhamid/posts/3394693227252131

 

 

 
"Pakistan and Turkey should made a strong Defence Alliance
Blunt Analysis of Zaid Hamid on Foreign Policy's Report regarding India"..

   https://www.facebook.com/syedzaidzamanhamid/posts/3397792976942156

  



 
Today's analysis...
"Pakistan and Turkey should made a strong Defence Alliance
Blunt Analysis of Zaid Hamid on Foreign Policy's Report regarding India"..

  

https://www.facebook.com/syedzaidzamanhamid/posts/3397792976942156

 

Wednesday, 19 February 2020

February 19th, 2020

Pakistan and Turkey are the greatest threat Israel faces today. So, Hindutwa Zionists are being deployed against Pakistan


https://www.facebook.com/watch/?v=254085112247917

Israel is one country which does not have defined borders....it plans to expand from Nile to Euphrates and down to Medina....
Pakistan and Turkey are the greatest threat Israel faces today. So, Hindutwa Zionists are being deployed against Pakistan.

https://www.facebook.com/watch/?v=254085112247917

Friday, 14 February 2020

February 14th, 2020

آج اپنی غلام قیادت کو ترک مجاہدوں کے ساتھ دیکھ کر بابا اقبال کا دکھ یاد آ گیا۔۔
سو برس گزر گیے۔ وہی آزاد ترک، وہی غلام ہند کے مسلمان۔۔۔


کہا مجاہدِ ترکی نے مجھ سے بعدِ نماز
طویل سجدہ ہیں کیوں اس قدر تمھارے امام

وہ سادہ مردِ مجاہد ، وہ مومنِ آزاد
خبر نہ تھی اسے کیا چیز ہے نمازِ غلام

ہزار کام ہیں مردانِ حُر کو دنیا میں
اِنھی کے ذوقِ عمل سے ہیں اُمّتوں کے نظام

بدن غلام کا سوزِ عمل سے ہے محروم
کہ ہے مرور غلاموں کے روز و شب پہ حرام

طویل سجدہ اگر ہیں تو کیا تعجب ہے
ورائے سجدہ غریبوں کو اور کیا ہے کام

خدا نصیب کرے ہند کے اِماموں کو
وہ سجدہ جس میں ہے ملت کی زندگی کا پیام.
(اقبال رحمہ اللہ)

آج اپنی غلام قیادت کو ترک مجاہدوں کے ساتھ دیکھ کر بابا اقبال کا دکھ یاد آ گیا۔۔
سو برس گزر گیے۔ وہی آزاد ترک، وہی غلام ہند کے مسلمان۔۔۔

https://www.facebook.com/syedzaidzamanhamid/posts/2725681200820007?__xts__%5B0%5D=68.ARDEdJCfE3-b4NrC6FlsWvDKDMnixYdSSt8egFWpFxchvVCFnbcurY0_k4H84Ei_kY392Yy5e8gE58KDYnNw3iT8Ov1NIlIGWe7tcrJ2KkZ3jTHWKxlDNktcg6VYzHk3pqRj0787uq5KV5XXyLn_460Swq0wxVx65nwCVFqoLG3OMtLJAt4x0ZVwmERM0Ny_J-xKC2asmiClEvJVqtSbGvBZfChArPriEjLOb9snzBBBzlvw1RHbxvljLagXsZBbsPtSPizabgN1kbn7E0FyvIsvfet0u0q4S8cxR2Zg7Rko30Wi-qZ21NTuUmtCrO02nJpOKqNMr7oPp27LO6faJA&__tn__=-R


 

مرد آزاد اور مرد غلام کا فرق دیکھنا ہو تو ترک مہمانوں اور اپنے حکمرانوں کو دیکھ لیں۔

وہ ترکی زبان میں بات کرتے رہے، ہمارے والے انگریزی میں۔




مرد آزاد اور مرد غلام کا فرق دیکھنا ہو تو ترک مہمانوں اور اپنے حکمرانوں کو دیکھ لیں۔
وہ ترکی زبان میں بات کرتے رہے، ہمارے والے انگریزی میں۔
انگریزی سے ہمارا کیا رشتہ ہے سواے غلامی کے؟
کیا پورے پاکستان یں ہمیں کوی پاکستانی نہ ملا جو ترکی زبان کا مترجم بن سکتا؟ ⁦☹️⁩😏

https://www.facebook.com/syedzaidzamanhamid/photos/a.1643903065664498/2726048460783281/?type=3&theater