...
Showing posts with label revive & reclaim our beloved urdu. Show all posts
Showing posts with label revive & reclaim our beloved urdu. Show all posts

Saturday, 10 October 2020

October 10th, 2010

 آہ ! اردو۔۔۔ ہوتا ہے دل سیپارہ

 

آہ ! اردو۔۔۔ ہوتا ہے دل سیپارہ

آپ کو معلوم ہے ناں کہ اردو زبان کو شروع کرنے کا حکم حضرت نظام الدین اولیائؒ نے حضرت امیر خسروؒ کو دیا تھا۔حضرت نظام الدین اولیائؒ کس دور میں تھے؟سن 1300 ءکے آس پاس، یعنی اردو کو شروع ہوئے تقریباً 750 سال ہوچکے ہیں۔تاریخی طور پر ہمیں یہ معلوم ہے کہ ٹیپو سلطان نے بھی اردو زبان کی سرپرستی کی تھی۔ مرزا دبیر اور مرزا انیس کے مرثیے 1750 ءکے آس پاس کے ہیں، کہ جو آج بھی محرم کی مجلسوں میں پڑھے جاتے ہیں۔انگریزوں نے 1801 ءمیں فورٹ ولیم کالج میں ”اردو کالج“ قائم کیا تھا۔تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ اردو اپنے آغاز سے لیکر 1857 ءتک تقریباً 550 سال پرانی اور مستند زبان بن چکی تھی، کہ جس میں اعلیٰ ترین کلام، تاریخ، شاعری اور ادب اپنی معراج کو پہنچ چکا تھا۔ مرزا غالب اور میر تقی میر کا دور بھی 1857 ءکے آس پاس کا ہی ہے۔1300ءسے لیکر 1857 ءتک اردو زبان میں پوری تاریخ اسلام، قرآن و حدیث و تفسیر، اور دیگر معاشرتی علوم مسلمانوں کو پڑھائے جاتے رہے۔ یقیناً ہزاروں لاکھوں کتابیں ان 550 سالوں میں لکھی گئی ہونگی۔

ذرا غور کریں۔ یہ لاکھوں کتابیں آج کہاں غائب ہوگئیں۔۔۔؟

یہ ہماری تاریخ کا ایک ایسا دردناک پہلو ہے کہ جس کی تاریخ ہی مٹا دی گئی ہے۔ 1857 ءکی جنگ آزادی کے بعد انگریزوں نے لاکھوں کی تعداد میں اسلامی کتب کہ جس میں عربی، فارسی اور اردو کی لاکھوں قیمتی، ہاتھ سے لکھی ہوئی دستاویزات تھیں، کو جلا کر راکھ کردیا تھا۔آج پوری دنیا میں آپ کو 1857 ءکے بعد کی چھپی ہوئی تو اردو کی کچھ کتابیں تو مل جاتی ہیں، مگر 1857 ءسے پہلے 550 سال کی تاریخ میں ہاتھ سے لکھی گئی اردو کی کوئی کتاب ہی نہیں ملتی۔ یہ کیسے ممکن ہے کہ کتابوں کو آسمان کھا جائے، یا زمین نگل جائے۔جنگ آزادی کے بعد انگریزوں نے مسلمانوں سے جو انتقام لیا اس میں پوری اسلامی تہذیب کو ہی جلا کر راکھ کردیا گیا۔ ہزاروں علماءاور اشرافیہ کو قتل کیا گیا، مدرسے تباہ کیے گئے، لاکھوں کتابیں جلائیں گئیں اور اس ظلم کی تاریخ لکھنے پر بھی پابندی لگادی گئی۔انگریزوں کے دور میں تو پورے ہندوستان میں کسی کی مجال نہیں تھی کہ مسلمانوں کے خلاف ہونیوالے ظلم کو تحریر کرکے کوئی کتاب لکھ سکتا۔ جنہوں نے اپنی آنکھوں سے اس ظلم کو ہوتے دیکھا، وہ چند سالوں میں اس دنیا سے گزر گئے۔ آنے والی نسلوں نے صرف انگریزوں کی غلامی دیکھی۔علامہ اقبالؒ اسی بات پر آنسو بہاتے تھے کہ:

وہ علم کے موتی وہ کتابیں اپنے آباءکی

جو دیکھیں ان کو یورپ میں تو دل ہوتا ہے سیپارہ

عیسائیوں نے اندلسیہ میں مسلمانوں کی لکھی سائنس کی کتب تو ترجمہ کرلیں، مگر ہندوستان میں اردو زبان کو مکمل تباہ کردیا۔ہوسکتا ہے کہ اردو زبان کی ہاتھ سے لکھی ہوئی پرانی کتب کسی کتب خانے میں، عجائب گھر میں یا کسی کی ذاتی لائبریری میں ایک آدھ رکھی ہو۔۔۔ مگر انتہائی تلاش کے باوجود مجھے ذاتی طور پر 1857ءسے پہلے لکھی گئی اردو کی کوئی کتاب آج تک نہیں ملی۔اور قوم کو اس ظلم کا احساس ہی نہیں ہے۔

آج اردو زبان اس ظلم کے باوجود بھی عالم اسلام کی دوسری بڑی نمائندہ زبان ہے۔ بنگلہ دیش سے لیکر ہندوستان، پاکستان، افغانستان، سری لنکا اور اب خلیج کے تمام ممالک میں بولی اور سمجھی جاتی ہے۔مگر المیہ یہ ہے کہ پاکستان میں یہ زبان ظلم کی حد تک رسوا کی جارہی ہے۔

زبانیں بھی پھلدار درختوں اور باغیچوں کی طرح ہوتی ہیں۔ ان کی آبیاری کی جائے تو پھلتی پھولتی ہیں، اپنی خوشبو اور پھل دیتی ہیں، ورنہ اجڑنے لگتی ہیں اور آخر میں سوکھ کر مر جاتی ہیں۔ہمارے پاس اب جو اردو باقی ہے، وہ صرف 1857 ءسے لیکر آج تک کی ہے۔1947 ءکے بعد جو بچی کھچی اردو زبان ہمارے حوالے کی گئی، ہم اس کا بھی حق نہ ادا کرسکے۔

سائنس اور ٹیکنالوجی کی جدید اصطلاحات کو اردو میں ترجمہ نہ کیا، لہذا انگریزی کے محتاج رہے۔حالانکہ تمام حکومتی معاملات اور معاشرتی علوم بہت آسانی سے اردو زبان میں چلائے جاسکتے تھے۔

دنیا کی تمام قوموں نے سائنس اور ٹیکنالوجی کو اپنی اپنی زبانوں میں ترجمہ کرکے اپنی قوم کو اپنی ہی زبان میں تعلیم دی ہے۔روسی ہوں یا چینی، ترک ہوں یا عرب، ایرانی ہوں یا ہسپانوی۔۔۔ کسی کو یہ شکایت نہیں ہے کہ ان کی قومی زبان سائنس اور ٹیکنالوجی کے معاملے میں مجبور و مسکین ہے۔

ہمیں یاد ہے کہ اپنے بچپن میں ہمارے سکول میں کلاس ون، ٹو اور تھری وغیرہ نہیں ہوتے تھے، بلکہ جماعت اول، دوئم، سوئم، چہارم اور پنجم ہوتے تھے۔ہم نے پہاڑے بھی اردو میں یاد کیے تھے، جیومیٹری بھی اردو میں تھی۔زاویہءقائمہ، Right Angle Triangle تھا۔

80 کی دہائی کے بعد تو اردو زبان کو پاکستان میں مکمل طور پر یتیم کردیا گیا۔ اب اردو کو عزت دینا تو دور کی بات، اسے سرکاری طور پر سربازار رسوا کیا جاتا ہے۔”کانسٹیٹیوشن ایونیو“ ہے۔۔۔ مگر ”شاہراہ دستور“ نہیں۔اردو لکھنا تو دور کی بات، یا رومن اردو ہے یا اردو میں انگریزی۔

کسی بھی قوم کا عروج و زوال اور دنیا میں اس کی عزت و غیرت، اس کے زر مبادلہ کے ذخائر کی وجہ سے نہیں، بلکہ اس وجہ سے ہوتی ہے کہ وہ کس قدر اپنی تاریخ، نظریہئ، روایات، اقدار، زبان، ثقافت اور تہذیب کے معاملے میں حساس ہے۔ہر عظیم قوم میں آپ یہ خوبی پائیں گے، اورہر خوار قوم ان سے محروم ہوگی۔جو قوم اپنی تاریخ گم کر بیٹھے، اپنی زبان کو ترک کردے، پھر چاہے کتنی مالدار ہی کیوں نہ ہوجائے، اس کے نصیب میں صرف ذلت و رسوائی ہی ہوتی ہے۔انگریزی زبان سے ہمارا رشتہ صرف غلامی کا ہے۔ جبھی ہماری پارلیمان کا اسپیکر ملکہ کو مخاطب کرکے کہتا ہے:”ہم آج بھی آپ کے غلام شہری ہیں“۔

ریاست مدینہ دنیا کی سب سے مسکین اور غریب ترین ریاست تھی، مگر دنیا کی سب سے زیادہ معزز، غیرت مند، دلیر اور عدل و انصاف کی حامل ریاست۔ریاست مدینہ کا مطلوب معیار زندگی بلند کرنے کی بجائے، معیار انسانیت کو بلند کرنا تھا۔

اپنی تاریخ، زبان، تہذیب، تمدن، اخلاقیات اورروایات کی حفاظت کرنے کے لیے کوئی مال و دولت کی ضرورت نہیں، صرف نیت و غیرت و حکمت چاہیے۔ اگر اردو ہم سے گم گئی، تو سمجھو سب کچھ ہم سے گم گیا۔اردو ایک زبان نہیں، ہماری غیرت، ہماری شناخت اور ہمارے دین و تہذیب و تمدن کی محافظ ہے۔انگریزی ضرور سیکھیں، مگر یہ کس بدبخت نے کہا ہے کہ اردو کو تباہ کردیں؟انگریزی کی ضرورت ہمیں فی الحال صرف سائنس و ٹیکنالوجی کیلئے ہے، کہ اردو کو یہاں پھلنے پھولنے کی ضرورت ہے۔ ورنہ ریاست و عدالت و حکومت کا تمام کام اردو زبان میں کیا جاسکتا ہے۔

جس دن آپ یہ دیکھیں کہ ریاست پاکستان کا پورا نظام اردو زبان میں چلایا جانے لگا ہے، اس دن آپ یہ سمجھ لیں کہ صحیح معنوں میں آزاد اور غیرت مند حکمران آج اس ملک کو ملے ہیں۔غلاموں، بے شرموں، بے غیرتوں اور ملک کے نوکروں کے نصیب میں یہ سعادت ہے ہی نہیں۔۔۔!!!

 

Thursday, 24 September 2020

September 24th, 2020

 اردو کا جنازہ ہے, ذرا دھوم سے نکلے

 

*⭕ اردو کا جنازہ ہے, ذرا دھوم سے نکلے*
*نصاب* کو *کورس* کہا جانے لگا
اور اس کورس کی ساری کتابیں *بستہ* کے بجائے *بیگ* میں رکھ دی گئیں۔
*ریاضی* کو *میتھس* کہا جانے لگا۔
*اسلامیات* ......
*اسلامک سٹڈی* بن گئی-
*انگریزی کی کتاب* *انگلش بک* بن گئی- اسی طرح .....
*طبیعیات*، *فزکس* میں'
*معاشیات،* *اکنامکس* میں، *سماجی علوم*، *سوشل سائنس*
میں تبدیل ہوگئے-
پہلے *طلبہ پڑھائی کرتے تھے*
اب *اسٹوڈنٹس سٹڈی کرنے لگے*۔
*پہاڑے* یاد کرنے والوں کی اولادیں *ٹیبل* یاد کرنے لگیں۔
*اساتذہ کیلیے میز اور کرسیاں لگانے والے، ٹیچرز کے لیے ٹیبل اور چئیرز لگانے لگے۔*
*داخلوں کی بجائے* *ایڈمشنز ہونے لگے* ۔....
*اول، دوم، اور سوم* آنے والے *طلبہ*؛
*فرسٹ، سیکنڈ، اور تھرڈ* آنے والے *سٹوڈنٹ* بن گئے۔
پہلے اچھی کارکردگی پر *انعامات* ملا کرتے تھے پھر *پرائز* ملنے لگے۔
بچے *تالیاں پیٹنے* کی جگہ *چیئرز* کرنے لگے۔
*یہ سب کچھ سرکاری سکولوں میں ہوا ہے۔*
باقی رہے پرائیویٹ سکول، تو ان کا پوچھیے ہی مت۔
ان کاروباری مراکز تعلیم کیلیے کچھ عرصہ پہلے ایک شعر کہا گیا تھا،
*مکتب نہیں، دکان ہے، بیوپار ہے*
*مقصد یہاں علم نہیں، روزگار ہے۔*
اور تعلیمی اداروں کا رونا ہی کیوں رویا جائے، *ہمارے گھروں میں بھی اردو کو یتیم اولاد کی طرح ایک کونے میں ڈال دیا گیا ہے۔*
*زنان خانہ اور مردانہ تو کب کے ختم ہو گئے۔*
*خواب گاہ* کی البتہ موجودگی لازمی ہے تو اسے ہم نے *بیڈ روم* کا نام دے دیا۔
*باورچی خانہ کچن بن گیا اور اس میں پڑے *برتن کراکری کہلانے لگے*۔
*غسل خانہ* پہلے *باتھ روم* ہوا پھر ترقی کر کے *واش روم* بن گیا۔
*مہمان خانہ یا بیٹھک* کو اب *ڈرائنگ روم* کہتے ہوئے فخر محسوس کیا جاتا ہے۔
مکانوں میں *پہلی منزل* کو *گراونڈ فلور* کا نام دے دیا گیا اور *دوسری منزل* کو *فرسٹ فلور۔*
*دروازہ* اب *ڈور* کہلایا جانے لگا،
پہلے مہمانوں کی آمد پر *گھنٹی* بجتی تھی اب *ڈور بیل* بجنے لگی۔
*کمرے* کب کے *روم* بن گئے۔
کپڑے *الماری* کی بجائے *کپبورڈ* میں رکھے جانے لگے۔
*"ابو جی" یا "ابا جان"* جیسا پیارا اور ادب سے بھرپور لفظ دقیانوسی لگنے لگا، اور ہر طرف *ڈیڈی، ڈیڈ، پاپا، پپّا، پاپے* کی گردان لگ گئی حالانکہ پہلے تو پاپے(رس) صرف کھانے کے لئے ہوا کرتے تھے اور اب بھی کھائے ہی جاتے ہیں-
اسی طرح ....
*شہد کی طرح میٹھا* لفظ *"امی" یا امی جان* اب تو *"ممی" اور مام* میں تبدیل ہو گیا۔
سب سے زیادہ نقصان رشتوں کی پہچان کا ہوا۔
*چچا، چچی، تایا، تائی، ماموں ممانی، پھوپھا، پھوپھی، خالو خالہ* سب کے سب *ایک غیر ادبی اور بے احترام سے لفظ "انکل اور آنٹی"* میں تبدیل ہوگئے۔
بچوں کے لیے ریڑھی والے سے لے کر سگے رشتہ دار تک سب انکل بن گئے۔
یعنی *محمود و ایاز ایک ہی صف میں کھڑے ہوگئے۔*
ساری *عورتیں* *آنٹیاں*، بن گیٸں
*چچا زاد، ماموں زاد، خالہ زاد بہنیں اور بھائی* سب کے سب *کزنس* میں تبدیل ہوگئے،
*نہ رشتے کی پہچان رہی اور نہ ہی جنس کی*۔
نہ جانے ایک نام تبدیلی کے زد سے کیسے بچ گیا ۔ ۔ ۔ *گھروں میں کام کرنے والی خواتین* پہلے بھی *ماسی* کہلاتی تھیں اب بھی *ماسی* ہی ہیں۔
گھر اور سکول میں اتنی زیادہ تبدیلیوں کے بعد بازار انگریزی کی زد سے کیسے محفوظ رہتے۔
*دکانیں, شاپس* میں تبدیل ہو گئیں اور ان پر *گاہکوں کی بجائے کسٹمرز* آنے لگے،
آخر کیوں نہ ہوتا کہ *دکان دار بھی تو سیلز مین* بن گئے جس کی وجہ سے لوگوں نے*خریداری* چھوڑ دی اور *شاپنگ* کرنے لگے۔
*سڑکیں* , *روڈز* بن گئیں۔
*کپڑے* کا بازار *کلاتھ* مارکیٹ بن گئی، یعنی کس ڈھب سے *مذکر کو مونث بنادیا گیا*۔
*کریانے* کی دکان نے *جنرل اسٹور* کا روپ دھار لیا،
*نائی* نے *باربر* بن کر *حمام* بند کردیا اور *ہیئر کٹنگ سیلون* کھول لیا۔
ایسے ماحول میں دفاتر بھلا کہاں بچتے۔
پہلے ہمارا *دفتر ہوتا تھا جہاں مہینے کے مہینے تنخواہ ملا کرتی تھی*، وہ اب *آفس بن گیا اور منتھلی سیلری ملنے لگی ہے*
اور جو کبھی *صاحب* تھے وہ *باس* بن گئے ہیں،
*بابو* بن گئے *کلرک* اور *چپراسی* بن گئے *پِیُّٶن*
پہلے *دفتر کے نظام الاوقات* لکھے ہوتے تھے . ...... اب *آفس ٹائمنگ* کا بورڈ لگ گیا-
*سود* جیسے قبیح فعل کو *انٹرسٹ* کہا جانے لگا۔
*طوائفیں* تو کب کے *آرٹسٹ* بن گئیں
اور
*محبت* کو *لَوّ* کا نام دے کر محبت کی ساری *چاشنی اور تقدس* ہی چھین لیا گیا۔
*صحافی رپورٹر بن گئے اور خبروں کی جگہ ہم نیوز سننے لگے*۔
کس کس کا اور کہاں کہاں کا رونا رویا جائے۔
*اردو زبان کے زوال کی صرف حکومت ہی ذمہ دار نہیں، عام آدمی تک نے اس میں حتی المقدور حصہ لیا ہے-*
اور دکھ تو اس بات کا ہے کہ ہمیں اس بات کا احساس تک نہیں کہ *ہم نے اپنی خوبصورت زبان اردو کا حلیہ مغرب سے مرعوب ہو کر کیسے بگاڑ لیا ہے*۔
وہ الفاظ جو اردو زبان میں پہلے سے موجود ہیں اور مستعمل بھی ہیں
ان کو چھوڑ کر انگریزی زبان کے الفاظ کو استعمال کرنے میں فخر محسوس کرنے لگے ہیں
*وائے ناکامیِ متاع کارواں جاتا رہا*
*کارواں کے دل سے احساس زیاں جاتا رہا*
ہم کہاں سے کہاں آگئے اورکہاں جارہے ہیں؟
دوسروں کا کیا رونا روئیں،
*ہم خود ہی اس کے ذمہ دار ہیں. دوسرا کوئی نہیں۔*
بہت سے اردو الفاظ کو ہم نے انگریزی قبرستان میں مکمل دفن کر دیا ہے اور مسلسل دفن کرتے جا رہے ہیں. اور روز بروز یہ عمل تیزتر ہوتا جا رہا ہے۔

 

https://www.facebook.com/syedzaidzamanhamid/posts/3337455399642581

 

ہم کئی برس سے سے اردو کو زندہ رکھنے کی تحریک چلا رہے ہیں۔۔

احیا اردو کے نام سے ہمارے فیس بک کے صفحے بھی ہیں ۔۔

میں جاہلوں کے طنز اور طعنہ پڑھ رہا ہوں ہو جو اس کا مذاق اڑا رہے ہیں۔۔ بے ادب بد نصیب۔۔

جس قوم کی جڑ نہ ہو وہ اکھڑ جاتی ہے۔۔

اردو ہماری جڑ ہے۔

 

ہم کئی برس سے سے اردو کو زندہ رکھنے کی تحریک چلا رہے ہیں۔۔

احیا اردو کے نام سے ہمارے فیس بک کے صفحے بھی ہیں ۔۔

میں جاہلوں کے طنز اور طعنہ پڑھ رہا ہوں ہو جو اس کا مذاق اڑا رہے ہیں۔۔ بے ادب بد نصیب۔۔

جس قوم کی جڑ نہ ہو وہ اکھڑ جاتی ہے۔۔

اردو ہماری جڑ ہے۔

‏ہمیں رومن اردو پر پابندی لگانی ہے۔۔ اردو زبان کو تباہ کرنے کا کا سب سے مہلک ہتھیار یہ ہے کہ اردو رسم الخط کو تبدیل کردیا جائے۔ آپ لوگ یا اردو لکھیں یا انگریزی۔۔ مگر رومن اردو نہ لکھیں۔

ہم اردو ترجمہ کا ایک منظم سلسلہ شروع کر رہے ہیں۔ اسے اپنی عام گفتگو میں استعمال کریں۔

‏انگریزی الفاظ کو اردو میں استعمال کرنا اردو کے ساتھ زنا بالجبر ہے۔۔۔

اس ظلم کو ہمیں بند کرنا ہوگا۔۔

یہ حکومت اور ادارہ ترقی اردو کی ذمہ داری ہے کہ جدید الفاظ کے تراجم کرے۔۔

ہم نے مذاق بنا لیا ہے اپنی زبان اور ثقافت کو۔۔

کسی ایک حکمران اور وزیر کو ٹھیک اردو نہیں آتی۔

‏جب پاکستان بنا تو حیدرآباد دکن میں تمام سائنس کی تعلیم اردو میں دی جاتی تھی۔ طب اور انجینئرنگ کے شعبے بھی اردو میں تھے۔۔ جب بھارتی فوج نے حیدرآباد پر قبضہ کیا تو تمام کتب خانوں کو جلا دیا گیا ۔۔ صدیوں کی محنت ضائع ہوگئی۔

اس سے قبل کل جنگ آزادی کے بعد انگریزوں نے بھی یہی کیا تھا

‏روزمرہ زندگی اور حکومت چلانے کے تمام معاملات اردو زبان میں انتہائی خوش اسلوبی سے انجام دیے جا سکتے ہیں۔ پاکستان کا تمام عدالتی نظام اردو میں بہتر چلایا جا سکتا ہے۔

پاک فوج کو بھی اب اردو زبان کی جانب آنا چاہیے۔

پاکستان کی ریاست آئین کی بھی خلاف ورزی کر رہی ہے اردو کو رسوا کرکے۔

 
 
 

 اردو زبان کو دوبارہ زندہ کرنا ہے۔۔

کم ازکم اپنے حلقے میں تو ہم اردو کو زندہ کر سکتے۔۔۔

زبانیں پودوں کی طرح ہوتی ہیں۔۔ اگر ان کی آبیاری نہ کی جائے تو مرجھا جاتی ہیں۔

ہم تو اپنی اردو کے جنازے نکال رہے ہیں۔۔

آئیں مل کر اردو کو دوبارہ زندہ کرتے ہیں۔

 
 


 

اردو زبان کو دوبارہ زندہ کرنا ہے۔۔

کم ازکم اپنے حلقے میں تو ہم اردو کو زندہ کر سکتے۔۔۔

زبانیں پودوں کی طرح ہوتی ہیں۔۔ اگر ان کی آبیاری نہ کی جائے تو مرجھا جاتی ہیں۔

ہم تو اپنی اردو کے جنازے نکال رہے ہیں۔۔

آئیں مل کر اردو کو دوبارہ زندہ کرتے ہیں۔

 


آزادی کے 75 سال بعد ھم نے اردو کا یہ حشر کیا ہے۔۔۔۔ شرم سے ڈوب مریں اس ملک کے حکمران اور ذرائع ابلاغ۔۔

 
 

 
 

آزادی کے 75 سال بعد ھم نے اردو کا یہ حشر کیا ہے۔۔۔۔ شرم سے ڈوب مریں اس ملک کے حکمران اور ذرائع ابلاغ۔۔

 

 
 
 
 

 

 

 

Saturday, 28 September 2019

July 16th, 2019


آپ کو معلوم ہے ناں کہ اردو زبان کو شروع کرنے کا حکم حضرت نظام الدین اولیائؒ نے حضرت امیر خسروؒ کو دیا تھا۔

حضرت نظام الدین اولیائؒ کس دور میں تھے




آپ کو معلوم ہے ناں کہ اردو زبان کو شروع کرنے کا حکم حضرت نظام الدین اولیائؒ نے حضرت امیر خسروؒ کو دیا تھا۔
حضرت نظام الدین اولیائؒ کس دور میں تھے؟
سن 1300 ءکے آس پاس، یعنی اردو کو شروع ہوئے تقریباً 750 سال ہوچکے ہیں۔

تاریخی طور پر ہمیں یہ معلوم ہے کہ ٹیپو سلطان نے بھی اردو زبان کی سرپرستی کی تھی۔ مرزا دبیر اور مرزا انیس کے مرثیے 1750 ءکے آس پاس کے ہیں، کہ جو آج بھی محرم کی مجلسوں میں پڑھے جاتے ہیں۔
انگریزوں نے 1801 ءمیں فورٹ ولیم کالج میں ”اردو کالج“ قائم کیا تھا۔

تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ اردو اپنے آغاز سے لیکر 1857 ءتک تقریباً 550 سال پرانی اور مستند زبان بن چکی تھی، کہ جس میں اعلیٰ ترین کلام، تاریخ، شاعری اور ادب اپنی معراج کو پہنچ چکا تھا۔
مرزا غالب اور میر تقی میر کا دور بھی 1857 ءکے آس پاس کا ہی ہے۔

1300ءسے لیکر 1857 ءتک اردو زبان میں پوری تاریخ اسلام، قرآن و حدیث و تفسیر، اور دیگر معاشرتی علوم مسلمانوں کو پڑھائے جاتے رہے۔ یقیناً ہزاروں لاکھوں کتابیں ان 550 سالوں میں لکھی گئی ہونگی۔
ذرا غور کریں۔۔۔ یہ لاکھوں کتابیں آج کہاں غائب ہوگئیں۔۔۔؟

یہ ہماری تاریخ کا ایک ایسا دردناک پہلو ہے کہ جس کی تاریخ ہی مٹا دی گئی ہے۔ 1857 ءکی جنگ آزادی کے بعد انگریزوں نے لاکھوں کی تعداد میں اسلامی کتب کہ جس میں عربی، فارسی اور اردو کی لاکھوں قیمتی، ہاتھ سے لکھی ہوئی دستاویزات تھیں، کو جلا کر راکھ کردیا تھا۔

آج پوری دنیا میں آپ کو 1857 ءکے بعد کی چھپی ہوئی تو اردو کی کچھ کتابیں تو مل جاتی ہیں، مگر 1857 ءسے پہلے 550 سال کی تاریخ میں ہاتھ سے لکھی گئی اردو کی کوئی کتاب ہی نہیں ملتی۔ یہ کیسے ممکن ہے کہ کتابوں کو آسمان کھا جائے، یا زمین نگل جائے۔

جنگ آزادی کے بعد انگریزوں نے مسلمانوں سے جو انتقام لیا اس میں پوری اسلامی تہذیب کو ہی جلا کر راکھ کردیا گیا۔ ہزاروں علماءاور اشرافیہ کو قتل کیا گیا، مدرسے تباہ کیے گئے، لاکھوں کتابیں جلائیں گئیں اور اس ظلم کی تاریخ لکھنے پر بھی پابندی لگادی گئی۔

انگریزوں کے دور میں تو پورے ہندوستان میں کسی کی مجال نہیں تھی کہ مسلمانوں کے خلاف ہونیوالے ظلم کو تحریر کرکے کوئی کتاب لکھ سکتا۔ جنہوں نے اپنی آنکھوں سے اس ظلم کو ہوتے دیکھا، وہ چند سالوں میں اس دنیا سے گزر گئے۔ آنے والی نسلوں نے صرف انگریزوں کی غلامی دیکھی۔

علامہ اقبالؒ اسی بات پر آنسو بہاتے تھے کہ:
وہ علم کے موتی وہ کتابیں اپنے آباءکی
جو دیکھیں ان کو یورپ میں تو دل ہوتا ہے سیپارہ
عیسائیوں نے اندلسیہ میں مسلمانوں کی لکھی سائنس کی کتب تو ترجمہ کرلیں، مگر ہندوستان میں اردو زبان کو مکمل تباہ کردیا۔

ہوسکتا ہے کہ اردو زبان کی ہاتھ سے لکھی ہوئی پرانی کتب کسی کتب خانے میں، عجائب گھر میں یا کسی کی ذاتی لائبریری میں ایک آدھ رکھی ہو۔۔۔ مگر انتہائی تلاش کے باوجود مجھے ذاتی طور پر 1857ءسے پہلے لکھی گئی اردو کی کوئی کتاب آج تک نہیں ملی۔
اور قوم کو اس ظلم کا احساس ہی نہیں ہے۔

آج اردو زبان اس ظلم کے باوجود بھی عالم اسلام کی دوسری بڑی نمائندہ زبان ہے۔ بنگلہ دیش سے لیکر ہندوستان، پاکستان، افغانستان، سری لنکا اور اب خلیج کے تمام ممالک میں بولی اور سمجھی جاتی ہے۔
مگر المیہ یہ ہے کہ پاکستان میں یہ زبان ظلم کی حد تک رسوا کی جارہی ہے۔

زبانیں بھی پھلدار درختوں اور باغیچوں کی طرح ہوتی ہیں۔ ان کی آبیاری کی جائے تو پھلتی پھولتی ہیں، اپنی خوشبو اور پھل دیتی ہیں، ورنہ اجڑنے لگتی ہیں اور آخر میں سوکھ کر مر جاتی ہیں۔
ہمارے پاس اب جو اردو باقی ہے، وہ صرف 1857 ءسے لیکر آج تک کی ہے۔

1947 ءکے بعد جو بچی کھچی اردو زبان ہمارے حوالے کی گئی، ہم اس کا بھی حق نہ ادا کرسکے۔
سائنس اور ٹیکنالوجی کی جدید اصطلاحات کو اردو میں ترجمہ نہ کیا، لہذا انگریزی کے محتاج رہے۔
حالانکہ تمام حکومتی معاملات اور معاشرتی علوم بہت آسانی سے اردو زبان میں چلائے جاسکتے تھے۔

دنیا کی تمام قوموں نے سائنس اور ٹیکنالوجی کو اپنی اپنی زبانوں میں ترجمہ کرکے اپنی قوم کو اپنی ہی زبان میں تعلیم دی ہے۔
روسی ہوں یا چینی، ترک ہوں یا عرب، ایرانی ہوں یا ہسپانوی۔۔۔ کسی کو یہ شکایت نہیں ہے کہ ان کی قومی زبان سائنس اور ٹیکنالوجی کے معاملے میں مجبور و مسکین ہے۔

ہمیں یاد ہے کہ اپنے بچپن میں ہمارے سکول میں کلاس ون، ٹو اور تھری وغیرہ نہیں ہوتے تھے، بلکہ جماعت اول، دوئم، سوئم، چہارم اور پنجم ہوتے تھے۔
ہم نے پہاڑے بھی اردو میں یاد کیے تھے، جیومیٹری بھی اردو میں تھی۔
زاویہءقائمہ، Right Angle Triangle تھا۔

80 کی دہائی کے بعد تو اردو زبان کو پاکستان میں مکمل طور پر یتیم کردیا گیا۔ اب اردو کو عزت دینا تو دور کی بات، اسے سرکاری طور پر سربازار رسوا کیا جاتا ہے۔
”کانسٹیٹیوشن ایونیو“ ہے۔۔۔ مگر ”شاہراہ دستور“ نہیں۔
اردو لکھنا تو دور کی بات، یا رومن اردو ہے یا اردو میں انگریزی۔

کسی بھی قوم کا عروج و زوال اور دنیا میں اس کی عزت و غیرت، اس کے زر مبادلہ کے ذخائر کی وجہ سے نہیں، بلکہ اس وجہ سے ہوتی ہے کہ وہ کس قدر اپنی تاریخ، نظریہئ، روایات، اقدار، زبان، ثقافت اور تہذیب کے معاملے میں حساس ہے۔
ہر عظیم قوم میں آپ یہ خوبی پائیں گے، اورہر خوار قوم ان سے محروم ہوگی۔

جو قوم اپنی تاریخ گم کر بیٹھے، اپنی زبان کو ترک کردے، پھر چاہے کتنی مالدار ہی کیوں نہ ہوجائے، اس کے نصیب میں صرف ذلت و رسوائی ہی ہوتی ہے۔
انگریزی زبان سے ہمارا رشتہ صرف غلامی کا ہے۔ جبھی ہماری پارلیمان کا اسپیکر ملکہ کو مخاطب کرکے کہتا ہے:
”ہم آج بھی آپ کے غلام شہری ہیں“۔

ریاست مدینہ دنیا کی سب سے مسکین اور غریب ترین ریاست تھی، مگر دنیا کی سب سے زیادہ معزز، غیرت مند، دلیر اور عدل و انصاف کی حامل ریاست۔
ریاست مدینہ کا مطلوب معیار زندگی بلند کرنے کی بجائے، معیار انسانیت کو بلند کرنا تھا۔

اپنی تاریخ، زبان، تہذیب، تمدن، اخلاقیات اورروایات کی حفاظت کرنے کے لیے کوئی مال و دولت کی ضرورت نہیں، صرف نیت و غیرت و حکمت چاہیے۔ اگر اردو ہم سے گم گئی، تو سمجھو سب کچھ ہم سے گم گیا۔
اردو ایک زبان نہیں۔۔۔ ہماری غیرت، ہماری شناخت اور ہمارے دین و تہذیب و تمدن کی محافظ ہے۔

انگریزی ضرور سیکھیں، مگر یہ کس بدبخت نے کہا ہے کہ اردو کو تباہ کردیں؟
انگریزی کی ضرورت ہمیں فی الحال صرف سائنس و ٹیکنالوجی کیلئے ہے، کہ اردو کو یہاں پھلنے پھولنے کی ضرورت ہے۔ ورنہ ریاست و عدالت و حکومت کا تمام کام اردو زبان میں کیا جاسکتا ہے۔

جس دن آپ یہ دیکھیں کہ ریاست پاکستان کا پورا نظام اردو زبان میں چلایا جانے لگا ہے، اس دن آپ یہ سمجھ لیں کہ صحیح معنوں میں آزاد اور غیرت مند حکمران آج اس ملک کو ملے ہیں۔
غلاموں، بے شرموں، بے غیرتوں اور ملکہ کے نوکروں کے نصیب میں یہ سعادت ہے ہی نہیں۔۔۔!!!

https://www.facebook.com/syedzaidzamanhamid/posts/2271903322864466?__tn__=K-R


 


لوگ سوال کرتے ہیں کہ اردو بہترکرنے سے ملک کیسے بہترہوجائے گا؟


لوگ سوال کرتے ہیں کہ اردو بہترکرنے سے ملک کیسے بہترہوجائے گا؟
غلام ذہنوں کا سوال کہ جو اس حقیقت کو جان ہی نہیں سکتے کہ ملک مرد آزاد ٹھیک کریں گے، اور مرد آزاد کی پہلی نشانی ہی یہی ہے کہ وہ اپنی شناخت اور نظریے کے محافظ ہونگے۔

پاکستان کے مخیر افراد سے میری درخواست ہے کہ ملک کے ہر شہر میں بڑی بڑی لائبریریاں اورکتب خانے قائم کریں۔ یہاں ارب پتی افراد شہرکے شہر آباد کردیتے ہیں، ہر عیاشی کا سامان میسرکرتے ہیں، مگر ایک لائبریری بنانے کا خیال کسی ظالم کو نہیں آتا۔
افسوس۔۔۔

میں پاکستان کے سوفٹ ویئر انجینیئرز اور حکومت و صاحب اقتدار افراد سے کہوں گا کہ اردو زبان کیلئے جدید ترین سافٹ ویئر اور ایپس تیار کریں۔
آج اردو کی ٹائپنگ، ڈیزائننگ اورکمپوزنگ کے اچھے سوفٹ ویئر بھی میسر نہیں ہیں۔

https://www.facebook.com/syedzaidzamanhamid/photos/a.109687115752775/2272108596177272/?type=3&__xts__%5B0%5D=68.ARCwi5Ec2-dZv864DRqKEDtuGXJDvkV-309p4Q3TxZMg6-_s0Iz7kstPIOYlSDjZbPVsyRBMl7rLjqsAIeXNw55WqdDDRsh9qiHvskzwJneHVjRQh5lq6LzyrHH7PzWyyWmSll3UE0hT16Neceo8XRW3s-BJ7JxwrYXw4xEDUfhwW58oPitFndLWzirburGo0CqbiCY_TEo77DPyRjVIGVDrsLsjJ7MBTnQ_G9AvFrC7IAaTaXwhSHV95UB_qBTA5JLojpny_-ThxadwXL80buENKl2jesWjwJdZG5Y52ehpjOMRQY4BcrbHlkIIBhLnmn9INV1OxevMMBN6Y0_JHnGX-g&__tn__=-R

Tuesday, 3 July 2018

June 25th, 2018

Follow this Urdu page run by BrassTacks Team... we are adding new Urdu words everyday.....learn and apply them in language.


https://www.facebook.com/revivingurdu/?hc_ref=ARSMx4fohxrDqCvB1Wn69_pSjNj-QlyURgIGvJWYwg465-MiJSpk_QxUKXalpnyeMWo

Follow this Urdu page run by BrassTacks Team...

we are adding new Urdu words everyday.....learn and apply them in language.

https://www.facebook.com/syedzaidzamanhamid/posts/1713389932049144


Tuesday, 27 February 2018

February 24th, 2018


Someone sent this beautiful post on how Urdu is being destroyed in our society and education system. Please read. It makes our heart bleed....


Someone sent this beautiful post on how Urdu is being destroyed in our society and education system. Please read. It makes our heart bleed....

*اُردُو زُبان کا زوال، مُجرم کون؟*

گو کہ ہماری پیدائش سے کہیں پہلے مدرسہ کو سکول بنا دیا گیا تھا، لیکن انگریزی زبان کی اصطلاحات دورانِ تعلیم استعمال نہیں ہوتی تھیں۔

بہت وقت پہلے تین چار الفاظ انگریزی زبان کے رائج تھے،
ہیڈ ماسٹر،
فِیس،
فیل،
پاس اور جمعرات کو لاسٹ ورکنگ ڈے (کیونکہ اُن دِنوں اتوار کی بجائے جمعہ کے دن سرکاری چھٹی ہوتی تھی)
کہا جاتا تھا اس دن آدھی چھٹی یعنی ہاف ڈے ہوتا تھا۔

انگلش میڈیم سکول میں پیپر اور سرکاری سکول میں پرچہ کہا جاتا تھا

پھر استاد جی کی بجائے سر جی آیا۔
یوں استاد جی سے سر جی کہلانے لگے
سارے استاد ٹیچر بن گئے۔
پھر عام بول چال میں غیر محسوس طریقے سے اردو کا جو زوال شروع ہوا وہ اب تک جاری ہے۔

اب تو یاد بھی نہیں کہ کب جماعت،
کلاس میں تبدیل ہوگئ۔ اور جو ہم جماعت تھے وہ کب کلاس فیلو بن گئے۔

اول، دوم، سوم، چہارم، پنجم، ششم، ہفتم، ہشتم، نہم، دہم، جماعتیں ہوتی تھیں اور کمروں کے باہر لگی تختیوں پر اسی طرح لکھا ہوتا تھا۔
پھر کمروں سے کلاس روم بن گئے
اور فرسٹ سے ٹینتھ کلاس کی نیم پلیٹس لگ گئیں۔

تفریح کی جگہ ریسیس اور بریک کے الفاظ استعمال ہونے لگے۔

گرمیوں کی چھٹیاں اور سردیوں کی چھٹیاں (المعروف وڈے دناں دی چھٹیاں) کی جگہ سمر ووکیشن اور وِنٹر ووکیشن آگئیں۔

چھٹیوں کا کام چھٹیوں کا کام نہ رہا بلکہ ہوم ورک ہو گیا ۔

*ہم نے یوم آزادی کی بجائے انڈیپنڈنس ڈے منانا شروع کردیا۔*

پہلے پرچے شروع ہونے کی تاریخ آتی تھی اب پیپرز کی ڈیٹ شیٹ آنے لگی۔

ششماہی اور سالانہ امتحانات کی جگہ مڈٹرم اور فائینل ایگزامز کی اصطلاح آگئ۔

امتحانات کی جگہ ایگزامز ہونے لگے،
اب طلباء امتحان دینے کیلیے امتحانی مرکز نہیں جاتے بلکہ سٹوڈنٹس ایگزام کیلیے ایگزامینیشن ہال جاتے ہیں۔

قلم،
دوات،
سیاہی،
تختی،
گاچی،
سلیٹ اور
سلیٹی جیسی اشیاء گویا میوزیم میں رکھ دی گئیں ان کی جگہ لَیڈ پنسل اور بال پین آگئیں۔

کاپیاں گئیں نوٹ بکس آگئیں۔

نصاب کو کورس کہا جانے لگا
اور اس کورس کی ساری کتابیں بکس بن گئیں یوں بکس کے نام بھی تبدیل ہوگئے۔

ریاضی کو میتھ کہا جانے لگا۔
اسلامیات اسلامک سٹڈی بن گئ۔
انگریزی کی کتاب انگلش بک بن گئ۔
اسی طرح طبیعات فزکس،
معاشیات اکنامکس

پہلے طلبہ پڑھائی کرتے تھے پھر سٹوڈنٹس سٹڈی کرنے لگے۔

پہاڑے یاد کرنے والوں کی اولادیں ٹیبل یاد کرنے لگیں۔

اساتذہ کیلیے میز اور کرسیاں لگانے والے ٹیچرز کے لیے ٹیبل اور چئیرز لگانے لگے۔

داخلوں کی بجائے ایڈمشنز ہونے لگے۔

اول دوم سوم آنے والے طلبہ فرسٹ سیکنڈ تھرڈ آنے والے سٹوڈنٹ بن گئے۔

پہلے انعام ملا کرتے تھے پھر پرائز ملنے لگے۔

بچے تالیاں پیٹنے کی جگہ چیئرز کرنے لگے۔

یہ سب کچھ سرکاری سکولوں میں ہوا ہے۔

باقی رہے پرائیویٹ سکول،
ان کا تو پوچھیے ہی مت۔
ان کاروباری مراکز کیلیے کچھ عرصہ پہلے ایک شعر کہا تھا۔

مکتب نہیں دکان ہے یہ خام مال کی
مقصد جہاں پہ علم نہیں روزگار ہے

*اور تعلیمی اداروں کا رونا ہی کیوں رویا جائے ہمارے گھروں میں بھی اردو کو یتیم اولاد کی طرح ایک کونے میں ڈال دیا گیا ہے۔*

زنان خانہ اور مردان خانہ تو کب کے ختم ہو گئے۔
خواب گاہ کی البتہ موجودگی لازمی ہے تو اسے ہم نے بیڈ روم کا نام دے دیا۔
باورچی خانہ کچن بن گیا
اور اس میں پڑے برتن کراکری۔
غسل خانہ پہلے باتھ روم ہوا پھر ترقی کر کے واش روم بن گیا۔
مہمان خانہ یا بیٹھک کو اب ڈرائنگ روم کہتے ہوئے فخر محسوس کیا جاتا ہے۔

پہلی منزل کو گراونڈ فلور کا نام دے دیا گیا اور دوسری منزل کو فرسٹ فلور۔
دروازہ ڈور کہلایا جانے لگا اور پہلے گھنٹی بجتی تھی اب بیل بجنے لگی۔
کمرے روم بن گئے۔
کپڑے الماری کی بجائے کیبنٹ میں رکھے جانے لگے۔

*ابو جی* جیسا پیار اور ادب سے بھرپور تخاطب دقیانوسی لگنے لگا اور ہر طرف پاپا، پاپا کی گردان لگ گئ حالانکہ پہلے تو پاپے کو کھایا کرتے تھے۔
اسی طرح شہد کی طرح میٹھا لفظ *امی جی،* ممی میں تبدیل ہو گیا۔

سب سے زیادہ نقصان رشتوں کی پہچان کا ہوا۔ چچا چچی،
تایا تائ،
ماموں ممانی،
پھوپھا پھوپھو،
خالو خالہ علی ہذالاقیاس سب کے سب ایک غیر ادبی اور بے احترام سے لفظ انکل اور آنٹی میں تبدیل ہوگئے۔
بچوں کے لیے ریڑھی والے سے لے کر سگے رشتہ دار تک سب انکل بن گئے
یعنی محمود و ایاز ایک ہی صف میں کھڑے ہوگئے۔
ساری عورتیں آنٹیاں۔ چچا زاد،
ماموں زاد،
خالہ زاد بہنیں و بھائ سب کے سب کزن میں تبدیل ہوگئے
نہ رشتے کی پہچان رہی اور نہ ہی جنس کی۔
بس ایک کام کرنے والی پہلے بھی ماسی تھی اب بھی ماسی ہے۔

گھر اور سکول میں اتنی زیادہ تبدیلیوں کے بعد بازار انگریزی کی زد سے کیسے محفوظ رہتا۔ دکانیں شاپس میں تبدیل ہو گئیں اور ان پر گاہکوں کی بجائے کسٹمرز آنے لگے
آخر کیوں نہ ہوتا کہ دکان دار بھی تو سیلز مین بن گئے جس کی وجہ سے لوگوں نے خریداری چھوڑ دی اور شاپنگ کرنے لگے۔
سڑکیں روڈ بن گئیں۔ کپڑے کا بازار کلاتھ مارکیٹ بن گئ
یعنی 'اس نے کس ڈھب سے مذکر کو مونث باندھا'۔
کریانے کی دکان نے جنرل سٹور کا روپ دھار لیا اور نائ نے باربر بن کر حمام بند کردیا اور ہیئر کٹنگ سیلون کھول لیا۔

ایسے ماحول میں دفاتر بھلا کہاں بچتے۔
پہلے ہمارا دفتر ہوتا تھا جہاں مہینے کے مہینے تنخواہ ملا کرتی تھی اب آفس بن گیا اور منتھ ٹو منتھ سیلری ملنے لگی۔ جو صاحب تھے وہ باس بن گئے۔
بابو کلرک اور چپڑاسی پِیَن۔
پہلے دفتر کے نظام الاوقات لکھے ہوتے تھے اب آفس ٹائمنگ کا بورڈ لگ گیا۔

پہلے وزیر اعظم کرسی سے اتارے جاتے تھے اب پرائم منسٹر کو کرسی سے اتارا جانے لگا۔
وزیر اعلی چیف منسٹر بن گئے۔
وفاقی حکومت کو فیڈرل گورنمنٹ کہا جانے لگا
اور صوبائی کو پراونشل۔

سود جیسے قبیح فعل کو انٹرسٹ کہا جانے لگا۔ طوائفیں آرٹسٹ بن گئیں
اور محبت کو 'لَوّ' کا نام دے کر محبت کی ساری چاشنی اور تقدس ہی چھین لیا گیا۔
محبوب بوائے فرینڈ اور محبوبہ گرل فرینڈ بن گئ۔
صحافی رپورٹر بن گئے اور خبروں کی جگہ ہم نیوز سننے لگے۔

کس کس کا اور کہاں کہاں کا رونا رویا جائے۔

*اردو زبان کے زوال میں حکومت سے لے کر ایک عام آدمی تک نے اپنا بھرپور حصہ ڈالا ہے*

اور دکھ تو اس بات کا ہے کہ ہمیں اس بات کا احساس تک نہیں کہ ہم نے اپنی خوبصورت زبان اردو کا حلیہ مغرب سے مرعوب ہو کر کیسے بگاڑ لیا۔
وہ الفاظ جو اردو زبان میں پہلے سے موجود ہیں اور مستعمل بھی ہیں ان کو چھوڑ کر انگریزی زبان کے الفاظ کو استعمال کرنے میں فخر محسوس کرنے لگے ہیں

*وائے ناکامی متاع کارواں جاتا رہا*
*کارواں کے دل سے احساس زیاں جاتا رہا*.

لکھاری کی بجائے رائیٹربن گیا ہم کہاں سے کہاں آگئے اورکہاں جارہے ہیں؟

https://www.facebook.com/syedzaidzamanhamid/posts/1583291811725624

Wednesday, 11 May 2016

May 11th, 2016

Haseena Wajid, Modi, Hamid Mir, Asma Jahangir and Mir Shakeel will pay for this murder in dunya and akhira inshAllah ! 


Haseena Wajid, Modi, Hamid Mir, Asma Jahangir and Mir Shakeel will pay for this murder in dunya and akhira inshAllah ! They will be put on trial and justice will be done !

Case has been filed in the court of Allah (swt), the powerful, wise and just.. !

Recite Fatiha for the Shaheed... !

https://www.facebook.com/syedzaidzamanhamid/photos/a.109687115752775.23119.109463862441767/994509360603875/?type=3&theater



Protest in Turkey on illegal inhuman brutal execution of elderly Pakistnais in former East Pakistan by BD govt.

http://www.dailysabah.com/nation/2016/05/11/bangladeshi-jamaat-e-islami-party-leader-nizamis-execution-protested-in-turkey

Even the Turkish Muslims are in rage over this Zulm in former East Pakistan where a Hindu slave and a snake Haseena Wajid is executing Pakistani Muslims on false charges shamelessly.

All allegations on these shaheeds are false. DO NOT fall for lies of Modi and Hindu Zionists. Modi has accepted himself that Indian army created, trained and fought alongside Mukti Bahini and slaughtered millions... ! InshAllah, Hindu Zionists will pay for this crime as well..

Now you know why Ghazwa e Hind is needed. This cancer of Hindu Mushriks will be removed surgically inshAllah !

https://www.facebook.com/syedzaidzamanhamid/posts/994702593917885





We are sharing with you an old post which shows you the amazing leadership vision, mission and courage of beloved Quaid.


We are sharing with you an old post which shows you the amazing leadership vision, mission and courage of beloved Quaid. He was a statsman of world class. Compare his vision and stature with today's snakes we call politicians.. ! Many of the PTI fools think that Imran is the Quaid e azam of today.. ! Only shows that you do not know the depth, stature, vision, mission and duty of Quaid. Imran will take another 200 years to come even close to Baba Quaid. Can IK even utter these words with such clarity and conviction ?? It is not enough that you are honest. To be a leader, you need spiritual and wordily knowledge, history, philosophy, mysticism, politics, sociology, law and a global perspective of contemporary events. For now, we DO NOT have any leader who can lead this nation. following false gods and petty political players wont take us anywhere.

The whole nation has set such silly, low standards for itself that now it can follow anyone who can talk loudly... Innalillahe inna ilehe rajeoon..

محترم زید صاحب کی 29دسمبر 2012 کی انگریزی تحریر کا اردو ترجمہ...!

یہ قائد اعظم کا بہت سحر انگیز ,ناقابل یقین,گہرا , روح پرور پالیسی اور مقصد پر مشتمل بیان ہے...!
انہوں نے خلافتِ راشدہ ماڈل کے متعلق بات کی ہے,انہوں نے اسلامی ریاستوں کو متحد کرنے کے متعلق بات کی ہے, انہوں نے یہودیوں کے متعلق بات کی کہ یہودی مسلمانوں کو تباہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں, انہوں نے پاکستان کو لا الہ الا اللہ پر تعمیر کر نے کی بات کی ہے.....!
اب یہ سیکولر سانپ کیسے جہاد ترک کرنے کا کہہ سکتے ہیں ,خلافت راشدہ کو ترک کرنے کا کیسے کہہ سکتے ہیں , اور مسلم ممالک کو متحد ہونے سے روکنے کی بات کس منہ سے کرتے ہیں ؟؟
جو پاک سر زمین سے غداری کرے گا اسکو شرم کرنی چاہیے...سیدی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے غداری کرنے پر شرم آنی چاہیے ...
پچاس لاکھ مسلمانوں نے پاکستان بنانے کے لیے قربانی دی,انہوں نے اس لیے قربانی دی تاکہ پاکستان اسلام کا قلعہ بن سکے,ان کے ساتھ تو خیانت مت کرو اور ان کے ساتھ خیانت کرنے پر شرم آنی چاہیے...!
یہاں پر لادینیت کی,قومیت پرستی کی,اور مغربی لادینیت کی کوئی جگہ نہیں ہے,,,اس تحریر کا آخری پیراگراف خصوصاً 

پڑھو.. آپ بے یقینی کی کیفیت میں چلے جائیں گے

https://www.facebook.com/syedzaidzamanhamid/photos/a.109687115752775.23119.109463862441767/994787343909410/?type=3




It was the early 19th century, when the East India Company had almost taken over India, when Lord Mecauley proposed an education policy for the slaves...

 

It was the early 19th century, when the East India Company had almost taken over India, when Lord Mecauley proposed an education policy for the slaves...to destroy the local language, culture, identity and beliefs of the Indian Muslims.. to make them slaves for all times... even when the British leave India.

Today, in Pakistan we are even using laws made in 1860... Can you believe that?? Entire Police system, judicial system, administrative system and land revenue system is based on British system based on English language... ! This is called true slavery..

To all Pakistanis, learn Urdu.. learn to read, write and speak god Urdu. Then move on to Persian, Arabic and Turkish..

We already know English.. it is time we revive our Urdu.

https://www.facebook.com/syedzaidzamanhamid/posts/994867433901401



These books are your weapons to arm yourself with knowledge for the present times wars.. each one of you must have this set in your homes.. ! 



These books are your weapons to arm yourself with knowledge for the present times wars.. each one of you must have this set in your homes.. ! Almost all are available online also, for free download except couple of books.

Click on the link "Buy our books". we can send Cash on Delievery within Pakistan. Those outside the country can download or ask their family in Pakistan to buy these.

http://www.123contactform.com/form-…/BrassTacks-Publications

Barak Allah feek..

https://www.facebook.com/syedzaidzamanhamid/photos/a.109687115752775.23119.109463862441767/995029577218520/?type=3&theater