...
Showing posts with label Turks. Show all posts
Showing posts with label Turks. Show all posts

Sunday, 17 May 2020

May 15th, 2020


ہم آپ کو کیوں کہہ رہے ہیں کہ ارطغرل کو بہت غور سے دیکھیں۔
اس کا جواب علامہ اقبال نے تقریبا سو برس قبل دیا تھا۔۔
عطا مومن کو پھر درگاہ حق سے ہونے والا ہے
شکوہ ترکمانی ذہن ہندی نطق اعرابی



https://twitter.com/ZaidZamanHamid/status/1261730263912132610?s=19&fbclid=IwAR1q12DJYga4dY9eT2WcTV8zLLu57iZnJpcMCP9hl3bDYpKuJCc06ulv4RA



ہم آپ کو کیوں کہہ رہے ہیں کہ ارطغرل کو بہت غور سے دیکھیں۔
اس کا جواب علامہ اقبال نے تقریبا سو برس قبل دیا تھا۔۔
عطا مومن کو پھر درگاہ حق سے ہونے والا ہے
شکوہ ترکمانی ذہن ہندی نطق اعرابی۔۔۔ آئیے آپ کو سمجھائیں اس کا کیا مطلب ہے۔۔۔۔
‏اس شعر میں علامہ اقبال نے 3 مسلمان تہذیبوں کا ذکر کیا ہے اور ان کی اعلی ترین خوبیاں بیان کی ہے ہیں۔
فرماتے ہیں کہ اگر آج مسلمانوں کو عروج حاصل کرنا ہے تو ان تینوں تہذیبوں کی خوبصورت ترین خصوصیات کو زندہ و جمع کرنا ہوگا ایک مرکز پر۔
‏بابا اقبال فرماتے ہیں کہ ہمیں عربوں کی زبان یعنی عربی کی ضرورت ہے ۔
ہم کو پاکستان کے مسلمانوں کا ذہن اور ان کی علمی صلاحیتوں کی ضرورت ہے۔
اور ہم کو ترک مسلمانوں کا جلال و جمال اور ان کی مجاہدانہ صلاحیتوں سے سیکھنا ہے۔۔
یہ تین اسلامی تہذیبیں ایک مرکز پر جمع کرنی ہے۔۔
‏اللہ سبحانہ و تعالی نے ترک مسلمانوں کو دو تحفے خاص طور پر عطا کئے ہیں۔
ایک ان کا مجاہدانہ جلال وجمال ہے۔۔
دوسرا ان میں عشق رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور ادب رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا ہے۔
اقبال اسی خوبصورت امتزاج کو شکوہ ترکمانی کہتے۔۔
‏پاک و ہند کے مسلمانوں کی یہ بدنصیبی ہوئی کہ وہ سوسال تک انگریزوں کے غلام ہوگئے گئے اور اس غلامی میں پیدا ہونے کے سبب ان سے وہ مجاہدانہ جلال چھین لیا گیا۔
اللہ کا کرم اور احسان یہ ہوا کہ ترک مسلمانوں کی تلواریں صدیوں تک اسلام کا دفاع کرتی رہیں اور ترک کبھی غلام نہیں بنے۔
‏آج جب کہ پوری امت مسلمہ زوال اور غلامی کے دور سے گزر رہی ہے، یہ اللہ کا احسان ہے کہ اس میں مسلمان ترک آج بھی مرد آزاد ہیں اور مجاہدانہ جلال رکھتے ہیں۔
پاکستان کے مسلمانوں کی نوجوان نسل کی تربیت کے لئے یے ہمارے ترک بھائی اور ان کی تاریخ ہمارے لئے قیمتی ترین اثاثہ ہیں۔
‏میں پاکستان کے نوجوانوں سے خاص طور پر کہوں گا گا کہ ترکی زبان سیکھیں۔۔
ترک صوفیانہ کلام اور ان کے جنگی ترانے  صدیوں سے پوری امت مسلمہ کا خون گرما رہے ہیں۔۔
ان میں ایک خاص عقابی روح ہے کہ جس سے بدنصیبی سے پاک و ہند کے مسلمان محروم ہیں۔
ترک تاریخ ہماری اپنی اسلامی تاریخ ہے ۔۔
‏دشمن چاہے کتنی بھی سازشیں کرلے، آنے والے وقتوں میں پاکستانی اور ترک مسلمان ہر میدان جنگ میں اکٹھے ہوں گے۔
ہم پاکستانی امت مسلمہ کے مشرقی محاذ کے محافظ ہیں جبکہ ترک مسلمان اسلامی ہلال کی مغربی سرحدیں سنبھالے ہوئے ہیں۔
دین کی اخلاقی روحانی اور مجاہدانہ اقدار  ہی شکوہ ترکمانی ہے۔۔

https://www.facebook.com/syedzaidzamanhamid/posts/2949867238401401

Thursday, 14 May 2020

May 14th, 2020

عشق و جنون کی لازوال داستان جب خون جگر سے لکھی جائے تو پھر عثمانی ترکوں کی عظیم رومانوی داستان جنم لیتی ہے


https://www.facebook.com/syedzaidzamanhamid/posts/2943066695748122

 
 
عشق و جنون کی لازوال داستان جب خون جگر سے لکھی جائے تو پھر عثمانی ترکوں کی عظیم رومانوی داستان جنم لیتی ہے‌ ۔۔
یہ شیروں اور دلیروں کے سفر ہیں یہاں بزدلوں اور بے غیرتوں کا کوئی کام نہیں ۔۔ پہلی مرتبہ پاکستانی قوم اپنی آنکھوں سے دیکھ رہی ہے کہ غیرت مند قیادت کہتے کسے ہیں۔
‏غلامی کی ذلت سے مفلوج قوم کے ذہن اس کو ناقابل یقین دیومالائی داستان سمجھ رہے ہیں۔۔
انشاءاللہ اللہ اس میں سے خیر نکالے گا۔
شاید ہماری نوجوان نسل یہ جان سکے کہ فقر غیور کی حامل آزاد قوم کیسی ہوتی ہے۔
 



لوگ تاج محل کو محبت کی علامت قرار دیتے ہیں مگر یقین کریں کہ #عثمانی دور میں مسجد #نبویﷺ کی تعمیر تعمیرات کی دنیا میں محبت اور عقیدت کی معراج ھے
ذرا پڑھیے اور اپنے دلوں کو عشق #نبی_ﷺ سے منور کریں۔


لوگ تاج محل کو محبت کی علامت قرار دیتے ہیں مگر یقین کریں کہ #عثمانی دور میں مسجد #نبویﷺ کی تعمیر تعمیرات کی دنیا میں محبت اور عقیدت کی معراج ھے
ذرا پڑھیے اور اپنے دلوں کو عشق #نبی_ﷺ سے منور کریں۔
ترکوں نے جب مسجد نبوی کی تعمیر کاارادہ کیا تو انہوں نے اپنی وسیع عریض ریاست میں اعلان کیا کہ انھیں عمارت
سازی سے متعلق فنون کے ماہرین درکار ھیں، اعلان کرنے کی دیر تھی کہ ھر علم کے مانے ھوۓ لوگوں نے اپنی خدمات پیش کیں،
سلطان کے حکم سے استنبول کے باہر ایک شہر بسایا گیا جس میں اطراف عالم سے آنے والے ان ماہرین کو الگ الگ محلوں میں بسایا گیا اس کے بعد عقیدت اور حیرت کا ایسا باب شروع ھوا جس کی نظیر مشکل ھے.
خلیفۂ وقت جو دنیا کا سب سے بڑا فرمانروا تھا شہر میں آیا اور ھر شعبے کے ماہر کو تاکید کی کہ اپنے ذھین ترین بچے کو اپنا فن اس طرح سکھاۓ کہ اسے یکتا و بیمثال کر دے اس اثنا میں ترک حکومت اس بچے کو حافظ قرآن اور شہسوار بناۓ گی
دنیا کی تاریخ کا یہ عجیب و غریب منصوبہ کئی سال جاری رھا 25 سال بعد نوجوانوں کی ایسی جماعت تیار ہوئی جو نہ صرف اپنے شعبے میں یکتاۓ روزگار تھے بلکہ ہر شخص حافظ قرآن اور باعمل مسلمان بھی تھا یہ لگ بھگ 500 لوگ تھے اسی دوران ترکوں نے پتھروں کی نئی کانیں دریافت کیں، جنگلوں سے لکڑیاں کٹوایٔیں، تختے حاصل کئے گئے اور شیشے کا سامان بہم پہنچایا گیا،
یہ سارا سامان #نبی_کریمﷺ کے شہر پہنچایا گیا تو ادب کا یہ عالم تھا کہ اسے رکھنے کے لیۓ مدینہ سے دور ایک بستی بسائی گیٔ تا کہ شور سے مدینہ کا ماحول خراب نہ ھو،
#نبیﷺ کے ادب کی وجہ سے اگر کی پتھر میں ترمیم کی ضرورت پڑتی تو اسے واپس اسی بستی بھیجا جاتا ماھرین کو حکم تھا کہ ھر شخص کام کے دوران #باوضو رھے اور درود شریف اور تلاوت قرآن میں مشغول رھے ھجرہ مبارک کی جالیوں کو کپڑے سے لپیٹ دیا گیا کہ گرد غبار اندر روضہ پاک میں نہ جاۓ ستون لگاۓ گئے کہ ریاض الجنت اور روضہ پاک پر مٹی نہ گرے یہ کام #پندرہ سال تک چلتا رھا اور تاریخ عالم گواہ ھے ایسی محبت ایسی عقیدت سے کوئی تعمیر نہ کبھی پہلے ہوئی اور نہ کبھی بعد میں ھو گی.
 

Monday, 11 May 2020

May 11th, 2020


آج غزوہ بدر کا دن ہے۔۔

غزوہ بدر کا پیغام ہمارے لئے غزوہ ہند کا پیغام ہے۔۔

اس کی حقیقت اور حکمت عملی کو اچھی طرح سمجھ لیں۔۔


https://www.youtube.com/watch?v=VSUv58hJvZI&feature=emb_logo


آج غزوہ بدر کا دن ہے۔۔
غزوہ بدر کا پیغام ہمارے لئے غزوہ ہند کا پیغام ہے۔۔
اس کی حقیقت اور حکمت عملی کو اچھی طرح سمجھ لیں۔۔

https://www.facebook.com/syedzaidzamanhamid/posts/2933756640012461



آپ نے یہ بات نوٹ کی ہوگی کہ ڈرامہ ارطغرل کی وجہ سے پوری دنیا میں اسلام دشمنوں، لبرل اور سیکولر کمینوں، قومیت پرستوں اور فرقہ پرست ملاؤں کو کتنی آگ لگی ہے۔۔😁

اور ان کو کیوں نہ آگ لگے؟

https://twitter.com/ZaidZamanHamid/status/1259878719424024577?s=19&fbclid=IwAR1AhvHGk2_encun49Pd6HihNTc7BH9rhFscMt2lL0TL1dvgU51Fn9cOJD4




آپ نے یہ بات نوٹ کی ہوگی کہ ڈرامہ ارطغرل کی وجہ سے پوری دنیا میں اسلام دشمنوں، لبرل اور سیکولر کمینوں، قومیت پرستوں اور فرقہ پرست ملاؤں کو کتنی آگ لگی ہے۔۔😁
اور ان کو کیوں نہ آگ لگے؟
پہلی مرتبہ مسلمان نسل اپنے غیرت مند اور دلیر آباواجداد سے صحیح معنوں میں واقف ہو رہی ہے۔۔
‏جب کسی تہذیب کو تباہ کرنا ہو اس کا طریقہ ہی یہ ہوتا ہے کہ اس کو اس کے ماضی، اس کی تاریخ اس اور کی اقدار سے کاٹ کر الگ کر دیا جائے۔
اس قوم کی نوجوان نسلوں میں فحاشی پھیلائی جائے اس کے رول ماڈل ایسے لوگوں کو بنا دیا جائے جو زانی و بدکار و بزدل و بے غیرت ہو ں۔
‏آج کل کے دور میں میڈیا کی جنگیں ایٹمی جنگوں سے زیادہ خطرناک ہیں۔ ٹی وی کی سکرین پر ہی قوموں کو تباہ و برباد کر دیا جاتا ہے۔
اللہ ترکوں کو برکت دے کہ ان کے اس ایک ڈرامے نے ہی دشمنوں کی جانب سے کئی دہائیوں کی کوششوں کا بیڑہ غرق کردیا ہے۔
اسی لئے کفار کی چیخیں نکل رہی ہیں۔
‏یہ حقیقت ہے کہ مسلمانوں کی نوجوان نسل کو معلوم ہی نہیں تھا کہ غیرت مند اور دلیر حکمران کہتے کسے ہیں۔۔
نگاہ بلند سخن دلنواز جاں پرسوز کونسی قیادت ہوتی ہے؟
جس قوم کی نسلوں نے دیکھا ہی زرداری نوازشریف اور الطاف کو ہو، اس کے لیے ارطغرل کا کردار کس قدر ناقابل یقین رومانوی ہوگا۔۔
‏ارطغرل کو صرف ایک ڈرامہ نا سمجھیئے گا۔۔ یہ آج کے دور میں دین اسلام اور اسلامی ریاست کی اذان ہے۔ پوری دنیا میں اسلام کی تبلیغ کے لیے سب سے طاقتور ہتھیار ہے۔ لاکھوں کروڑوں لوگوں کا تصور اسلام کے بارے میں مثبت کردیا اس سیریز نے، بلکہ سینکڑوں ہزاروں مسلمان بھی ہو گئے۔۔
‏پاکستان کے وہ لبرل سیکولر بے غیرت جو چوبیس گھنٹے ہندو بنے بھارتی اداکاروں کی تعریف کرتے رہتے ہیں، ان کو اس بات پر آگ لگ رہی ہے کہ پاکستانی ایک ترک غازی کے کردار سے کیوں عشق کرنے لگے ہیں۔
ارطغرل ترک کردار نہیں اسلامی کردار ہے۔ دنیا کا ہر مسلمان ان سے اپنا قلبی تعلق محسوس کرتا ہے
‏پاکستان کے مسلمان محمد بن قاسم سے پیار کرتے ہیں اور وہ عرب تھے۔
ہم سلطان صلاح الدین ایوبی سے عشق کرتے ہیں اور وہ کرد تھے۔۔
ہمیں عثمانیوں سے پیار ہے اور وہ ترک ہیں۔
دین اسلام کا کمال ہی یہی ہے کہ مسلمان ایک عالمگیر دین رکھتے۔
مسلم ہیں ہم وطن ہے سارا جہاں ہمارا۔۔
‏میں پاکستان کی نوجوانوں سے بھی کہوں گا کہ اس ڈرامے کے کرداروں پر فحش مذاق نہ بنائیں۔۔
برسوں سے ہمارے ہاں ایک بھانڈ اور ک*** کلچر رواج پا چکا ہے جس میں ہر معزز ہستی کے پگڑی اچھالی جاتی ہے۔۔
ہمارے ترک بھائی بہت غور سے ہمیں دیکھ رہے ہیں ہیں۔۔ اپنی شرم حیا اور غیرت کی حفاظت کریں۔۔
‏ہم پاکستانی تو ایسے تاریخی ڈرامے نہ بنا سکے، اگر ترک مسلمانوں نے یہ خدمت کر ہی دی ہے تو اس سے فیض لیں، اس کا مذاق نہ بنائیں۔۔
ترک مسلمان اپنی قوم کی تعمیر نو کر رہے ہیں۔۔ان کی اس خدمت سے فائدہ اٹھائیں اور اپنی نسل کی تربیت کریں۔۔
اسلام تو ہمارا ایک ہی ہے۔۔ہم ایک ہیں ملت ہیں۔۔


https://www.facebook.com/syedzaidzamanhamid/posts/2935177296537062