...
Showing posts with label political system. Show all posts
Showing posts with label political system. Show all posts

Sunday, 7 March 2021

March 8th, 2021

اگر سیدی رسول اللہ سے سے وفاداری کرنی ہے ہے تو پھر قرآن و سنت کے مطابق بابا اقبال کی نصیحتوں پر عمل کرنا پڑے گا۔ اگر یہ نہیں کریں گے تو باقی سب کچھ خرافات جھوٹ اور خیانت ہوگا۔ چاہے کتنا بھی جمہوری تماشا ہو یا آمرانہ نظام۔۔

ہمت ہے یہ کرنے کی؟

https://www.youtube.com/watch?v=BvQJz2nnWuI


 

اگر سیدی رسول اللہ سے سے وفاداری کرنی ہے ہے تو پھر قرآن و سنت کے مطابق بابا اقبال کی نصیحتوں پر عمل کرنا پڑے گا۔ اگر یہ نہیں کریں گے تو باقی سب کچھ خرافات جھوٹ اور خیانت ہوگا۔ چاہے کتنا بھی جمہوری تماشا ہو یا آمرانہ نظام۔۔

ہمت ہے یہ کرنے کی؟

https://www.facebook.com/syedzaidzamanhamid/posts/3793987677322682

 

Monday, 19 March 2018

March 18th, 2018

Spread the azaan...lets wake up a nation which is hijacked by political terrorists....lets reclaim Pakistan of Baba Iqbal and Quaid..

 

Spread the azaan...lets wake up a nation which is hijacked by political terrorists....lets reclaim Pakistan of Baba Iqbal and Quaid..

https://www.facebook.com/syedzaidzamanhamid/photos/a.109687115752775.23119.109463862441767/1605459666175505/?type=3

  

Now when TTP has failed and failing, the RAW/NDS/PMLN/Achakzai have launched a new secular movement to create a revolt within the patriotic pashtuns of Pakistan.

 Now when TTP has failed and failing, the RAW/NDS/PMLN/Achakzai have launched a new secular movement to create a revolt within the patriotic pashtuns of Pakistan.

Know this well....this revolt is being created by Mehmood Achakzai with the help of open enemies. Only a bloody fool will trust RAW/NDS lies against Pakistan.

‏نام نہاد PTM کہتی ہے "ہمیں پتہ ہے TTP کو فوج چلا رہی"۔

‏فوج نے 5000 بیٹے قربان کئے۔ سپاہی، کپتان، میجر سے لےکر بریگیڈئیرز اور 4 جنرل شامل۔
‏جنرل ہارون اسلم (کورکمانڈر پشاور) کا اکلوتا بیٹا شہید ہوا۔ اور یہ اچکزئی/اسفندیار/کرزئی کے "پراکسی" کہتے ہیں "دہشت گردی کے پیچھے وردی ہے"؟
‏فاٹا آپریشنز کی حکمت عملی پر فوج سے اختلاف ممکن ہے۔
‏اس میں سویلین نقصان سے انکار بھی نہیں کیا جا سکتا۔

‏لیکن یہ کہنا کہ "دہشت گردی کے پیچھے وردی ہے"، یہ وہی ⁧‫#ڈان_لیکس‬⁩ کی کہانی ہے۔

‏امریکا/انڈیا کے مہرے بلوچستان میں پِٹ رہے تو اب پشتون بیلٹ میں "پشتون نسل پرستی" کی آگ دہکانے کی سازش
‏پشتون قوم کو یہ یاد رکھنا چاہئیے،
‏پچھلے 15 سال "مذہب" کے نام پر ہمیں پاکستانی ریاست سے لڑایا گیا۔

‏اب جبکہ پشتون بیلٹ امن کی طرف جا رہا ہے تو اب پلان "پشتون" کے نام پر 15 سال لڑانے کا ہے۔
‏ریاست سے پشتون قوم کو لڑانے میں فائدہ صرف اسفندیار/اچکزئی کا ہے اور نقصان سراسر پشتونں کا
‏کبھی سوچا ہے یہ "اچانک" PTM کدھر سے نکلی؟
‏جب سے پاک افغان سرحد پر باڑ لگنا شروع ہوئی اور فاٹا کو مین سٹریم کرنے کی بات چلی،
‏تب سے افغانستان/انڈیا کے پٹھووں کو تکلیف ہے۔ پہلے اچکزئی کے ذریعے فاٹا اصلاحات روکی گئیں۔
‏اب پشتون قوم (خصوصاٗ نوجوانوں) کو ریاست سے لڑانے کی سازش جاری ہے
‏میں ایک عام قبائلی پختون یہ کیسے مان لوں،
‏کہ وہ اچکزئی جو پنجاب شریف کی گود میں بیٹھ کر فاٹا اصلاحات روکنے کا مجرم ہے،
‏وہ اور اس کے چیلے آج "قبائل کے خیرخواہ/وارث" ہو گئے؟
‏یا وہ اسفندیار جو سوات سے وزیرستان تک ہر آپریشن کا کریڈٹ لیتا تھا، وہ آج "آپریشنز میں نقصان" پر غمزدہ ہے؟
‏جب TTP کا راج تھا اور روز گلے کٹتے تھے (فوجیوں کے بھی اور قبائل کے بھی)،
‏تب کدھر تھی "تحفظ موومنٹ"؟ کبھی وزیرستان سے باجوڑ تک کسی "پشتین" کو بیت اللہ، حکیم اللہ، فضل اللہ کے خلاف "لانگ مارچ" کرتے دیکھا؟
‏آج جب فاٹا/پختونخوا تقریباٗ پُرامن ہو چکے، ان کو اچانک فوج سے تکلیف ہونے لگی؟
‏یہ PTM کی سازش کافی عرصے سے تیار تھی۔
‏بس "مناسب موقع" کا انتظار ہو رہا تھا لانچنگ کیلئے۔
‏اور وہ موقع راؤ انوار نامی کتے نے فراہم کر دیا۔
‏نقیب محسود شہید کے نام پر راتوں رات ہزاروں لوگ "آرگنائز" ہوگئے؟
‏پہلے اسلام آباد، پھر براستہ ژوب کوئٹہ اور اب پشاور؟ مقصد؟ فوج کو گالیاں دینا؟
‏جو پاکستان کو "شام" بنانا چاہتے ہیں،
‏وہ اس مقصد کیلئے "مذہب" (TTP) کے بعد اب "نسل" (PTM) کو استعمال کرنا چاہتے ہیں۔
‏اس تصادم میں نقصان ریاست کا تو ہوگا ہی لیکن پشتون قوم مزید کئی دہائیوں کیلئے "جنگی چارا" بنےگی۔
‏اگر شامی فوج سے باغی نہ جیت سکے تو پاک فوج تو اس سے بہت بہتر ہے
‏کیا آپ کو حیرت نہیں ہوتی؟
‏وہ لوگ جو عمران کے جلسوں پر کہتے تھے "فنڈنگ کون کر رہا"،
‏وہ آج نہیں پوچھتے ژوب سے کوئٹہ تک PTM جلسوں کی فنڈنگ کون کر رہا؟
‏اسلام آباد میں 10 دن دھرنا "کس کے خرچ" پر چلا؟ یہ "نمکو" کھا کر گزارا کرتے رہے؟
‏عمران پہ تو ATMs کا الزام ہے۔ تو PTM کی ATM کون ہے؟
‏ایسی ایسی مضحکہ خیز "کہانیاں" بنائیں PTM نے کہ دماغ گھوم جاتا ہے۔
‏ایک "انقلابی" بولا 1400 خواتین غائب ہیں فاٹا سے۔ دوسرا بولا 36 ہزار نوجوان غائب ہیں۔
‏ایک کہانی "معذور لڑکے کی باپ کے سامنے فوج کے تشدد سے موت" کی گھڑی گئی۔
‏فوج پاگل ہے کہ اپنے لئے بلاوجہ نفرت پیدا کرے؟ کوئی لاجک؟
‏رہنمائے PTM ایک طرف اچکزئی دوسری طرف اسفندیار کے چیلے بٹھا کر،
‏کوئٹہ میں وکلاء کا قتل بھی فوج پہ ڈال دیا اور APS میں فوجیوں کے بچوں کا قتل بھی۔
‏کوئی عقل کا اندھا نہیں پوچھتا کہ فوج نے مروانا ہی تھا تو کسی "سویلین سکول" میں کیوں نہ مروایا؟
‏اپنے ہی افسروں/جوانوں کے بچے کیوں مروائے؟
‏اس میں شک نہیں کہ آپریشنز میں سویلینز کا نقصان ہوا۔
‏یہ بھی سچ ہے کہ چیک پوسٹوں پر کچھ فوجیوں/پولیس/لیویز کا رویہ نامناسب ہوتا ہے۔
‏اس بات کا فوج کی ہائی کمان کو نوٹس لےکر مداوا کرنا چاہئیے۔
‏لیکن اس سے "دہشت گردی کے پیچھے وردی" یا پھر "لر او بر" ٹائپ نعروں کا جواز ہرگز نہیں نکلتا
‏جو نائن الیون میں یہودیوں کے ملوث ہونے کی سازشی تھیوری کا مذاق اڑاتے ہیں،
‏وہی APS/کوئٹہ وکلاء قتل عام میں فوج کے ملوث ہونے کی سازشی تھیوری کے داعی ہیں۔
‏کامن سینس گھاس چرنے گئی ہے ان کی؟ جنرل مشتاق بیگ، جنرل بلال عمر، جنرل ثناءاللہ نیازی، جنرل جاوید سلطان نے "خود کو مروایا"؟
‏اگر PTM چیک پوسٹس پر نامناسب رویے اور آپریشن میں احتیاط تک رہتی،
‏تو اس بات سے ہر ذی شعور اتفاق کرتا (جیسے شروع میں ہم سب نےکیا)۔
‏لیکن جب یہ "دہشت گردی کے پیچھے وردی" اور "لر او بر" ٹائپ کے نعرے لگاتے ہیں،
‏تو صاف ظاہر ہے کہ اچکزئی/اسفندیار مافیا اسے ہائی جیک کر چکا۔ بس فوج سے نفرت
‏جب PTM والے جواب نہیں دے پاتے،
‏تو کہتےہیں "ہم تو پاکستانی آئین کے تحت حقوق مانگ رہے"۔
‏جناب آئین کے تحت حقوق سے فوج نے روکا؟ یا اچکزئی نے (جس کے چیلے ڈرائیو کرتے PTM)؟
‏پشتونوں کا CPEC میں حصہ فوج نے کھایا یا پنجاب شریف نے؟ جس کے اچکزئی/اسفندیار 5 سال سے اٹھا رہے۔ فوج کو گالی کیوں؟
‏قبائلی پشتون ہونےکےناطے میں نے وہ وقت دیکھا ہے،
‏جب میرےگاؤں میں نوجوانوں کے کان کاٹ دیے گئےتھے (رات کو پہرہ دینے پر)۔
‏قبائلی عمائدین کے گھروں پر حملے کرکے خواتین کے سامنے مرد قتل کئے گئے۔
‏پھر فوج آئی۔ نقصان ضرور ہوا عوام کا اور فوج کا بھی۔ لیکن آج بہت حد تک امن ہے۔ کیسے گالی دوں؟
‏اگر PTM کا مقصد فوج سے "گِلہ" ہے (کہ آپریشن میں نقصان اور پوسٹوں پر رویہ نامناسب)،
‏تو اس سے ہم سب متفق ہیں۔ مجھے خود بھی یہ گِلہ ہے۔ میری فیملی بھی دربدر ہوئی۔
‏لیکن اگر مقصد فوج کو "گالی" ہے (کہ "دہشت گردی کے پیچھے وردی" اور یہ "گیم" ہے)،
‏تو یہ سیدھی سادی بکواس ہے۔ کوئی لاجک نہیں
‏ذرا نظر دوڑائیں PTM کو پروموٹ کون کر رہا؟
‏وہی "قوتیں" جن کی پاکستان خصوصاٗ فوج سے نفرت واضح ہے۔
‏فُل کمپین چل رہی VoA، مشعل، RFERL اور BBC پر (جیو/ڈان بھی شامل)۔
‏ان کے TV/ریڈیو اور FB/ٹویٹر پیج 24/7 پروپیگنڈہ چلا رہے۔
‏ایسی ایسی "کہانیاں" اور سازشی تھیوریاں کہ بندہ حیران رہ جائے
‏پاک افغان سرحد پر باڑ لگا کر پاک فوج "گریٹر پشتونستان" کو دفن کر رہی،
‏باڑ لگانے میں مصروف فوج/مزدوروں پر سینکڑوں حملے ہو چکے افغانستان سے۔
‏اسی مقصد سے "لر او بر" کے چیلے نیا بھیس بدل کر پشتونوں کو فوج کےخلاف اکسا رہے۔
‏مقصد یہی کہ BLA / BLF کی طرح اب "پشتون نسلی دہشت گردی" شروع ہو
‏یاد رہے کہ فوج نے امن کو کتنے چانسز دیے۔
‏پوری دنیا کی تنقید کے باوجود بار بار "قبائل کی ضمانت پر" امن معاہدے کئے۔
‏فوج تو آخری وقت تک مذاکرات کرکے آپریشن سے بچنا چاہ رہی تھی۔
‏یہی لبرل/ANP/اچکزئی/حقانی وغیرہ تھے جو فوج کو Good Taliban کے طعنے دیتے تھے۔ آج پشتونوں کے خیرخواہ ہو گئے؟
‏ایک اصول یاد رکھیں دنیا کا۔
‏اگر آپ کا "دشمن" آپ کے ملک میں کسی "کاز" کی حمایت کر رہا ہے،
‏تو وہ کاز آپ کے ملک کے مفاد میں ہرگز نہیں ہو سکتا (چاہئے کوئی کچھ بھی بہانہ بنا لے)۔
‏نام نہاد PTM کی بنیاد بھی افغانیوں اور عالمی "پاکستان دشمنوں" کی سپورٹ پر کھڑی ہے

https://www.facebook.com/syedzaidzamanhamid/posts/1605926526128819



Let me show you the real dirty face of this so called "Pashtun rights movement"....






Let me show you the real dirty face of this so called "Pashtun rights movement"....

You can see how closely they are connected to US Central Command, Afghan army, NDS, RAW, Modi and Ashraf Ghani as well as Altaf Hussain and MQM.

This is one huge sazish where all these players have joined hands to make fool of young Pashtuns.

if anyone still thinks that this is due to local Karachi issue, then he is totally mad. this has NOTHING to do with Pashtun rights. Cant you still not see ??

https://www.facebook.com/syedzaidzamanhamid/posts/1606186499436155




He is Manzoor....puppy of Achakzai and wants to create Pashtunistan by destroying Pakistan. If anyone thinks he is fighting for the rights of Pashtuns, then he is totally mad.



He is Manzoor....puppy of Achakzai and wants to create Pashtunistan by destroying Pakistan. If anyone thinks he is fighting for the rights of Pashtuns, then he is totally mad. It is like saying that Mullah Fazlullah is fighting for shariat in Pakistan.

How can anyone be so stupid to trust this ghaddar, Manzoor? you see the flag he wants to create?

https://www.facebook.com/syedzaidzamanhamid/posts/1606427286078743

March 17th, 2018

پاکستانی قوم، اس کی اشرافیہ، عدلیہ ، پاک فوج اور محب وطن اچھی طرح سمجھ لیں کہ یہ اللہ ہمیں آخری موقع دے رہا ہے کہ ہم اس ناپاک اور گلے سڑے سیاسی نظام کو تبدیل کرلیں۔ اگر یہ موقع بھی ضائع کردیا تو پھر ”ہلاکو خان“ کا انتظار کیجیئے گا!!!


پاکستان میں اعلیٰ ترین تعلیم یافتہ طبقہ ڈاکٹر، انجینئر وغیرہ بن جاتا ہے۔ پاک فوج، عدلیہ اور سول سروس میں بھی اعلیٰ ترین تعلیم یافتہ نوجوان جاتے ہیں۔ جو ملک کے جاہل ترین، چور ترین بد اخلاق جانور ہوسکتے ہیں، وہ سیاست میں آجاتے ہیں۔
پاکستان میں پارلیمنٹ کا ممبر بننے کیلئے نہ تو داخلہ امتحان ہے، نہ انٹرویو ہے، نہ تعلیم یافتہ اور باکردار ہونے کی شرط ہے، نہ آگے ترقی کیلئے مزید تعلیم و تربیت و امتحان کا کوئی نظام۔ خاندانی نوابزادے، حرام خور، غدار ابن غدار، الو کے پٹھے پہلے ممبر بنتے ہیں، پھر وزیر اور حکمران۔
چونکہ ہر ممبر کو سیاسی رشوت کے طور پر کروڑوں، اربوں روپے ترقیاتی فنڈز کے نام پر بانٹے جاتے ہیں، لہذا ان حرام خوروں کی روزی بھی لگی رہتی ہے اور ملک میں کوئی نظم و ضبط کے ساتھ باقاعدہ ترقیاتی پروگرام چل ہی نہیں پاتا کہ تمام تقسیم اور خرچ ملکی ضرورت کے مطابق نہیں پارٹی سیاست کے مطابق ہوتی ہے۔
تو پورے سیاسی نظام میں تین واضح بڑی خرابیاں ہیں کہ جن کو ہر حال میں نمٹنا ہوگا۔
1 ۔ آئین سے متصادم کفریہ عقائد، صوبائیت، قومیت اور فرقہ واریت پر مبنی سیاسی جماعتیں۔
2 ۔ جاہل اور غدار ممبران اسمبلی۔
3 ۔ ترقیاتی فنڈز کے نام پر حرام خوری اور سیاسی رشوتیں۔
جب فوج ، سول سروسز، عدلیہ اور تمام سرکاری اور غیر سرکاری اداروں میں ملازمت کیلئے داخلہ امتحانوں اور بورڈ انٹرویو کی شرط ہے توپارلیمنٹ کیلئے کیوں نہیں؟ کہ جنہوں نے ملک و قوم کی قسمت کا فیصلہ کرنے کیلئے قانون سازی کرنی ہے۔
2013 کے انتخابات میں نواز شریف کی حکومت نے صرف 17 فیصد ووٹ لیے ہیں۔ ملک کی 83 فیصد آبادی نے انہیں مسترد کیا ہے۔ یہ ہے وہ ”بھاری مینڈیٹ“ جس پر یہ سیاسی جماعتیں بڑھکیں مارتی ہیں۔ موجودہ جمہوریت اکثریت کی رائے سے نہیں، اقلیت کی رائے سے چلتی ہے۔
آج پاکستان میں یہ پورا سیاسی نظام مکمل طور پر ننگا ہوچکا ہے۔ سیاسی جماعتیں اپنے چہروں پر سیاسی مل کر پوری قوم کے سامنے بے عزت اور رسواءہوچکی ہیں۔ اگر چند بڑے بڑے مقدمات کا فیصلہ کردیا جائے تو تمام سیاسی جماعتیں اپنے سربراہوں سمیت سولی چڑھا دی جائیں گی۔
ملک میں اب عبوری حکومت آیا ہی چاہتی ہے۔ فکر نہ کریں، جس طرح اللہ نے ان سیاسی جماعتوں کو سینیٹ کے انتخابات میں رسواءکیا ہے، ان شاءاللہ، اسی طرح عبوری حکومت بھی ان کی مرضی سے نہیں بنے گی۔ یہ جتنی مرضی ”اکثریت“ خرید لیں، ”عسکریت“ ملک کا دفاع کرنا جانتی ہے۔
آنے والی عبوری حکومت کے سامنے دو بہت بڑے چیلنج ہونگے۔
1 ۔ اقتصادی طور پر دیوالیہ ملک کو سنبھالنا، لوٹی ہوئی دولت واپس لانا اور ملک میں جاری جنگ سے نمٹنا۔
2 ۔ ملک کے سیاسی نظام میں ایسی بنیادی تبدیلیاں کرنا کہ آنے والے وقتوں میں موجودہ نظام کی تمام خرابیاں دور کردی جائیں۔
ہم نے اب ملک میں جس بحث اور بیانیے کا آغاز کیا ہے اس کا مقصد آنے والی عبوری حکومت کے دوسرے اہم مشن کیلئے ایک قومی رائے سازی کرنا ہے۔ ملک کی سیاست کو درست کرنا ہم سب کا ذاتی کام ہے اور ہم سب کو ہی اس میں مشاورت سے نیا نظام تشکیل دینا ہے۔
اب تک کی ہونیوالی قومی بحث سے یہ بات تو بالکل واضح ہوچکی ہے کہ پوری قوم اس بات پر متفق ہے کہ موجودہ نظام ہر حال میں تبدیل کرنا ہوگا۔
اس بات پر بھی قوم متفق ہے کہ تمام سیاسی جماعتیں حرام خور ہیں اور انہیں ختم کرنا ہوگا۔
اس بات کی حمایت میں بہت واضح اکثریت ہے کہ ملک میں براہ راست صدر کا انتخاب ہو اور ٹیکنوکریٹک حکومت قائم کی جائے۔ اس بات پر بھی ہر کوئی متفق نظر آتا ہے کہ پارلیمنٹ کے ممبران کیلئے سخت ترین داخلہ امتحان اور بورڈ انٹرویو کی شرط لازمی ہونی چاہیے۔
آنے والی عبوری حکومت کو سپریم کورٹ اور قومی دانشوروں کے ساتھ ملکر ایک ایسا نیا سیاسی نظام تشکیل دینا ہے کہ جو قرارداد مقاصد کی روح کے مطابق اسلامی جمہوریہ پاکستان کی بنیادی نظریاتی اور روحانی اساس کے مطابق ایک اسلامی فلاحی ریاست کا نظام بنا سکے۔
جب پاکستان ایک اسلامی نظریاتی ریاست ہے تو اس میں بھانت بھانت کی سیاسی جماعتیں کہ جو سوشلزم، سرخ انقلاب، علاقائیت، قومیت اور فرقہ واریت کی بنیاد پر سیاست کریں، کیسے قبول کی جاسکتی ہیں؟
پاکستان ایک ”رپیبلک“ ہے، کہ جس کے بنیادی نظریات کوئی جمہوریت یا اکثریت تبدیل نہیں کرسکتی۔
آنے والے ایک سال میں پاکستان کی عبوری حکومت، سپریم کورٹ اور پاک فوج کو اللہ تعالیٰ ایک تاریخ ساز موقع فراہم کررہا ہے کہ جس میں پچھلے ستر سال میں کیے گئے گناہوں اور غلطیوں کا کفارہ ادا کیا جاسکتا ہے۔ اپنے ہاتھ سے لکھے ہوئے بوسید ہ آئین کو بچانے کیلئے ہم پچاس لاکھ مسلمانوں کے خون سے قائم کردہ ریاست سے خیانت نہیں کرسکتے۔
آئین سو دفعہ لکھے جاسکتے ہیں، ان میں ترمیم کی جاسکتی ہے، مگر اسلامی ریاست دوبارہ نہیں بنائی جاسکتی۔ حقیقت تو یہ ہے کہ زندہ قوموں کے پاس لکھے ہوئے آئین ہوتے ہی نہیں۔ وہ اجتہاد کے ذریعے زمانے کے بدلتے ہوئے حالات کے مطابق اپنی قسمت کے فیصلے اپنے قوم کے سمجھدار لوگوں کے ذریعے کرتی ہیں۔
پاکستان کے پاس مرکزی اور بنیادی آئین قرآن و سنت کی شکل میں موجود ہے۔ ہماری ”اسلامی رپیبلک“ کا بنیادی آئینی ڈھانچہ قرارداد مقاصد میں مکمل طور پر بیان کردیا گیا ہے۔ اب ہم نے صرف معمولی انتظامی تبدیلیاں ہی کرنی ہیں۔ پارلیمانی جمہوریت کے بجائے صدارتی اور ٹیکنوکریٹک نظام بہت آرام سے لایا جاسکتا ہے۔
پاکستانی قوم، اس کی اشرافیہ، عدلیہ ، پاک فوج اور محب وطن اچھی طرح سمجھ لیں کہ یہ اللہ ہمیں آخری موقع دے رہا ہے کہ ہم اس ناپاک اور گلے سڑے سیاسی نظام کو تبدیل کرلیں۔ اگر یہ موقع بھی ضائع کردیا تو پھر ”ہلاکو خان“ کا انتظار کیجیئے گا!!!
ہم انہی ناپاک سیاسی جماعتوں اور ان کے حرام خور سربراہان کے ساتھ دوبارہ 2018 ءمیں الیکشن نہیں کراسکتے۔ یہ ڈاکو اور چور تو آسراءہی یہ لگا کر بیٹھے ہیں کہ دوبارہ الیکشن کے ذریعے 12-15 فیصد ووٹ لیکر یہ پھر حکومت بنالیں گے اور اب کی دفعہ آئین، عدلیہ اور پاک فوج کے خلاف ایسی قانون سازی کریں گے کہ پھر انہیں پکڑنے والا کوئی بھی نہ رہے
گا۔

https://www.facebook.com/syedzaidzamanhamid/posts/1605233919531413

March 16th, 2018

یہ نظام صرف انہی زرداریوں اور پٹواریوں کو لا سکتا ہے۔ کیا آپ اپنی آنے والی نسلیں ان حرام خوروں کی غلام رکھنا چاہتے ہیں؟ اگر نہیں تو پھر نظام تبدیل کریں۔



پاکستان کی تاریخ میں اب ہم شعور کی اس سطح پر پہنچ چکے ہیں کہ پوری پاکستانی قوم نے اچھی طرح دیکھ لیا ہے کہ موجودہ جمہوریت سوائے غلاظت، خیانت اور حرام خوری کے کچھ بھی نہیں۔ ہر حال میں اس سیاسی نظام کو تبدیل کرنا لازم ہوچکا ہے۔

اس سیاست کے تابوت میں آخری کیل حالیہ سینیٹ الیکشن تھے کہ جس میں ممبران اسمبلی کی اس طرح خریدوفروخت ہوئی کہ جس طرح ماضی قدیم میں بازاروں میں غلام اور کنیزیں بکتی تھیں۔ بے شرمی، بے حیائی اور بے غیرتی کی آخری حدیں اب پار ہوچکی ہیں۔

اب جبکہ موجودہ حکومت اپنا وقت پورا کرچکی ہے، وقت آچکا ہے کہ آنے والی عبوری حکومت کے ذریعے معاشرے میں نہ صرف ایک سفاک احتساب کیا جائے بلکہ سیاسی اور پارلیمانی نظام میں ایسی بنیادی تبدیلیاں لائی جائیں کہ موجودہ کینسر کا خاتمہ کیا جاسکے۔

براس ٹیکس اب ایک نئی قومی بحث کا آغاز کررہا ہے۔ آئیے مل بیٹھ کر اس مسئلے کا حل نکالیں۔ ہم معاشرے کے مردان آزاد، مردان حر اور فکری اورروحانی طور پر پاکیزہ افراد کو دعوت دیتے ہیں کہ کھل کر پاکستان میں نئے سیاسی نظام کے لیے اپنی رائے دیں۔

ہمارا مخاطب وہ غلام لوگ نہیں ہیں کہ جو تنگ نظر ہیں، تنگ ذہن ہیں اور موجودہ سیاسی غلاظت کے علاوہ کسی اور سیاسی نظام کو قبول کرنے کیلئے تیار ہی نہیں کہ جو پاکستان کو حقیقی معنوں میں اسلامی فلاحی ریاست بنا کر امت مسلمہ کی قیادت کے قابل کرسکے۔

ہم بنیادی سوال اٹھائیں گے۔
کیا پاکستان کو پچاس سیاسی جماعتوں پر مشتمل یہی پارلیمانی نظام چلانا چاہیے، یا براہ راست صدر کا انتخاب کرکے محب وطن ٹیکنوکریٹک حکومت کے ذریعے ملک کو چلایا جائے؟
دنیا کے ہر جمہوری ملک نے اپنی مرضی کی جمہوریت بنائی ہوئی ہے، ہم کیوں نہیں بناسکتے؟

کیا پارلیمان میں آنے والے اراکین کیلئے کوئی کم از کم قابلیت کا امتحان یا انٹرویو ہونا چاہیے؟ کیا ایک ایسے ملک میں کہ جس کی بنیاد اسلام پر ہے، وہاں ایسی سیاسی جماعتیں ہونی چاہیں کہ جن کا نظریہ لادین ہو، سوشلزم ہو یا قومیت لسانیت اور فرقہ واریت پر مبنی ہو؟

کیا یہ کافی نہیں ہے کہ صرف ایک مضبوط صدر یا وزیراعظم ہو؟ وزیراعظم کے ہوتے ہوئے ایک فالتو صدر کی کیا ضرورت ہے؟ یا اگر صدارتی نظام ہو تو پھر ایک کمزور اور بے اختیار وزیراعظم کا عہدہ رکھنے کی کیا حاجت؟

کیا پارلیمان کے ساتھ سینیٹ کا ہونا ضروری ہے؟ کیا یہ کافی نہیں ہے کہ حکومت کا سربراہ ہو، کابینہ ہو، قومی سلامتی کونسل ہو، اور قابل ترین افراد پر مشتمل پارلیمان؟ سینیٹ کے انتخابات میں آپ نے دیکھ ہی لیا ہے کہ جیسے کتوں اور خنزیروں کی خریدوفروخت ہوتی ہے۔ اس نظام کو ختم ہی کیوں نہ کردیا جائے؟

کیا اب وقت نہیں آگیا کہ پاکستان کو قبائلی، موروثی، صوبائی اور شخصیت پرستی پر مبنی سیاست سے مکمل طور پر پاک کردیا جائے؟ سیاست کا بھی وہی نظام ہونا چاہیے کہ جو فوج اور عدلیہ کا ہے۔ باپ کے بعد بیٹا سپہ سالار نہیں بنتا اور نہ ہی چیف جسٹس کے بعد اس کا بیٹا۔

کیا یہ بہتر نہیں ہے کہ عبوری حکومت کی مدت کو کم از کم تین سال تک بڑھا دیا جائے تاکہ وہ ملک میں سخت ترین احتساب بھی کریں اور قرآن و سنت پر مبنی ایک نیا صدارتی آئین تشکیل دیں، تاکہ پاکستان میں ایک نئی صاف اور پاک سیاسی قیادت کا آغاز کیا جاسکے؟

حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کی پوری ریاست، ہماری گزشتہ نسلیں، اور آئندہ آنے والی نسلوں کو دو ٹکے کے ڈاکوﺅں نے غلام اور یرغمال بنا کر رکھا ہوا ہے۔ یہ نظام صرف انہی زرداریوں اور پٹواریوں کو لا سکتا ہے۔ کیا آپ اپنی آنے والی نسلیں ان حرام خوروں کی غلام رکھنا چاہتے ہیں؟ اگر نہیں تو پھر نظام تبدیل کریں۔

آنے والے دنوں میں پاکستان کی عدلیہ ، پاک فوج اور دانشوروں کو تاریخ ساز فیصلے کرنے ہونگے۔ ہم ملک و قوم و ملت کو ایک بوسیدہ اور گلے سڑے آئین کی بھینٹ نہیں چڑھا سکتے۔ آئین سو دفعہ لکھے جاسکتے ہیں، ملک دوسری دفعہ نہیں بنایا جاسکتا۔ جہنم میں جائے پارلیمانی ڈیموکریسی!

https://www.facebook.com/syedzaidzamanhamid/posts/1604204112967727


Saturday, 10 February 2018

February 9th, 2018

This part of our interview was censored by TV channel recently. This was brutally harsh against enemies. Fortunately, we had our own copy.....here it is.

https://www.facebook.com/syedzaidzamanhamid/videos/1568797256508413/

This part of our interview was censored by TV channel recently. This was brutally harsh against enemies. Fortunately, we had our own copy.....here it is.

https://www.facebook.com/syedzaidzamanhamid/videos/1568797256508413/

February 5th, 2018

اسلامی جمہوریہ “ یا ”مغربی جمہوریت“



اسلامی جمہوریہ “ یا ”مغربی جمہوریت“

آج میں پاکستان کے مفکروں، دانشوروں، رائے ساز شخصیات ، ذمہ دار صحافیوں اور محب وطن لوگوںسے بات کرنا چاہتا ہوں۔ذرا دماغ پر زور ڈالیے اور سوچیئے کہ کیا یہ وہی پاکستان ہے کہ جس کا خواب قائداعظم اور علامہ اقبالؒ نے دیکھا تھا؟ کیا پاکستان میں وہی نظام رائج ہے کہ جو پاکستان کے بانیان کے پیش نظر تھا؟ کیا پاکستان کا موجودہ آئین اس کی تکمیل کے مقاصد کی ترجمانی کرتا ہے؟ کیا پاکستان ایک ”اسلامی جمہوریہ پاکستان“ ہے یا ”جمہوریت زدہ“ پاکستان ہے؟ یہ وہ سوالات ہیں کہ جو میں آج اہل علم و دانش اور محبان وطن سے پوچھنا چاہتا ہوں۔

پاکستان کے قیام کا مقصدصرف برصغیر میں مسلمانوں کیلئے ایک الگ ریاست کا حصول نہیں تھا کہ جہاں مسلمانوں کو آزادی اظہار کی اجازت حاصل ہو، بلکہ قائداعظم ؒ کے بقول ہمیں ایک تجربہ گاہ کی ضرورت تھی کہ جہاں ہم اسلامی اصولوں کے مطابق ایک نظام کی تشکیل دے سکیں، اور پھر وہ نظام بنا کر دنیا کو دکھائیں۔ پاکستان کو ایک اسلامی جمہوری ریاست بننا تھا۔ یہاں اس فرق کو سمجھنا ضروری ہے کہ ”اسلامی جمہوریہ“ اور موجودہ ”مغربی جمہوریت“ کا باہم کوئی موازنہ نہیں۔پاکستان میں اس وقت جمہوریت کے نام پر جو مافیا راج نافذ ہے اس کا نہ تو مغربی جمہوریت سے کوئی تعلق ہے اور نہ ہی اسلامی جمہوری نظام سے۔

مغربی جمہوریت اور اسلامی جمہوری نظام میں فرق سمجھانے کی غرض سے میں آپ کو چند مثالیں دیتا ہوں۔ ایک جمہوری ریاست میں پارلیمان کی بالادستی ہوتی ہے، اور پارلیمان دوتہائی اکثریت سے کوئی بھی قانون پاس کرواسکتی ہے۔ جیسا کہ اٹھارہویں ترمیم میں ہوا کہ جس میں وفاق کو تقریباً ریاست ہائے متحدہ میں تبدیل کردیا گیا۔ جیسا کہ قادیانیوں سے متعلق قانون پاس کیا گیا، اور جس کی تازہ مثال یہ بھی ہے کہ ایک نا اہل شخص ایک سیاسی جماعت کا سربراہ بن سکتا ہے۔ تو یہ مثالیں ان لوگوں کی عقلوں سے پردہ ہٹانے کیلئے کافی ہے کہ جو یہ راگ الاپتے ہیں کہ پاکستان کے تمام مسائل کا حل جمہوریت میں ہے ۔ یہ سبھی قوانین ایک جمہوری پارلیمان نے ہی پاس کیے ہیں۔ اور جمہوریت پارلیمان کو اجازت دیتی ہے کہ وہ دو تہائی اکثریت سے کوئی بھی غیر شرعی اور غیر اخلاقی قانون پاس کرسکتی ہے۔ تو یہ ثابت ہوا کہ مغربی جمہوریت بھی کہ جو اخلاقیات سے مکمل عاری ہے ، پاکستان کیلئے موزوں طرز نظام نہیں۔

جب ”اسلامی جمہوریہ“ کی بات کی جاتی ہے تو اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ ریاست کے بنیادی نظریے اور قوانین میں کسی بھی صورت تبدیلی نہیں کی جاسکتی۔ چاہے پوری پارلیمان آپس میں مل بھی جائے، تب بھی جمہوریت کے طرز پر بھی آپ ملک و قوم و ریاست کے بنیادی نظریات اور ستونوں کو تبدیل نہیں کرسکتے۔ مثلاً پاکستان کے آئین کی پہلی سطر یہ کہتی ہے کہ ملک میں کوئی قانون قرآن و سنت کے خلاف نہیں بنایا جاسکتا۔ قرارداد مقاصد جو ہمارے بڑوں نے 1949 ءمیں پاس کردی تھی، واضح طور پر طے کردیتی ہے کہ پاکستان ایک جمہوریت نہیں بلکہ ”اسلامی جمہوریہ“ ہوگا، یعنی یہاں اکثریت رائے سے قوانین تبدیل نہیں ہونگے، بلکہ قرآن و سنت حتمی طور پر ملک و قوم و ملت کا بنیادی ستون رہے گا، اور اس میں کوئی بھی اکثریتی پارلیمنٹ کوئی تبدیلی نہیں کرسکتی۔

اب آتے ہیں دوسرے آپشن پر۔ کئی لوگ پاکستان میں صدارتی طرز حکومت کی بات کرتے ہیں۔ وہ یہ سمجھتے ہیں کہ پاکستان کے مسائل کا حل صدارتی طرز نظام میں ہے۔ چلیں اس پر بھی بات کرکے دیکھتے ہیں۔ پیپلز پارٹی کے دور میں پاکستان میں ایک طرح کا صدارتی طرز نظام ہی رائج تھا۔ جس میں صدر زرداری کو مکمل اختیارات حاصل تھے۔ وزیراعظم کی حیثیت ایک کٹھ پتلی کی سی تھی،جس میں، وقت آنے پر ایک وزیراعظم گیلانی کو قربان کرکے دوسرا وزیراعظم راجہ پرویز اشرف کو لے آیا گیا، مگر طاقت کا دارومدار ایوان صدر کے پاس ہی تھا۔

درحقیقت پاکستان کے جتنے بھی ”جمہوریت زدہ “ سربراہان رہے ہیں وہ دراصل مطلق العنان ڈکٹیٹر ہی تھے۔ سب نے پارلیمان کو اپنے اقتدار کو بچانے کیلئے استعمال کیا، سبھی نے نظریہءضرورت کے تحت قوانین بنائے، سبھی نے اپنی جماعتوں، اپنے صوبوں اور اپنے اقتدارکے مفادات میں آئین میں تبدیلیاں کیں۔ یہ لوگ اکثریت کو استعمال کرکے جمہوریت کو ایک ہتھیار کے طور پر اپنے مفادات کے حصول کیلئے پارلیمان میں استعمال کرتے رہے۔

پاکستان پر ایک وقت ایسا بھی گزرا ہے کہ جب بھٹو”جمہوریت“ کے ذریعے منتخب ہونے والا سیاسی لیڈر، جو بیک وقت چیف مارشل لاءایڈمنسٹریٹر بھی تھا، پھر صدر بھی بن گیا اور بعد میں وزیراعظم بھی۔ پورے پاکستان کے ساتھ ایک مذاق بنایا ہوا تھا۔ کہنے کو وہ ”سیاسی“ لیڈر تھا، حقیقت میں بدترین ڈکٹیٹر! بعد میں آنے والے دور میں نواز شریف اور زرداری بھی ”منتخب شدہ“ ڈکٹیٹر ہی تھے۔اور یوں ان ”جمہوری“ حکمرانوں نے اس اسلامی جمہوریہ پاکستان، اور اس کے مقاصد کے ساتھ گھناﺅنا مذاق کیا اور جو آج تک جاری ہے۔

لیکن اب وقت آگیا ہے کہ ہم اس گلے سڑے نظام سے چھٹکارا حاصل کریں۔ اب وقت آگیا ہے کہ اس نظام سے ایک وقفہ لیں اور بیٹھ کے سوچیں کہ ہم سے کہاں غلطی ہوئی۔ کیوں ہم وہ نظام نہیں بنا سکے کہ جس کیلئے ہم نے یہ ملک حاصل کیا تھا، کیوں ہم اس راستے پر نہیں چل سکے کہ جو بانیان پاکستان نے وضع کیا تھا۔کیوں ہم اس ”شادباد“ کو اس کی ”منزل مراد“ تک نہیں لے جاسکے۔

یہ وقت ہے کہ اہل علم و دانش اور اثر ورسوخ کی حامل شخصیات پھر سے سوچیں، اور از سر نو ایک نئی راہ کا تعین کریں، تاکہ ہم اپنی آنی والی نسلوں کے ہاتھوں وہ پھلدار شجر سونپ سکیں کہ جس کی آبیاری ہماری آباءنے خون دل سے کی تھی۔
موجودہ حکومت اپنی مدت پوری کرنے کے قریب ہے۔ کچھ ہی عرصے بعد یہ حکومت اپنی مدت پوری کرلے گی اور پھر ایک نگران حکومت قائم کردی جائے گی۔ یہی وقت ہے فیصلے کا!

چیف جسٹس اور آرمی چیف دونوں ہی جمہوریت کے حامی ہیں اور وہ جمہوریت کو پھلتے پھولتے دیکھنا چاہتے ہیں۔ مگر انہیں یہ بھی سمجھنا ہوگا کہ جو نظام پاکستان میں رائج ہے وہ جمہوریت نہیں بلکہ مافیا راج ہے، اور یہ الفاظ سپریم کورٹ کے جج کے ہیںکہ جنہوں نے موجودہ حکومت کو ”سسلین مافیا“ سے تشبیہ دی ہے۔ موجودہ ”جمہوری“ نظام درحقیقت اپنے مزاج میں آمرانہ ہے، اور بدقسمتی سے قوم و ملک یہ سمجھ رہی ہے کہ اسی میں فلاح کی راہ ہے، حالانکہ یہ مکمل تباہی کا راستہ ہے۔ پاکستان کو ایک اسلامی جمہوریہ بننا تھا، نہ کہ جمہوریت زدہ۔

سادہ الفاظ میں پاکستان کو ایک نئے آئین کی ضرورت ہے کہ جس کے تحت ایک متحدہ وفاقی اسلامی جمہوریہ اور صدارتی نظام رائج ہو۔ سیاسی اثررورسوخ سے پاک ایک آزاد اور مضبوط بیوروکریسی ہو جو کہ ایک حکومت کیلئے ریڑھ کی ہڈی کا کام سرانجام دے سکے، اور مجلس عاملہ، بیوروکریسی، عدلیہ کے حدود کار متعین ہوں اور یہ سب ایک ٹیکنوکریٹک حکومت کے تحت اپنے فرائض سرانجام دے رہے ہوں۔
اس موجودہ آمرانہ مافیا جمہوریت کے تحت سیاستدانوں نے اپنے سیاسی اثر و رسوخ کے ذریعے بیوروکریسی کو تباہ کردیا ہے۔ نتیجتاً ایک کے بعد ایک ریاستی ادارہ تباہ ہوتا جارہا ہے۔

اب وقت آگیا ہے کہ ہم اس ناپاک اور پلید نظام کو خیر آباد کہہ دیں۔میں پاکستان کے تمام محب وطن اور با اثر شخصیات کو دعوت دینا چاہوںگا کہ آئیں اور مل کر بیٹھ کر سوچیں کہ کیا لاکھوں شہداءکی قربانی سے حاصل کی گئی اس پاک سرزمین کو ہم یونہی بے بسی اور لاچاری سے کمزور ہوتا اور اندرونی و بیرونی دشمنوں کے ہاتھو ں تباہ ہوتا دیکھتے رہیں گے، یا آگے بڑھ کر اس کی پھر سے از سر نو تعمیر کریں گے۔

آج ہم نے اس فکری عمل کا آغاز کیا ہے۔ اب یہ آپ پر ہے کہ اس پر غیر روایتی طریقے سے سوچ وبچار کریں۔ تاکہ اس موجودہ مافیا جمہوریت سے نجات حاصل کی جاسکے۔ یہ سینکڑوں سیاسی جماعتوں پر مشتمل آمرانہ مافیا کہ جسے جمہوریت کا نام دیا جاتا ہے اب مزید قبول نہیں کی جاسکتی۔ یہ نہ صرف غیر شرعی ہے و غیر قانونی و غیر اخلاقی ہے بلکہ اپنے اندر ایک جرم بھی ہے۔

آئیے پاکستان کی تعمیر نو اس طرز پر کریں کہ جس پر قائد کرنا چاہتے تھے۔

٭٭٭٭٭
https://www.facebook.com/syedzaidzamanhamid/photos/a.109687115752775.23119.109463862441767/1565070860214386/?type=3&theater



Kashmir can only be through sword !....



https://www.facebook.com/syedzaidzamanhamid/videos/1565196140201858/

Our azaan today... Kashmir can only be through sword !....

https://www.facebook.com/syedzaidzamanhamid/videos/1565196140201858/



Saturday, 30 December 2017

November 12th, 2017

By April 2018, political and economic anarchy at such levels in Pakistan that India is confident that they can launch a proper invasion with the help of terrorists inside Pakistan.


https://www.facebook.com/syedzaidzamanhamid/videos/1482055221849284/

By April 2018, political and economic anarchy at such levels in Pakistan that India is confident that they can launch a proper invasion with the help of terrorists inside Pakistan.

PMLN Govt knows that and to make it easy for Indians and terrorists have ordered all Pakistan to hand over their automatic weapons by January 15th...to disarm all citizens, to make us a simple target for Khawarij, terrorists and Mushriks....

All political parties, lawyers, businessmen are silent on this order of PMLN to disarm all citizens. This must be resisted in court of law.

https://www.facebook.com/syedzaidzamanhamid/videos/1482055221849284/

November 8th, 2017

If you go against Baba Iqbal's advice, it does not matter what political system or economic strategy you make, you will remain a slave...you will remain weak and afraid....






When a nation refuses to listen to Baba Iqbal, then humiliation is written for those people.....

When will this nation, its elders, its parties, its Ulama, its courts start to listen to Baba Iqbal ?????

If you go against Baba Iqbal's advice, it does not matter what political system or economic strategy you make, you will remain a slave...you will remain weak and afraid....

https://www.facebook.com/syedzaidzamanhamid/posts/1478511435536996

Friday, 21 October 2016

October 22nd, 2016

Anyone who insist that Pakistan must continue to keep this decayed, stinking, decomposed Judicial, political and economic system is surely Mad, insane, deranged and blind.....Astaghfurullah...




Anyone who insist that Pakistan must continue to keep this decayed, stinking, decomposed Judicial, political and economic system is surely Mad, insane, deranged and blind.....Astaghfurullah...

There is NO other option but to replace this entire system and rebuild it on the lines of Khilafat e Rashida....

Read OUR book Khilafat e Rashida to know what we mean.. dont ask silly questions like "who will be the Khalifa"... "which sect will be apply then"...

https://www.facebook.com/syedzaidzamanhamid/posts/1109918212396322




No "Naya Pakistan" can be created without Baba Iqbal...No motorway, no police reforms, no CPEC can bring Takmeel e Pakistan if Baba Iqbal is not the soul of the planning...



Only a Munafiq or a Kafir or a Badnaseeb will reject, insult and ignore the spiritual Message of Baba Iqbal...
Today, not a single political leader of Pakistan know even the names of books of Baba Iqbal, let alone knowing his message of Izzat.. Even IK does not know....such a tragedy...that nation considers ignorant as leaders and have forgotten the criteria of a great leader "the one who would ignite you to reject the entire system of Kufr, its democracy, its capitalism, its immoral civilization, its Godless culture, its anglo-saxon laws and would bring Khilafta e Rashida"

Remember this...any nation which insult, humiliate or degrade Baba Iqbal would NEVER see izzat, glory and dignity...

No "Naya Pakistan" can be created without Baba Iqbal...No motorway, no police reforms, no CPEC can bring Takmeel e Pakistan if Baba Iqbal is not the soul of the planning...

This present political leadership is NOT the one which will bring Takmeel e Pakistan...stop following these false gods...
https://www.facebook.com/syedzaidzamanhamid/posts/1110377862350357



We would strongly advice you all to watch this entire series of Qurun e Aula...!


https://www.youtube.com/watch?v=TOXGysYrD5M

We would strongly advice you all to watch this entire series of Qurun e Aula...! For the first time on mainstream media, we had brought our most glorious era for our younger generation...

educate yourself...this is the Golden age we need to bring back through Takmeel e Pakistan... InshAllah..
https://www.facebook.com/syedzaidzamanhamid/posts/1110421572345986


Entire Indian army has been shaken up by our patriotic Social Media troopers... :)) This is the work OUR patriotic SM teams do, alhamdolillah.

http://timesofindia.indiatimes.com/city/kolkata/Army-starts-sensitizing-commanders-and-troops-against-Pakistani-tweets/articleshow/54957708.cms?from=mdr

Entire Indian army has been shaken up by our patriotic Social Media troopers... :)) This is the work OUR patriotic SM teams do, alhamdolillah.

In modern warfare, winning the battles of the narrative is the most critical aspect of fight the 5th GenWar.. When you join BrassTacks and our patriotic pages, you actually defend Pakistan and attack Indian Zionist forces.... :)

Labbaik Ghazwa e Hind..

https://www.facebook.com/syedzaidzamanhamid/posts/1110784275643049


Tuesday, 14 August 2012

August 15, 2012

 

The secular and munafiqs can go to hell.

 

 

This is only our part of the program but they had heavily edited out some of our powerful arguments. Also, the gustakhi of Amir Liaqat against Hadees of Rasul Allah (sm) on Khilafat e Rashida was taken out to save him the embarrassment, eve
n though he remains shameless. The final and decisive argument have been given -- Pakistan will be re-modeled on pattern of Khilafat e Rashida inshAllah and there will NOT be any compromise on our fundamental faith, values and beliefs. The secular and munafiqs can go to hell.

This is incredible article by Bharat Verma. 

India is disintegrating !!!

 

 

This is incredible article by Bharat Verma. India is disintegrating !!! Bharat Verma is a rabid anti Islam and anti Pakistan Hindu Zionist. Most of you would remember our battle with him on Express TV four years ago. He always talks about d
estroying Pakistan. But now the reality is dawning upon him. It is the India which is being destroyed from within, alhamdolillah. Here, he is forced to accept the crisis India faces within. Those pro-Hindu SAFMA snakes who always speak of crisis within Pakistan will never tell you which this Hindu Zionist is forced to acknowledge.

While India continues to deploy wars against Pakistan, Allah (swt) is deploying His own plans against the Hindu Zionists. InshAllah, all those snakes who conspire to wage war aganst Pak Sarzameen would be humiliated in dunya and akhira. Allahu Akbar!

InshAllah, these 13 minutes will change your 

entire perspective towards life,

 towards Pakistan and towards your 

duty to Rasul Allah (sm)!

 

 

InshAllah, these 13 minutes will change your entire perspective towards life, towards Pakistan and towards your duty to Rasul Allah (sm)! Our mission, passion, duty and role in the world defined for those who seek to be soldiers of Rasul Allah (sm) in these times of great test and trial for the Ummah! Share and spread and be part of this khair.


 

 

 

The real Quaid and the final solution




Our program of today on Dunya TV. The system is so filthy and corrupt that there is no chance that it will reform itself. Now either a Salllahuddin Ayubi is needed or another "Halaku Khan" will wipe the filthy political, judicial and economic system. Quaid's vision was to create an Islamic state on the model of Khilafat e Rashida. That is our destiny and mision now! Enough of deceptions and lies in the name of democracy, capitalism and dictatorships.
http://www.youtube.com/watch?v=Xji-lvQdkdg