...

Tuesday, 27 February 2018

February 27th, 2018

https://www.facebook.com/syedzaidzamanhamid/photos/a.307422609312557.80458.109463862441767/1586363151418490/?type=3

February 26th, 2018


 
https://www.facebook.com/syedzaidzamanhamid/photos/a.115682355153251.30867.109463862441767/1585311701523635/?type=3&theater








طاقتور مومن، کمزور مومن سے بہتر ہے!




طاقتور مومن، کمزور مومن سے بہتر ہے!

آئیں آج ہم آپ کو ایک تاریخی داستان سناتے ہیں کہ جو ہمیں ہمارے والدین اور بزرگوں نے خود گھر میں سنائی ہے۔

ہمارے تمام بزرگوں اور والدین نے 1947 ءمیں قیام پاکستان کے وقت مشرک ہندوستان سے طویل اور مشکل سفر طے کرکے پاکستان کی جانب کی ہجرت کی تھی۔ یہ وہ دور تھا کہ جب پو رے ہندوستان میں مسلمانوں کے خون سے ہولی کھیلی جارہی تھی۔ ہر طرف لاکھوں کی تعداد میں مسلمان اپنے گھروں سے نکل کر قافلوں کی صورت میں پاکستان کی جانب رواں دواں تھے۔ اس دوران مسلح ہندو اور سکھ جتھے مسلمانوں کو گاجر اور مولی کی طرح کاٹ رہے تھے۔پورے پورے گاﺅں مسلمانوں کے اس طرح ذبح کردیئے گئے کہ ایک فرد بھی زندہ نہ بچا۔ دہلی سے ہزاروں مسلمانوں کی ٹرین چلتی تھی اور راستے میں اس بری طرح ذبح کی جاتی کہ لاہور ریلوے اسٹیشن پر صرف لاشیں اتاری جاتیں۔

انگریزوں کے دور میں ایک سازش کے تحت مسلمانوں کو اسلحہ رکھنے کی اجازت نہ تھی۔ تھوڑا بہت اسلحہ کہ جو چند امیر مسلمانوں اور بڑے زمینداروں کے پاس تھا، وہ بھی انگریز اور ہندو سرکار نے فسادات شروع ہونے سے قبل ضبط کرلیا تھا۔ جو فوج اور پولیس تھی وہ مکمل طور پر ہندو اور سکھ تھی۔ اس کے ساتھ ساتھ ہندو انتہا پسندوں اور سکھوں کے پاس اپنا بھی بہت اسلحہ تھا۔ مسلمانوں کے نہتہ ہونے اور دشمنوں کے پوری طرح مسلح ہونے کا نتیجہ یہ ہوا کہ پچاس لاکھ سے زائد مسلمان اس طرح ذبح کیے گئے کہ تاریخ اسلام میں اس کی مثال نہیں ملتی۔

ہمارے بزرگوں نے ہمیں یہ بتایا کہ جن مسلمان کے پاس اسلحہ تھا وہ اپنے اور اپنے خاندان کی جان و مال و عزت کی حفاظت کرسکا، یا پھر مارا بھی گیا تو لڑتے ہوئے شہید ہوا اور اپنے ساتھ درجنوں مشرکوں کو لے کر گیا۔ جو نہتے تھے وہ بڑی بے بسی کے عالم میں مارے گئے۔

پھر ہمارے بڑوں نے ہمیں یہ بھی بتایا کہ یہ تاریخ قیام پاکستان کے تقریباً پچیس برس بعد مشرقی پاکستان میں ایک دفعہ پھر دہرائی گئی۔ مکتی باہنی کے دہشت گرد، بھارتی فوج اور اندر کے غداروں نے جب محب وطن پاکستانیوں کا قتل عام شروع کیا تو وہی عالم تھا کہ جو 1947 ءمیں ہوا تھا۔ پانچ لاکھ کے قریب محب وطن پاکستانی مشرقی پاکستان میں بڑی سفاکی کے ساتھ شہید کردیئے گئے۔ صرف وہی پاکستانی بچ سکے کہ جو خود مسلح تھے یا جن کو پاک فوج کی حفاظت میسر آسکی۔

اپنے بزرگوں سے یہ واقعات سننے کے بعد ہم نے بچپن میں ہی یہ سمجھ لیا تھا کہ مسلمانوں کو کبھی غیر مسلح اور غیر تربیت یافتہ نہیں ہونا چاہیے، کہ ہمارے دشمن سفاک اور کمینے ہیں۔ ہمارے والدین نے بچپن سے ہی ہماری تربیت ہتھیاروں کے ساتھ کی۔ والد فوج میں تھے اور والدہ نیشنل گارڈز میں۔ بچپن سے ہی ہمیں ہتھیار رکھنے اور چلانے کی مکمل تربیت والدین نے دی۔ جب ذرا ہوش سنبھالا تو سیدی رسول اللہﷺ کی وہ حدیث شریف بھی پڑھنے کی سعادت نصیب ہوئی کہ جس میں سیدی رسول اللہﷺ نے اپنی امت کو نصیحت فرمائی کہ گھڑ سواری، تیر اندازی اور تیراکی سیکھو۔

اپنی جوانی کے دور میں ہی اللہ نے سعادت دی کہ ہم افغانستان کے جہاد میں شریک ہو کر افغانستان کو ملحد روسیوں سے آزاد کرانے کی جدوجہد میں شامل ہوں۔ وہاں بھی یہ دیکھا کہ افغانستان کے مسلمان کہ جن میں گھروں میں اسلحہ رکھنے کا رواج تھا، وہی اس قابل ہوئے کہ اپنے ملک کی آزادی اور جان و مال کی عزت کی حفاظت کیلئے تحریک مزاحمت جاری کرسکیں۔

آج پوری مسلمان دنیا کا حال ہمارے سامنے ہے۔ مشرق وسطیٰ کے تقریباً تمام بڑے ممالک یا کھنڈر بنائے جاچکے ہیں، یا بنائے جارہے ہیں۔ مسلمان امت کی تباہی کے تمام سامان مکمل ہیں۔خود ہمارے پاکستان میں آپ نے دیکھا کہ کس طرح خوارج نے سوات اور قبائلی علاقوں پر قبضہ کرکے لاکھوں کی تعداد میں مسلمانوں کو بے گھر بھی کروایا، عزت و حرمت بھی پامال کی اور ریاست پاکستان کے خلاف بغاوت بھی برپا کی۔

آرمی پبلک سکول کے بچوں کی شہادت کا زخم تو ابھی تک ہمارے دلوں میں تازہ ہے۔ اپنے بچوں کی شہادتوں کے بعد پشاور میں اساتذہ کو اسلحہ چلانے کی تربیت دی جانے لگی تاکہ بچوں کی حفاظت کی جاسکے۔

ہم سے بہت لوگ یہ سوال کرتے ہیں کہ ہم کیوں ہتھیاروں کے ساتھ تربیت کی ویڈیوز اور تصاویر اپنے پیج پر شیئر کرتے ہیں۔ تو اب آپ کو اس کا جواب مل گیا ہوگا۔

پاکستان حالت جنگ میں ہے، امت رسولﷺ حالت جنگ میں ہے، دشمن صرف پاکستان کو ہی نہیں پوری امت کو گھیرے میں لے چکا ہے۔ آنے والا وقت امن کا نہیں جنگ کا ہے۔ آج ہر مسلمان پر واجب ہے کہ سیدی رسول اللہﷺ کی حدیث شریف کے مطابق اور تحریک پاکستان اور مشرقی پاکستان کی تاریخ کو سامنے رکھتے ہوئے اپنے آپ کو مسلح بھی کرے، جہاد کی تربیت بھی لے اور پاکستان کے دفاع کی بھرپور تیاری کرے کہ اب دور غزوئہ ہند کا ہے۔

ہم اپنی تصاویر اور ویڈیوز، نعوذباللہ، اپنی نمائش یا شو مارنے کیلئے نہیں ڈالتے۔ اس لیے ڈالتے ہیں آپ کو یہ معلوم ہو کہ پاکستان میں رہتے ہوئے قانونی طور پر بھی آپ پاکستان کے دفاع میں اپنا حصہ ڈالنے کیلئے تیار ہوسکتے ہیں۔ پاکستان کے آئین اور قانون کے مطابق ہر شہری کو یہ اجازت ہے کہ اپنی جان و مال و عزت کے دفاع کیلئے قانونی ہتھیار رکھ سکتا ہے۔ پاکستان میں لاکھوں لوگوں کے پاس قانونی ہتھیار موجود ہیں۔ مگر تربیت کا کوئی نظام موجود نہیں ہے۔

یہ ایسے ہی کہ آپ لاکھوں لوگوں کو گاڑی چلانے کی اجازت دیں، مگر ان کو گاڑی چلانا نہ سکھائیں۔

اسی طرح پاکستان میں قانوناً تو ہتھیار رکھنے کی اجازت ہے اور لائسنس بھی دیئے جاتے ہیں، مگر عام شہریوں کیلئے ہتھیاروں کی تربیت اور استعمال کا کوئی باقاعدہ نظام موجود ہی نہیں ہے۔ اس کمی کو پورا کرنے کیلئے اور پاکستان کے محب وطن شہریوں کو ہتھیاروں کی قانونی تربیت کے حوالے سے ترغیب دینے کیلئے ہم اپنی تصاویر اور ویڈیوز شیئر کرتے ہیں۔ نہ تو یہ کام غیر قانونی ہے، نہ غیر اسلامی ہے، نہ غیر آئینی ہے نہ غیر اخلاقی۔ بلکہ خالصتاً شرعی ہے، قانونی ہے، آئینی ہے اور دفاع پاکستان کا تقاضا بھی۔

انسان کو جس چیز کا شوق ہوتا ہے، وہ اس کا انتظام کر ہی لیتا ہے۔ جس کو گاڑیوں کا شوق ہوتا ہے وہ گاڑی خرید ہی لیتے ہیں یا گاڑی چلانا سیکھ ہی لیتے ہیں۔ آج نوجوانوں کو قیمتی موبائل فونز کا شوق ہے، جیسے تیسے کرکے بھی اپنی پسند کے قیمتی موبائل فون خرید ہی لیتے ہیں۔

اسی طرح جس کو اسلحہ کی تربیت کا شوق ہو، وہ اس کا راستہ نکال ہی لیتا ہے۔ اگر آپ کے پاس اپنا اسلحہ نہیں، تو اسلحے کے لائسنس لیں، قانونی اسلحہ لیں اور کسی بڑے سے تربیت حاصل کریں۔ اگر لائسنس اور اسلحہ نہیں ہے تو کم از کم ایئر گن تو ہر کوئی خرید سکتا ہے۔ اسی سے نشانہ بازی کی تربیت کریں۔

لوگ ہم سے کہتے ہیں کہ جنگ کی بات نہ کریں، امن کی بات کریں۔ بچوں کو تعلیم کی ترغیب دیں، اسلحہ چلانے کی ترغیب نہ دیں۔ ایسے لوگوں کو ہم صرف یہ کہیں گے کہ ہمارے آرمی پبلک سکول کے بچے اپنے سکول میں تعلیم حاصل کرنے گئے تھے یا اسلحہ چلانے؟ ان کا کیا قصور تھا کہ ان کو اس بے دردی سے ذبح کردیا گیا؟ بات یہ ہے کہ ہم نے تعلیم بھی حاصل کرنی ہے، اور ملک و ملت و قوم کے دفاع کیلئے اب مسلح بھی ہونا ہے۔ ہم جس دور سے گزررہے ہیں، اس دور میں ہر رنگ و نسل کا کافر، مشرک اور خارجی مسلمانوں کا شکار کررہا ہے۔ پوری دنیا میں نہ مسلمانوں کی جان محفوظ ہے، نہ مال، نہ آبرو۔ ایسے دور میں مسلمانوں کبھی بھی غیر مسلح اور غیر تربیت یافتہ نہیں رہ سکتا۔

ہم جس دور میں رہ رہے ہیں اس میں دفاع پاکستان کی ذمہ داری صرف پاک فوج کی نہیں ہے۔ آنے والے دور میں ہر محب وطن پاکستانی کو پاک فوج کے شانہ بشانہ اس پاک سرزمین کا دفاع کرنا ہوگا۔ تربیت زمانہ امن میں ہی ہوتی ہے، سمجھدار امن کی فرصت کو تربیت کیلئے استعمال کرتے ہیں۔ وہ احمق ہوتے ہیں کہ جو جنگ شروع ہونے کے بعد اسلحہ تلاش کرنے کیلئے دوڑیں لگائیں۔ ایسے جاہلوں کے نصیب میں پھر ذلت کی موت ہی ہوتی ہے۔


https://www.facebook.com/syedzaidzamanhamid/photos/a.109687115752775.23119.109463862441767/1585597374828401/?type=3&theater




What is happening in Syria today is happening all over the ummah...from Burma to Yemen to Afghanistan to Iraq to Syria to Libya....this ummah is orphaned today....waiting for a salahuddun....ya Allah karam


https://www.facebook.com/syedzaidzamanhamid/videos/1585756471479158/

What is happening in Syria today is happening all over the ummah...from Burma to Yemen to Afghanistan to Iraq to Syria to Libya....this ummah is orphaned today....waiting for a salahuddun....ya Allah karam

https://www.facebook.com/syedzaidzamanhamid/videos/1585756471479158/

February 24th, 2018


Someone sent this beautiful post on how Urdu is being destroyed in our society and education system. Please read. It makes our heart bleed....


Someone sent this beautiful post on how Urdu is being destroyed in our society and education system. Please read. It makes our heart bleed....

*اُردُو زُبان کا زوال، مُجرم کون؟*

گو کہ ہماری پیدائش سے کہیں پہلے مدرسہ کو سکول بنا دیا گیا تھا، لیکن انگریزی زبان کی اصطلاحات دورانِ تعلیم استعمال نہیں ہوتی تھیں۔

بہت وقت پہلے تین چار الفاظ انگریزی زبان کے رائج تھے،
ہیڈ ماسٹر،
فِیس،
فیل،
پاس اور جمعرات کو لاسٹ ورکنگ ڈے (کیونکہ اُن دِنوں اتوار کی بجائے جمعہ کے دن سرکاری چھٹی ہوتی تھی)
کہا جاتا تھا اس دن آدھی چھٹی یعنی ہاف ڈے ہوتا تھا۔

انگلش میڈیم سکول میں پیپر اور سرکاری سکول میں پرچہ کہا جاتا تھا

پھر استاد جی کی بجائے سر جی آیا۔
یوں استاد جی سے سر جی کہلانے لگے
سارے استاد ٹیچر بن گئے۔
پھر عام بول چال میں غیر محسوس طریقے سے اردو کا جو زوال شروع ہوا وہ اب تک جاری ہے۔

اب تو یاد بھی نہیں کہ کب جماعت،
کلاس میں تبدیل ہوگئ۔ اور جو ہم جماعت تھے وہ کب کلاس فیلو بن گئے۔

اول، دوم، سوم، چہارم، پنجم، ششم، ہفتم، ہشتم، نہم، دہم، جماعتیں ہوتی تھیں اور کمروں کے باہر لگی تختیوں پر اسی طرح لکھا ہوتا تھا۔
پھر کمروں سے کلاس روم بن گئے
اور فرسٹ سے ٹینتھ کلاس کی نیم پلیٹس لگ گئیں۔

تفریح کی جگہ ریسیس اور بریک کے الفاظ استعمال ہونے لگے۔

گرمیوں کی چھٹیاں اور سردیوں کی چھٹیاں (المعروف وڈے دناں دی چھٹیاں) کی جگہ سمر ووکیشن اور وِنٹر ووکیشن آگئیں۔

چھٹیوں کا کام چھٹیوں کا کام نہ رہا بلکہ ہوم ورک ہو گیا ۔

*ہم نے یوم آزادی کی بجائے انڈیپنڈنس ڈے منانا شروع کردیا۔*

پہلے پرچے شروع ہونے کی تاریخ آتی تھی اب پیپرز کی ڈیٹ شیٹ آنے لگی۔

ششماہی اور سالانہ امتحانات کی جگہ مڈٹرم اور فائینل ایگزامز کی اصطلاح آگئ۔

امتحانات کی جگہ ایگزامز ہونے لگے،
اب طلباء امتحان دینے کیلیے امتحانی مرکز نہیں جاتے بلکہ سٹوڈنٹس ایگزام کیلیے ایگزامینیشن ہال جاتے ہیں۔

قلم،
دوات،
سیاہی،
تختی،
گاچی،
سلیٹ اور
سلیٹی جیسی اشیاء گویا میوزیم میں رکھ دی گئیں ان کی جگہ لَیڈ پنسل اور بال پین آگئیں۔

کاپیاں گئیں نوٹ بکس آگئیں۔

نصاب کو کورس کہا جانے لگا
اور اس کورس کی ساری کتابیں بکس بن گئیں یوں بکس کے نام بھی تبدیل ہوگئے۔

ریاضی کو میتھ کہا جانے لگا۔
اسلامیات اسلامک سٹڈی بن گئ۔
انگریزی کی کتاب انگلش بک بن گئ۔
اسی طرح طبیعات فزکس،
معاشیات اکنامکس

پہلے طلبہ پڑھائی کرتے تھے پھر سٹوڈنٹس سٹڈی کرنے لگے۔

پہاڑے یاد کرنے والوں کی اولادیں ٹیبل یاد کرنے لگیں۔

اساتذہ کیلیے میز اور کرسیاں لگانے والے ٹیچرز کے لیے ٹیبل اور چئیرز لگانے لگے۔

داخلوں کی بجائے ایڈمشنز ہونے لگے۔

اول دوم سوم آنے والے طلبہ فرسٹ سیکنڈ تھرڈ آنے والے سٹوڈنٹ بن گئے۔

پہلے انعام ملا کرتے تھے پھر پرائز ملنے لگے۔

بچے تالیاں پیٹنے کی جگہ چیئرز کرنے لگے۔

یہ سب کچھ سرکاری سکولوں میں ہوا ہے۔

باقی رہے پرائیویٹ سکول،
ان کا تو پوچھیے ہی مت۔
ان کاروباری مراکز کیلیے کچھ عرصہ پہلے ایک شعر کہا تھا۔

مکتب نہیں دکان ہے یہ خام مال کی
مقصد جہاں پہ علم نہیں روزگار ہے

*اور تعلیمی اداروں کا رونا ہی کیوں رویا جائے ہمارے گھروں میں بھی اردو کو یتیم اولاد کی طرح ایک کونے میں ڈال دیا گیا ہے۔*

زنان خانہ اور مردان خانہ تو کب کے ختم ہو گئے۔
خواب گاہ کی البتہ موجودگی لازمی ہے تو اسے ہم نے بیڈ روم کا نام دے دیا۔
باورچی خانہ کچن بن گیا
اور اس میں پڑے برتن کراکری۔
غسل خانہ پہلے باتھ روم ہوا پھر ترقی کر کے واش روم بن گیا۔
مہمان خانہ یا بیٹھک کو اب ڈرائنگ روم کہتے ہوئے فخر محسوس کیا جاتا ہے۔

پہلی منزل کو گراونڈ فلور کا نام دے دیا گیا اور دوسری منزل کو فرسٹ فلور۔
دروازہ ڈور کہلایا جانے لگا اور پہلے گھنٹی بجتی تھی اب بیل بجنے لگی۔
کمرے روم بن گئے۔
کپڑے الماری کی بجائے کیبنٹ میں رکھے جانے لگے۔

*ابو جی* جیسا پیار اور ادب سے بھرپور تخاطب دقیانوسی لگنے لگا اور ہر طرف پاپا، پاپا کی گردان لگ گئ حالانکہ پہلے تو پاپے کو کھایا کرتے تھے۔
اسی طرح شہد کی طرح میٹھا لفظ *امی جی،* ممی میں تبدیل ہو گیا۔

سب سے زیادہ نقصان رشتوں کی پہچان کا ہوا۔ چچا چچی،
تایا تائ،
ماموں ممانی،
پھوپھا پھوپھو،
خالو خالہ علی ہذالاقیاس سب کے سب ایک غیر ادبی اور بے احترام سے لفظ انکل اور آنٹی میں تبدیل ہوگئے۔
بچوں کے لیے ریڑھی والے سے لے کر سگے رشتہ دار تک سب انکل بن گئے
یعنی محمود و ایاز ایک ہی صف میں کھڑے ہوگئے۔
ساری عورتیں آنٹیاں۔ چچا زاد،
ماموں زاد،
خالہ زاد بہنیں و بھائ سب کے سب کزن میں تبدیل ہوگئے
نہ رشتے کی پہچان رہی اور نہ ہی جنس کی۔
بس ایک کام کرنے والی پہلے بھی ماسی تھی اب بھی ماسی ہے۔

گھر اور سکول میں اتنی زیادہ تبدیلیوں کے بعد بازار انگریزی کی زد سے کیسے محفوظ رہتا۔ دکانیں شاپس میں تبدیل ہو گئیں اور ان پر گاہکوں کی بجائے کسٹمرز آنے لگے
آخر کیوں نہ ہوتا کہ دکان دار بھی تو سیلز مین بن گئے جس کی وجہ سے لوگوں نے خریداری چھوڑ دی اور شاپنگ کرنے لگے۔
سڑکیں روڈ بن گئیں۔ کپڑے کا بازار کلاتھ مارکیٹ بن گئ
یعنی 'اس نے کس ڈھب سے مذکر کو مونث باندھا'۔
کریانے کی دکان نے جنرل سٹور کا روپ دھار لیا اور نائ نے باربر بن کر حمام بند کردیا اور ہیئر کٹنگ سیلون کھول لیا۔

ایسے ماحول میں دفاتر بھلا کہاں بچتے۔
پہلے ہمارا دفتر ہوتا تھا جہاں مہینے کے مہینے تنخواہ ملا کرتی تھی اب آفس بن گیا اور منتھ ٹو منتھ سیلری ملنے لگی۔ جو صاحب تھے وہ باس بن گئے۔
بابو کلرک اور چپڑاسی پِیَن۔
پہلے دفتر کے نظام الاوقات لکھے ہوتے تھے اب آفس ٹائمنگ کا بورڈ لگ گیا۔

پہلے وزیر اعظم کرسی سے اتارے جاتے تھے اب پرائم منسٹر کو کرسی سے اتارا جانے لگا۔
وزیر اعلی چیف منسٹر بن گئے۔
وفاقی حکومت کو فیڈرل گورنمنٹ کہا جانے لگا
اور صوبائی کو پراونشل۔

سود جیسے قبیح فعل کو انٹرسٹ کہا جانے لگا۔ طوائفیں آرٹسٹ بن گئیں
اور محبت کو 'لَوّ' کا نام دے کر محبت کی ساری چاشنی اور تقدس ہی چھین لیا گیا۔
محبوب بوائے فرینڈ اور محبوبہ گرل فرینڈ بن گئ۔
صحافی رپورٹر بن گئے اور خبروں کی جگہ ہم نیوز سننے لگے۔

کس کس کا اور کہاں کہاں کا رونا رویا جائے۔

*اردو زبان کے زوال میں حکومت سے لے کر ایک عام آدمی تک نے اپنا بھرپور حصہ ڈالا ہے*

اور دکھ تو اس بات کا ہے کہ ہمیں اس بات کا احساس تک نہیں کہ ہم نے اپنی خوبصورت زبان اردو کا حلیہ مغرب سے مرعوب ہو کر کیسے بگاڑ لیا۔
وہ الفاظ جو اردو زبان میں پہلے سے موجود ہیں اور مستعمل بھی ہیں ان کو چھوڑ کر انگریزی زبان کے الفاظ کو استعمال کرنے میں فخر محسوس کرنے لگے ہیں

*وائے ناکامی متاع کارواں جاتا رہا*
*کارواں کے دل سے احساس زیاں جاتا رہا*.

لکھاری کی بجائے رائیٹربن گیا ہم کہاں سے کہاں آگئے اورکہاں جارہے ہیں؟

https://www.facebook.com/syedzaidzamanhamid/posts/1583291811725624

February 23rd, 2018

کچھ اہم موضوعات سے آج آپ سے بات کرنی ہے۔ اس تحریر کو غور سے پڑھیں۔



کچھ اہم موضوعات سے آج آپ سے بات کرنی ہے۔ اس تحریر کو غور سے پڑھیں۔

الحمدللہ، تقریباً تین سو کے قریب ممبران کو ہماری نئی کتاب ”شاد باد منزل مراد“ پہنچ چکی ہے۔ ہزاروں افراد آن لائن اس کتاب کو پڑھ رہے ہیں۔ ہم آپ سے کہیں گے کہ اس کتاب کو پڑھ کر اس پر سنجیدہ تجزیہ ہمیں ضرور بھیجیں۔ صرف ”ماشاءاللہ“، ”بہت اچھی ہے“، ”بڑا مزا آیا“، ”اللہ آپ کو جزا دے“، کہہ دینا کافی نہیں ہے۔ ہمیں ایک سنجیدہ علمی تجزیہ چاہیے کہ اس کتاب کو پڑھنے کے بعد آپ کو کیا محسوس ہوا ہے، علم میں کتنا اضافہ ہوا، آپ کو اس پر کیا اعتراضات ہیں، کیا یہ کتاب اس تاریخی خلاءکو پورا کرنے میں کامیاب ہوئی ہے کہ جو آج تک تحریک پاکستان کے حوالے سے ہماری کتب میں موجود تھا، وغیرہ وغیرہ۔
ہمیں تفصیل سے لکھیں، اور اپنی رائے سے آگاہ کریں۔
٭٭٭٭٭

یہ بھی ہم آپ کو کہہ چکے ہیں کہ اب یہ آپ کی ذمہ داری ہے کہ اس کتاب کو پاکستان کے ہر سکول، تعلیمی ادارے اور طالبعلم کے ہاتھ میں پہنچائیں۔ اگر آپ پاکستان کیلئے اتنا بھی نہیں کرسکتے، تو پھر گھر بیٹھیں، اللہ اپنا کام اوروں سے کرالے گا۔ ہم اس وقت پاکستان کی نظریاتی اور روحانی سرحدوں کے دفاع کی مشکل ترین جنگ لڑرہے ہیں۔ اگر آپ اس جنگ میں بھی پاک سرزمین کے سپاہی نہیں بن سکتے تو تسلی رکھیں، اللہ آپ سے اس پاکستان کی خدمت کا کوئی اور کام نہیں لے گا!
پاک فوج ملک کی جغرافیائی سرحدوں کا دفاع کررہی ہے، آپ کا کام ملک کی روحانی و نظریاتی سرحدوں کا دفاع ہے۔ یہ سب غزوئہ ہند کا حصہ ہے۔ اگر آپ اپنا وقت، مال اور جان اس جہاد میں نہیں لگاسکتے، تو پھر کبھی یہ دعویٰ نہ کیجیئے گا کہ وقت آنے پر ہم پاکستان کا دفاع کریں گے۔ وہ وقت آج ہے، اگر آج آپ سوچتے رہ گئے، تو پھر آئندہ بھی سوچتے ہوئے محروم ہی رہیں گے۔
٭٭٭٭٭

ہم کئی مرتبہ یہاں پر آپ کو نصیحت کرچکے ہیں کہ پاکستان میں موجود ترک اساتذہ کی کفالت کیلئے ہم نے ایک فنڈ قائم کیا ہے، اور آپ سب پر لازم ہے کہ اپنے ان ترک مہمانوں کی مہمان نوازی کریں۔ دس سال سے بھی زائد عرصے سے یہ اساتذہ پاکستان میں ہمارے بچوں کو تعلیم دے رہے تھے۔ترکی میں سیاسی اختلافات کی بنیاد پر ترک حکومت نے ان اساتذہ کو پاک۔ترک سکولوں سے نکلوادیا ، اور اب یہ بغیر کسی کفالت کے، بغیر نوکری کے اور بغیر کاغذات کے پاکستان میں مجبور اور بے کس ہیں۔ ہم ترک حکومت سے بھی بات کررہے ہیں تاکہ ترکوں کے درمیان باہمی اختلافات کو ختم کرایا جاسکے۔ مگر جب تک یہ معاملات طے نہیں ہوتے، ہم اپنے ان ترک مہمانوں کو اور ان کے خاندانوں کو بے یار و مددگار اور بھوکا پیاسا نہیں چھوڑ سکتے۔ تقریباً دو سوکے ترک خاندان ملک چھوڑ کر پہلے ہی جاچکے ہیں، اب تقریباً دو درجن کے قریب ہی ایسے خاندان باقی ہیں کہ جو سفری دستاویزات نہ ہونے کی وجہ سے پاکستان سے باہر نہیں جاسکتے۔ اسی لیے ہم نے آپ سے یہ کہا تھا کہ ان کی کفالت کیلئے جو ہوسکے، کریں۔ ہمیں ای میل کریں، ہم آپ کو بینک اکاﺅنٹ نمبر دیں گے کہ جس میں آپ اپنے ترک بھائیوں کیلئے تحفے بھجوا سکتے ہیں۔
٭٭٭٭٭

آج پاکستان چاروں طرف سے دشمنوں میں گھرا ہوا ہے۔ ہماری صفوں میں بدترین غدار داخل ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ دشمن حتمی طور پر یہ سمجھ رہا ہے کہ اب وہ پاکستان کو شدید نقصان پہنچاسکتا ہے۔ یہ آرام سے اپنے گھروں میں بیٹھنے کا وقت نہیں ہے۔ جو اس وقت پاکستان کی خدمت، حفاظت اور دفاع کیلئے کھڑا نہ ہوا وہ پھر کبھی بھی نہیں ہوگا۔ میدان جنگ میں کنارے کھڑے ہو کر تماشا دیکھنے والے پھر بدنصیب ہی رہتے ہیں۔ یہ اختیار اور فیصلہ آپ کے اپنے ہاتھ میں ہے۔ اللہ تو اپنا کام کرا ہی لے گا!
٭٭٭٭٭٭٭

https://www.facebook.com/syedzaidzamanhamid/posts/1582437511811054

February 22nd, 2018

پاکستان کے موجودہ حالات میں چیف جسٹس ثاقب نثار اور جنرل قمر باجوہ پاکستان کی جو سب سے بڑی خدمت کرسکتے ہیں وہ یہ ہے کہ موجودہ ناپاک اور حرام خور سیاستدانوں پر قانون نافذ کرتے ہوئے اسمبلیاں تحلیل کریں، اور ایک محب وطن عبوری حکومت کو طویل المدتی دور کے لیے قائم کریں۔

 ثاقب نثار صاحب، ہمیں اس بات میں کوئی شبہ نہیں کہ آپ پاکستان کو ٹھیک کرنا چاہتے ہیں، مگر حقیقت یہ ہے کہ جب تک پاکستان کی حکومت، سیاست اور نظام ٹھیک نہ ہوگا، آپ کی تمام محنت ضائع ہوجائے گی۔ آپ کی ذمہ داری حکومت کو درست کرنا ہے، ہسپتالوں کو نہیں۔

آج سپریم کورٹ کے پاس ایک تاریخی موقع اور اختیار ہے کہ وہ پاکستان کی پارلیمان میں موجود ناپاک او ر پلید سیاستدانوں پر مضبوط گرفت کرے، پارلیمان کو تحلیل کرے، محب وطن عبوری حکومت بنائے کہ جو سپریم کورٹ اور پاک فوج کے ساتھ ملکر اگلے تین سال میں شدید ترین احتساب کے بعد ایک نیا سیاسی نظام ترتیب دے۔

ثاقب نثار صاحب، اگر آپ ایک صاف ستھری محب وطن غیر سیاسی عبوری حکومت قائم نہ کرسکے کہ جو پاکستان کی ریاست کو صحیح سمت پر ڈالے، تو پھر آپ کی تمام تر محنت اور خلوص نیت مکمل طورپر ضائع ہوجائے گی۔ پاکستان کو ایک مضبوط حکومت کی ضرورت ہے، اس مافیا زدہ جمہوریت کی نہیں۔

پارلیمان میں بیٹھے ہوئے ان سیاسی دہشت گردوں نے صرف اپنے ذاتی مفاد کیلئے پاکستان کی ریاست کو فیڈریشن سے کنفڈریشن میں تبدیل کردیا ہے، نوے ارب ڈالر کے قرضے چڑھا کر معاشی طور پر دیوالیہ کردیا ہے، اور اب یہ سارے سانپ مل بیٹھ کر عبوری حکومت بنانے کیلئے پھنکار رہے ہیں۔ ایسا نہیں ہونا چاہیے۔

پاکستان کے موجودہ حالات میں چیف جسٹس ثاقب نثار اور جنرل قمر باجوہ پاکستان کی جو سب سے بڑی خدمت کرسکتے ہیں وہ یہ ہے کہ موجودہ ناپاک اور حرام خور سیاستدانوں پر قانون نافذ کرتے ہوئے اسمبلیاں تحلیل کریں، اور ایک محب وطن عبوری حکومت کو طویل المدتی دور کے لیے قائم کریں۔

پاکستان کی فوج بھی اپنا کام کررہی ہے، سپریم کورٹ بھی اب کام کرتے نظر آرہی ہے۔ ریاست کا جو ستون کام کرنا تو درکنار، ریاست کی جڑ جاٹنے میں لگا ہوا ہے وہ حکومت اور پارلیمان ہے۔ آئین اور قرآن و سنت سے متصادم قانون سازی کرکے یہ پارلیمان اپنا جواز کھو چکا ہے۔ اب اس کو دفع کردینا چاہیے۔

ہم کسی صورت میں بھی نواز شریف، زرداری، اچکزئی، فضل الرحمن، اسفندیار ولی یا الطاف حسین کے چیلوں کو یہ اجازت نہیں دے سکتے کہ وہ ملک میں عبوری حکومت قائم کرتے ہوئے بغیر احتساب کے انہی ناپاک حرام خوروں کے ساتھ دوبارہ الیکشن کروا کر اسی جیسی پارلیمان دوبارہ قائم کرلیں۔ یہ اجتماعی خودکشی ہوگی!!!

https://www.facebook.com/syedzaidzamanhamid/posts/1581575465230592