...
Showing posts with label constitutional collapse. Show all posts
Showing posts with label constitutional collapse. Show all posts

Saturday, 10 February 2018

February 9th, 2018

This part of our interview was censored by TV channel recently. This was brutally harsh against enemies. Fortunately, we had our own copy.....here it is.

https://www.facebook.com/syedzaidzamanhamid/videos/1568797256508413/

This part of our interview was censored by TV channel recently. This was brutally harsh against enemies. Fortunately, we had our own copy.....here it is.

https://www.facebook.com/syedzaidzamanhamid/videos/1568797256508413/

February 5th, 2018

اسلامی جمہوریہ “ یا ”مغربی جمہوریت“



اسلامی جمہوریہ “ یا ”مغربی جمہوریت“

آج میں پاکستان کے مفکروں، دانشوروں، رائے ساز شخصیات ، ذمہ دار صحافیوں اور محب وطن لوگوںسے بات کرنا چاہتا ہوں۔ذرا دماغ پر زور ڈالیے اور سوچیئے کہ کیا یہ وہی پاکستان ہے کہ جس کا خواب قائداعظم اور علامہ اقبالؒ نے دیکھا تھا؟ کیا پاکستان میں وہی نظام رائج ہے کہ جو پاکستان کے بانیان کے پیش نظر تھا؟ کیا پاکستان کا موجودہ آئین اس کی تکمیل کے مقاصد کی ترجمانی کرتا ہے؟ کیا پاکستان ایک ”اسلامی جمہوریہ پاکستان“ ہے یا ”جمہوریت زدہ“ پاکستان ہے؟ یہ وہ سوالات ہیں کہ جو میں آج اہل علم و دانش اور محبان وطن سے پوچھنا چاہتا ہوں۔

پاکستان کے قیام کا مقصدصرف برصغیر میں مسلمانوں کیلئے ایک الگ ریاست کا حصول نہیں تھا کہ جہاں مسلمانوں کو آزادی اظہار کی اجازت حاصل ہو، بلکہ قائداعظم ؒ کے بقول ہمیں ایک تجربہ گاہ کی ضرورت تھی کہ جہاں ہم اسلامی اصولوں کے مطابق ایک نظام کی تشکیل دے سکیں، اور پھر وہ نظام بنا کر دنیا کو دکھائیں۔ پاکستان کو ایک اسلامی جمہوری ریاست بننا تھا۔ یہاں اس فرق کو سمجھنا ضروری ہے کہ ”اسلامی جمہوریہ“ اور موجودہ ”مغربی جمہوریت“ کا باہم کوئی موازنہ نہیں۔پاکستان میں اس وقت جمہوریت کے نام پر جو مافیا راج نافذ ہے اس کا نہ تو مغربی جمہوریت سے کوئی تعلق ہے اور نہ ہی اسلامی جمہوری نظام سے۔

مغربی جمہوریت اور اسلامی جمہوری نظام میں فرق سمجھانے کی غرض سے میں آپ کو چند مثالیں دیتا ہوں۔ ایک جمہوری ریاست میں پارلیمان کی بالادستی ہوتی ہے، اور پارلیمان دوتہائی اکثریت سے کوئی بھی قانون پاس کرواسکتی ہے۔ جیسا کہ اٹھارہویں ترمیم میں ہوا کہ جس میں وفاق کو تقریباً ریاست ہائے متحدہ میں تبدیل کردیا گیا۔ جیسا کہ قادیانیوں سے متعلق قانون پاس کیا گیا، اور جس کی تازہ مثال یہ بھی ہے کہ ایک نا اہل شخص ایک سیاسی جماعت کا سربراہ بن سکتا ہے۔ تو یہ مثالیں ان لوگوں کی عقلوں سے پردہ ہٹانے کیلئے کافی ہے کہ جو یہ راگ الاپتے ہیں کہ پاکستان کے تمام مسائل کا حل جمہوریت میں ہے ۔ یہ سبھی قوانین ایک جمہوری پارلیمان نے ہی پاس کیے ہیں۔ اور جمہوریت پارلیمان کو اجازت دیتی ہے کہ وہ دو تہائی اکثریت سے کوئی بھی غیر شرعی اور غیر اخلاقی قانون پاس کرسکتی ہے۔ تو یہ ثابت ہوا کہ مغربی جمہوریت بھی کہ جو اخلاقیات سے مکمل عاری ہے ، پاکستان کیلئے موزوں طرز نظام نہیں۔

جب ”اسلامی جمہوریہ“ کی بات کی جاتی ہے تو اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ ریاست کے بنیادی نظریے اور قوانین میں کسی بھی صورت تبدیلی نہیں کی جاسکتی۔ چاہے پوری پارلیمان آپس میں مل بھی جائے، تب بھی جمہوریت کے طرز پر بھی آپ ملک و قوم و ریاست کے بنیادی نظریات اور ستونوں کو تبدیل نہیں کرسکتے۔ مثلاً پاکستان کے آئین کی پہلی سطر یہ کہتی ہے کہ ملک میں کوئی قانون قرآن و سنت کے خلاف نہیں بنایا جاسکتا۔ قرارداد مقاصد جو ہمارے بڑوں نے 1949 ءمیں پاس کردی تھی، واضح طور پر طے کردیتی ہے کہ پاکستان ایک جمہوریت نہیں بلکہ ”اسلامی جمہوریہ“ ہوگا، یعنی یہاں اکثریت رائے سے قوانین تبدیل نہیں ہونگے، بلکہ قرآن و سنت حتمی طور پر ملک و قوم و ملت کا بنیادی ستون رہے گا، اور اس میں کوئی بھی اکثریتی پارلیمنٹ کوئی تبدیلی نہیں کرسکتی۔

اب آتے ہیں دوسرے آپشن پر۔ کئی لوگ پاکستان میں صدارتی طرز حکومت کی بات کرتے ہیں۔ وہ یہ سمجھتے ہیں کہ پاکستان کے مسائل کا حل صدارتی طرز نظام میں ہے۔ چلیں اس پر بھی بات کرکے دیکھتے ہیں۔ پیپلز پارٹی کے دور میں پاکستان میں ایک طرح کا صدارتی طرز نظام ہی رائج تھا۔ جس میں صدر زرداری کو مکمل اختیارات حاصل تھے۔ وزیراعظم کی حیثیت ایک کٹھ پتلی کی سی تھی،جس میں، وقت آنے پر ایک وزیراعظم گیلانی کو قربان کرکے دوسرا وزیراعظم راجہ پرویز اشرف کو لے آیا گیا، مگر طاقت کا دارومدار ایوان صدر کے پاس ہی تھا۔

درحقیقت پاکستان کے جتنے بھی ”جمہوریت زدہ “ سربراہان رہے ہیں وہ دراصل مطلق العنان ڈکٹیٹر ہی تھے۔ سب نے پارلیمان کو اپنے اقتدار کو بچانے کیلئے استعمال کیا، سبھی نے نظریہءضرورت کے تحت قوانین بنائے، سبھی نے اپنی جماعتوں، اپنے صوبوں اور اپنے اقتدارکے مفادات میں آئین میں تبدیلیاں کیں۔ یہ لوگ اکثریت کو استعمال کرکے جمہوریت کو ایک ہتھیار کے طور پر اپنے مفادات کے حصول کیلئے پارلیمان میں استعمال کرتے رہے۔

پاکستان پر ایک وقت ایسا بھی گزرا ہے کہ جب بھٹو”جمہوریت“ کے ذریعے منتخب ہونے والا سیاسی لیڈر، جو بیک وقت چیف مارشل لاءایڈمنسٹریٹر بھی تھا، پھر صدر بھی بن گیا اور بعد میں وزیراعظم بھی۔ پورے پاکستان کے ساتھ ایک مذاق بنایا ہوا تھا۔ کہنے کو وہ ”سیاسی“ لیڈر تھا، حقیقت میں بدترین ڈکٹیٹر! بعد میں آنے والے دور میں نواز شریف اور زرداری بھی ”منتخب شدہ“ ڈکٹیٹر ہی تھے۔اور یوں ان ”جمہوری“ حکمرانوں نے اس اسلامی جمہوریہ پاکستان، اور اس کے مقاصد کے ساتھ گھناﺅنا مذاق کیا اور جو آج تک جاری ہے۔

لیکن اب وقت آگیا ہے کہ ہم اس گلے سڑے نظام سے چھٹکارا حاصل کریں۔ اب وقت آگیا ہے کہ اس نظام سے ایک وقفہ لیں اور بیٹھ کے سوچیں کہ ہم سے کہاں غلطی ہوئی۔ کیوں ہم وہ نظام نہیں بنا سکے کہ جس کیلئے ہم نے یہ ملک حاصل کیا تھا، کیوں ہم اس راستے پر نہیں چل سکے کہ جو بانیان پاکستان نے وضع کیا تھا۔کیوں ہم اس ”شادباد“ کو اس کی ”منزل مراد“ تک نہیں لے جاسکے۔

یہ وقت ہے کہ اہل علم و دانش اور اثر ورسوخ کی حامل شخصیات پھر سے سوچیں، اور از سر نو ایک نئی راہ کا تعین کریں، تاکہ ہم اپنی آنی والی نسلوں کے ہاتھوں وہ پھلدار شجر سونپ سکیں کہ جس کی آبیاری ہماری آباءنے خون دل سے کی تھی۔
موجودہ حکومت اپنی مدت پوری کرنے کے قریب ہے۔ کچھ ہی عرصے بعد یہ حکومت اپنی مدت پوری کرلے گی اور پھر ایک نگران حکومت قائم کردی جائے گی۔ یہی وقت ہے فیصلے کا!

چیف جسٹس اور آرمی چیف دونوں ہی جمہوریت کے حامی ہیں اور وہ جمہوریت کو پھلتے پھولتے دیکھنا چاہتے ہیں۔ مگر انہیں یہ بھی سمجھنا ہوگا کہ جو نظام پاکستان میں رائج ہے وہ جمہوریت نہیں بلکہ مافیا راج ہے، اور یہ الفاظ سپریم کورٹ کے جج کے ہیںکہ جنہوں نے موجودہ حکومت کو ”سسلین مافیا“ سے تشبیہ دی ہے۔ موجودہ ”جمہوری“ نظام درحقیقت اپنے مزاج میں آمرانہ ہے، اور بدقسمتی سے قوم و ملک یہ سمجھ رہی ہے کہ اسی میں فلاح کی راہ ہے، حالانکہ یہ مکمل تباہی کا راستہ ہے۔ پاکستان کو ایک اسلامی جمہوریہ بننا تھا، نہ کہ جمہوریت زدہ۔

سادہ الفاظ میں پاکستان کو ایک نئے آئین کی ضرورت ہے کہ جس کے تحت ایک متحدہ وفاقی اسلامی جمہوریہ اور صدارتی نظام رائج ہو۔ سیاسی اثررورسوخ سے پاک ایک آزاد اور مضبوط بیوروکریسی ہو جو کہ ایک حکومت کیلئے ریڑھ کی ہڈی کا کام سرانجام دے سکے، اور مجلس عاملہ، بیوروکریسی، عدلیہ کے حدود کار متعین ہوں اور یہ سب ایک ٹیکنوکریٹک حکومت کے تحت اپنے فرائض سرانجام دے رہے ہوں۔
اس موجودہ آمرانہ مافیا جمہوریت کے تحت سیاستدانوں نے اپنے سیاسی اثر و رسوخ کے ذریعے بیوروکریسی کو تباہ کردیا ہے۔ نتیجتاً ایک کے بعد ایک ریاستی ادارہ تباہ ہوتا جارہا ہے۔

اب وقت آگیا ہے کہ ہم اس ناپاک اور پلید نظام کو خیر آباد کہہ دیں۔میں پاکستان کے تمام محب وطن اور با اثر شخصیات کو دعوت دینا چاہوںگا کہ آئیں اور مل کر بیٹھ کر سوچیں کہ کیا لاکھوں شہداءکی قربانی سے حاصل کی گئی اس پاک سرزمین کو ہم یونہی بے بسی اور لاچاری سے کمزور ہوتا اور اندرونی و بیرونی دشمنوں کے ہاتھو ں تباہ ہوتا دیکھتے رہیں گے، یا آگے بڑھ کر اس کی پھر سے از سر نو تعمیر کریں گے۔

آج ہم نے اس فکری عمل کا آغاز کیا ہے۔ اب یہ آپ پر ہے کہ اس پر غیر روایتی طریقے سے سوچ وبچار کریں۔ تاکہ اس موجودہ مافیا جمہوریت سے نجات حاصل کی جاسکے۔ یہ سینکڑوں سیاسی جماعتوں پر مشتمل آمرانہ مافیا کہ جسے جمہوریت کا نام دیا جاتا ہے اب مزید قبول نہیں کی جاسکتی۔ یہ نہ صرف غیر شرعی ہے و غیر قانونی و غیر اخلاقی ہے بلکہ اپنے اندر ایک جرم بھی ہے۔

آئیے پاکستان کی تعمیر نو اس طرز پر کریں کہ جس پر قائد کرنا چاہتے تھے۔

٭٭٭٭٭
https://www.facebook.com/syedzaidzamanhamid/photos/a.109687115752775.23119.109463862441767/1565070860214386/?type=3&theater



Kashmir can only be through sword !....



https://www.facebook.com/syedzaidzamanhamid/videos/1565196140201858/

Our azaan today... Kashmir can only be through sword !....

https://www.facebook.com/syedzaidzamanhamid/videos/1565196140201858/



Tuesday, 23 January 2018

January 22nd, 2018

  ہمارا دشمن ہمارے قانون اور آئین کے مطابق ہم پر حملے نہیں کررہا۔ فوج کا کام ملک و قوم و ملت کا دفاع اور دشمنوں کا خاتمہ ہے، چاہے وہ دشمن سرحد پہ ہوں، کراچی میں ہوں، وزیرستان میں ہوں، پارلیمان میں ہوں، جیو میں ہوں یا عدالتوں میں۔

اگر چوروں کا بنایا ہوا قانون اس عمل میں رکاوٹ ہے، تو پھر ماورائے قانون کام کریں۔


میری عمر اب تقریباً 54 برس ہونے کو آرہی ہے۔ 65 ءکی جنگ میں ہجرت بھی کی، 71 ءکا سقوط ڈھاکہ بھی دیکھا، افغان جہاد میں بھی شرکت کی اور تاریخ کا طالبعلم بھی ہوں۔
صاف کہتا ہوں کہ حالیہ سیاسی قیادت اور اشرافیہ سے زیادہ بے غیرت، بے شرم اور غدار کبھی پاکستان کی تاریخ میں نہیں آئی۔

71 ءمیں بھی غداری تھی کہ جس کی وجہ سے ملک دولخت ہوا، مگر جس درجہ بے شرمی اور حرام خوری کا مظاہرہ اب ہے، اس کی مثال ہماری تاریخ میں نہیں ہے۔خطرات 71 ءکے مقابلے میں سو گنا بڑھ چکے ہیں، ایک لاکھ سے زائد ہم شہادتیں اور زخمی دے چکے ہیں، سترہ سال سے حالت جنگ میں ہیں۔

یہ بھی ہماری تاریخ کا ایک تاریک ترین پہلو ہے کہ آج تک ملک و قوم و ملت کے دفاع میں سپریم کورٹ کا کردار یا تو سرے سے ہے ہی نہیں، یا اس قدر تکلیف دہ ہے کہ وہ پاک فوج کی پشت محفوظ کرنے کی بجائے، دشمنوں کا ہی دفاع کرتی نظر آتی ہے۔

چاہے اگرتلہ سازش کا غداری کا مقدمہ ہو، کہ جس کے نتیجے میں مشرقی پاکستان ٹوٹا، چاہے زرداری اور حسین حقانی کا میمو گیٹ ہو، نواز شریف کا ڈان سکینڈل ہو، پاناما کی معاشی دہشت گردی ہو ، یا رد الفساد میں فوجی عدالتوں کی طرف سے دی گئیں سزائے موت ۔۔۔ ہر جگہ سپریم کورٹ کا کردار شرمناک ہے۔

اس ناپاک، فحش اور پلید پارلیمان کو گالی پڑی تو کیسے بلبلائے؟ جب ملک و قوم و ملت کی آبرو لٹ رہی تھی، تو یہ ہوس کے پجاری، ننگ ملت، ننگ دین، وطن فروش، بے غیرت، دین کی آبرو کو کفار اور مشرکوں کے ہاتھ فروخت کرکے قیمتیں وصول کررہے تھے۔

پاناما کے پہلے دو دلیر ججوں کے سوائ، باقی تو پوری سپریم کورٹ اب بھی یا تو قوم کے ساتھ شرمناک مذاق کررہی ہے، یا ان کو معاملے کی سنجیدگی کا ہی احساس نہیں ہے، یا صرف اپنی انا کیلئے اور پاک فوج کو نیچا دکھانے کیلئے فوجی عدالتوں کے ہر فیصلے پر حکم امتناعی جاری کررہے ہیں۔

جس طرح ایک سزا یافتہ نااہل، خائن اور غدار سیاسی ڈاکو نے سپریم کورٹ کو اپنے جوتے کی نوک پر رکھا ہوا ہے، اور سپریم کورٹ کی جانب سے پراسرار خاموشی ہے، اور جس طرح پورا ادارہ بڑی خوشی سے اپنی رسوائی پر دائیں بائیں دیکھ رہا ہے، اس سے تو لگتا ہے کہ یہ سیاسی انارکی جان بوجھ کر پھیلائی جارہی ہے۔

عدلیہ نے خود اپنے آپ کو رسوا کیا ہے۔ کاش آج اس نازک موقع پر ملک و قوم و ملت و دین و پاک فوج کے ساتھ کھل کر کھڑے ہوتے، جرا ¿ت سے خائنوں اور غداروں پر ہاتھ ڈالتے، فوجی عدالتوں کے فیصلوں کو روکنے کے بجائے آگے بڑھ کر خوارج کو سولی چڑھاتے، اور اس ناپاک سیاست کا خاتمہ کرکے محب وطن حکومت لاتے۔

بہرحال، یہ پارلیمان تو ہے ہی چوروں اور ڈاکوﺅں کی، ملک میں ویسے ہی جنگل کا راج ہے، نہ ملک و ملت کی آبرو محفوظ ہے، نہ ننھی ”زینبوں“ کی، عزت بس محفوظ ہے تو نااہل وزیراعظم کی، سپریم کورٹ کے ججوں کی اور پلید اشرافیہ کی کہ جو بڑے بڑے قافلوں میں غریب و مسکین عوام کو روندتے ہوئے دندناتے پھررہے ہیں۔

ایسے میں پاک فوج کیا کرے؟
قانون بنانا پارلیمان کا اور اس پر عمل یقینی بنانا سپریم کورٹ کا کام ہے۔ پارلیمان کے ڈاکو جب ملک و ملت کو فروخت کرنے کا قانون بنائیں اور سپریم کورٹ خاموش رہے، تو پھر فوج کیا کرے؟؟؟
جب سپریم کورٹ عین حالت جنگ میں جاری فوجی آپریشنز پر حکم امتناعی جاری کردے، تو پھر فوج کیا کرے؟؟؟

تمام ریاستوں اور قوموں کا یہ ازلی ابدی قانون ہے کہ قانون اور آئین تبدیل کیے جاسکتے ہیں، ریاستیں نہیں تبدیل نہیں کی جاسکتیں، قومیں نہیں تباہ کروائی جاتیں۔ قوانین اور آئین قوم کی حفاظت کیلئے ہوتے ہیں، ہاتھ سے لکھے جاتے ہیں، ضرورت کے مطابق تبدیل کرلیے جاتے ہیں۔ ان کی پوجا نہیں کی جاتی!

مگر چونکہ پاکستان کا سارا سیاسی اور عدالتی نظام ہے ہی غلام، انگریز سامراج کا بنایا ہوا وہ ظالمانہ رواج ہے کہ جس مقصد غلام قوم کو غلام ہی رکھنا تھا، لہذا آج اس کو چلانے والے بھی وہی ذہنی غلام ہیں کہ جنہیں انگریز چھوڑ کر گیا تھا۔ نہ یہ آزادی کے مفہوم سے واقف ہیں، نہ ذہنی اور فکری طور پر آزاد ہیں، بلکہ حقیقت تو یہ ہے کہ آزادی کے تصور سے ہی ان کو ابکائی آنے لگتی ہے۔

اس نظام کو ٹوٹنا ہوگا۔ اس غلاظت کے ساتھ ہم مزید چند مہینے بھی نہیں چل سکتے۔ یہ بات تو ہمارے تمام دشمن بہت اچھی طرح جانتے ہیں کہ اب ان کے پاس پاکستان پر کاری ضرب لگانے کا یہی بہترین موقع ہے کہ جس وقت مکمل طور پر سیاسی، معاشی اور عدالتی انارکی ملک میں پھیل چکی ہے۔ صرف فوج ایک واحد ادارہ بچا ہے، اور وہ بھی اس وقت شدید دباﺅ میں ہے۔

ہمارا دشمن ہمارے قانون اور آئین کے مطابق ہم پر حملے نہیں کررہا۔ فوج کا کام ملک و قوم و ملت کا دفاع اور دشمنوں کا خاتمہ ہے، چاہے وہ دشمن سرحد پہ ہوں، کراچی میں ہوں، وزیرستان میں ہوں، پارلیمان میں ہوں، جیو میں ہوں یا عدالتوں میں۔
اگر چوروں کا بنایا ہوا قانون اس عمل میں رکاوٹ ہے، تو پھر ماورائے قانون کام کریں۔

ہر مہینے ہم درجنوں فوجی افسروں اور جوانوں کی قربانیاں دے رہے ہیں۔ عین اس وقت بھی بھارت کے ساتھ کشمیر میں گھمسان کی لڑائی جاری ہے۔ نہ تو کوئی جج پاکستان پر قربان ہورہا ہے، نہ کوئی سیاستدان، نہ کوئی میڈیا والا، نہ کوئی سینیٹر، نہ کوئی وزیراعظم، نہ کوئی صدر۔ قربان ہورہے ہیں تو پاک فوج میں ہمارے ہیرے جیسے بیٹے!!!

حقیقت یہ ہے کہ اس وقت پاکستان میں نہ کوئی حکومت ہے، نہ کوئی عدالت ہے، نہ کوئی انصاف ہے، نہ کوئی نظام ہے، نہ امن ہے۔ اگر ہے تو صرف جمہوریت ہے، کہ جہاں حرام زادے اور حرام خور ملک و ملت و دین کی آبرو فروخت کرکے اس پاک سرزمین کو صلیبیوں اور مشرکوں کے ہاتھ سستی قیمت پر بیچ رہے ہیں۔
سپہ سالار، آپ دیکھ رہے ہیں ناں یہ سب کچھ ؟

https://www.facebook.com/syedzaidzamanhamid/posts/1551589678229171

Friday, 17 November 2017

July 29th, 2017

Allahu Akbar !!! Izzat and zillet is from Allah (swt)....now these arrogant enemies of Pak Sarzameen are being humiliated....


Allahu Akbar !!!
Izzat and zillet is from Allah (swt)....now these arrogant enemies of Pak Sarzameen are being humiliated....they still dont understand that now they are now under the azaab of Allah (swt)...no one can save them from Humiliation....
Army has not humiliated them. SC has not humiliated them. IK has NOT humiliated them.....they are being humiliated by Allah (swt) Himself.
Now, its Zardari's turn also...Mir shakeel also, Altaf also....Fazlu also....and all the ghaddars of this Medina e Sani...process has begun....Allahu Akbar...

https://www.facebook.com/syedzaidzamanhamid/photos/a.109687115752775.23119.109463862441767/1385464041508403/?type=3&theater




 پٹواریوں کو اب بھی یہ بات سمجھ نہیں آرہی کہ یہ اللہ کی گرفت میں آچکے ہیں۔ نہ سپریم کورٹ نے ان کو تباہ کیا نہ فوج نے، ان پر اللہ کی مار ہے


پٹواریوں کو اب بھی یہ بات سمجھ نہیں آرہی کہ یہ اللہ کی گرفت میں آچکے ہیں۔ نہ سپریم کورٹ نے ان کو تباہ کیا نہ فوج نے، ان پر اللہ کی مار ہے
کمال تکبر ہے انکا، ابھی تک انکا توبہ و استغفار اور اللہ کی طرف رجوع کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔ صاف نظر آتا ہے کہ یہ اللہ کے عذاب میں ہیں۔
کہتے ہیں کہ ہم کو اس تنخواہ پر نا اہل کیا گیا کہ جو ہم نے لی ہی نہیں۔ بے غیرت حرام خورو، تھوڑا انتظار کرو، ابھی تو گرفتاریاں بھی ہونگی
ان کو اس بات پر نا اہل کیا گیا کہ پورا ٹبر ہی جھوٹا اور چور ہے۔ دو ججوں نے دو ماہ پہلے کردیا تھا، تین نے اب کردیا ہے، اب مقدمے بنیں گے۔
جب انسان اللہ کی طرف سے آ زمائش میں آتا ہے تو عاجز ہو کر استغفار کرتا ہے۔ جب اللہ کا عذاب ہوتا ہے تو انسان ان کی طرح اور متکبر ہوجاتا ہے
ابھی تو یہ عہدے سے اتارے گئے ہیں، گاڑی سے جھنڈا اتارا گیا ہے، ان شاءاللہ، جلد ہی جیل بھی جائیں گے اور جائیدادیں بھی ضبط ہونگی۔
جتنے بڑے یہ ڈکیت ہیں، اتنے ہی بڑے ڈکیت پیپلز پارٹی، ایم کیو ایم اور دیگر جماعتوں میں ہیں۔ رتی برابر فرق نہیں، ننگ ملت، ننگ قوم، غدار وطن
اس سے زیادہ شرمناک مذاق قوم کے ساتھ نہیں ہوسکتا کہ یہی نا اہل ڈاکو پیچھے رہ کر نئی حکومت بنائے۔ جہنم میں جائے یہ پارلیمانی جمہوریت۔
فوج اور سپریم کورٹ کو کام مکمل کرنا چاہیے۔ ان ناپاک و خائن سیاسی جماعتوں کو کھلی چھوٹ نہیں دی جاسکتی۔ آزاد قومیں لکیر کی فقیر نہیں ہوتیں۔
سپریم کورٹ نے ابھی کام مکمل نہیں کیا۔ یہ سیاسی حرام خور اپنی مرضی کا صدر بھی لانا چاہتے ہیں، ان کو روکنا ضروری ہے۔
بیشک ایک نیا مضبوط نیا صدر لانا ضروری ہے، مگر ان ڈاکو سیاسی جماعتوں کے ذریعے نہیں۔ یہ نظریہ پاکستان، قرارداد مقاصد کے ساتھ مذاق ہوگا۔
آپ نے کبھی سوچا کہ کیوں برطانیہ کا لکھا ہوا آئین نہیں ہے؟ اس لیے کہ وہ ایک آزاد قوم ہیں، اور حالات کے مطابق اپنی مرضی کے فیصلے کرتے ہیں
پاکستان کا آئین اور قانون قرآن و سنت ہے، یہ ہمارے آئین میں بھی لکھا ہے، اور تعمیر پاکستان کی روح اور مقصد بھی ہے۔
اگر آئین کے مطابق خائن اور ڈاکو ملک کی قیادت سنبھالتے ہیں تو پھر سپریم کورٹ کو یہ فیصلہ کرنا چاہیے کہ یہ قانون قرآن و سنت سے متصادم ہے ۔
اگر سپریم کورٹ اور فوج نے جرات کا مظاہرہ نہ کیا تو یہ ڈاکو اسی آئین و قانون کا سہارا لیتے ہوئے، اپنی دولت کے زور پر ، بچ نکلیں گے۔
پاکستان کو فوری طور پر ایک مضبوط صدر، ایک محب وطن عبوری حکومت اور سخت احتساب کی ضرورت ہے۔ جس طرح چاہیں کریں، راہ فرار نہ اختیار کریں۔
یہ ملک اللہ واسکے رسولﷺ کا ہے، شہداءکی امانت،امت کی آخری چٹان ہے۔ ہم اسے ناپاک سیاستدانوں و بوسیدہ آئین کے حوالے کرکے تباہ نہیں کرواسکتے

 https://www.facebook.com/syedzaidzamanhamid/posts/1385620481492759



Free nations do not follow decades old laws written by few lawyers...they make their own laws as the need arise...thats why they are free and rule the world... 



Free nations do not follow decades old laws written by few lawyers...they make their own laws as the need arise...thats why they are free and rule the world... Our laws are written by slaves to keep us slaves...
Quran and Sunnah is enough Constitution for us...we did not create Pakistan for a man made Constitution...we need izzat which only justice based on Quran and sunnah can give us....

https://www.facebook.com/syedzaidzamanhamid/photos/a.109687115752775.23119.109463862441767/1385747848146689/?type=3


Tuesday, 14 November 2017

July 22nd, 2017

We stand at a decisive moment now...the constitution has failed...if we follow constitution, we will have to allow Zardari/NS to make the next govt...can we allow this ? Never



We stand at a decisive moment now...the constitution has failed...if we follow constitution, we will have to allow Zardari/NS to make the next govt...can we allow this ? Never
We ask SC & Army to be brave and resolve this crisis....

https://www.facebook.com/syedzaidzamanhamid/posts/1379075355480605

Friday, 27 June 2014

June 27th, 2014

InshAllah, friday to Sunday, watch Debate on DIN News -- entire axis of political developments, war in North Waziristan and the Iraqi and regional 4th and 5th GW is being discussed.

 

 

InshAllah, friday to Sunday, watch Debate on DIN News.

entire axis of political developments, war in North Waziristan and the Iraqi and regional 4th and 5th GW is being discussed.

we will explain the statement of ISPR on Haqqani network :-) take it easy -- the reality is different from what is being said.

khair inshAllah -- in the meantime, alhamdolillah, our tigers are hunting the dogs of hell !! it is the army which is keeping our Medina e Sani together despite the betrayal within at all levels...
https://www.facebook.com/syedzaidzamanhamid/photos/a.109687115752775.23119.109463862441767/671468056241342/?type=1



Is Pakistan facing a constitutional collapse ?? Can Imran and Dr. TUQ deliver ?? The Debate Friday Night DIN News



 http://vimeo.com/99350920

Team, listen to this carefully. Management of DIN News has changed the format of the program a little to add some spice into it and they have asked the anchor to play the role of devil's advocate and ask difficult questions which normally secular, liberals or ignorants ask. So please DO NOT be angry at the anchor. He is just doing his duty as asked to do. He is now part of our team and learning fast as well. focus on what I reply to the questions and the solutions given. DO NOT lose your focus on getting angry at the questions of the anchor :-) this is all part of the new format of making the program more interactive and provides answers to stupid arguments given by the liberal seculars. so be kind on azeem :-)

This is an important program. Listen to it carefully. all three programs this week are equally critical.
https://www.facebook.com/syedzaidzamanhamid/posts/671719499549531