...
Showing posts with label ethnic lines. Show all posts
Showing posts with label ethnic lines. Show all posts

Friday, 29 June 2018

May 8th, 2018

What is the history of PTM? What is its nexus with internal traitors and external enemies? Why are these PTM snakes still roaming free? How can we destroy enemy plans through information warfare??


https://www.facebook.com/syedzaidzamanhamid/videos/1659877897400348/

What is the history of PTM? What is its nexus with internal traitors and external enemies? Why are these PTM snakes still roaming free? How can we destroy enemy plans through information warfare?? Our detailed analysis today...

https://www.facebook.com/syedzaidzamanhamid/videos/1659877897400348/



مکمل تباہی کو روکنے اور قوم کو سنبھالنے کا راستہ ایک محب وطن، قابل ترین اور سخت ترین عبوری حکومت سے شروع ہوتا ہے کہ جس کی قیادت ایک پشتون کررہا ہو۔

پشتون سربراہ کا ہونا اب لازم ہے!

 









میں تاریخ کا ایک ادنیٰ سا طالبعلم ہوں۔ خاص طور پر مسلمان تہذیبوں کے عروج و زوال کی داستانیں مجھے بہت متاثر کرتی ہیں۔میں اس بات پر بہت غور کرتا ہوں کہ آخر کیا وجہ ہوئی کہ اندلس اور بغداد کی شاندار تہذیبیں یوں کھنڈر بن گئیں؟

لوگ تاریخ میں ہلاکو خان کا بغداد آنا اور اس کو تباہ و برباد کرنا تو یاد رکھتے ہیں، مگر کوئی ان اسباب پر غور نہیں کرتا کہ جن کا آغاز سالوں قبل ہوتا ہے اور پھر مسلسل غفلت، کوتاہیوں اور غداریوں کی بناءپر آخر کار سقوط بغداد کی شکل میں ظاہر ہوتا ہے۔

یاد رکھیے گا کہ تاریخ کا کوئی بھی سانحہ اچانک واقع نہیں ہوتا۔ اگر بغداد ہلاکو کے ہاتھوں تباہ ہوا تو اس کی وجہ نسلوں کی غلطیاں اور کوتاہیاں تھیں۔ اگر ڈھاکہ ڈوب گیا تو اس کا آغاز بھی 71 ءکی جنگ سے سالوں قبل ہوچکا تھا۔

فطرت ہمیشہ قوموں کو توبہ و تنبیہ کے طویل مواقع فراہم کرتی ہے۔ ہر دور میں ایسے لوگ ہوتے ہیں کہ جو خطرات کی پیشگی نشاندہی کرکے اپنی غافل قوم کو بیدار کرنے کی سرتوڑ کوشش کرتے ہیں۔ اگر اللہ کرم فرماتا ہے تو قوم کی اشرافیہ بات مان لیتی ہے، ورنہ سقوط بغداد و ڈھاکہ جیسے عذاب نازل ہوتے ہیں۔

سقوط ڈھاکہ کو آج تقریباً 46 برس ہونے کو آئے ہیں۔ دو نسلیں بیچ میں پیدا ہوچکی ہیں۔ مجموعی طور پر قوم ان تمام اسباب کو فراموش کرچکی ہے کہ جن کے نتیجے میں پاکستان ٹوٹا تھا۔ ہم بھول چکے ہیں، دشمن نہیں بھولا۔ وہ وہی کاری ضرب ایک دفعہ پھر لگانے جارہا ہے۔

کیا اللہ نے پاکستانی قوم کو آنے والے خطرات سے آگا نہیں کیا؟ کیا پاکستانی قوم پر اس نے حجت تمام نہیں کی؟ کیا پاکستانی قوم نے شام، لیبیا اور عراق کے حالات کو نہیں دیکھا؟ کیا اس قوم کو معلوم نہیں کہ ہم خود 17 سال سے حالت جنگ میں ہیں؟ تو پھر اس غفلت، کوتاہی اور مجرمانہ خیانت کا کیا جواز ہے؟؟؟

حقیقت یہ ہے کہ بغداد کی تباہی سے پہلے بھی سالوں تک وہاں کی اشرافیہ کو نصیحتیں کی گئی تھیں، بیدار کرنے کی اذانیں ان کے کانوں میں پہنچیں تھیں، مگر ان بدنصیبوں نے تباہی کا راستہ خود اختیار کیا، جیسے کہ آج پاکستانی قوم اپنی مرضی سے خودکشی کرنا چاہ رہی ہے۔

یاد رکھنا یہ بات کہ پاکستان جغرافیے کی بنیاد پر نہیں، نظریے کی بنیاد پر قائم تھا، ہے اور رہے گا!!!
جس کسی نے بھی پاکستان کو نقصان پہنچانا ہوگا وہ اس کے جغرافیے پر حملہ کرنے سے پہلے اس کے نظریے پر حملہ کرے گا۔ ہمارا نظریہ اسلام ہے، پختون، مہاجر، بلوچ، سندھی، کشمیری وغیرہ نہیں۔

کیا ہم بحیثیت مجموعی اندھے، گونگے اور بہرے ہوچکے ہیں کہ ہمیں نظر نہیں آرہا کہ ملک میں خانہ جنگی کے پورے اسباب تیار کیے جاچکے ہیں۔ متحدہ ایک دفعہ پھر ”مہاجر“ بن چکی ہے۔ پشتونوں ، بلوچوں اور سندھیوں کو ”پنجاب“ کے خلاف بھڑکایا جارہا ہے۔ زرداری اور شہباز پوری طرح سندھی اور پنجابی کارڈ کھیل رہے ہیں۔

کوئی بھی ملک بغیر حکومت نہیں چل سکتا۔ کتنی بھی طاقتور پاک فوج یا آئی ایس آئی ہو، وہ حکومت وقت کا کام نہیں کرسکتی۔ اور یہاں حکومت وقت کا یہ حال ہے کہ کھلم کھلا ملک و قوم و نظریے و فوج کے خلاف اعلان جنگ کرچکی ہے۔
خودکشی اور کس کو کہتے ہیں؟؟؟

میں صاف کہہ رہا ہوں، پاک فوج اور سپریم کورٹ بہت زیادہ دیر کرررہے ہیں۔ سیاسی جماعتیں یا تو مکمل طور پر غدار ہیں، یا مکمل طور پر احمق، دونوں صورتوں میں ان کا مرکزی کردار ہے ملک کو خانہ جنگی کی جانب دھکیلنے میں۔ آئین اور قانون دوبارہ لکھے جاسکتے ہیں، ملک دوبارہ نہیں بنائے جاسکتے!

اگر فوج اور سپریم کورٹ نے آنے والے وقتوں میں دوبارہ الیکشن کرانے کا فیصلہ کیا تو پھر ہم نصیحت کریں گے کہ گھر میں خوراک اور ہتھیار جمع کرلیں۔ آپ کو ان کی سخت ضرورت پڑے گی۔
ابھی بھی توبہ کا وقت ہے۔ مضبوط محب وطن عبوری حکومت لا کر تین سال تک کڑا احتساب اور نظام کی درستگی۔ ورنہ خانہ جنگی اور پھر جنگ!

اس موجودہ حرامخور حکومت کے ختم ہونے میں تین ہفتے رہ گئے ہیں۔ نواز شریف کو جیل جانے میں بھی کچھ اتنا ہی وقت ہے۔ پچھلے دس سالوں میں تمام سیاسی جماعتیں غداری اور خیانت کے تمام ریکارڈ توڑ چکی ہیں۔ عبوری حکومت میں آنا بھڑکتی ہوئی آگ میں داخل ہونے کے مترادف ہوگا۔

پچھلے دس سال کی تباہ کن پالیسیاں اب یہاں تک ملک کو لے آئی ہیں کہ قابل ترین اور محب وطن ترین حکومت کو بھی ملک کو سنبھالنے میں سر دھڑ کی بازی لگانی پڑے گی۔ خزانہ خالی، قرضوں کے پہاڑ، تمام ریاستی ادارے تباہ، دہشت گرد مسلح ہو کر منتظر، اور میڈیا بے شرم و بے غیرت!

اللہ نے ان شاءاللہ اس پاکستان کی حفاظت کرنی ہے، مگر یہ پاکستانی اپنی بد اعمالیوں کی سزا چکھ بھی رہے ہیں اور مزید بھی چکھیں گے۔ جب اللہ عذاب میں مبتلا کرتا ہے تو بھوک اور خوف کا عذاب سب سے پہلے آتا ہے۔ آج دہشت گردی کا خوف بھی ہے، معیشت بھی تباہ ہے اور کراچی میں تو بوند بوند پانی کو ترس رہے ہیں۔

آنے والے ایک مہینے میں اس ملک کے صاحبان اقتدار کو اہم ترین فیصلے کرنے ہیں۔ غلطی کی گنجائش اب اس قوم کے پاس نہیں ہے۔ مکمل تباہی کو روکنے اور قوم کو سنبھالنے کا راستہ ایک محب وطن، قابل ترین اور سخت ترین عبوری حکومت سے شروع ہوتا ہے کہ جس کی قیادت ایک پشتون کررہا ہو۔
پشتون سربراہ کا ہونا اب لازم ہے!

https://www.facebook.com/syedzaidzamanhamid/posts/1660709687317169


Saturday, 28 April 2018

April 22nd, 2018

پاکستان کو آج جن چیلنجز کا سامنا ہے، سیاسی جماعتوں اور انکے قوم پرست لیڈران کو انکا ادراک تک بھی نہیں ہے. نسل پرستی اور قوم پرستی پر مبنی ان سیاسی جماعتوں سے، جو خود ایک کینسر ہیں، مسائل کے حل کی توقع رکھنا حماقت کے سوا کچھ نہیں. پاکستانی فوج اور سپریم کورٹ کو یہ بات سمجھنے کی سخت ضرورت ہے.



اقوام عالم میں نسل اور زبان کی بنیاد پر وجود میں آنیوالی ریاستوں میں پاکستان ایک حیرت انگیز ریاست ہے. مختلف رنگ و نسل اور مختلف زبانوں کے باوجود برصغیر کے مسلمانوں میں ربط پیدا کرکے ایک قومی ریاست بنانے والا عنصر پاکستان کا اسلامی نظریہ تھا.

پاکستان میں بسنے والی اقوام کو باہم جوڑنے والا واحد عنصر اسکا اسلامی نظریہ ہے. جس دن یہ نظریہ کمزور ہوا تو نسل پرست اور قوم پرست قوتیں اسے مختلف حصوں میں توڑ دیں گی. یہ ١٩٧١ میں ہو چکا ہے جب مشرقی پاکستان میں قوم پرستی کا بھوت اسلامی نظریے کی بنیاد پر بھاری پڑ گیا تھا.

کوئی بھی حکومت جو پاکستان میں اسلامی نظریے کی اس مقناطیسی قوت کی چوکس ہو کر حفاظت نہیں کرتی تو اسکا مطلب ہے کہ وہ ریاست میں دراڑ پیدا کرنے والی نسل پرستی اور قوم پرستی کے بیج بو رہی ہے. بدقسمتی سے آج یہاں علحیدگی پسند قوتوں کی افزائش کی مکمل آزادی ہے.

پاکستان کی تقریباً تمام جماعتیں قوم پرست، نسل پرست اور فرقہ پرست ہیں. پاکستانی آئین کے تحت ان میں سے کوئی بھی الیکشن میں حصہ لینے کا اہل نہیں لیکن اسکے باوجود انہیں کوئی پوچھنے والا نہیں. نتیجتاً ریاست کمزور اور یہ لسانی قوتیں قوتیں طاقتور ہو رہی ہیں.

آئینی بنیاد کی خلاف ورزی کرکے وجود میں آنیوالی ان تمام قوم پرست سیاسی جماعتوں کو پاکستان کی عدلیہ اور الیکشن کمیشن کام کرنے کی کیسے اجازت دے سکتے ہیں؟ ایسا کیسے ممکن ہے کہ کسی سیاسی جماعت کا ایجنڈا کمیونسٹ، سوشلسٹ ، نسل پرستی، قوم پرستی اور فرقہ پرستی پر مبنی ہو اور اسے الیکشن لڑنے کی بھی اجازت ہو؟ یہی نکتہ ہے جہاں سے غداری کا آغاز ہوتا ہے.

١٩٧١ کے بعد آج پھر پاکستان کو جدا کر دینے والے قوم پرستی، فرقہ پرستی اور نسل پرستی کے کثیر الجہتی حملوں کا سامنا ہے. آپس میں جوڑنے والی مقناطیسی قوت یعنی اسلامی نظریے کو دہائیوں سے نظرانداز کرنے کا نتیجہ یہ ہے کہ اب لسانی قوتیں زور سے ہم پر وار کر رہی ہیں.

پاکستان کو آج جن چیلنجز کا سامنا ہے، سیاسی جماعتوں اور انکے قوم پرست لیڈران کو انکا ادراک تک بھی نہیں ہے. نسل پرستی اور قوم پرستی پر مبنی ان سیاسی جماعتوں سے، جو خود ایک کینسر ہیں، مسائل کے حل کی توقع رکھنا حماقت کے سوا کچھ نہیں. پاکستانی فوج اور سپریم کورٹ کو یہ بات سمجھنے کی سخت ضرورت ہے.

(سید زید حامد)

https://www.facebook.com/syedzaidzamanhamid/photos/a.109687115752775.23119.109463862441767/1645148485539956/?type=3&theater

Friday, 23 March 2018

March 19th, 2018

منظور پشتون: ایک اور الطاف حسین پیدا ہونے کو ہے۔


منظور پشتون: ایک اور الطاف حسین پیدا ہونے کو ہے۔

آئیں آج آپکو حکمت کے کچھ راز بتاتے ہیں، کہ اگر آپ ان کو سمجھ گئے تو پھر اس کے بعد کبھی کسی سیاسی جماعت یا مذہبی گروہ کے ہاتھوں آپ گمراہ نہیں ہونگے۔ پاکستانی قوم سادہ لوح بھی ہے، اس کی اکثریت ان پڑھ بھی اور آسانی سے بہکائی جاتی ہے۔

جب بھی کوئی نیا سیاسی لیڈر، سیاسی جماعت یا گروہ آپ کو اپنی جذباتی نعرے دے کر اپنی طرف بلائے تو سب سے پہلے قرآن و سنت کی طرف رجوع کریں۔ دیکھیں کہ اللہ تعالیٰ و سیدی رسول اللہﷺ نے اس گروہ کے بارے میں کیا فرمایا ہے۔

ٹی ٹی پی کے خوارج جب سوات اور قبائلی علاقوں میں حملہ آور ہوئے تو انہوں نے شریعت اور اسلام کے بڑے جذباتی نعرے لگائے۔ پوری قوم حتیٰ کہ فوج کے کچھ جوان بھی ان کے بارے میں تذبذب کا شکار ہوگئے۔ مگر جب قرآن و سنت کی طرف رجوع کیا گیا تو معلوم ہوا کہ یہ تو”خوارج“ ہیں۔

یہ بات یاد رکھیے گا کہ جس بدبخت شخص پر اللہ نے گمراہی کی مہر لگادی ہو، اسے آپ تمام تر دلیلوں اور شہادتوں کے باوجود ہدایت نہیں دے سکتے۔ آج بھی ایسے لوگ ہیں کہ جو خوارج کو مجاہد سمجھتے ہیں، پاکستان کی ریاست کے خلاف جنگ کرتے ہیں اور اسے نیکی سمجھتے ہیں۔

جو جہنم میں جانا چاہتا ہے، بڑے شوق سے جائے۔ یہ اس کا اور اسکے رب کے درمیان معاملہ ہے۔ لیکن اگر کسی شخص نے سیدی رسول اللہﷺ کی اس امانت پاک سرزمین پاکستان کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی تو پھر اس سے ہم تلوار کی نوک پر ہی بات کریں گے۔

قرآن و سنت میں کثرت سے مسلمانوں کو گمراہ سیاسی فرقوں کی نشانیاں بتائی گئی ہیں۔ صاف صاف سیدی رسول اللہﷺ نے فرمادیا ہے کہ جس کسی نے بھی مسلمان معاشرے میں قبائلی، نسلی، رنگ و لسان اور فرقہ وارانہ بنیادوں پر تفرقہ ڈالا اس کا نہ اسلام سے کوئی تعلق ہے، نہ مسلمان ریاست سے۔

اسلام اور اسلامی معاشرے میں صرف دو ہی شناختیں ہوتی ہیں، ایک اسلام اور دوسرا وطن۔ مگر وطن اور نسل کی بنیاد پر تعصب مکمل حرام ہے۔ مثلاً بلال حبشیؓ، سلمان فارسیؓ، صہیب رومیؓ کے ساتھ ان کے وطن کے نام بھی لگائے گئے، مگر شناخت کیلئے، تعصب کیلئے نہیں۔

اگر پاکستان کے مسلمان صرف اس ایک قائدے کو سمجھ جائیں پھر کبھی کوئی فراڈیا ، حرام خور، ناپاک، دشمن کا ایجنٹ انہیں گمراہ نہ کرسکے گا۔
الطاف حسین نے کراچی میں یہی ’حقوق‘ کا ڈرامہ کھیل کر زبان اور نسل کی بنیاد پر عصیبت جاہلیہ پر اپنی جماعت قائم کی، اور پھر کراچی آگ و خون سے لتھڑ گیا۔

بلوچستان میں اکبر بگٹی، براہمداغ بگٹی اور ہربیار مری جیسے فاسقوں نے بھی قومیت، رنگ و نسل کی بنیاد پر دہشت گرد گروہ بنائے، نعرے ’حقوق‘ کے لگائے، مگر حقیقتاً یہ بھی ملک دشمن طاقتوں کا آلہءکار بنے اور آج بھی ہیں۔

آج ہم یہی الطاف حسین اور براہمداغ بگٹی کا ڈرامہ ایک مرتبہ پھر ”منظور پشتون“ کے نام سے دیکھ رہے ہیں۔ وہی حمیت جاہلیہ پر، رنگ و نسل کے تعصب پر، اسلام کی جڑیں کاٹتے ہوئے ”حقوق“ کے نام پر مدینہءثانی کے خلاف بغاوت!

ایک بات اور بہت اچھی طرح سمجھ لیں:
ظلم پورے پاکستان کے 21 کروڑ عوام پر ہورہا ہے۔ پوری قوم اذیت اور عذاب میں مبتلا ہے، اپنے ناپاک حکمرانوں کی وجہ سے۔ یہ ظلم صرف پٹھانوں پر نہیں ہورہا، صرف بلوچوں پر نہیں ہورہا، صرف سندھیوں پر نہیں ہورہا، پاکستان میں بسنے والے ہر مسلمان پر ہورہا ہے۔

گمراہ جماعتوں کی نشانیاں اچھی طرح جان لیں:
1 ۔ وہ قرآن و سنت کے خلاف نسلی اور لسانی تعصب پر عمل کرتے ہونگے۔
2 ۔ پاکستان کے غدار اور کھلے دشمن ہونگے، چاہے اوپر محب وطن ہونے کا دعویٰ ہی کیوں نہ کریں۔
3 ۔ پوری دنیا کے دشمنوں کو چھوڑ کر ان کا ہدف صرف پاک فوج اور آئی ایس آئی ہوگا۔

اب آئیں منظور پشتون کی جانب۔
پچھلے 15 برس سے، ٹی ٹی پی کے خوارج نے ایک لاکھ سے زائد پاکستانی مسلمانوں کو شہید کیا ہے۔ پاک فوج کے خوبصورت بیٹوں نے بے دریغ قربانیاں دے کر بہت مشکل سے پاکستان کے ان علاقوں کو دوبارہ آزاد کرایا ہے، مگر دشمن ابھی موجود ہے۔

ٹی ٹی پی نے اپنے 15 سالہ دور میں، قبائلی علاقوں کے تمام بزرگوں، خوانین، ملکوں اور سرداروں کو قتل کردیا تھا۔ اپنی عدالتیں لگاتے تھے، لوگوں کی گردنیں کاٹتے تھے اور اپنے علاقوں میںانہوں نے سخت ترین جاسوسی اور چیک پوسٹوں کا نظام قائم کیا ہوا تھا۔

دوسری جانب کراچی میں الطاف حسین اور اس کے غنڈوں نے قتل و غارت کا ایک بازار گرم کر رکھا تھا۔ ٹارگٹ کلنگ، بھتہ خوری، بوری بند لاشیں اور بلدیہ فیکٹری جیسے ہولناک واقعات عام ہورہے تھے۔ صرف کراچی میں پچھلے 25 سال میں ایک لاکھ سے زائد لوگ قتل کیے گئے ہیں۔

اب خود سوچیں، اگر آج کراچی سے رینجرز کی چیک پوسٹیں ہٹا دی جائیں، رینجرز کو نکال لیا جائے، ایم کیو ایم کے خلاف کارروائیاں بند کردی جائیں، تو پھر کیا ہوگا؟؟؟
اور اگر یہی سب کچھ قبائلی علاقوں میں کیا جائے، فوج واپس بلالی جائے، چیک پوسٹیں ہٹا لی جائیں، تو پھر کیا ہوگا؟؟؟

جس طرح الطاف حسین کھلم کھلا ملک و قوم کا دشمن اور غدار ہے، اسی طرح محمود اچکزئی اور اسفندیار ولی بھی ہیں۔ 80 ءکی دہائی میں جب سوویت یونین افغانستان میں لاکھوں پشتونوں کا قتل عام کررہا تھا تو یہ اس وقت روس کے ساتھ کھڑے تھے۔

اب جبکہ امریکہ افغانستان میں لاکھوں پشتونوں کا قتل عام کررہا ہے، تو آج یہ دو حرام خور محمود اچکزئی اور ا سفندیار ولی، سی آئی اے کے ساتھ کھڑے ہیں۔ نہ یہ نظریاتی ہیں، نہ پشتونوں کے حقوق کے علمبردار۔ یہ صرف پاکستان دشمنی میں ہر دشمن کے دلال ہیں۔

قبائلی علاقوں کے پشتونوں کو حق دلانے کا سب سے آسان، قانونی اور آئینی طریقہ یہ ہے کہ قبائلی علاقوں کو پورے پاکستان کی طرح خیبر صوبے میں ضم کردیا جائے۔
مگر اس انضمام کی مخالفت کون کررہا ہے؟ یہی حرام خور اچکزئی، اسفندیار اور فضل الرحمن۔

اگر قبائلی علاقوں کا انضمام باقی پاکستان سے ہوجاتا ہے تو ان علاقوں میں بھی پولیس کی چیک پوسٹیں قائم کردی جائیں گی۔ ابھی چونکہ یہاں پولیس کا عمل دخل ہے ہی نہیں، اور ٹی ٹی پی کے خوارج مسلسل افغانستان سے دخل اندازی کرکے حملے کررہے ہیں، تو پاک فوج کو ہر حال میں پوسٹیں برقراررکھنا پڑتی ہیں۔

آپ یہ بھی نوٹ کریں گے کہ محمود اچکزئی، اسفندیار ولی اور اب ان کا نیا ٹٹو منظور پشتون کبھی بھی خوارج کو پشتونوں کے قتل عام کا ذمہ دار نہیں ٹھہرائیں گے۔ کبھی بھی امریکہ، کابل حکومت یا بھارت کے خلاف بات نہیں کریں گے۔ ان کا ہدف ہمیشہ پاک فوج ہوگی۔

یہ سخت بات ہوگی، لیکن اب ذرا سنیں:
پاکستان کے ہزاروں پشتون مسلمانوں کو شہید کرنا اور پاکستان کو تباہ و برباد کرنے کا کام بھی حکیم اللہ محسود اور بیت اللہ محسود جیسے پشتونوں نے ہی کیا تھا۔ مگر کسی غیرت مند پاکستانی نے آج تک محسود قبیلے کو یا پشتونوں کو اس کا طعنہ نہیں دیا۔

آج ڈھائی لاکھ سے زائد غیرت مند اور محب وطن مسلمان پشتون پاکستان کی مسلح افواج، ایف سی اور پولیس میں شامل ہیں۔ انہوں نے اپنے سر دھڑ کی بازی لگائی ہے اس مدینہءثانی کی حفاظت کیلئے۔ اگر پاک فوج نہ ہوتی تو یہ خوارج، الطاف، اچکزئی، اسفندیار کب کا پاکستان کو کتوں کے ہاتھ بیچ چکے ہوتے۔

پاک فوج نے کبھی بھی اپنے ہی شہریوں اور پاکستانیوں پر بمباری نہیں کی۔ سوات میں آپریشن کیا تو پہلے سب کو عزت سے باہر نکالا۔ قبائلی ایجنسیوں میں آپریشن ہوئے، پہلے سب کو باہر نکالا، اور پھرعزت سے واپس بھی لے کر گئے۔ فوج نے اپنا کام پورا کیا، مگر یہ حرام خور منظور کبھی حکومت سے شکایت نہیں کریگا، صرف فوج کو گالی دیگا۔

منظور پشتون نے اپنے جلسوں میں شرمناک نعرے لگوائے ہیں۔
”یہ جو دہشت گردی ہے، اس کے پیچھے وردی ہے“
” اے پی ایس میں اپنے بچوں کا قتل عام فوج نے کروایا“
جب کوئی شخص اس طرح کی خرافات بکے اور جھوٹ بولے تو اچھی طرح سمجھ لیں کہ معاملہ پشتونوں کے حقوق کا نہیں، پاکستان کی ریاست کے خلاف کھلم کھلا جنگ کا ہے۔

2017 ءمیں لندن میں، ایک خفیہ کانفرنس منعقد کی گئی تھی کہ جس کو حسین حقانی نے راءاور سی آئی اے کے کہنے پر بلایا تھا۔ پورے پاکستان سے ایم کیو ایم، بی ایل اے، غدار صحافتی تنظیموں اور وطن فروش دانشوروں کا ایک ناپاک اجتماع ہوا کہ جس میں پاکستان توڑنے کی سازش تیار کی گئی۔
منظور پشتون اس تحریک کا اہم رکن ہے۔

یہ پاکستان اللہ کے فضل سے ہمیشہ قائم رہنے کیلئے بنا ہے، چاہے الطاف حسین، ہربیار مری، محمود اچکزئی، اسفندیار ولی اور منظور پشتون جیسے ننگ ملت، ننگ قوم، دین فروش، وطن فروش جتنا مرضی زور لگا لیں۔ جوحال ٹی ٹی پی کا ہوا اور ایم کیو ایم ہورہا ہے، ان شاءاللہ، وہی ان کا بھی ہوگا۔

مسئلہ پشتونوں کے حقوق کا ہے ہی نہیں، نہ بلوچوں کے حقوق کا ہے، نہ مہاجروں کے حقوق کا ہے۔ صرف پاکستان کے خلاف جنگ ہے، جیسے مجیب الرحمن نے بنگالی قومیت کے حقوق کے نام پر بھارتیوں کے کہنے پر بغاوت برپا کی۔
حق ہر پاکستانی کا مارا جارہا ہے، صرف پشتونوں یا مہاجروں کا نہیں۔

فوج سالوں سے یہی چیخ رہی ہے کہ نیشنل ایکشن پلان جو بنایا گیا تھا اس پر حکومت وقت نے عمل کرنے سے انکار کردیا۔ مگر یہ ”حقوق“ کے عملبردار کتے نواز شریف کی حکومت کے خلاف نہیں بھونکتے، صرف پاک فوج پر ہی غراتے ہیں۔ نوٹ کریں نواز شریف کی پوری حکومت مکمل طور پر خاموش بیٹھی ہے۔ کیوں....؟

آئیں اب راﺅ انوار کی جانب:
وہ زرداری کا پیشہ ور قاتل تھا۔ اس کے پاس زرداری کے بڑے بھاری راز ہیں۔ اس نے کوئی چار سو کے قریب قتل کیے ہیں جن میں اکثریت ایم کیو ایم والوں کی ہے۔ نہ فوج نے اس کو پالا، نہ فوج نے اس کو چھپایا ہوا ہے۔ وہ زرداری کے پاس ہے، یا فرار کرادیا گیا ہے، یا قتل ہوچکا ہے۔

منظور پشتون کے ساتھی فوج کو گالیاں دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ اب تک راﺅ انوار کو کیوں نہیں تلاش کیا، اس لیے فوج ملی ہوئی ہے۔
کیا فوج نے الطاف حسین، ہربیار مری، براہمداغ بگٹی اور ملا فضل اللہ کو گرفتار کرلیا؟ تو کیا فوج سب سے ملی ہوئی ہے؟
بے غیرت لوگوں کی جاہل دلیلیں۔

فوج اور آئی ایس آئی راﺅ انوار کے پیچھے لگی ہوئی ہے، مگر جس کو پوری سندھ حکومت اپنی ریاستی طاقت کے ساتھ چھپائے ہوئے ہو، اس تک پہنچنا آسان نہیں ہے۔
یہ منظور پشتون کے حرام خور زرداری کو کیوں ہیں گالی دیتے، فوج پر کیوں بھونکتے ہیں؟ یہیں سے ان کی نیت پتہ چلتی ہے۔

آج پاکستان چاروں اطراف سے دشمنوں میں گھرا ہوا ہے، امریکہ اور بھارت کا مکمل پلان ہے کہ 2020 ءتک پاکستان کو، نعوذباللہ، مٹا دیا جائے۔ اس کام کیلئے جو غدار ان کیلئے کام کررہے ہیں، ان میں نواز شریف بھی ہے، زرداری بھی ہے، الطاف بھی ہے، اچکزئی بھی ہے اور اب منظور پشتون بھی ہے۔

جو پشتون نوجوان آج جذبات میں آکر اس راءاور افغان این ڈی ایس کے ایجنٹ محمود اچکزئی اور منظور پشتون کے پیچھے لگے ہوئے ہیں، وہ اپنی دنیا بھی تباہ کروائیں گے اور آخرت بھی۔ جیسے ان سے پہلے ٹی ٹی پی نے ہزاروں پشتون نوجوانوں کو جہنم کے کتوں(خوارج) میں تبدیل کردیا۔

جیسا ہم نے کہا کہ پاکستان غداروں میں خودکفیل ہے اور ہماری عوام بھی ماشاءاللہ، ایسی بھولی کہ ہر بھیڑیے کو خدا بنالیتے ہیں۔ مگر یہ اچھی طرح جان لیں کہ جب تک اللہ اور اسکے رسولﷺ سے پیار کرنے والے پاکستان میں موجود ہیں، ہم کسی حرام خور کو پاک سرزمین اور پاک فوج پر حملے کی اجازت نہیں دینگے۔

ذرا غور کریں، پاکستان سے لڑا کر یہ منظور پشتون اور محمود اچکزئی پاکستان کے پشتونوں کو کس گہری کھائی میں گرانا چاہ رہے ہیں۔ افغانستان میں ہے کیا کہ پاکستانی پشتون پاکستان کو چھوڑ کر افغانستان کی شہریت لیں گے؟ اللہ نے عزت پاکستان کے نصیب میں رکھی ہے، جو اس سے لڑے گا یا اسے چھوڑے گا وہ ذلیل ہوگا۔

پورا پاکستان حالت جنگ میں ہے۔ پورا پاکستان تکلیف میں ہے۔ اپنی اجتماعی بداعمالیوں کی یہ سزا ہمیں مل کر کاٹنی ہے۔ اس کا حل یہ نہیں ہے کہ پنجابی، بلوچی، پٹھان، مہاجر اپنے اپنے حقوق کیلئے پاک فوج کے خلاف جنگ شروع کردیں، اور اپنے اس پاکستان کو شام کی طرح خانہ جنگی میں دھکیل دیں۔ دشمن تو چاہتا ہی یہی ہے، احمق نہ بنیں۔

آنے والے وقتوں میں ہمیں مزید آزمائشوں اور خونریزی سے گزرنا ہوگا۔ آنے والا دور امن کا نہیں جنگ کا ہے۔ ابھی ہمیں آگ و خون کے دریا سے گزرنا ہے، مکمل امن تک پہنچنے کیلئے۔ آپ کی بہنوں بیٹیوں کی عزت یہی پاک فوج بچائے گی۔ جاہلوں اور بے شرموں کی طرح اس فوج کی پشت میں خنجر نہ گھونپیں۔

https://www.facebook.com/syedzaidzamanhamid/posts/1607083412679797




Dear members, I have made a new Twitter account for BrassTacks official. Please share this link and subscribe to this also.Pl join here asap....



https://twitter.com/BTPakistan 

Dear members, I have made a new Twitter account for BrassTacks official. Please share this link and subscribe to this also.

Pl join here asap.... 


https://www.facebook.com/syedzaidzamanhamid/posts/1607099879344817 




As we expected, TTP Khawarij also come in to support this Mehmood Achakzai's new fitnah. All enemies are gathering together. Their focus is one -- attack Pak army....




As we expected, TTP Khawarij also come in to support this Mehmood Achakzai's new fitnah. All enemies are gathering together. Their focus is one -- attack Pak army....

InshAllah, we will deal with them they way we have dealt with that snake Altaf and with TTP khawarij.

This Pakistan belongs to Sayyadi Rasul Allah (sm)....not to Mushriks, Khawarij and the communists.


https://www.facebook.com/syedzaidzamanhamid/photos

 /a.109687115752775.23119.109463862441767/1607327722655366/?type=3 



  



This swine is the right hand man of Mehmood Achakzai, mentor of Manzur Pashtun. Here he is explaining their movement -- to attack Pak army, to declare Pak army as terrorist and tell everyone that every terrorism is done by Pak army and not by India, TTP or BLA...

 
https://www.facebook.com/syedzaidzamanhamid/videos/1607335252654613/


This swine is the right hand man of Mehmood Achakzai, mentor of Manzur Pashtun.
Here he is explaining their movement -- to attack Pak army, to declare Pak army as terrorist and tell everyone that every terrorism is done by Pak army and not by India, TTP or BLA...

Now I ask my Pashtun children and sons......have you gone totally blind that you cannot see the real reason for this fitnah?

 
https://www.facebook.com/syedzaidzamanhamid/videos/1607335252654613/







InshAllah, their fitnah will be contained now.....their handlers in Kabul will be punished for launching this criminal gang...and local criminals will taste the power of justice...IA



InshAllah, their fitnah will be contained now.....their handlers in Kabul will be punished for launching this criminal gang...and local criminals will taste the power of justice...IA

https://www.facebook.com/syedzaidzamanhamid/photos

 /a.109687115752775.23119.109463862441767/1607510949303710/?type=3

 

Wednesday, 8 March 2017

March 8th, 2017


جنرل باجوہ....! اللہ اور اسکے رسولﷺ اور اس پاک سرزمین سے خیانت نہ کیجیئے گا۔ مارشل لاءنہ لگائیں، مگر ان غداروں پر قانون ضرور نافذ کریں۔




اب رانا ثناءاللہ اور پرویز خٹک بھی ملک کو خانہ جنگی کی طرف دھکیلنا چاہتے ہیں۔الطاف حسین، اچکزئی اور اسفندیار جیسے حرام خور کیا کم تھے پہلے؟

یہ اتفاق نہیں ہے کہ آج فضلو نے بھی پاکستانی ریاست کے خلاف مسلح بغاوت کرنے کی بڑھک ماری ہے۔ اس کے خوارج کتے تو تیرہ برس سے خون بہا رہے ہیں۔

مرحوم غلام اسحاق خان نے یہ بات نواز شریف کے بارے میں کہی تھی کہ یہ شخص اتنا زہریلا ہے کہ ایک دن پاکستان کے صوبوں کو آپس میں لڑوائے گا!

پوری پاکستانی قوم جانتی ہے کہ اگر دشمن اس ملک کی جڑ کاٹنا چاہتا ہے تو اس میں قومیت، صوبائیت، لسانیت اور فرقہ واریت کو بھڑکائے گا۔

آج چار بڑی سیاسی جماعتیں تین صوبوں پر قابض ہیں۔ پیپلز پارٹی، ایم کیو ایم، ن لیگ اور پی ٹی آئی۔ اور اب چاروں ہی صوبائیت پر سیاست کررہی ہیں

ایم کیو ایم، اے این پی، پیپلز پارٹی، ن لیگ، فضلو گروپ، اچکزئی اور اب پی ٹی آئی بھی۔ یہ فیصلہ کرنا مشکل ہے کہ کون زیادہ بے شرم ہے۔

اگر 2018ءمیں انتخابات ہوئے تو انہی بے شرموں، بے غیرتوں، وطن فروشوں اور خائن غداروں نے پھر سے پارلیمنٹ میں پہنچ کر حرام خوری شروع کرنی ہے

آج پاکستان کا سب سے بڑا دشمن وہ احمق ہوگا کہ جو اس جمہوریت کوانہی سیاسی جماعتوں اور اسی نظام کے ساتھ قائم اور برقرار رکھنے پر اصرار کرے۔

اب سارے آزمائے جاچکے ہیں، پی ٹی آئی سمیت۔ کچھ کھلے دشمن ہیں، کچھ صفوں میں چھپے غدار ہیں، اور کچھ پرلے درجے کے احمق!

پاکستان میں اگر صرف قانون کو نافذ کیا جائے تو تمام سیاسی جماعتوں کی قیادت یا جیل میں ہوگی یا لٹکی ہوگی۔ بات صرف قانون نافذ کرنے کی ہے۔

جنرل باجوہ....! اللہ اور اسکے رسولﷺ اور اس پاک سرزمین سے خیانت نہ کیجیئے گا۔ مارشل لاءنہ لگائیں، مگر ان غداروں پر قانون ضرور نافذ کریں۔

میمو گیٹ، پاناما، ڈان لیکس، ماڈل ٹاﺅن، عزیر بلوچ، عاصم، بلدیہ، کراچی کی ٹارگٹ کلنگ، صرف انہی مقدمات پر ساری پارلیمنٹ لٹک جاتی ہے۔

حکومت یا سیاست میں ہونے کا یہ مطلب نہیں ہے کہ ان کے قتل ڈاکے بھی معاف کردیئے جائیں یہ فیصلےعوام کی عدالت میں نہیں فوجی عدالت میں طے ہونگے

ہم بار بار اس قوم کو نصیحت کررہے ہیں کہ ان قاتلوں اور دہشت گردوں کے حکومت میں ہوتے ہوئے ہم طویل عرصے تک صرف لاشیں ہی اٹھاتے رہیں گے۔

پاکستان کو بچانے کا فیصلہ آج سپریم کورٹ بھی کرسکتی ہے اور جی ایچ کیو بھی۔ عوام بے اختیار ہیں، اور پارلیمنٹ میں بیٹھے ڈاکو بے انتہا طاقتور

مودی اور نواز شریف دونوں کے پاس ہی اب تھوڑا وقت بچا ہے۔ دشمنوں نے دیکھ لیا ہے کہ فوج سیاست سے الگ ہے، لہذا اب کھل کر حملے کررہے ہیں۔

یہ بات طے ہے کہ اگر پاک فوج خود آگے بڑھ کر معاملات نہیں سنبھالے گی تو پھر اللہ اس کو مجبور کرے گا۔ اور وہ بہت خونریز و تکلیف دہ عمل ہوگا

چاہے خونریزی ہو یا معاشی تباہی، صوبائیت کی آگ ہو یا نظریاتی جڑیں کاٹی جارہی ہوں، فوج کتنا انتظار کرے گی یہ تو
جنرل باجوہ ہی بتا سکتے ہیں

https://www.facebook.com/syedzaidzamanhamid/posts/1244382468949895

Monday, 27 February 2017

February 27th, 2017

دشمنوں کی سا زشوں کو پہچانیں۔ سبز گنبد اور سبز ہلالی پرچم کی نسبت کو رسوا نہ ہونے دینا۔ یہی وقت ہے وفا کا

 
پاکستانی قوم کو یہ بات اچھی طرح یاد رکھنی چاہیے کہ مشرقی پاکستان میں ہمارے مشرک دشمنوں نے ہمیں کس طرح نقصان پہنچایا۔ حملے سے پہلے تقسیم کیا

نریندر مودی کے پاس اب زیادہ وقت نہیں بچا ہے۔ وہ پاکستان پر حملہ کرنے کی جلدی میں ہے۔ مگر پہلے ہمیں اندر سے تقسیم کرنا چاہتا ہے۔

خونریزی اور دہشت گردی کی حالیہ لہر کے ساتھ ہی قوم کو قومیت، صوبائیت، لسانیت اور فرقہ واریت میں تقسیم کرنے کی سازشیں بھی شروع ہوچکی ہیں۔

پاکستانی قوم کو سیدی رسول اللہﷺ کی اس تنبیہ کو سختی سے سمجھنا چاہیے کہ جو کوئی اسلام کے علاوہ کسی اور عصبیت پر مرا، وہ جاہلیت کی موت مرے گا

آج ہر وہ شخص کہ جو پاکستان کے مسلمانوں کو قومیت، لسانیت، صوبائیت یا فرقہ واریت میں تقسیم کرتا ہے، اللہ اور اسکے رسولﷺ کا دشمن ہے۔

عوامی نیشنل پارٹی ہو، خوارج ہوں یا جیو اور ڈان جیسا میڈیا، ہر دشمن اپنی استطاعت کے مطابق پاکستان کی نظریاتی جڑیں کاٹ رہا ہے۔

ماڈل ٹاﺅن کا قاتل اور پاناما کی خائن نواز حکومت اس آگ کو بھڑکا رہی ہے، اور دیگر جاہل سیاستدان جلتی پر تیل ڈال رہے ہیں۔

ایسے وقت میں کہ جب ملک داخلی طور پر حالت جنگ میں ہو، اور مشرق اور مغرب سے مشرک حملے کیلئے تیار ہوں، یہ سیاستدان ملک کی جڑیں کاٹ رہے ہیں۔

آج ہر پاکستانی مسلمان پرواجب ہے کہ سختی سے پاکستان کی نظریاتی اورروحانی اساس کادفاع کرے،ہم اسلام اور پاکستان کےعلاوہ کوئی شناخت نہیں جانتے

ہمارے عقیدے کی نسبت سبز گنبد سے ہے، اور ہمارے نظریے کی پہچان سبز ہلالی پرچم سے۔

دشمنوں کی سا زشوں کو پہچانیں۔ سبز گنبد اور سبز ہلالی پرچم کی نسبت کو رسوا نہ ہونے دینا۔ یہی وقت ہے وفا کا

https://www.facebook.com/syedzaidzamanhamid/posts/1236659063055569:0

Sunday, 26 February 2017

February 26th, 2017

Be careful of lies by Khawarij, RAW and NDS....they are spreading fake letters, fake pics to ignite provincial and ethnic violence in Pak.



Be careful of lies by Khawarij, RAW and NDS....they are spreading fake letters, fake pics to ignite provincial and ethnic violence in Pak.
Understand that this is war and enemy will use all propaganda and lies to spread anarchy.

Stand United, Stand Firm....Lets burn the Mushriks and Khawarij together...

https://web.facebook.com/syedzaidzamanhamid/posts/1235729673148508?_rdr

Saturday, 15 November 2014

November 15th, 2014

Our Shia brothers and sisters MUST listen to Ayatullah Khamnai, one courageous leader of Iran.


https://www.facebook.com/video.php?v=663650207087342

Our Shia brothers and sisters MUST listen to Ayatullah Khamnai, one courageous leader of Iran. He has the courage to speak where all others stayed silent


تطبیر(خونی ماتم) غلط کاموں میں سے ایک ہے۔ مجھے معلوم ہے کچھ لوگ کہیں گے کہ بہتر ہوتا یہ تطبیر(خونی ماتم) کے بارے میں گفتگو نہ کرتے۔ وہ کہیں گے کہ آپ کو تطبیر(خونی ماتم) سے کیا مطلب؟
کچھ لوگ ایسا کرتے ہیں تو انہیں کرنے دیں۔ نہیں! ایسے غلط کام پر خاموش نہیں رہا جا سکتا۔
یہ غلط ہے کہ کچھ لوگ ہاتھ میں خنجر پکڑ کر اپنے سر پر مارتے ہیں تاکہ خون بہے۔ وہ کیا حاصل کرنا چاھتے ہیں؟ اسے سوگ و عزا کا عمل کیسے کہا جا سکتا ہے؟
اپنے ہاتھ سر پر مار کر ماتم کرنا بالکل سوگ و عزا ہے۔ آپ نے یہ کئی مرتبہ دیکھا ہے کہ جب لوگ سوگ اور پریشانی میں ہوتے ہیں تو اپنے سر اور سینے پر ماتم کرتے ہیں۔ یہ عزا کا ایک عام طریقہ ہے۔
لیکن آپ نے ایسا کہاں دیکھا ہے کہ ایک شخص جو اپنے کسی عزیز کے سوگ میں ہے وہ اپنے سر پر تلوار مارے اور اسے زخمی کرے؟ یہ عزا کا طریقہ کیسے ہو سکتا ہے؟
تطبیر(خونی ماتم) ایک جعلی سنت ہے۔ یہ وہ کام ہے جس کا مذہب سے تعلق نہیں اور بلا شبہ خدا اس کام سے خوش نہیں ہے۔
ماضی میں علماء اسلام یہ بات آزادانہ طور پر نہیں کہتے تھے کہ یہ ایک غلط عمل ہے۔
لیکن آج اسلام کی حاکمیت کے دن ہیں
ہمیں اہل بیت کے عشق میں پہچانا جاتا ہے اور وہ ہمیں امام مہدی علیہ اسلام، امام حسین علیہ السلام اور امام علی علیہ السلام کے مقدس ناموں نے قدرو منزلت بخشی ہوئی ہے ۔
ہمیں ایسے کام ہرگز نہیں کرنے چائیے کہ دنیا کے مسلمانوں اور غیرمسلمانوں کی نظر میں ہم خرافاتی اور غیر منطقی لوگوں کے طور پر شمار ہونے لگیں۔
میں نے اس بارے میں جتنا سوچا اتنا مجھے احساس ہوا کہ میں اس چیز کو نظر انداز نہیں کر سکتا کہ اپنے عزیز لوگوں کو بتاوں اور تطبیر سے متعلق آگاہ کروں۔ جو کہ یقیناً ایک غلط اور غیر دینی کام ہے۔
اس پر عمل نہ کریں۔ میں اس کی اجازت نہیں دیتا۔ اگر کوئی ایسا کام کرتا ہے جس سے ظاہر ہو کہ وہ تطبیر (خونی ماتم ) کرنا چاھتا ہے تو میں اس سے واقعی ناراحت ہوں گا۔
میں پوری سنجیدگی سے اس کا اعلان کر رہا ہوں۔
یہ عمل ایک غلط کام ہے۔ امام حسین علیہ السلام اس عمل سے راضی نہیں ہیں۔
مجھے معلوم نہیں ایسی غلط اور عجیب چیزیں ہمارے اسلامی اور انقلابی معاشرے میں کس طرح داخل ہوئیں۔

رہبر انقلاب اسلامی آیت اللہ سید علی خامنہ ای

https://www.facebook.com/syedzaidzamanhamid/posts/735303946524419



 

While Muslims are fighting among each other on sectarian and ethnic lines, Hindu Zionists are sharpening their daggers to "break Pakistan into 40 pieces"


https://www.facebook.com/video.php?v=10154793686455181

While Muslims are fighting among each other on sectarian and ethnic lines, Hindu Zionists are sharpening their daggers to "break Pakistan into 40 pieces" , as these haramkhor snakes claim.

Know your enemy's designs. Now they plan a genocide of Muslims in India and also dismemberment of Pakistan. For these Hindus, there is NO difference between a Pathan, Punjab, Baluch or Kashmiri etc nor they care about your sect. They slaughter you just because you are a Pakistani Muslims ! If you still dont wake up NOW, then be ready for these gangs, who plan to break into your homes and in the homes of Muslims in India.

A War is upon us now. It can be delayed a bit but cannot be avoided. Prepare for it now.

https://www.facebook.com/syedzaidzamanhamid/posts/735509393170541