...
Showing posts with label respect and love for parents. Show all posts
Showing posts with label respect and love for parents. Show all posts

Tuesday, 11 February 2020

February 10th, 2020

وہ ایک ڈاکٹر


وہ ایک ڈاکٹر ۔
اکثر ایسا ہوتا کہ وہ نسخے پر ڈسپنسر کے لیے لکھتے کہ اس مریض سے پیسے نہیں لینے۔ اور جب کبھی مریض پوچھتا کہ ڈاکٹر صاحب آپ نے پیسے کیوں نہیں لیے؟ تو وہ کہتے کہ مجھے شرم آتی ہے کہ جس کا نام صدیق ہو، عمر ہو، عثمان ہو، علی ہو یا خدیجہ، عائشہ اور فاطمہ ہو تو میں اس سے پیسے لوں۔ ساری عمر انہوں نے خلفائے راشدین، امہات المومنین اور بنات رسولﷺ کے ہم نام لوگوں سے پیسے نہ لیے۔ یہ ان کی محبت اور ادب کا عجیب انداز تھا۔

امام احمد بن حنبل نہر پر وضو فرما رہے تھے کہ ان کا شاگرد بھی وضوکرنے آن پہنچا، لیکن فوراً ہی اٹھ کھڑا ہوا اور امام صاحب سے آگے جا کر بیٹھ گیا۔پوچھنے پر کہا
کہ دل میں خیال آیا کہ میری طرف سے پانی بہہ کر آپ کی طرف آ رہا ہے۔مجھے شرم آئی کہ استاد میرے مستعمل پانی سے وضوکرے۔

اپنے سگے چچا حضرت عباس رضی اللہ عنہ سے رسول اللہﷺ نے پوچھا کہ آپ بڑے ہیں یا میں؟(عمر پوچھنا مقصود تھا) کہا یا رسول اللہﷺ بڑے تو آپ ہی ہیں البتہ عمر میری زیادہ ہے۔

مجدد الف ثانی ؒ رات کو سوتے ہوئے یہ احتیاط بھی کرتے کہ پاؤں استاد کے گھر کی طرف نہ ہوں اور بیت الخلا جاتے ہوئے اور یہ بھی احتیاط کرتے کہ جس قلم سے لکھ رہا ہوں اس کی کوئی سیاہی ہاتھ پر لگی نہ رہ جائے۔

ادب کا یہ انداز اسلامی تہذیب کا طرہ امتیاز رہا ہے اور یہ کوئی برصغیر کے ساتھ ہی خاص نہ تھا بلکہ جہاں جہاں بھی اسلام گیا اس کی تعلیمات کے زیر اثر ایسی ہی تہذیب پیدا ہوئی جس میں بڑوں کے ادب کو خاص اہمیت حاصل تھی کیوں کہ رسول اللہﷺ کا یہ ارشاد سب کو یاد تھا
کہ جو بڑوں کا ادب نہیں کرتا اور چھوٹوں سے پیار نہیں کرتا وہ ہم میں سے نہیں۔

ابھی زیادہ زمانہ نہیں گزرا کہ لوگ ماں باپ کے برابر بیٹھنا،
ان کے آگے چلنا اور ان سے اونچا بولنا برا سمجھتے تھے اور اُن کے حکم پر عمل کرنا اپنے لیے فخر جانتے تھے۔ اس کے صدقے اللہ انہیں نوازتا بھی تھا۔ اسلامی معاشروں میں یہ بات مشہور تھی کہ جو یہ چاہتا ہے کہ اللہ اس کے رزق میں اضافہ کرے وہ والدین کے ادب کا حق ادا کرے اور جو یہ چاہتا ہے کہ اللہ اس کے علم میں اضافہ کرے وہ استاد کا ادب کرے۔

ایک دوست کہتے ہیں کہ میں نے بڑی مشقت سے پیسہ اکٹھا کر کے پلاٹ لیا تو والد صاحب نے کہا کہ بیٹا تمہارا فلاں بھائی کمزور ہے یہ پلاٹ اگر تم اسے دے دو تو میں تمہیں دعائیں دوں گا۔ حالاں کہ وہ بھائی والدین کا نافرمان تھا۔
اس (دوست) کا کہنا ہے کہ عقل نے تو بڑا سمجھایا کہ یہ کام کرنا حماقت ہے مگر میں نے عقل سے کہا کہ اقبال نے کہا ہے،

اچھا ہے دل کے ساتھ رہے پاسبان عقل......
لیکن کبھی کبھی اسے تنہا بھی چھوڑ دے......

چناچہ عقل کو تنہا چھوڑا اور وہ پلاٹ بھائی کو دے دیا۔
کہتے ہیں کہ والد صاحب بہت خوش ہوئے اور انہی کی دعا کا صدقہ ہے کہ آج میرے کئی مکانات اور پلازے ہیں جب کہ بھائی کا بس اسی پلاٹ پر ایک مکان ہے۔

والدین کی طرح استاد کا ادب بھی اسلامی معاشروں کی ایک امتیازی خصوصیت تھی اور اس کا تسلسل بھی صحابہ کے زمانے سے چلا آر ہا تھا۔حضور ﷺ کے چچا کے بیٹے ابن عباس کسی صحابی سے کوئی حدیث حاصل کر نے جاتے تو جا کر اس کے دروازے پر بیٹھ رہتے۔ اس کا دروازہ کھٹکھٹانا بھی ادب کے خلاف سمجھتے اور جب وہ صحابی خود ہی کسی کام سے باہر نکلتے تو ان سے حدیث پوچھتے اور اس دوران سخت گرمی میں پسینہ بہتا رہتا، لو چلتی رہتی اور یہ برداشت کرتے رہتے۔ وہ صحابی شرمندہ ہوتے اور کہتے
کہ آپ تو رسول اللہ کے چچا کے بیٹے ہیں آپ نے مجھے بلا لیا ہوتا تو یہ کہتے کہ میں شاگرد بن کے آیا ہوں، آپ کا یہ حق تھا کہ میں آپ کا ادب کروں اور اپنے کا م کے لیے آپ کو تنگ نہ کروں۔

کتنی ہی مدت ہمارے نظام تعلیم میں یہ رواج رہا (بلکہ اسلامی مدارس میں آج بھی ہے) کہ ہر مضمون کے استاد کا ایک کمرہ ہوتا، وہ وہیں بیٹھتا اور شاگرد خود چل کر وہاں پڑھنے آتے جب کہ اب شاگر د کلاسوں میں بیٹھے رہتے ہیں
اور استاد سارا دن چل چل کر ان کے پاس جاتا ہے۔ مسلمان تہذیبوں میں یہ معاملہ صرف والدین اور استاد تک ہی محدود نہ تھا بلکہ باقی رشتوں کے معاملے میں بھی ایسی ہی احتیاط کی جاتی تھی۔ وہاں چھوٹا، چھوٹا تھا اور بڑا، بڑا۔ چھوٹا عمر بڑھنے کے ساتھ بڑا نہیں بن جاتا تھا بلکہ چھوٹا ہی رہتا تھا۔

ابن عمر جار ہے تھے کہ ایک بدو کو دیکھا۔ سواری سے اترے، بڑے ادب سے پیش آئے اور اس کو بہت سا ہدیہ دیا۔ کسی نے کہا کہ یہ بدو ہے تھوڑے پہ بھی راضی ہو جاتا آپ نے اسے اتنا عطا کر دیا۔ فرمایا کہ یہ میرے والد صاحب کے پاس آیا کرتا تھا تو مجھے شرم آئی کہ میں اس کا احترام نہ کروں۔

اسلامی تہذیب کمزور ہوئی تو بہت سی باتوں کی طرح حفظ مراتب کی یہ قدر بھی اپنی اہمیت کھو بیٹھی۔
اب برابر ی کا ڈھنڈو را پیٹا گیا اور بچے ماں باپ کے برابر کھڑے ہوگئے اور شاگرد استاد کے برابر۔ جس سے وہ سار ی خرابیاں در آئیں جو مغربی تہذیب میں موجود ہیں۔

اسلام اس مساوات کا ہر گز قائل نہیں کہ جس میں گھوڑا اور گدھا برابر ہو جائیں اور ابوبکر اور ابو جہل برابر۔

اسلام کا یہ کہنا ہے کہ لاکھ زمانہ بدلے مگر ابوبکر، ابو بکر رہے گا اور ابو جہل، ابوجہل ۔ گھوڑا، گھوڑا رہے گا اور
گدھا، گدھا۔ اسی طرح استاد، استاد رہے گا اور شاگرد، شاگرد۔ والد، والد رہے گا اور بیٹا، بیٹا۔ سب کا اپنا اپنا مقام اور اپنی اپنی جگہ ہے اُن کو اُن کے مقام پر رکھنا اور اس کے لحاظ سے ادب و احترا م دینا ہی تہذیب کا حسن ہے۔

مغربی تہذیب کا مسلمان معاشروں پہ سب سے بڑا وار (شاید) اسی راستے سے ہوا ہے جب کہ مسلمان عریانی اور فحاشی کو سمجھ رہے ہیں۔ عریانی اور فحاشی کا برا ہونا سب کو سمجھ میں آتا ہے اس لیے اس کے خلاف عمل کرنا آسان ہے جب کہ حفظِ مراتب اور محبت کے آداب کی اہمیت کا سمجھ آنا مشکل ہے اس لیے یہ قدر تیزی سے رُو بہ زوال ہے۔

https://www.facebook.com/syedzaidzamanhamid/posts/2716848635036597?__tn__=K-R

Thursday, 21 March 2013

March 22, 2013

They are your dunya and akhira. Treasure them.

 

 


my dear children, while we fight to create an Islamic state, DO NOT forget your duties towards your parents. The educational and media systems of today DO NOT teach adab and mercy to the new generation. Generally, this young generation is casual and careless towards elders and parents. These sacred values have almost been lost but must be preserved with tender loving care.

Remember this, no amount of effort, prayers, salat or Ibadat will help you if your are Gustakh or harsh towards your parents. Be kind on them so that Allah may be kind on you. They are your dunya and akhira. Treasure them.
http://www.facebook.com/photo.php?fbid=474062909315192&set=a.109687115752775.23119.109463862441767&type=1




We salute you soldier !! Nation cannot payback your debt.

 

 


March 23rd is close now. This day, we pledged to create this beloved Pak sarzameen, against all odds through staggering sacrifices through a sea of fire and blood. Our forefathers were up to the mark, did their duty with passion and courage.

In every age and generation since then, there are people who have stood firm to keep this Sabz Hilali parcham high. The nation was betrayed by leaders, judiciary, politicians, media and thinkers but still a small band of the brave and the idealists held their ground to defend this Pak sarzameen.

This Pak army soldier did his best to protect the honor of this flag fighting against the TTP Khawarij and now holds it high with pride.

We salute you soldier !! Nation cannot payback your debt.
http://www.facebook.com/photo.php?fbid=474090062645810&set=a.109687115752775.23119.109463862441767&type=1&theater


 

 

To contact me directly pl sms at 03360052745. I have taken this number exclusively for sms.

 

To contact me directly pl sms at 03360052745. I have taken this number exclusively for sms. Please use this one and follow the protocol. Introduce yourself fully, with name, age, city and profession and then ask.

My other number 03215181350 is for calls whose number is already with me. Unknown numbers wont be picked :) . Use sms then.

For questions whose answers are too long for sms, please send me an email. That is easier. syedzaidzamanhamid@gmail.com

You can also leave messages at BT office at 051-5598046,7. Shami or Saeed will coordinate.

Jazak Allah.

ZH

http://www.facebook.com/syedzaidzamanhamid/posts/474193369302146 




 

March 23rd, 2010, One of the most intense moment in the recent ideological and romantic history of Pakistan. The destiny is now defined !!



http://vimeo.com/62406447
 
It was one of the most intense moment in the recent ideological and romantic history of Pakistan. March 23rd, 2010, a small band of patriots and Shaheens of Iqbal came together to pass the Takmeel e Pakistan resolution.

The entire state, Police, media, judiciary and the Fasadi Mullahs ganged together to block this azaan -- which was the second Lahore resolution after March 23rd 1940 !! It was an extreme moment of passion and emotions. We were all under threat of attacks, arrests and even grieve bodily harm but still the youth held their ground and we achieved what the enemies thought would be impossible.

The romance, passions and sence of glory of the moment is nostalgic and inshAllah, will now decide the future of this millat, alhamdolillah !!

Here we share that moment with you once again as March 23rd arrive once again -- 73 anniversary of Pakistan resolution, 3rd anniversary of Takmeel e Pakkstan resolution !! The destiny is now defined !!

http://www.facebook.com/syedzaidzamanhamid/posts/590441197634520 

  

 

This is Misison Takmeel e Pakistan -- from creation to completion


http://www.facebook.com/photo.php?v=503459689712519

This is Misison Takmeel e Pakistan -- from creation to completion
This is a sacred duty we must do, beyond all religious, political or ethnic differences. This is a duty towards Rasul Allah (sm). This is misison Takmeel e Pakistan !!

http://www.facebook.com/photo.php?v=503459689712519