...
Showing posts with label Arabic. Show all posts
Showing posts with label Arabic. Show all posts

Saturday, 12 December 2020

December 10th, 2020

Alhamdulillah this is our book on fall of Dhaka in Arabic language...

for the first time in history Pakistan narrative is being presented to the Arab Muslim world at a time when Indians are trying to displace Pakistan in the Middle East...

 https://drive.google.com/file/d/1-KE9S53FQnWKzbCnoOXXy0k3SU7Qfpe3/view?fbclid=IwAR2Ji5z3VQPXFSWm6d2EnghzptsGsmsfg1gnoMgDl0K3S6JMWDTPtY35z-s

Alhamdulillah this is our book on fall of Dhaka in Arabic language...

for the first time in history Pakistan narrative is being presented to the Arab Muslim world at a time when Indians are trying to displace Pakistan in the Middle East...

It is a critical book and must be circulated within all arab contacts.


Thursday, 7 November 2019

November 7th, 2019

Zaid Hamid: Alhamdolillah, our first Arabic subtitled video on Adab and Ishq Rasul (sm)...a gift on this Milad Shareef ..



https://www.youtube.com/watch?v=I_x9-eRoMxI&feature=youtu.be&fbclid=IwAR1JdWaS8fgaRPFRrN5N1ttV_KZYvC0jgAdO5avkegZgU6vmeJnt79D4P1k

Zaid Hamid: Alhamdolillah, our first Arabic subtitled video on Adab and Ishq Rasul (sm)...a gift on this Milad Shareef ..
It's not just on milad Shareef but an extremely powerful lecture on importance of Pakistan in the Muslim Ummah and it's role in Ummah's future.
It's important to reach out to Muslim world to bring them closer to Pakistan. Have no hope from Arab rulers but people are sensitive to such emotional factual spiritual history and narrative.

https://www.facebook.com/syedzaidzamanhamid/posts/2496310327090430?__xts__%5B0%5D=68.ARAGb0Nc_Uhy31uCB5ENZVAjFZJupHBTd45nfB68wrjnYzLkssMN-zX0IzbeWzOEbgTlHp6XMYV_W3S-yzuSnliYBskRdmiNQvUBX-K3xh9_xpt9qjKCMmIDWp_yoCMIa2-UNw2kROFviQbw1smG_VbDSjpqEZH5pRoa-UK3K8Uu38lhjZlpkYbgakWayabWRa5WCV8M3JXZAXmrpeic_t_6DyfLuygdKSeFBE4y8dYtc3dDjl6hHvWrmtuQeQrKvthVYw9ZZGUFHGTmOvOFI17dN6QOKueP-U7HqTSpvxhk8eS9abNCvH9DwZ79LS73BG1S89VdAMp_T8K-7yDyVEdYmA&__tn__=-R




 علامہ اقبالؒ نے بہت واضح طور پر فرمایا کہ اپنی اسلام دشمنی میں دیوبند وہی کردار ادا کررہے ہیں کہ جو قادیانی امت رسولﷺ کے خلاف ادا کررہے ہیں


ایں چہ بوالعجبی است

تحریر: سید زید زمان حامد

کیا اس شخص سے زیادہ کوئی بدنصیب اور ظالم ہوسکتا ہے کہ سیدی رسول اللہﷺ ہجرت فرمانا چاہیں اور وہ سیدیﷺ کی راہ میں رکاوٹیں ڈالے، اور لوگوں کو سیدیﷺ کے ساتھ ہجرت سے روکے اور یہ کہے کہ مشرکوں اور مسلمانوں کو مکے میں ہی اکٹھے رہنا چاہیے؟
کیا اس شخص سے زیادہ کوئی بدنصیب، گستاخ اور کافر ہوسکتا ہے کہ جو غزوئہ بدر کے موقع پر ابوجہل کے ساتھ کھڑا ہو اور سیدی رسول اللہﷺ کے لشکر اور مدینہ منورہ کی ریاست کے خلاف جنگ کرے؟

اب ذرا دل تھام کر سنیں۔۔۔

اوپر بیان کردہ دونوں ظلم عظیم اور گنائہ کبیرہ ہندوستان میں حسین احمد مدنی اور دارالعلوم دیوبند نے کیے اور کررہے ہیں۔ جب سیدی رسول اللہﷺ نے یہ فیصلہ فرمالیا کہ مدینہءثانی پاکستان نے قائم ہونا ہے اور مسلمانوں کو اس کی جانب ہجرت کرنی ہے تو سیدی رسول اللہﷺ کے حکم کو جاننے کے باوجو د حسین احمد مدنی اور دیوبند نے مشرکوں کا ساتھ دینے کا فیصلہ کیا، مسلمانوں کو ہجرت سے روکا، اس بات پر اصرار کرتے رہے کہ مشرکوں کے ساتھ متحدہ ہندوستان میں رہیں،اور پھر اس دن لیکر آج تک مدینہءثانی پاکستان کے خلاف تلواریں نکال کر جنگ آزما ہیں۔

ذرا ایک لمحے کیلئے رک کر سوچیں کوئی تو وجہ تھی کہ درویش وقت اور موذن امت حضرت علامہ محمد اقبالؒ نے حسین احمد مدنی اور دیوبند کو ”ابو لہب“ کہا تھا۔

عجم ہنوز نداد رموزِِ دیں ورنہ
ز دیوبند حسین احمد! ایں چہ بو العجبی است
سرود برسر منبر کہ ملت از وطن است
چہ بے خبر ز مقام محمد عربی است
بمصطفیٰ برساں خویش راہ کہ دیں ہمہ اوست
اگر بہ او نرسیدی، تمام بو لہبی است

ایک اور مقام پر علامہ اقبالؒ نے بہت واضح طور پر فرمایا کہ اپنی اسلام دشمنی میں دیوبند وہی کردار ادا کررہے ہیں کہ جو قادیانی امت رسولﷺ کے خلاف ادا کررہے ہیں۔

”قادیان اور دیوبند اگرچہ ایک دوسرے کی ضد ہیں، لیکن دونوں کا سرچشمہ ایک ہے، اور دونوں اس تحریک کی پیدوار ہیں جسے عرف عام میں وہابیت کہا جاتا ہے“۔ علامہ اقبال۔ ( کتاب: اقبال کے حضور از سید نذیر نیازی)

جب بھی ہم دیوبند کی پاکستان دشمنی اور مشرک دوستی کی بات کرتے ہیں تو فوراً ہی اندھے گونگے اور بہرے ہم پر فرقہ واریت پھیلانے کا الزام لگانے لگتے ہیں۔ کچھ باتیں ذرا اچھی طرح سمجھ لیں۔

-1 دیوبند اور بریلی ہندوستان میں قائم دو مدرسوں کے نام ہیں۔

-2 دیوبند کسی مسلک یا فرقے کا نام نہیں بلکہ سنی حنفی مسلک کے ایک مدرسے کا نام ہے۔

-3 بریلوی بھی مسلک کے اعتبار سے سنی حنفی ہیں۔ بلکہ پاکستان کی زیادہ تر اکثریت سنی اور حنفی ہے۔

-4 ہم صرف دیوبند کی سیاسی اور عسکری پالیسیوں کے خلاف بیان دے رہے ہیں۔ ہم نے کبھی ان کے مسلک سنی حنفی یا عقیدے کے خلاف کبھی بات نہیں کی۔

-5 دیوبندیوں کے سیاسی جرائم کو بیان کرنے کو فرقہ واریت کہنا ایسی ہی جہالت اور بے شرمی ہے کہ جیسے ایم کیو ایم کے جرائم کو بیان کرنے کو لسانیت کہا جائے۔

-6 جب ہم مدرسہءدیوبند کی اسلام دشمنی بیان کرتے ہیں تو جاہلوں کی طرف سے فوراً ہی یہ اعتراض بھی ہوتا ہے کہ مولانا اشرف علی تھانوی ، علامہ شبیر احمد عثمانی بھی تو دیوبندی تھے اور انہوں نے قائداعظم کا ساتھ دیا تھا۔ حقیقت یہ ہے کہ دونوں مولانا اشرف علی تھانوی اور علامہ شبیر احمد عثمانی نے مدرسہءدیوبند سے مکمل طور پر استعفیٰ دے کر اپنے آپ کو الگ کرلیا تھا۔ اس کے نتیجے میں ان دونوں حضرات کو حسین احمد مدنی اور دیوبند کی جانب سے شدید مزاحمت اور ذلت و رسوائی کا بھی سامنا کرنا پڑا۔ علامہ شبیر احمد عثمانی نے دیوبند کی سیاسی تنظیم ”جمعیت علمائے ہند“ کے مقابلے میں اپنی ایک نئی مذہبی سیاسی جماعت ”جمعیت علمائے اسلام“ بنائی، اور پھر اس نئی جماعت کے ساتھ قائداعظم کی حمایت میں کھڑے ہوگئے۔ علامہ شبیر احمد عثمانی کو دیوبندی کہنا اتنا ہی شرمناک بات ہے کہ جیسے کوئی قائداعظم کو کانگریسی کہے، کہ قائداعظم تقریباً سولہ برس تک کانگریس کے رکن بھی رہے تھے۔ لہذا یہ بالکل واضح کرلیں کہ جب پاکستان کے معاملے پر دیوبند میں اختلاف ہوا تو مولانا اشرف علی تھانوی اور علامہ شبیر احمد عثمانی دونوں ہی دیوبند سے الگ ہو کر تحریک پاکستان میں شامل ہوگئے تھے۔ دیوبند اس وقت بھی پاکستان کا مخالف تھا اور آج بھی مخالف ہے۔ پاکستان بننے کے بعد علامہ شبیر احمد عثمانی کی جماعت جمعیت علمائے اسلام کو مفتی محمود جیسے کانگریسی مولویوں نے اغواءکرلیا تھا۔ اور آج تک یہی صورتحال ہے۔

مفتی محمود پہلے جمعیت علمائے ہند کے کارکن تھے اور پھر انہوں نے جمعیت علمائے اسلام پر قبضہ کرلیا۔ سرحدی گاندھی عبدالغفار خان کے ساتھ ملکر تحریک پاکستان کے خلاف زور لگایا۔ سرحد ریفرنڈم میں بھی اس شخص نے پاکستان کے خلاف جدوجہد کی۔ لیکن جب خان عبدالقیوم خان سرحد کے وزیراعلی بنےٰ تو مفتی محمود سرحد سے بھاگ کر ملتان آگئے۔ ان کے اس معروف فتوے سے آپ ان کی نیت کا اندازہ بخوبی لگا سکتے ہیں جو انہوں نے 1944 ءمیں دیا تھا: ”دنیا کی تمام قوموں سے رشتے ناطے جائز ہیں، لیکن کسی مسلم لیگی کو لڑکی دینا ناجائز ہے“۔ (اخبار آزاد، 5 اگست 1944)۔ اسی مفتی محمود نے پاکستان کی پارلیمنٹ میں کھڑے ہو کر کہا تھا کہ ”شکر ہے کہ ہم پاکستان کے بنانے کے گناہ میں شامل نہیں تھے“۔ آج علامہ شبیر احمد عثمانی کی جمعیت علمائے اسلام کانگریسی ملاﺅں کے قبضے میں ہے کہ جس کی سربراہی آج مفتی محمود کا بیٹا فضل الرحمن کررہا ہے۔ پاکستان کے دیوبندیوں کی سیاسی قیادت، کہ جو آج پاکستان دشمن ہے، انہی ناپاک وجودوں کے ہاتھ میں ہے۔ علامہ شبیر احمد عثمانی اور ان کے طالب علم آنے والے وقتوں میں سیاست سے کنارہ کش ہو کر صرف دینی کاموں میں ہی مشغول ہوگئے۔ لہذا اب یہ بات بالکل واضح ہوجانی چاہیے کہ دیوبند کا پاکستان بنانے میں کردار تو دور کی بات، یہ تو بابا اقبالؒ کی زبان کے وقت کے ”ابولہب“ ہیں۔

”انگریز دشمنی سے یہ کہاں لازم ہے آتا ہے کہ ہم اسلام دشمنی اختیار کرلیں۔ یہ کیا انگریز دشمنی ہے جس سے اسلام کو ضعف پہنچے۔ ارباب دیوبند کو سمجھنا چاہیے کہ اس دشمنی میں وہ نادانستہ اس راستے پر چل رہے ہیں جو انگریزوں کا تجویز کردہ ہے۔“ علامہ اقبال ۔(کتاب: اقبال کے حضور از سید نذیر نیازی)

-7 دیوبندی حضرات یہ بات بھی کرتے ہیں کہ یہ درست ہے کہ ہم نے پاکستان بننے کی مخالفت کی کہ اس بات پر اختلاف ہوسکتا ہے کہ مسجد بنائی جائے یا نہیں، لیکن اگر ایک دفعہ مسجد بن جائے تو پھر اختلاف ختم ہوجاتا ہے اور پھر سب ملکر اس میں نماز پڑھتے ہیں۔ دیوبندی علماءکا یہ اعتراض بھی صرف جھوٹ اور خرافات پر مبنی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ہندو مشرکوں کی طرح دیوبند نے بھی آج تک پاکستان کو قبول نہیں کیا، ہندو مشرکوں کے ساتھ ملکر پاکستان کو تباہ کرنے کیلئے باقاعدہ جنگ کررہے ہیں، اور ان کی بدنصیبی کہ آج کے دور کے خوارج بھی انہی کی صفوں سے برآمدہوئے ہیں۔ دیوبند کی پاکستان میں نمائندگی جمعیت علمائے اسلام اور فضل الرحمن کرتا ہے۔ یہی دیوبند کے اصل نمائندہ ہیں اور انہی کا عمل دیوبند کی نیتوں اور اعمال پر حجت سمجھا جائے گا۔ فضل الرحمن کا پاکستان کو تباہ کرنے میں جو کردار ہے اور جہاد کشمیر کو فروخت کرنے میں جو اس کا ہاتھ ہے، اس کا بڑا تعلق اس کی اپنی ذلالت سے بھی ہے مگر اس کی اصل وجہ وہ حسین احمد مدنی کی ”ابولہبی“ سوچ ہے کہ جس سے متاثر ہو کر فضل الرحمن کے باپ نے یہ کہا تھا کہ شکر ہے کہ ہم پاکستان بنانے کے گناہ میں شامل نہیں تھے۔

-8 آج پاکستان کی ریاست کے خلاف جو سب سے خوفناک مذہبی جنگ لڑی جارہی ہے وہ دیوبندی سوچ اور اس کے خوارج کی جانب سے ہے۔ نہ اس بات سے انکار ممکن ہے نہ مزید کسی ثبوت کی ضرورت، صرف جہالت، بے شرمی اور ڈھٹائی چاہیے اس حقیقت سے انکار کرنے کیلئے۔

-9 برصغیر پاک و ہند کی تاریخ میں، تحریک پاکستان میں، اور اب پاکستان کو نقصان پہنچانے میں دارالعلوم دیوبند اور حسین احمد مدنی کی سوچ کا وہی کردار ہے کہ جو کسی ایسے بدنصیب بے غیرت کا ہو کہ جو سیدی رسول اللہﷺ کو ہجرت سے روکے اور غزوئہ بدر میں ابوجہل کے ساتھ کھڑا ہو۔ اگر دارالعلوم دیوبند پاکستان کی مخالفت نہ کرتا تو مزید لاکھوں مسلمانوں ہجرت کرکے پاکستان کی محفوظ پناہ میں پہنچ جاتے۔ آج ہندوستان میں پندرہ کروڑ مسلمانوں کا یہ حال ہے کہ ان کی روزانہ کی آمدنی 20 روپے روز سے بھی کم ہے۔ مسلمانوں حال کا دلتوں اور شودروں سے زیادہ ذلیل ہوچکا ہے۔ بالکل کیڑے مکوڑوں کی طرح غلاظتوں کے ڈھیروں میں مسلمان اپنی زندگیاں گزارنے پر مجبور ہیں اور یہ سب کچھ ان کے ساتھ اس لیے ہورہا ہے کہ حسین احمد مدنی نے عین ہجرت کے موقع پر، عین میدان جنگ میں، امت رسولﷺ کے ساتھ ایسی خیانت کی کہ تاریخ اب اس کا نام میر جعفر اور میر صادق کے ساتھ نفرت کے ساتھ لیتی رہے گی۔
یہ بات کتابوں سے ثابت شدہ ہے کہ علامہ شبیر احمد عثمانی کو سیدی رسول اللہﷺ کی زیارت نصیب ہوئی تھی اور اس کے بعد ہی علامہ عثمانی دیوبند سے مستعفی ہو کر قائد کے خادم بن گئے تھے۔ یہ بات بھی تاریخ سے ثابت شدہ ہے کہ حسین احمد مدنی کو روحانی طور پر یہ بات بتا دی گئی تھی کہ پاکستان کے قیام کا فیصلہ سیدی رسول اللہﷺ فرماچکے ہیں، مگر اس کے باوجود بھی اس بدنصیب و بدبخت نے سیدی رسول اللہﷺ کے فیصلے کے خلاف کھڑے ہو کر جنگ کرنے کا فیصلہ کیا۔

”حسین احمد مدنی نے قیام پاکستان سے قبل ایک رات دو بجے مولانا رشید احمد صدیقی اور انسپکٹر مدارس چوہدری محمد مصطفی کو طلب فرمایا۔ دونوں فوراً حاضر ہوئے تو ارشاد فرمایا کہ بھائی اصحاب باطنی نے ہندوستان کی تقسیم کا فیصلہ کردیا ہے اور پنجاب اور بنگال کو بھی تقسیم کردیا گیا ہے۔ ان دونوں نے سن کر کہا کہ ہم جو تقسیم کے مخالف ہیں اب کیا کریں۔ اس پر حضرت مدنی نے فرمایا کہ یہ فیصلہ تقدیر کا ہے جب کہ ہم جس بات کو حق سمجھتے ہیں اس کی تدبیر میں لگے رہیں گے۔“ ( کتاب: سیرت النبی بعد از وصال النبیﷺ از عبدالمجید صدیقی، حصہ چہارم، صفحہ 298-299 )

یہ ایسا گناہ ہے کہ جس کا کوئی کفارہ نہیں ہے، کوئی توبہ نہیں ہے، کوئی امید نہیں ہے کہ سیدی رسول اللہﷺ کی سفارش نصیب ہوسکے۔ عین میدان جنگ میں کہ جب امت رسول ﷺ اپنی تاریخ کی سب سے بڑی جنگ لڑ کر، سب سے زیادہ قربانیاں دے کر، مدینہءثانی کو قائم کررہی تھی، عین اس وقت دیوبند اور اس کے بڑوں نے امت رسولﷺ کی پشت میں خنجر گھونپ کر مشرکین کا ساتھ دیا۔ اب یہ جتنی مرضی توبہ کرنے کا دعویٰ کرتے رہیں، توبہ کے دروازے ان پر بند ہیں۔

ان کی بدنصیبی تو یہ ہے کہ آج مدینہءثانی پاکستان بننے کے ستر سال بعد بھی یہ اپنی غلطی تسلیم کرنے کیلئے تیار نہیں ہیں۔ کسی بھی جماعت یا مسلک کی نمائندگی ان کے علماءکرتے ہیں اور دیوبند کی جمعیت علمائے اسلام کا پاکستان دشمنی میں، بھارت کی حمایت میں، اور خوارج کی پشت پناہی میں کیا کردار ہے اور اس کو اب مزید بیان کرنے کی حاجت نہیں ہے، انا للہ و انا الیہ راجعون۔

آخر میں پاکستان میں ان مسلمان نوجونوں کو ایک اہم نصیحت کرتے چلیں۔ جیسا کہ ہم نے کہا کہ دیوبند اور بریلوی دونوں ہی سنی حنفی مدارس ہیں، دونوں ہی ایک جیسی کتابیں پڑھاتے ہیں۔ دیوبندی یا بریلوی مدرسے میں سنی حنفی مکتبہءفکر کی تعلیم حاصل کرنے کا یہ مطلب نہیں ہے کہ آپ دیوبند کی سیاسی اور عسکری پالیسی کو بھی اختیار کرلیں۔ پاکستان میں آج کسی بھی دینی طالب علم میں نہ دیوبند دیکھا ہے نہ بریلی۔ اپنے آپ کو دیوبندی اور بریلوی کہنا اتنا ہی احمقانہ ہے کہ جیسے ایم کیو ایم کے پاکستان میں پیدا ہوئے لڑکے اپنے آپ کو مہاجر کہلائیں۔ مہاجر وہ ہوتا ہے کہ جس نے ہجرت کی ہو۔ اصل میں دیوبندی وہ ہوگا کہ جو دیوبند میں پڑھا ہوگا اور اسکے سیاسی و عسکری نظریات سے متفق ہوگا۔ پاکستان میں پڑھنے والے تمام طالب علم سنی اور حنفی ہیں اور ان کو ہر حال میں دیوبند کی سیاسی اور عسکری دہشت گردی سے اپنے آپ کو دور رکھنا ہوگا، ورنہ وہ اسی صف میں کھڑے ہونگے کہ جہاں حسین احمد مدنی جیسے علمائے سُو کھڑے ہیں، دنیا میں بھی جن کا نام کانگریسی مولوی اور آخرت میں بھی یہ نہرو اور گاندھی کے ساتھ ہی اٹھائے جائیں گے۔

اللہ ہمیں ایسے دردناک انجام سے محفوظ رکھے۔ اللہ پاک سرزمین کی حفاظت فرمائے، اللہ پاکستان کو فتنہءخوارج سے بچائے، اللہ ہمیں غزوئہ ہند کا مجاہد بنائے، اللہ پاک فوج کی حفاظت فرمائے اور سبز ہلالی پرچم کی آبرو محفوظ رکھے۔

لبیک یا سیدی یا رسول اللہﷺ
لبیک غزﺅہ ہند
٭٭٭٭٭


https://www.facebook.com/syedzaidzamanhamid/posts/2497483146973148?__tn__=K-R

Monday, 13 May 2019

May 7th, 2019


أخبر النبي صلى الله عليه وسلم أمته بالفتوحات وأعلمهم إلى أين ستصل وتمتد أمته، وهذا من عظيم معجزاته صلى الله عليه وسلم وهو إخباره بأمور مستقبلية بل وحدث أمته بما سوف يحصل إلى يوم القيامة وكأنه يرى ذلك رأي العين صلى الله عليه وسلم


أخبر النبي صلى الله عليه وسلم أمته بالفتوحات وأعلمهم إلى أين ستصل وتمتد أمته، وهذا من عظيم معجزاته صلى الله عليه وسلم وهو إخباره بأمور مستقبلية بل وحدث أمته بما سوف يحصل إلى يوم القيامة وكأنه يرى ذلك رأي العين صلى الله عليه وسلم.
في حادثة الهجرة النبوية وفي حين مرافقة سيدنا أبي بكر الصديق رضي الله عنه لنبينا الكريم أثناء خروجهم من مكة والكفار يلاحقونهم ويقتفون أثرهم، في هذا الوقت يخبر النبي الكريم صلى الله عليه وسلم لسيدنا سراقة رضي الله عنه خبرا عجيبا وجميلا، وذلك أنه قريبا سوف يهزم المسلمون الفرس وهو ما تحقق وحصل بالفعل.
أخبرنا القرآن الكريم بالحرب بين الفرس والروم بل وأعلمنا بأن الروم ستنتصر على الفرس بعد هزيمة الفرس لهم، وهو ما راهن عليه سيدنا أبا بكر الصديق رضي الله عنه كفار مكة متقينا بصدق موعود الله.
ومن معجزات النبي صلى الله عليه وسلم في هذا الجانب هو إخباره عن فتح القسطنطينية في الحديث المشهور (لتفتحن القسطنطينية، فلنعم الأمير أميرها، ولنعم الجيش ذلك الجيش).
وفي هذا الجانب أيضا تحدث وأخبر النبي الكريم صلى الله عليه وسلم عن فتح الهند، أعطى النبي عليه الصلاة والسلام بشارات منها حملة على السند والتي تتبعها حملة على الهند تقودها جيوش االمسلمين، .تبعا لذلك قال النبي عليه الصلاة والسلام أن جيوشا غير عربية مسلمة ستقود حملة أخرى على الهند في آخر الزمان، يلقون فيها ملوك الهند مغلولين في السلاسل،وتنصرف الجيوش من هناك إلى الشام حيث يلتقون بعيسى عليه الصلاة والسلام.حين سمع أبو هريرة رضي الله عنه ذلك سأل النبي عليه الصلاة والسلام متلهّفا: يا رسول الله عليك الصلاة والسلام! هل لي أن أخبر عيسى عليه السلام أني من صحابتك؟ فتبسم الرسول عليه الصلاة والسلام وضحك ثم قال:هيهات،هيهات!
عن أبي هريرة رضي الله عنه قال : قال رسول الله صلى الله عليه وسلم - وذكر الهند - فقال : ( ليغزون الهند لكم جيش يفتح الله عليهم، حتى يأتوا بملوكهم مغللين بالسلاسل، يغفر الله ذنوبهم، فينصرفون حين ينصرفون فيجدون ابن مريم بالشام ) قال أبو هريرة : إن أنا أدركت تلك الغزوة بعت كل طارف لي وتالد وغزوتها، فإذا فتح الله علينا وانصرفنا فأنا أبو هريرة المحرر، يقدم الشام فيجد فيها عيسى بن مريم، فلأحرصن أن أدنوا منه فأخبره أني قد صحبتك يا رسول الله، قال : فتبسم رسول الله صلى الله عليه وسلم وضحك ثم قال : هيهات ، هيهات.
هذا الحديث يخبرنا عن أحداث آخر الزمان وعن نزول سيدنا عيسى عليه السلام و ظهور الإمام المهدي، ففي ما يتعلق بالهند فقد أخبرنا رسول الله صلى الله عليه وسلم ببأن المسلمين سيغزون السند وبعدها يغزون الهند، وهذا يوضح أن الصدام مع مشركي الهند هو أمر لا مفر منه، وجميع هذه الأحاديث هي مهمة لتوضيح غزوة الهند ، بل وتم استعمال مفردة الغزوة وهو ما يعني أن المسلمين سوف يقاتلون المشركين.
ما سبق يوضح ويبين الفتوحات الإسلامية ابتداء من محمد بن القاسم الثقفي رحمه الله وحتى السلطان محمود غزنوي رحمه الله وحملاته، ومن ثم السلطان محمد غوري رحمه الله وحرب راج وأيضا أحمد شاه عبدالي رحمه الله وانتهاء بالجيش الباكستاني والذي سوف يحارب الهند في المعركة الفاصلة.
كل ما سبق هو جزء من غزوة الهند وبهذا الخصوص أيضا يخبرنا النبي الكريم صلى الله عليه وسلم ببشرى للجيش المسلم ابتداء من محمد بن القاسم الثقفي رحمه الله وانتهاء بالجيش الباكستاني حيث يتبقى فقط أن الجيش المسلم (الجيش الباكستاني) سوف يفتح الهند ويضع ملوكها و حكامها في السلاسل، وهذا الجيش سوف يذهب لملاقاة سيدنا عيسى عليه السلام في الشام، وتخبر الأحاديث أيضا بأن هذا الجيش سوف يكون جزء من جيش الإمام المهدي.
عَنْ ثَوْبَانَ مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : (عِصَابَتَانِ مِنْ أُمَّتِي أَحْرَزَهُمَا اللَّهُ مِنَ النَّارِ : عِصَابَةٌ تَغْزُو الْهِنْدَ، وَعِصَابَةٌ تَكُونُ مَعَ عِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ عَلَيْهِمَا السَّلَامُ )


https://www.facebook.com/syedzaidzamanhamid/photos/a.1643903065664498/2153855858002547/?type=3&theater



 اے گرفتار ابوبکرؓ و علیؓ، ہوشیار باش!





اے گرفتار ابوبکرؓ و علیؓ، ہوشیار باش!
تحریر: سید زید زمان حامد
میرے شیعہ دوست ہمیشہ سے مجھ سے بحث کرتے آئے ہیں کہ پاکستان میں کوئی شیعہ دہشت گرد گروہ نہیں ہے۔ میں ہمیشہ اس بات کو سختی سے رد کرتا رہا ہوں، اور آج میرے موقف کی تصدیق بھی ہوگئی۔ 19 افراد پر مشتمل ایک دہشت گرد گروہ کراچی سے گرفتار ہوا ہے، جس کا تعلق سپاہ محمد سے ہے اور جس کی تربیت اور مالی معاونت ایران سے ہوئی۔
کیا پاکستان ریاستی سطح پر ایران کے خلاف کام کرنے والے کسی سنی دہشت گرد گروہ کی حمایت کررہا ہے؟ کبھی نہیں!
پاکستان میں ٹی ٹی پی کے کچھ ٹھکانے ہیں کہ جس کی پشت پر افغانستان اور راء ہیں۔ مگر یہ دہشت گرد ریاست پاکستان پر بھی حملے کررہے ہیں۔ یہ پاکستان کی افغانستان اور ایران کے ساتھ موجود سرحدوں کے ذریعے پاکستان اور ایران میں داخل ہوتے ہیں۔
میرا دو بار ایران جانا ہوا، جہاں میں نے اپنے تھنک ٹینک براس ٹیکس کی نمائندگی کرتے ہوئے دہشت گردی اور خطے کی سالمیت پر ہونے والی کانفرنسوں میں شرکت کی۔ وہاں میں ایرانی قیادت، انٹیلی جنس کے افسران اور میڈیا کے نمائندوں سے ملا۔ سب کو میں نے پاکستان سے متعلق گمراہ کن پراپیگنڈہ کا شکار پایا۔ یہی وجہ تھی کہ ان کا رویہ پاکستان سے متعلق دشمنانہ تھا۔یہ شدید ترین غلط فہمی اور ذہنی خلجان ہی کی وجہ ہے کہ ایرانی سیکورٹی فورسز اور تھنک ٹینک پاکستان کو ایک دشمن ملک تصور کرتے ہیں۔ لہذا وہ ہندوستان کے ساتھ مل کر پاکستان میں مسلکی بنیادوں پر دہشت گردی کرنے والے گروہوں کی حمایت و امداد کررہے ہیں۔ یہ سخت افسوس کا مقام ہے!
پاکستان میں اہل تشیع پر مظالم اور نسل کشی کی جھوٹی داستانوں کو بڑی مہارت کے ساتھ گھڑا گیا ہے۔ یہ گمراہ کن پراپیگنڈہ کہ جو پاکستان کے خلاف ہونے والی ابلاغی جنگ کا حصہ ہے، ایرانیوں کی سوچ و فکر کو بری طرح متاثر کررہا ہے۔سچ تو یہ ہے کہ اہل تشیع اثرورسوخ کے اعتبار سے پاکستان کا سب سے طاقتور فرقہ ہیں۔
ریاست پاکستان نے تمام مسالک کو اپنے وجود میں بڑے احسن طریقے سے جذب کیا ہوا ہے۔ یہاں کسی پر بھی شیعہ یا سنی ہونے کی بنا پر کوئی ظلم نہیں کیا جاتا۔ ہاں دہشت گردی اس ملک میں ضرور ہے کہ جس کا شکار بلا تفریق مسلک، قومیت اور صوبائیت ہر پاکستانی ہے نہ کہ صرف شیعہ۔اس کے باوجود ایرانی اس وسوسے میں مبتلا ہیں کہ پاکستان میں اہل تشیع پر مظالم ہورہے ہیں۔ پاکستان پیپلز پارٹی کہ جو 40 سال سے سندھ پر راج کررہی ہے،کی قریب قریب تمام قیادت شیعہ ہے۔ دیگر سیاسی جماعتوں اور حکومتی اداروں میں بھی ایک بھاری تعداد اہل تشیع کی ہے۔
پاکستان کے لیے، پاکستان میں افغانستان اور بھارت کی طرف سے کی جانے والی دہشت گردی کو سمجھنا آسان ہے۔ہمیں یہ بھی معلوم ہے کہ پاکستان میں ایران اور سعودیہ اپنی فرقہ وارانہ جنگیں لڑتے ہیں۔مگر جو بات ہماری سمجھ سے باہر ہے، وہ یہ کہ ایران کیسے پاکستان کو اپنا دشمن ملک تصور کرکے پاکستان میں دہشت گرد گروہوں اور بھارت کی حمایت کرسکتا ہے؟پاکستانی قیادت میں سے کسی کو ایران سے بہت دو ٹوک بات کرنا ہوگی۔ ہمارا سعودی عرب سے قریبی تعلق ہے کہ جو ایران کے جانی دشمن ہیں۔ لیکن اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ ہم سعودیہ کے کہنے پر ایران کے خلاف کوئی محاذ کھولیں گے۔ہم نے یمن کی جنگ میں بھی سعودیہ کی حمایت و امداد سے انکار کیا تھا کہ جو سعودیہ کی ناراضگی کا باعث بھی بنا۔ وجہ محض یہ تھی کہ ہم یمن کی جنگ کو ایک فرقہ وارانہ جنگ سمجھتے تھے۔
ایرانیوں کو فہم و تدبر سے کام لینا ہوگا۔ اگر پاکستان بھی ان کا دشمن بن گیاتو ایران کیلئے بہت مسائل کھڑے ہوجائیں گے۔1979 ء سے آج تک ایران پاکستان میں شیعہ دہشت گردہوں کی حمایت کرتا آیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق اس وقت بھی شیعہ مسلح افراد، افغانستان اور پاکستان سے شام جارہے ہیں کہ وہاں وہ بشار الاسد کی حکومت کا دفاع کرسکیں۔ایران کو پاکستان سے شیعہ دستے بھرتی کرنے کا کام بند کرنا پڑے گا۔جہاں تک پاکستانی اہل تشیع کی اکثریت کا تعلق ہے تو وہ بھی اپنی جگہ نادانی کی حد تک بیوقوفی کا مظاہرہ کررہے ہیں۔ ان کا خود ترسانہ رویہ اور شیعہ نسل کشی پر واویلے نے ہی ایران کو پاکستان کے اندرونی معاملات میں مداخلت کا موقع دیا ہے کہ جس کے باعث اب دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی پیدا ہوچکی ہے اور اس سے دونوں ہی ملک نقصان اٹھارہے ہیں۔
میں نے جب بھی یہ سب باتیں کی ہیں پاکستان کے شیعہ حضرات فوراً بھڑک جاتے ہیں۔ مجھ پر ”سعودی ایجنٹ“ ہونے کا بھی الزام لگایا جاتا ہے۔مضحکہ خیز بات یہ ہے کہ دوسری جانب خود سعودی مجھے ”ایرانی ایجنٹ“ ہونے کے شبے میں گرفتار اور قید بھی کرچکے ہیں۔
جو ذہن فرقہ وارانہ نفرت سے بھرے ہوں، وہ یہ باتیں کبھی نہیں سمجھ سکتے۔
٭٭٭٭٭

https://www.facebook.com/syedzaidzamanhamid/photos/a.1643903065664498/2154650277923105/?type=3&__tn__=-R

Tuesday, 3 May 2016

May 3rd, 2016

BrassTacks has launched a new project to revive and reclaim our beloved urdu.. which is being systematically destroyed



Members, this is where you all can contribute...

BrassTacks has launched a new project to revive and reclaim our beloved urdu.. which is being systematically destroyed. If Urdu dies, our soul would also die with it.. ! A 800 years old treasure of the Ummah must be jealously guarded.

Languages are like plants.. they need tender loving care to grow and expand.. ! otherwise, they dry out, begin to die...

The project aims are creating new cool vocabulary for English terms that we use in normal life.. ! today, all our terms of even basic professions are in English. It is painful to see Paint and Hardware store, carpenter shop, plumber dastyab hai, electrician, hospital, doctor, engineer, plant nursery.. etc etc....

Now we will create an Urdu dictionary of modern terms.. and you all can start to use them and add them into Urdu language. We will use these terms now in our future papers inshAllah..

Its a long project..we will keep posting Jpegs as they are made.. spread them to schools, media and on net.

Urdu is a Turkish word... and urdu has words from 3 major Muslims languages .. Arabic, Turkish and Persian. Instead of using English terms, we can adopt terms from parent languages of Urdu or we make our own terms.. !

Do you know that Tipu Sultan also spoke Urdu ?? this fascinating language was started by Hazrat Nizam ud Din Aulia and Hazrat Ameer Khusro made its structure 800 years ago..

You can all send us recommended Urdu words for English terms and our editorial board would vet them inshAllah..

Lets do it.... together.. !

https://www.facebook.com/syedzaidzamanhamid/photos/a.109687115752775.23119.109463862441767/990480944340050/?type=3&theater