...
Showing posts with label Locked down. Show all posts
Showing posts with label Locked down. Show all posts

Tuesday, 30 March 2021

March 31st, 2021

 

جو بات میں کرنے جا رہا ہوں حکومت کو چاہیے کہ اس پر تحمل سے غور کرے ورنہ ملک میں بغاوت برپا ہو جائے گی۔۔۔

جب دشمن ملک پر حملہ کرتا ہے تو آپ کہتے ہیں ہم ہر قسم کی جانی قربانی دیں گے ملک کے چپے چپے کی حفاظت کے لئے۔۔

آپ جان بچانے کے لیے ملک دشمن کو نہیں دے دیتے ، قربانیاں دیتے ہیں۔

‏کرونا بھی پاکستان پر ایک جنگ مسلط کی گئی ہے

https://twitter.com/ZaidZamanHamid/status/1376988015252406276

 

جو بات میں کرنے جا رہا ہوں حکومت کو چاہیے کہ اس پر تحمل سے غور کرے ورنہ ملک میں بغاوت برپا ہو جائے گی۔۔۔

جب دشمن ملک پر حملہ کرتا ہے تو آپ کہتے ہیں ہم ہر قسم کی جانی قربانی دیں گے ملک کے چپے چپے کی حفاظت کے لئے۔۔

آپ جان بچانے کے لیے ملک دشمن کو نہیں دے دیتے ، قربانیاں دیتے ہیں۔

‏کرونا بھی پاکستان پر ایک جنگ مسلط کی گئی ہے۔

آپ جان بچانے کے لئے ملک اور قوم کو تباہ نہیں کروا سکتے۔

ملک اور قوم و تعلیم اور مذہب کو بچانے کے لیے اگر معمولی جانی قربانی دینی بھی پڑے تو یہ مہنگا سودا نہیں ہے۔

اس وقت حکومتی پالیسیاں ا جتماعی خودکشی ہے۔

‏پچھلے 14 مہینوں میں پاکستان میں صرف 13 ہزار لوگ کرو نا سے مرے ہیں۔۔ اس میں بھی اکثریت غلط منسوب کی گئی ہے۔ یہ یقینی بات ہے کہ پاکستان پر کرونا کا اثر نہیں ہوا ہے۔ اگر تھوڑے بہت کمزور اور بوڑھے لوگ وفات بھی پا گئے ہیں، تو یہ کوی وبا نہیں بنی۔

یہ بالکل یقینی بات ہے۔

‏مگر جو اقدامات حکومت اٹھا رہی ہے، اس سے یقینی طور پر کروڑوں لوگ بھوک بیروزگاری اور غربت سے مارے جائیں گے۔۔

ملک میں تعلیمی نظام تباہ ہو گیا ہے اور بچے نفسیاتی مریض بن گئے ہیں۔

چھوٹا کاروبار مکمل تباہ ہو رہا ہے۔

لوگوں کو دین اسلام پر عمل کرنے سے روکا جا رہا ہے۔۔

‏اس معاشی تباہی کے وقت رمضان شریف قریب آرہا ہے۔ اس مہینے میں کئی سو ارب روپیہ معاشرے میں کاروبار و تجارت کی مد میں گردش کرتا ہے اور غریب طبقہ کماتا ہے۔

اگر حکومت نے بازار اور مارکیٹیں بند کر دیں تو درمیانہ اور غریب طبقہ تباہ ہو جائے گا۔

پہلے ہی ملک میں بہت معاشی تباہی ہو چکی ہے

‏مشکل پریشانی اور مصیبتوں کے وقت مسلمان اللہ کے قریب جاکر سکون تلاش کرتا ہے۔۔۔ رمضان میں اگر آپ نے لوگوں کو عبادات سے روکا، تراویح اور افطار کی محفلوں پر پابندیاں لگائیں تو معاشرے کو بری طرح ذہنی انتشار اور روحانی بے سکونی میں دھکیل دیں گے۔

معیشت اور مذہب کی تباہی ہو جاے گی۔

‏اللہ نے پاکستان پر کرم فرمایا ہے ہے کہ ہم پر اس بیماری کا کوئی اثر نہیں ہوا۔

عام ٹریفک حادثات میں اس سے زیادہ لوگ ہر سال مارے جاتے ہیں۔ کوئی وجہ نہیں ہے کہ بیماری کے علاج کو بیماری سے بڑا فساد بنا دیا جائے

لاکھوں کروڑوں افراد کو بھوکا پیاسا مار کر حکومت صرف معاشرے کو تباہ کرے گی

‏میں براہ راست عمران خان سے مخاطب ہوں۔۔ اس وقت ملک کے حاکم آپ ہیں۔۔ ملک میں ایک ایک بھوکے اور پیاسے فرد کا حساب آپ کو اللہ کو دینا پڑے گا۔۔۔آپ اس کی ذمہ داری اپنے وزیروں اور پچھلی حکومتوں پر نہیں ڈال سکتے۔۔

آپ کو خطرناک حد تک گمراہ کیا جارہا ہے۔

ملک کا کاروبار چلنے دیں ۔۔

‏ملک کے ہر صوبے میں پہلے ہی بہت سیاسی انارکی اور افراتفری ہے۔۔۔ حکومت کے اقدامات خود لوگوں کو بغاوت پر اکسا رہے ہیں۔۔۔

۔ لوگوں کو اپنے کاروبار کرنے دیں، آپ کو پیسے بانٹنے کی ضرورت ہی نہیں رہے گی۔

قوم کو بھکاری مت بنائیے۔۔ تعلیمی ادارے اور مساجد کو بند نہ کریں۔

یہ ظلم بند کریں!

 

 

Sunday, 28 June 2020

June 27th, 2020

پاکستانی اشرافیہ اور مکافات عمل


پاکستانی اشرافیہ اور مکافات عمل
تحریر: سید زید زمان حامد
پاکستان میں اس وقت جو کچھ ہورہا ہے ، وہ کسی ڈراﺅنے خواب سے کم نہیں۔ طاقت کے ایوانوں میں بیٹھے پالیسی ساز مغلیہ سلطنت کے آخری دور کی یاد تازہ کررہے ہیں۔الحمدللہ یہ فقیران کا نبض شنا س ہے اور ان کی ذہنی سطح اورمستقبل کا منظرنامہ میرے لیے کسی صدمے سے کم نہیں۔مجھے افسوس سے کہنا پڑرہا ہے کہ پاکستان اب کسی طور بھی محفوظ ہاتھوں میں نہیں ہے۔ پے در پے حماقتوں،خودکش معاشی پالیسیوں اورایک شتر بے مہار حکومت نے ملک کو تباہی کے دھانے پرلا کھڑا کیا ہے۔
آئیں آپ کو ریاستی فیصلہ سازوں کے چند احمقانہ نظریات بتاتا ہوں۔
٭ پشتون تحفظ تحریک کو سیاسی عمل کا حصہ بنا کر انہیں ”راہ راست“ پر لایا جاسکتا ہے۔
٭ ایم کیو ایم کراچی ، ایم کیو ایم لندن سے مختلف ہے۔
٭ کشمیر تو یوں بھی ستر برس سے بھارت کا حصہ تھا، 5 اگست کے بعد کیا بدل گیا؟ لہذا پریشان ہونے اور شور شرابہ کرنے کی کیا ضرورت ہے۔
٭ سندھ میں گورنر راج نافذ کرنے کی کوئی ضرورت نہیں۔ زرداری مافیا نے وہاں معاملات بخوبی سنبھال رکھے ہیں۔
٭ لاک ڈاﺅن ضروری ہیں، خواہ اس سے معیشت اور معاشرہ تباہ ہوکر رہ جائے۔ حالانکہ کسی کو نہیں معلوم کہ اس وبائی بحران میں کرنا کیا ہے اور لاک ڈاﺅن کیا تباہی لائے گا۔
٭ عمران حکومت اپنی مدت ضرور پوری کرے گی۔
٭ بھارت اگر پاکستان پر حملہ کرتا بھی ہے تو یہ ایک محدود پیمانے کی مختصر سی جھڑپ ہوگی کہ جسے پاک فضائیہ ہی نمٹا لے گی۔ لہذا قوم کو فوجی تربیت دینے کی اور اشیاءخوردونوش اور پٹرول ذخیرہ کرنے کی کوئی ضرورت نہیں۔
یہ صرف چند مثالیں ہیں۔
آپ میری رائے سے اختلاف کرسکتے ہیں، مگر ان زمینی حقائق کو نہیں جھٹلا سکتے۔
کیا پی ٹی ایم کو قومی اسمبلی تک رسائی نہیں دی گئی؟ کیا ہندوستان کے کشمیر سے متعلق اقدام پر کوئی خاطر خواہ رد عمل دیکھنے میں آیا؟ کیا ایم کیو ایم عمران کی حکومت کا حصہ نہیں ہے؟ کیا پیپلز پارٹی حکومت سندھ کو تباہ کرنے میں بدستور مصروف نہیں ہے؟
جو کچھ ہورہا ہے، یہ ریاستی فیصلہ سازوںکی کوتاہ نظری کے باعث ہورہا ہے، گو کہ اس میں انتظامی کوتاہیوں کا عمل دخل بھی ہے، مگراہم ریاستی اداروں میں بیٹھے غدار اور نا اہل اور کرپٹ ترین افرادریاست پاکستان کیلئے سب سے بڑا خطرہ ہیں، اور یہی لوگ وجہ ہیں موجودہ افراتفری اور بحران کی۔خواہ ہماری قوم اس سے لا علم ہو، مگر ہمارا دشمن اس بات کو اچھی طرح جانتا ہے۔
 بعض اوقات تو میں صورتحال کی مضحکہ خیزی پر دنگ رہ جاتا ہوں۔ کرپٹ حکمران پاکستان کو نوچ نوچ کر کھارہے ہیںاور یہ دولت بیرون ملک منتقل کررہے ہیں، اور ان کا یہ خیال ہے کہ جب پاکستان تباہ ہوجائے گا تو وہ یہاں سے فرار ہو کر کسی محفوظ مقام پر منتقل ہوجائیں گے۔ہرگز نہیں! آج پوری دنیا میں کوئی مقام محفوظ نہیں ہے۔
اگر عدلیہ کی بات کریں تو یہاں بھی صورتحال مختلف نہیں۔اگر عدلیہ انصاف کرتی تو آج ملک تباہی کے دہانے پر نہ کھڑا ہوتا۔ مگر بدقسمتی سے ہمارا نظام عدل بھی ریاست کو گرانے میں پورا زور لگارہا ہے۔ کرپشن کے کسی ایک کیس کا فیصلہ نہیں ہوا، کسی ایک بڑے مجرم کو سزا نہیں ہوئی اور اب تو عدالتیں دہشت گردوں کیلئے بھی پناہ گاہ کاکام دے رہی ہیں۔ افسوس!
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس صورتحال سے نکلا کیسے جائے؟ شاید اب اس سے نکلنا ممکن نہ ہو۔ جہاںتک مجھے نظر آرہا ہے ، معاملات اقتدار کی مسند پر فائز افراد کے ہاتھوں سے نکل چکے ہیں۔ وزیراعظم کا حال یہ ہے کہ اس کے اپنے الفاظ کی کوئی حیثیت باقی نہیں رہی ، ایک کٹھ پتلی ہے کہ جس کے پاس نہ کوئی طاقت ہے، نہ اختیار اور نہ ہی اسے پتہ ہے کہ کرنا کیا ہے، بس جواس کے خوشامدی مشیر کہتے ہیں، وہی کر بیٹھتا ہے۔
دوسری طرف ایک اور طوفان سر اٹھارہا ہے۔ بھارت پاکستان میں موجود اپنے دہشت گرد وںکو حرکت میں لاچکا ہے اور سیاست میں موجود مافیا نے احتساب سے سابقہ پڑنے کے بعد اپنی ہی ریاست کے خلاف اعلان بغاوت بھی کردیا ہے۔اس غلیظ ماحول میں فوج کو بھی کیچڑ میں گھسیٹا جارہا ہے۔
آج پاکستان کو درپیش سب سے بڑا بحران قیادت کا بحران ہے۔ درحقیقت ملک یتیم ہے۔ کوئی بھی صاحب اختیار نہیں۔ہر وزیر، ہر ادارہ بھانت بھانت کی بولیاں بول رہا ہے اور ریاست پاکستان اتنی کمزور شاید پہلے کبھی بھی نہ تھی، اور یہی کمزور ی دشمن بھانپ چکا ہے اور اب اس نے پاکستان کے خلاف پوری قوت سے جنگ کا آغاز کردیا ہے۔
پاکستانی ریاست اور پاکستانی قوم کو اب پے درپے شدید صدمات کا سامنا کرنا پڑے گا۔۔۔ یہ ہماری اجتماعی بداعمالیوں کی سزا اور فطرت کی جانب سے مکافات عمل ہے۔
٭٭٭٭٭

https://www.facebook.com/syedzaidzamanhamid/posts/3063323580389099