...
Showing posts with label Zaid Hamid advice to Imran Khan. Show all posts
Showing posts with label Zaid Hamid advice to Imran Khan. Show all posts

Saturday, 30 March 2019

March 25th, 2019

حکومت، ریاست اور بیوروکریسی



حکومت، ریاست اور بیوروکریسی
تحریر: زید حامد
آج پاکستان کے حوالے سے کچھ اہم باتیں آپ سے کرنی ہیں۔آپ کو فرق سمجھانا ہے: حکومت میں، ریاست کے نظام میں، اور سرکاری ملازمین میں۔ملک کو حکومت نہیں چلاتی، ریاست کا نظام اور سرکاری ملازم چلاتے ہیں۔آئیں آپ کو تفصیل سے بتاتے ہیں۔
ریاست پاکستان ان تین چیزوں کا مجموعہ ہے۔
-1 حکومت پاکستان، (جو کہ تبدیل ہوتی رہتی ہے۔)
-2 نظام پاکستان، (جو 47 ء سے آج تک ویسا ہی ہے۔)
-3 بیوروکریسی، (کہ جو پکے سرکاری ملازم ہوتے ہیں، چاہے کوئی بھی حکومت آئے یا جائے۔)
اس بات کو اچھی طرح سمجھ لیں کہ پاکستان کے ریاستی نظام میں وزیراعظم پاکستان بھی اس قدر بے بس عہدہ ہے کہ وہ اپنی مرضی سے ایک سرکاری ملازم کو بھی نہیں ملازمت سے برخاست نہیں کرسکتا۔دوسری جانب نظام میں موجود خائن اور بدکار سرکاری ملازمین پورے ریاستی نظام کو جام کرسکتے ہیں، اگر یہ چاہیں تو۔۔۔سیاسی نمائندے پاکستان میں اکثریت جاہل ہی ہوتے ہیں۔ نہ وہ نظام کو جانتے ہیں، نہ بیوروکریسی کے کام کرنے کے طریقہء کار کو۔ لہذا جب کوئی منتخب سیاسی نمائندہ کرپشن کرنا چاہتا ہے تو اس کیلئے اسے لازماً بیوروکریسی کا سہارا لینا پڑتا ہے۔لہذا جب بھی کرپٹ سیاسی لیڈروں پر ہاتھ ڈالا جاتا ہے تو لازمی طور پر ان سے وابستہ بیوروکریسی کے خائن طبقے پر بھی ہاتھ پڑتا ہے۔ دونوں کے درمیان چولی دامن کا ساتھ ہے۔ اب یہاں سے مشکل شروع ہوتی ہے۔ سرکاری ملازموں پر ہاتھ ڈالو تو وہ ریاست کو جام کرنے لگتے ہیں۔
1947 ء میں قائداعظم نے جو پہلی تقریر کی، اس میں بھی انہوں نے جو پاکستان کے سب سے بڑے مسائل کا ذکر کیا تھا، ان میں کرپشن سر فہرست تھی۔ اور آج بھی کرپشن سرفہرست ہی ہے۔ تو ستر سالوں میں کیا بدلا؟اب ذرا سوچیں! کہ حکومتیں تو درجنوں آئیں، کرپشن کیوں نہیں ختم ہوئی؟؟؟
آئیں اب ذرا پاکستان میں رائج نظام کی بات کرتے ہیں۔نظام کہتے کس کو ہیں؟
ملک کا عدالتی نظام، ملک کی بیوروکریسی کا نظام، ملک کی معیشت کا نظام، ملک کا تعلیمی نظام، ملک کا سیاسی نظام۔۔۔یہی سب ملکر ریاست کا نظام بناتے ہیں۔ اور یہ سب ہی انگریز کے بنائے ہوئے ہیں۔
تو اب مسئلہ کیا ہے؟کیوں عمران خان ایک ایماندار اور مخلص وزیراعظم ہوتے ہوئے بھی اس قدر بے بس ہے؟الیکشن کے نتیجے میں پی ٹی آئی کی حکومت آئی ہے، مگر ملک میں بیوروکریسی اور نظام وہی قائم ہے جو پچھلے 70 برس سے ملک کو لوٹ کر تباہ و برباد کررہا ہے۔
جب مارشل لاء کی حکومتیں آتی ہیں، تو وہ آکر بیوروکریسی پر سختی کرتی ہیں۔ایسے دور میں ہوشیار بیوروکریسی سر نیچے کرکے کام کرتی ہے اور وقت کے گزرنے کا انتظار کرتی ہے۔ سب کو معلوم ہے کہ مارشل لاء کا دور بھی گزر ہی جانا ہے۔ اس دور کے گزرنے کے بعد جب جمہوریت آتی ہے تو پھر وہی بندر تماشا شروع ہوجاتا ہے۔
ایوب خان کے دور میں کیوں پاکستان نے حیرت انگیز ترقی کی؟ایوب خان کو چند بہت ہی قابل اور ایماندار بیوروکریٹ مل گئے تھے، کہ جنہوں نے ملک کی تقدیر ہی تبدیل کرکے رکھ دی۔ غلام اسحاق خان، قدرت اللہ شہاب اور ان جیسے سرکاری ملازمین نے پوری ریاست پاکستان کو سنبھالا ہوا تھا۔گو کہ ایوب خان کے دور میں نظام پھر بھی وہی قدیم اور بوسیدہ انگریزوں کے دور کا تھا، مگر فوج کے ڈنڈے اور انتہائی قابل سرکاری افسروں کی وجہ سے ملک دن دگنی رات چوگنی ترقی کررہا تھا۔ یعنی اگر سخت مضبوط حکومت ہو تو اور قابل بیوروکریٹ تو اس غلیظ نظام میں بھی کچھ نہ کچھ کام کیا جاسکتا ہے۔
اسی لیے آپ پاکستان کی تاریخ اٹھا کر دیکھیں تو ملک نے سب سے زیادہ ترقی ایوب خان کے دور میں اور پھر جنرل ضیاء کے دور میں کی اور اس کے بعد کسی حد تک جنرل مشرف کے دور میں۔سیاسی حکومتوں کے تمام ادوار پاکستان کی تاریخ میں صرف لوٹ مار، بدانتظامی اور اداروں کی تباہی کے ہیں۔سیاسی دور میں ہوتا یہ ہے کہ چور اور ڈاکو سیاست دان اقتدار میں آتے ہی اپنے ہم خیال چور اور ڈاکو سرکاری افسروں کو اعلیٰ ترین عہدوں پر فائز کرکے اجتماعی طور پر ملک کو لوٹنے کا آغاز کرتے ہیں۔ایک کمزور نظام کی موجودگی میں اس سیاسی اور سرکاری خیانت کوروکنے کا کوئی سوچ بھی نہیں سکتا۔
اب آئیں پی ٹی آئی کی حکومت کی طرف۔
عمران کی حکومت نے جب آکر نواز شریف اور زرداری کی خیانت پر ہاتھ ڈالا تو ان سے وابستہ تمام بیوروکریسی بھی شکنجے میں آنے لگی۔ نتیجتاً وہی ہوا کہ جو ہمیشہ ہوتا آیا ہے۔ بیوروکریسی نے کام بند کردیا۔پچھلے دنوں خود عمران نے اس بات کی شکایت کی کہ بیوروکریسی ان کی حکومت کا ساتھ نہیں دے رہی۔ اب آپ کو اس شکایت کی وجہ سمجھ آگئی ہوگی۔اس بیوروکریسی کو قابو کرنے کے دو ہی طریقے ہیں۔
یا فوجی حکومت کا ڈنڈا ہو۔یا نظام کو تبدیل کردیا جائے، کہ جہاں کم از کم وزیراعظم با اختیار ہو۔لہذا پی ٹی آئی کی حکومت کے سامنے ہمالیہ جیسا پہاڑ کھڑا ہے۔ وہ کام کرنا بھی چاہتے ہیں، مگر نہ نظام ساتھ دے رہا ہے، نہ بیوروکریسی، نہ ان کے پاس فوج کا ڈنڈا ہے۔ ایسے میں پی ٹی آئی کی حکومت صرف اپنے آپ کو رسوا کرے گی۔۔۔ اور خائن اور چور نظام کو استعمال کرکے ان کے جانے کا انتظار کریں گے۔
ایسے میں عمران کیا کرے؟؟؟اس بات کا ہمیں بہت پہلے اندازہ تھا اور اسی لیے ہم الیکشن سے پہلے بار بار کہتے تھے۔۔۔ ’’پہلے احتساب، پھر انتخاب‘‘۔
ہم عمران کی حکومت کی مدد کرنا چاہتے ہیں۔ ہم اگر ان پر تنقید بھی کرتے ہیں تو اخلاص سے اصلاح کی خاطر ہوتی ہے۔ نہ میں پٹواری ہوں، نہ میں جیالا۔ لہذا ہماری تنقید ہمیشہ پاکستان اور امت مسلمہ کے مفاد میں ہوتی ہے، لہذا حکومت ہو یا ’’یوتھیے‘‘ اپنے ساتھ دشمنی کریں گے، اگر ہمیں دشمن سمجھیں گے تو۔
پارلیمنٹ میں اکثریت نہ ہونے کی وجہ سے عمران فی الحال نظام تو تبدیل نہیں کرسکتا۔ حکومت بنے آٹھ مہینے ہونے کو آرہے ہیں کوئی ایک بھی قانون سازی پارلیمنٹ کے ذریعے نہیں ہوسکی، اور نہ ہوگی۔ سوائے ایسی لوٹ مار کی قانون سازی کے کہ جیسی پنجاب اسمبلی نے کی۔نظام تو فسادی ہے ہی، پی ٹی آئی کی حکومت کے پاس قابل وزیر اور قابل بیوروکریٹ بھی نہیں ہیں۔ پچھلے دس سال کی جمہوری غلاظت نے پاکستان کی سول سروس کو تباہ و برباد کرکے رکھ دیا ہے۔ فواد حسن فواد جیسے بیوروکریٹس نے اپنے ہی جیسے ڈاکو پوری سول سروس میں گھسیڑ دیئے ہیں۔
ہماری قوم، اسکے دانشور اور اشرافیہ بھی عجیب الجھن کا شکار ہیں۔ ہم ترقی چین جیسی چاہتے ہیں، مگر اس جمہوری غلاظت اور بدبودار نظام کی لاش کے ذریعے جو انگریز ہمارے لیے مردار چھوڑ کرگیا ہے۔ہم ایوب خان کے دور کی ترقی تو چاہتے ہیں، مگر مارشل لاء کو گالیاں بھی اسی شدت سے دیتے ہیں۔
جب حکومت، ریاستی نظام اور بیوروکریسی کا یہ حال ہو کہ جیسے آج پاکستان میں ہے، تو پھر کوئی قانون، آئین یا عدلیہ ریاست کا نظام درست نہیں کرسکتے۔ اور یہی سب کچھ آج ہم اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں۔ ایسے میں صرف ڈنڈا کام کرتا ہے۔
یہ بات بالکل طے ہوچکی ہے کہ پاکستان کی عدلیہ مکمل طور پر فاسد شدہ اور فرسودہ قوانین اور نظام پر مبنی ہے۔ اور ملک میں پھیلنے والی تمام بیماریوں کی جڑ ہے، دوا نہیں۔ لہذا عدل نام کی کوئی چیز اس ملک میں وجود نہیں رکھتی۔ اور جب عدل نہ ہو، تو پھر ظلم اور فساد ہی رہ جاتا ہے۔سیدنا علیؓ نے فرمایا تھا کہ ’’ریاستیں کفر کے ساتھ تو قائم رہ سکتیں ہیں، مگر ظلم کے ساتھ نہیں!‘‘آج پاکستان کی اشرافیہ، حکومت اور خاص طور پر سپہ سالار کو سیدنا علیؓ کے اس قول پر سنجیدگی سے توجہ دینی چاہیے۔ آج پاکستان کی تقدیر کے ان کے ہاتھوں میں ہے، حساب بھی انہی سے لیا جائے گا!!!
بابا بلھے شاہؒ نے شاید پاکستان کے نظام حکومت ، ریاست اور بیوروکریسی کے بارے میں ہی فرمایا تھا:
چار کتاباں اتوں لتھیاں
اتوں لتھیا ڈنڈا
چار کتاباں کج نہ کیتا
سب کج کیتا ڈنڈا!

https://www.facebook.com/syedzaidzamanhamid/posts/2091623610892439?__tn__=K-R


Sunday, 17 March 2019

February 27th, 2019

After we started smashing their heads....😁 They have started this war....now we will finish it iA



After we started smashing their heads....😁
They have started this war....now we will finish it iA

To the nation....stay firm & calm...go to work normally....our boys are enough to break their jaws....but be ready....you may need to give blood and volunteer for duties....

https://www.facebook.com/syedzaidzamanhamid/photos/a.1643903065664498/2057095491011918/?type=3&theater







Indian media is screaming that Pakistan is hitting back.... Yes we are...for the first time in years...status of LOC will be altered. We are capturing Indian posts and pushing them back....





Indian media is screaming that Pakistan is hitting back....
Yes we are...for the first time in years...status of LOC will be altered. We are capturing Indian posts and pushing them back....
PAF has taken charge of the Motorway....we are in war mode now...
#GhazwaEHind
https://www.facebook.com/syedzaidzamanhamid/posts/2057099307678203?__xts__[0]=68.ARAHsJFj7mdfomzOPL5RR37KXo1M9BjEmz9jFNQI-O9f6t-ndKKP3ajC2iMo8Jc5gsRQ_6jzh39T9aT_-Z2gZjUIR7QR1Qg6PKhiyIcKmmWqNpTzrdW_SbgrhdfSzlgGKXlluLeZ1MT0p7oFTo3Ypx_Sd9FfPa3r1so5rPwAfPiUG-EQs8gQwrmf48gjpnP0KaN2Je9B35sAoV4lgK-DnLiKDnPmH5-76pOJfrXq1U5IMV4ZftqKjd-gaGtOy2owUYhi71HNUhPWIj9sHgIqQ2rk5cvtqlUST5XI_ppJZcv1H5cx2Tz7jKcKhMA1uzJLP96AKhyjDMNl99r2Lpqfl5QExQ&__tn__=-R


 

PAF is led by a very brave & capable Air Chief....I personally know ACM Mujahid Anwar....he is die hard patriot, ideologically driven & ruthlessly professional....



PAF is led by a very brave & capable Air Chief....
I personally know ACM Mujahid Anwar....he is die hard patriot, ideologically driven & ruthlessly professional....the kind of leadership which reminds you of late Nur Khan....the kind you want to lead PAF into war..
Alhamdolillah!
https://www.facebook.com/syedzaidzamanhamid/photos/a.1643903065664498/2057108551010612/?type=3&__xts__%5B0%5D=68.ARBpr0BosmGzSPD--Nz5FlTO9uvuDfkIK8IoqnIwgDrP1pOKVySW13lePc8H4Gi31I7zSUXTMW3kZOt1-5XU5_U5K52Lj1gFhPOuN6uDigIPt95709ptd58ZV6VhBPlyKPm0Akp2mCcu3KhVfcdcjCoeRW9cvUUWA70vfT-ReuFaPU6OO09pGPHUfjxpc1pR-8aAKD6VkiL3MpR2662r2kkqvN02Ok2waf40yfl5Xy13S8mrIo84QNNg3h1emvIP9mzukB8eOCFI2cEO-nwyD0r1D4L-d7EpIea9YipGbkD2uOa0rdNth9JRfbHXGrPWxhSqS29KtCUQsC5eonkjqsA4xw&__tn__=-R



 

Modi...SOB...you are finished....Your adventure has backfired....you are humiliated...your nation is in shock....your arrogance of power is shattered....

 
https://www.facebook.com/syedzaidzamanhamid/photos/a.1643903065664498/2057345937653540/?type=3&__xts__%5B0%5D=68.ARCpicjDW42RWTzNsb9DPdso3Shrx9ouTwes-KJuyNRNuAt2SdVtbhr12efLMoek9Ma45g58w5jTq8g51nVLfW0NWbO9gbH3xSMRnaIUg17G_dDP3kCKl-x8KETNtiwyxMDIa5O96ZGzOqguZ30SBH3XWeoJZg2fVINBcC8u2Y3F0Wdmk-JccVcnG4IGVLfT_h1uNX_XVnaCu9P1usTXlO1C9WbgvERWmCyKwiJOWhMtjQwzxzDg4H2HyDzwcUf3052VRfXjB0H2AZDm-hIQNstzifNwKdkjWMAvubARXu50Zr6W1crg7X18ZXLmxxWVv0HG-aXZgsJ8Do9JfxAJ88FOlQ&__tn__=-R

Modi...SOB...you are finished....
Your adventure has backfired....you are humiliated...your nation is in shock....your arrogance of power is shattered....
Now fall down on your knees and hands on your head.....and don't you dare move......!!..you are defeated...now surrender...

https://www.facebook.com/syedzaidzamanhamid/photos/a.1643903065664498/2057345937653540/?type=3&__xts__%5B0%5D=68.ARCpicjDW42RWTzNsb9DPdso3Shrx9ouTwes-KJuyNRNuAt2SdVtbhr12efLMoek9Ma45g58w5jTq8g51nVLfW0NWbO9gbH3xSMRnaIUg17G_dDP3kCKl-x8KETNtiwyxMDIa5O96ZGzOqguZ30SBH3XWeoJZg2fVINBcC8u2Y3F0Wdmk-JccVcnG4IGVLfT_h1uNX_XVnaCu9P1usTXlO1C9WbgvERWmCyKwiJOWhMtjQwzxzDg4H2HyDzwcUf3052VRfXjB0H2AZDm-hIQNstzifNwKdkjWMAvubARXu50Zr6W1crg7X18ZXLmxxWVv0HG-aXZgsJ8Do9JfxAJ88FOlQ&__tn__=-R




My message to the PM IK ...dont let the enemy escape....



https://www.facebook.com/watch/?v=251493665781375

My message to the PM IK ...
dont let the enemy escape....

https://www.facebook.com/watch/?v=251493665781375




My detailed analysis of IKs speech....


My detailed analysis of IKs speech....

https://www.facebook.com/watch/?v=330902917532736




Tuesday, 12 March 2019

January 28th, 2019


Rise of the Crescent.... #GhazwaeHind


https://www.facebook.com/watch/?v=345106952999298

Rise of the Crescent....
#GhazwaeHind

https://www.facebook.com/watch/?v=345106952999298



ہم پی ٹی آئی کی حکومت کو پاکستان کی معیشت درست کرنے کیلئے چند انتہائی اہم اور مخلصانہ مشورے دینا چاہتے ہیں۔ باقی ان کا نصیب ہے کہ یہ ان سے فیض لیتے ہیں یا بدنصیب رہتے ہیں۔

ہمارا کام اذان دینا ہے، چاہے کوئی جماعت کیلئے آئے یا نہ آئے۔۔۔




ہم پی ٹی آئی کی حکومت کو پاکستان کی معیشت درست کرنے کیلئے چند انتہائی اہم اور مخلصانہ مشورے دینا چاہتے ہیں۔ باقی ان کا نصیب ہے کہ یہ ان سے فیض لیتے ہیں یا بدنصیب رہتے ہیں۔
ہمارا کام اذان دینا ہے، چاہے کوئی جماعت کیلئے آئے یا نہ آئے۔۔۔

ہم جانتے اور سمجھتے ہیں کہ موجودہ حکومت اور اس کے چلانے والے ملک میں شریعت کا فلاحی معاشی نظام قائم نہیں کرسکتے۔ حقیقت میں اسلامی فلاحی ریاست کفر اور سود کے معاشی نظام سے قائم نہیں کی جاسکتی۔ بات بالکل واضح ہے مگر کوئی انجان بنا رہے تو پھر یہ اس کا نصیب۔

اگر یہ حکومت ملک میں انکم ٹیکس ختم کردے تو ملک کی تمام مڈل کلاس اور تنخواہ دار طبقے پر سے بھاری معاشی دباؤ ختم ہوجائے گا۔ یہی وہ طبقہ ہے کہ جو حقیقت میں ملک کو چلارہا ہے اور اپنی محدود آمدنی میں رہتے ہوئے بمشکل گزارہ کرپارہا ہے۔

انکم ٹیکس ویسے بھی ایک حرام ٹیکس ہے۔ اللہ اور اسکے رسولﷺ نے اسے قطعاً حرام قرار دیا ہے کہ ایک مسلمان کی آمدنی پر جبری ٹیکس لگا کر حکومت اس سے اپنا حصہ نکالے۔ اسلام میں آمدن پر ٹیکس نہیں ہے، بچت پر ٹیکس ہے۔

ملک میں 22 کروڑ میں سے صرف چند لاکھ افراد ہی انکم ٹیکس ادا کرتے ہیں، کہ جن میں سے اکثریت پاک فوج کے افسروں، تنخواہ دار سرکاری و نجی ملازمین اور چند ہی کاروباری افراد ہیں۔ باقی پورا ملک، غریب طبقہ اور ارب پتی جاگیردار اور تاجر انکم ٹیکس ادا کرتے ہی نہیں ہیں۔

ذرا سوچیں۔۔۔ اگر آج انکم ٹیکس ختم کردیا جائے تو تنخواہ دار طبقے کو کتنی آسانی ہوجائے گی؟؟؟
سرکاری آمدنی سے 100-200 ارب روپیہ کم ہوجائے گا، مگر معاشرے کا اہم ترین طبقہ معاشی دباؤ سے نکلنے لگے گا۔
سرکاری آمدنی کو اور ذرائع سے پورا کیا جاسکتا ہے۔

اگر حکومت لوگوں کو یہ اختیار دے دے کہ یا تو آپ حکومت کو انکم ٹیکس دیں گے یا پھر زکوٰۃ، تو یقین مانیے پوری قوم بڑے شوق سے حکومت کو زکوٰۃ جمع کرائے گی۔ جو کہ انکم ٹیکس سے ہونیوالی آمدنی سے کئی گنازیادہ جمع ہوجائے گی۔
ہر ماہ بھاری انکم ٹیکس کے بجائے سالانہ زکوٰۃ کون نہیں دے گا؟؟؟

آجکل جو زکوٰۃ کا نظام بنکوں کے ذریعے رائج ہے، وہ بذات خود حرام اور شریعت کے ساتھ ایک مذاق ہے۔
جس طرح نماز اور روزہ مسلمانوں کے ذاتی اختیار میں ہے، اور مسلمان حکومت کے کہے بغیر یہ کام کرتے ہیں، اسی طرح ملک میں کروڑوں افراد اپنی مرضی سے زکوٰۃ بھی ادا کرتے ہیں۔

اگر حکومت انکم ٹیکس معاف کردے اور لوگوں کو اختیار دے دے کہ اس کی جگہ وہ اپنی زکوٰۃ حکومت کو جمع کروائیں، تو مجھے یقین ہے کہ لاکھوں کروڑوں لوگ شوق سے اپنی سالانہ زکوٰۃ حکومتی خزانے میں جمع کرائیں گے۔
جو زکوٰۃ نہ دے، اس پر شوق سے بھاری انکم ٹیکس لگائیں۔۔۔

انکم ٹیکس ریٹرن کی جگہ لوگوں پر زکوٰۃ ریٹرن نافذ کریں۔ زکوٰۃ کا حساب لوگ خود کریں گے، جیسے کہ آجکل بھی کرتے ہیں۔
جب آدمی صاحب مال و دولت ہے تو یقیناًہر سال اس کی زکوٰۃ نکلے گی اور اس کا حساب وہ حکومت کو جمع کرا کر ’’زکوٰۃ فائلر‘‘ بن جائے گا۔

اللہ اور اسکے رسولﷺ نے مسلمان معاشرے کیلئے آسانیاں پیدا کی ہیں۔ کفر اور سود کا نظام معاشرے کیلئے مصیبتیں اور مشکلات پیدا کرتا ہے۔
زکوٰۃ کا نظام نافذ کرنے سے نہ اتنی بھاری قانون سازی نافذ کرنی ہوگی، اور نہ ہی اتنی مقدمہ بازی۔ حکومت کیلئے بھی آسانی، مسلمان کیلئے بھی سہولت۔۔۔ حکومت کی آمدنی بھی کئی گنا بڑھ جائے گی۔

اگر حکومت ذرا سختی کرے تو پاکستان کے بڑے بڑے ڈاکوؤں،چوروں اور لٹیروں سے 20-25 ارب ڈالر نکلوانا بائیں ہاتھ کا کھیل ہے۔ یہ اتنی بڑی رقم ہے کہ حکومت فوری طور پر ملک کے متوسط طبقے کا انکم ٹیکس بھی معاف کرسکتی ہے اور غریب طبقے کیلئے کھاناسستا کرسکتی ہے۔ غلے اور سبزیوں کی قیمتوں کو لازماً کم رکھنا ہوگا۔

زراعت شرعی اسلامی ٹیکس کا نام ’’عشر‘‘ ہے۔ جب بھی فصل پیدا ہوتی ہے، حکومت اس میں سے 10 فیصد غلہ بیت المال کیلئے الگ کرلیتی ہے، کہ جو غریب مسلمانوں کی فلاح کیلئے خرچ ہوتا ہے۔
زراعت کو ہر حال میں کم قیمت بنانا لازم ہے۔ کسان کے تمام ٹیکسز معاف اور فصل کی اچھی قیمت لازم ہے۔

صدر ایوب خان کو جب بھی کوئی وزیر یا انٹیلی جنس ایجنسی ملک کے کسی حصے میں بد امنی کی اطلاع دیتی تو ایوب خان کا ان سے ایک ہی سوال ہوتا: ’’ملک کی فصلیں کیسی ہیں؟‘‘
جب جواب ملتا کہ فصلیں ٹھیک ہیں، تو ایوب خان کہتے: ’’پھر فکر نہ کرو، ملک میں کوئی فساد پیدا نہیں کرسکتا۔‘‘

آج ملک میں کسانوں کو تباہ و برباد کرکے رکھ دیا گیا ہے۔ کھاد، بیج، ادویات، پانی، بجلی، غرضیکہ ہر چیز پر یا تو بھاری ٹیکس ہیں یا سہولیات سرے سے موجود ہی نہیں ہیں۔ پھر کسان کو اپنی فصل کی قیمت بھی پوری نہیں ملتی۔
مثلاً ملک میں صرف شوگر مل مافیا گنے کے کسانوں کی کمر توڑ کر کوڑیوں کے مول فصل خریدتا ہے۔

ملک میں اگر فصلیں ٹھیک ہوں، کسان خوشحال ہو، خوراک وافر اور سستی ہو۔۔۔ اور ملک کا متوسط طبقہ بھاری ٹیکسوں کے بوجھ تلے پس نہ رہا ہو، تو یہ حکومت کو بڑے بڑے قومی اور معاشی طوفانوں سے بچانے کا باعث بن جاتی ہے۔ اگر غریب طبقہ بپھرا ہوا ہو، بھوکا ہو اور متوسط طبقہ پس رہا ہو، پھر حکومت خطرے میں ہی رہتی ہے۔۔۔

انکم ٹیکس ختم کریں، پٹرول پر ٹیکس ختم کریں، زراعت کو سہولتیں دیں، زکوٰۃ نافذ کریں، عشر نافذ کریں، بیت المال کو فعال کریں۔۔۔
اگر حکومت وقت صرف یہ چند کام ایمانداری، محنت اور لگن سے کرلے، پھر اسے کوئی دشمن یا کوئی اپوزیشن ہلا نہیں سکتی۔

https://www.facebook.com/syedzaidzamanhamid/posts/2013789562009178?__tn__=K-R







It is the modern economic system based on Usury, paper currency, taxes, debts, Banks & loans which is the cancer of entire economic mess, wars & famine in the world.......



It is the modern economic system based on Usuary, paper currency, taxes, debts, Banks & loans which is the cancer of entire economic mess, wars & famine in the world.......there can be NO solution to the sufferings of humanity if the solution is found in the cancer itself..

https://www.facebook.com/syedzaidzamanhamid/photos/a.109687115752775/2013810495340418/?type=3&theater

Saturday, 1 September 2018

August 16th, 2018

اگر عمران کی حکومت صرف پچھلے چوروں کا احتساب کرکے لوٹا مال ہی برآمد کرلے اور فوج کے مشورے سے قومی سلامتی کے اہم فیصلے کرلے، تو میں سمجھوں گا کہ انہوں نے کچھ کرلیا ہے۔


یہ اردو میں کی جانیوالی تمام ٹویٹس کو ایک مرتبہ تسلی سے پڑھ لیں۔ یہ ترتیب سے کیا جانیوالا ایک بیانیہ ہے۔ صرف ایک ٹویٹ کو پڑھ کر اپنا جواب مت داغ دیجیئے گا۔ پہلے بات کو سمجھیں، غور کریں اور پھر مدبرانہ جواب دیں۔
مذاق اور مسخرہ پن آپ کو مہنگا پڑے گا۔

2007 ءمیں جب اس فقیر نے میڈیا پر آکر دفاع پاکستان اور احیائے پاکستان کی اذان دینی شروع کی تو، 1971 ءکے بعد، وہ ہماری تاریخ کے سیاہ ترین دن تھے۔ اس قدر دہشت گردی تھی کہ ملک ہاتھ سے نکل چکا تھا۔ خود فوج کا یہ عالم تھا کہ وردی پہن کر جی ایچ کیو نہیں جاسکتے تھے۔

2007 ءکے آخر تک کہ جب بینظیر کو بھی خود کش حملے میں قتل کردیا گیا، اور پورے ملک میں انتقامی فساد پھوٹ پڑے، تو خطرہ ہوچلا تھا کہ واقعی پاکستان ہمارے ہاتھ سے نکل جائے گا۔
اسی ناممکن صورتحال میں اس فقیر کی اذان نے قوم کو سنبھالا دیا، فوج کو حوصلہ دیا، خوارج کو بے نقاب کیا اور نظریہءپاکستان کو زندہ کیا گیا۔

اگلے پانچ برس 2013 ءتک ہمارے مشن کے مشکل ترین سال تھے۔ زرداری پاکستان کا صدر تھا، افتخار چوہدری چیف جسٹس اور جنرل کیانی سپہ سالار۔ اور تینوں ہی اس فقیر کی جان کے دشمن۔ ہر طرح سے ہمارے مشن کو روکنے کیلئے ہم پر آزمائشوں اور مصیبتوں کے پہاڑ توڑے گئے، یہاں تک کہ قتل کا مقدمہ بھی بنایا گیا، توہین رسالت کا الزام لگا کر مروانے کی کوشش بھی کی گئی۔

مگر الحمدللہ، 2007 ءسے 2013 ءتک، ہماری اذان کی برکت سے اللہ تعالیٰ نے پہلے پاک فوج کو سنبھالا اور پھر پاک فوج نے پاک سرزمین کو سنبھالا۔ اگر پاک فوج پاکستان کی حفاظت کررہی تھی تو ہم پاک فوج کی حفاظت کررہے تھے، اور پھر اسی پاک فوج کی تلوار سے ہم نے دشمنوں کا صفایا کروایا، جبکہ نظریہءپاکستان اور بابا اقبالؒ کو ہم نے خود زندہ کیا۔

خدا خدا کرکے زرداری، افتخار چوہدری اور کیانی دفع ہوئے۔2013 ءکے انتخابات کو ہم نے روکنے کی بہت کوشش کی، کہ جو تباہی زرداری کی جمہوریت لا چکی تھی وہ کافی تھی یہ بتانے کیلئے کہ اگلے پانچ سال بھی پاکستان کو ”جمہوری طرز“ پر سیاسی دہشت گردی کا نشانہ بنایا جائے گا۔

بہرحال 2013 ءمیں جو ہمارے خدشات تھے، نواز شریف کی جمہوریت کے بارے میں، وہ سو فیصد صحیح ثابت ہوئے۔ نواز شریف، زرداری سے بڑا سیاسی اور معاشی دہشت گرد ثابت ہوا۔ آج 2018 ءمیں پچھلی دس سالہ سیاسی دہشت گردی کا یہ نتیجہ نکلا ہے کہ ملک دیوالیہ اور عالمی طاقتوں کے ہاتھوں گروی رکھا جاچکا ہے۔

یہی وجہ تھی کہ ہم اس ”جمہوری دہشت گردی“ کو 2018 ءکے الیکشن میں روکنا چاہتے تھے۔ نظام کی درستگی کے بغیر اور پچھلے دس سال میں لوٹی گئی دولت کو واپس لائے بغیر ملک کو دوبارہ جمہوریت کے حوالے کرنا ایک سراسر حماقت، جہالت اور یہاں تک کہ غداری کے مرتکب ہونے والی بات تھی۔

بہرحال، اب انتخابات ہوچکے ہیں، ”نیا پاکستان“ بننے جارہا ہے۔ ظاہر ہے کہ ہم اس حکومت کو فی الحال چلنے دینگے، اس کی حمایت کریں گے، اس کو نصیحت کریں گے۔ جہاں یہ غلطیاں کرنے لگے گی، وہاں تنبیہ کریں گے۔ جہاں اچھے کام کرے گی، وہاں تعریف بھی کریں گے۔
بہت گہری نگاہ رکھیں گے اس کے اوپر۔

زرداری اور نواز کی حکومتیں تو ہم دیکھ چکے ہیں، اب عمران کی بھی دیکھ لیتے ہیں۔ جب نظام وہی غلیظ ہو، مشیر وہی حرام خور ہوں، کرپشن اور خیانت اسی طرح رچی بسی ہو، پارلیمان میں جاہلوں کی اکثریت ہو اور قیادت لبرل اور سیکولر ہو، تو اسلامی فلاحی ریاست کہ جس کی بنیاد شریعت پر ہو، ایک خواب سی لگتی ہے۔

مگر یہ بات بھی درست ہے کہ اس کا اسلامی فلاحی ریاست کا نعرہ بھٹو کے روٹی، کپڑا اور مکان کے نعرے سے کوئی مختلف نہیں ہے۔
اگر عمران کی حکومت صرف پچھلے چوروں کا احتساب کرکے لوٹا مال ہی برآمد کرلے اور فوج کے مشورے سے قومی سلامتی کے اہم فیصلے کرلے، تو میں سمجھوں گا کہ انہوں نے کچھ کرلیا ہے۔

جیسے کہ ہم نے کہا، ہم ہرگز پی ٹی آئی کی حکومت کی مخالفت نہیں کریں گے۔ ان کو موقع دینگے کہ یہ کچھ کر کے دکھائیں۔ مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ یہ بغیر فوج اور عدلیہ کی مدد کے دھیلا بھی نہیں کرسکتے۔ فوج اور عدلیہ کو مجبوراً سیاست میں دخل بھی دینا ہوگا اور اس کو چلانا بھی ہوگا۔

باقی رہے نام اللہ کا، اس پاک سرزمین نے تو اللہ کے حکم سے ہمیشہ قائم رہنا ہے۔ یہ حکمران، یہ سیاست باز، یہ معاشی دہشت گرد، پہلے بھی تھے اور آج بھی ہیں، اور ”نئے پاکستان“ میں بھی ہونگے۔
اللہ تو اپنا کام فاسقوں سے بھی لے لیتا ہے، شاید ان سے بھی کچھ لے لے۔ مگر یہ وہ لوگ نہیں ہیں کہ جو ”تکمیل پاکستان“ کریں گے۔

اللہ نے ہماری ڈیوٹی اس پاک سرزمین کی حفاظت کی لگائی ہے۔ اس کے پاکیزہ، بابرکت روحانی نظریے کی حفاظت، اس کی پاک فوج کی حفاظت، اس کی جغرافیائی سرحدوں کی حفاظت، بابا اقبالؒ کے پیغام کی حفاظت، شریعت و دین و اسلام کی حفاظت۔
یہ ڈیوٹی، ان شاءاللہ، ہر حال میں، ہر وقت ادا کی جاتی رہے گی، چاہے ”پرانا پاکستان“ ہو یا ”نیا پاکستان“۔۔۔

https://www.facebook.com/syedzaidzamanhamid/posts/1792793317442138?__tn__=-R




باقی رھے نام اللہ کا۔۔۔ھم اپنی ڈیوٹی کریں گے۔۔


 https://www.facebook.com/syedzaidzamanhamid/photos/a.1643903065664498/1792973060757497/?type=3

August 9th, 2018

I would ask all PTI to watch this...My only program with IK on how to create an Islamic welfare state...I had advised IK then....now he has the time to implement this.....this is his moment!

https://www.facebook.com/syedzaidzamanhamid/videos/1780109155377221/

I would ask all PTI to watch this...
My only program with IK on how to create an Islamic welfare state...I had advised IK then....now he has the time to implement this.....this is his moment!
He must understand the wisdom of what I said here that day...

https://www.facebook.com/syedzaidzamanhamid/videos/1780109155377221/




انتخابات کے چند روز بعد میری ملاقات ایک صاحب بصیرت، اللہ کے ولی سے ہوئی۔ بابا جی تقریباً نوے برس کے ہیں، اور ایوب خان کے وقت سے ان کی ڈیوٹی اس پاک سرزمین میں لگی ہوئی ہے۔ اس فقیر پر بہت شفقت فرماتے ہیں۔ جب میں نے ان سے پاکستان پر انتخابات کے اثرات کا پو چھا تو فرمانے لگے” نا اتفاقی پھیل جائے گی، فساد ہوگا“۔



https://www.youtube.com/watch?v=LhwIRy4rphA

کل اسلام آباد میں فضل الرحمن، اچکزئی، اسفندیار، پیپلز پارٹی اور نواز لیگ کے شکست خوردہ سیاسی لٹیروں نے جس بے شرمی اور بے حیائی سے پاک فوج اور چیف جسٹس ثاقب نثار کو ننگی گالیاں دی ہیں، وہ بذات خود ریاست پاکستان کے خلاف بغاوت تو ہے ہی، اور ساتھ ہی ہر محب وطن کیلئے ایک لمحہ فکریہ بھی۔

انتخابات کے چند روز بعد میری ملاقات ایک صاحب بصیرت، اللہ کے ولی سے ہوئی۔ بابا جی تقریباً نوے برس کے ہیں، اور ایوب خان کے وقت سے ان کی ڈیوٹی اس پاک سرزمین میں لگی ہوئی ہے۔ اس فقیر پر بہت شفقت فرماتے ہیں۔ جب میں نے ان سے پاکستان پر انتخابات کے اثرات کا پو چھا تو فرمانے لگے” نا اتفاقی پھیل جائے گی، فساد ہوگا“۔

نواز شریف کے بارے میں بابا جی فرماتے ہیں کہ ”چاہے وہ اندر رہے یا باہر، اس کے نصیب میں اب صرف رسوائی ہے۔“
پاکستان کے سیاسی اور دفاعی امور پر ان کی روحانی ڈیوٹی ہے، اور ایوب خان سے لیکر جنرل ضیاءتک اور آج تک پاکستان کے تمام حکمران اور اہل اقتدار ان کے دربار پر ادب سے ہاتھ باندھے کھڑے نظر آتے ہیں۔

بابا جی سے میرا برسوں کا رابطہ ہے، طویل نشستیں ہوتی ہیں، ”روحانی انٹیلی جنس“ کا ایک ایسا خزانہ ہیں کہ جو اس پاک سرزمین پر اللہ کی خصوصی رحمت اور حفاظت کا زندہ و جاوید ثبوت ہے، مگر نہ تو کم ظرفوں سے بات کرتے ہیں اور نہ ہی ان پر اللہ کے راز کھولتے ہیں۔ خود دنیا سے بے نیاز، مگر ان کا ڈیرہ ہمیشہ آباد رہتا ہے۔

میں نے ان سے پاکستان کے انتخابات، سیاسی لیڈورں کے حال و مستقبل اور خاص طور پر عمران کے بارے میں بھی پوچھا۔ جو کچھ آپ نے فرمایا ابھی اس کو بیان اس لیے نہیں کیا جاسکتا کہ نہ تو لوگ یقین کریں گے، بلکہ مذاق اڑائیں گے اور فساد پھیل جائے گا۔
لہذا ”خاصا دی گل، عاماں اگے نہیں مناسب کرنی“۔۔۔

یہ پاکستان اللہ کے رازوں میں سے ایک راز ہے۔ اس پر سایہءخدائے ذوالجلال بھی ہے اور سیدی رسول اللہﷺ کی نگاہ بھی۔ اس پاک سرزمین کی حفاظت پر اللہ نے ہمیشہ روحانی قوتوں پر مقرر کیا ہوتا ہے۔ یہ طاقتیں ملائکہ بھی ہیں اور وہ قطب اور ابدال بھی کہ جن کو اللہ نے اس روحانی نظام کو چلانے کیلئے ڈیوٹی پر مامور کیا ہوا ہے۔

قدرت اللہ شہاب کی ”شہاب نامہ“ پڑھیے، ممتاز مفتی کی ”الکھ نگری“، بابوں کی ایک ایسی پر اسرار دنیا کا دروازہ آپ پر کھلے گا کہ جس سے عام دنیا دار لوگ مکمل طور پر ناواقف ہیں، بلکہ کئی تو یکسر انکاری ہیں۔ پاکستان کا حکمران کوئی بھی ہو اس کے گرد اللہ کے بندے ڈیوٹی پر مقرر ہوتے ہیں کہ جو اس کو نصیحت کرتے رہتے ہیں۔

یہ بابوں کی ایک ایسی پر اسرار دنیا ہے کہ اگر آپ نے خود مشاہدہ نہ کیا ہو، تو اس پر یقین کرنا ناممکن ہے۔ قرآن و احادیث میں بکثرت اللہ کے ایسے بندوں کا ذکر ملتا ہے کہ جو آج کی زبان میں "Officers on Special Duty" ہوتے ہیں۔تاریخ کا کوئی بھی دور اللہ کے ایسے بندوں سے خالی نہیں ہوتا۔

جہاں تک اس پاک سرزمین کا تعلق ہے، اس پر تو پوری دنیا کے بابوں کی خصوصی نگاہ ہے۔ یاد رکھیے، یہ بابے صرف اللہ کے حکم کی تعمیل کرتے ہیں، مخلوق خدا کی خدمت کرتے ہیں، امت رسولﷺ کی حفاظت کرتے ہیں۔ اگر اللہ کا ہی امر یہ ہو کہ اس قوم کو سزا دینی ہے تو پھر یہ بابے استغفار توکرتے ہیں، مگر اللہ کے امر میں دخل نہیں دیتے۔

جس طرح ظاہری دنیا میں حکومت، اختیار اور عہدوں کا ایک پورا نظام ہے، اسی طرح اس روحانی دنیا میں درجات اور رینک ہیں، بابوں کے اوپر بابے ہیں، ہر ایک کا اپنا دائرہ اختیار ہے، اور سب بابوں کی روحانی کمانڈ سیدی رسول اللہﷺ کے دست مبارک میں ہے۔ تمام فقرائ، سلاسل اور قطب و ابدال دربار نبویﷺ سے ہی فیض لیتے ہیں۔

یہ باتیں جو ہم آج آپ سے کررہے ہیں، تمام اہل دل اور اہل طریقت اس کو بہت اچھی طرح جانتے ہیں۔ دنیا والے جو بھی اپنی چالیں چل لیں، ان سب کے اوپر اللہ سب سے بہتر تدبیر کرنے والا ہے، اور اللہ جب اپنی تدبیر اور حکم کو نافذ کرتا ہے تو اس کیلئے اس کی فوجوں میں یہ ”بابے“ بھی شامل ہوتے ہیں۔

اپنی اپنی روحانی حدود میں یہ بابے بہت با اختیار بھی ہوتے ہیں۔ آپ کو حضرت نظام الدین اولیائؒ کا ”ہنوز دلی دور است“ والا واقعہ یاد ہی ہوگا۔ سلطان تغلق نے تکبر سے اعلان کیا کہ میں دہلی جا کر حضرت نظامؒ کو قتل کردوں گا۔ اس کے جواب میں حضرت نظامؒ نے یہ جملہ فرمایا تھا۔ بادشاہ کبھی دہلی نہ پہنچ سکا۔۔۔

میں ذاتی طور پر بھی آج کے دور میں ایسے کئی واقعات کا عینی شاہد ہوں کہ جہاں ایک صاحب اختیار بابے کی نگاہ یا بدعا سے تقدیریں تبدیل ہوگئیں۔ جس طرح ظاہری دنیا میں ایک گورنر یا وزیر اپنی طاقت کا استعمال کرسکتا ہے، اسی طرح اس روحانی دنیا میں یہ بابے بہت با اختیار ہوتے ہیں۔

جوکچھ ظلم آج اس پاک سرزمین کے ساتھ ہورہا ہے، وہ خود ہمارے اپنے اعمال کی ہی وجہ سے ہے۔ اللہ نے کبھی ہم پر ظلم نہیں کیا، ہم نے خود اپنی جانوں پر ظلم کیا ہے۔ جو قوم جمہوریت کی غلاظت اور کفر کے نظام پر راضی ہو، پھر اسے اللہ سے شکوہ کرنے کا حق نہیں کہ کیوں وہ خوف اور بھوک کے عذاب میں مبتلا ہوگئی ہے۔

ہم آپ سب سے کہیں گے کہ ہمارا ایک بہت ہی قدیم ٹی وی پروگرام ”Role of Spiritual Forces “ ضرور دیکھیئے گا۔ یہ دو حصوں میں ہے، اور YouTube پر دستیاب ہے۔ آپ کو اس روحانی دنیا کی ایک حیرت انگیز تصویر نظر آئے گی کہ کس طرح اصل فیصلے تو یہاں ہوتے ہیں، ظاہر دنیا میں تو صرف اس کی تاثیر دکھائی دیتی ہے۔

پاکستان کے آج کے حکمرانوں پر واجب ہے کہ سیدی رسول اللہﷺ کے اس مدینہءثانی کی ہر قیمت پر حفاظت کریں۔ دربار نبویﷺ میں کوئی کوتاہی، کمزوری، غفلت یا عذر اب قبول نہیں کیا جائے گا۔ جس کا جتنا اختیار ہے وہ اتنا ہی ذمہ دار ہے، اور اس کی اتنی ہی سخت گرفت ہے۔ ہوش میں آجائیں، تھوڑا وقت رہ گیا ہے!!!

https://www.facebook.com/syedzaidzamanhamid/posts/1781242095263927?__tn__=-R

Tuesday, 21 August 2018

July 27th, 2018

What red lines IK must never cross?


What are the best things that have emerged in this elections.

1. One national party has emerged cutting across ethnic or religious divides.
2. Nearly all top veteran political traitors dividing the nation have been rejected.
3. People of Karachi, in general, rejected MQM.

Now what are the major challenges?

1. Since 1971, Pakistan faces its gravest of crisis today. Is an active war zone, on the edge of economic meltdown under attack in a 5GenWar.
2. PTI faces its gravest challange too. It has never played on this stage & it's team is very weak.

Now what are the major challenges?

1. Since 1971, Pakistan faces its gravest of crisis today. Is an active war zone, on the edge of economic meltdown under attack in a 5GenWar.
2. PTI faces its gravest challange too. It has never played on this stage & it's team is very weak.

What red lines IK must never cross?

He must never become another Donald Trump. Trump never held a national office before & suddenly became President. He is inexperienced, has dangerous advisors, he is arrogant, egotistical & unpredictable. He was elected too with high hopes....

What are the immediate challenges PTI govt will face?

1. Finding the right team to run the country. Right now, they are in a mess.
2. Economic collapse. Must find alternate ways to generate income, not IMF.
3. Next wave of Terrorism which is lurking around the corner.

What are the things which could destroy or hurt IK?

1. His own ego and inexperience.
2. His bad advisors. Almost all of them are liberal secular, some even alcoholics.
3. His clash with army on national security issues & his rash desire to control army & ISI at this stage.

- Zaid Hamid

https://www.facebook.com/syedzaidzamanhamid/photos/a.1643903065664498/1760369454017858/?type=3&theater





آج میں پی ٹی آئی کے نوجوانوں سے کچھ گہری باتیں کرنا چاہتا ہوں، زرا غور سے سنیں۔ پہلے ساری ٹویٹس پڑھ لیں



آج میں پی ٹی آئی کے نوجوانوں سے کچھ گہری باتیں کرنا چاہتا ہوں، زرا غور سے سنیں۔ پہلے ساری ٹویٹس پڑھ لیں، پھر کوئی جواب دینا ہو تو دیں۔ ایک ٹویٹ پڑھ کر شور شرابہ نہ شروع کردیں۔

پی ٹی آئی کے جذباتی نوجوانوں سے میں یہ کہتا ہوں کچھ شرم حیاءاور لحاظ کرلیا کرو۔ جب تمہارے پوتڑے تمہاری مائیں بدلا کرتی تھی، تو اس وقت یہ فقیر میدان جنگ میں برسوں دشمنوں سے برسر پیکار رہا۔ تم میں سے اکثر کے والد کی عمر کا ہوں۔ تمہاری بداخلاقی شرمناک حد تک گری ہوئی ہے۔

میری پوری زندگی اس پاک سرزمین کے دفاع میں گزری ہے۔ ہمارا تجربہ، مشاہدہ اور فراست اللہ کے فضل سے آپ سب سے زیادہ ہے۔ لہذا جب ہم کوئی بات کریں تو ادب کا تقاضا بھی یہ ہے کہ بدکردار و بداخلاق لوگوں کی طرح گالیاں دینے کے بجائے غور سے ہماری بات سنیں اور اس پر تدبر کریں۔

پاکستان کے دفاع میں جن مجاہدوں نے اپنا خون پسینہ اور مال لٹایا ہے اور لٹارہے ہیں، ان کے ساتھ گستاخ اور بے ادب نہ ہوا کریں۔ اس پاک سرزمین کے دفاع کیلئے اور نظریہءپاکستان کے احیاءکیلئے ابھی تک آپ نے کچھ بھی نہیں کیا ہے۔ نہ آپ کا علم ہے نہ آپ کا تجربہ ہے نہ آپ نے عملی طور پر اس پاک سرزمین کیلئے خون بہایا ہے۔

ہر جماعت کا مزاج اور اخلاق اس کے قائدین اور سربراہوں کے اخلاق کا نمائندہ ہوتا ہے۔ آپ لوگوں کی شرمناک بداخلاقی دیکھ کر مجھے پاکستان کے مستقبل پر خوف آتا ہے۔ نہ آپ کو دوست اور دشمن کی پہچان ہے، نہ بڑے اور چھوٹے کا لحاظ ہے، نہ دین اور شریعت کا کوئی ادب۔

نہ میری کسی سیاسی جماعت سے کوئی وابستگی ہے، نہ میں کسی کا دیا حرام کھاتا ہوں، نہ کسی دنیاوی طاقت کا کوئی خوف ہے۔ اللہ کی طرف سے ایک ڈیوٹی پر مامور ہوں کہ اس پاک سرزمین کی ہر حال میں، ہر دشمن سے، حفاظت کرنی ہے، چاہے وہ دانا دشمن ہوں یا نادان دوست۔

ہر وہ شخص جو ملک و ملت و قوم کا درد رکھتا ہے، اس کیلئے قربانیاں دیتا ہے، اس کیلئے اپنے جان و مال و اولاد کو پیش کرتا ہے، وہ لازماً جذباتی بھی ہوگا، جرا ¿ت رندانہ بھی رکھتا ہوگا، دوستوں پر رحیم اور دشمنوں پر انتہائی سخت بھی ہوگا۔ اگر ہماری ڈیوٹی کو نہیں سمجھتے ہو، تو یہاں سے چلے جاﺅ۔ خود کو بدنصیب نہ کرو۔

ہم جو باتیں پی ٹی آئی اور عمران کے بارے میں کہتے ہیں وہ دشمنی پر مبنی نہیں ہیں، بلکہ ان کی بنیاد پاکستان سے شدید محبت اور اس کی ہر حال میں حفاظت کا جذبہ ہے۔ حکمرانوں کو نصیحت نقصان ہونے سے پہلے ہی کرنی چاہیے۔ نقصان کے بعد نصیحت کی تو کیا فائدہ۔۔۔

ہم نے پہلے بھی کہا تھا کہ پاکستان کے معاملے میں ہم کسی کا لحاظ نہیں کریں گے۔ جب ایک بزرگ، تجربہ کار، غیر جانبدار اور عملی طور پر دفاع پاکستان میں خط اول لڑنے والا کوئی وجود آپ کو نصیحت کریں تو کم عقلوں کی طرح شور مچانے کے بجائے سر جھکا کر تحمل سے سنیں، چاہے بات سمجھ آئے یا نہ آئے۔

پی ٹی آئی نے صوبہ سرحد پر حکومت تو کی، مگر اس صوبے کو خوارج کے فتنے سے آزاد کرانے میں ان کا کوئی کردار نہیں تھا۔ اس صوبے کو آزاد براس ٹیکس اور پاک فوج نے مل کر کیا ہے، اور اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں۔ اور بدنصیبی یہ ہے پی ٹی آئی کے نوجوان ہمیں ہی گالیاں دیتے ہیں۔۔۔

آپ لوگوں کو نہیں معلوم کہ براس ٹیکس کی ڈیوٹی کیا ہے۔ 2007 ءمیں ہم نے پاکستان کے دفاع کی فیصلہ کن جنگ لڑنا شروع کی، پاک فوج کو حوصلہ دیا، حکمت عملی سمجھائی، خوارج کے خلاف اذان دی، قوم اور فوج کو اکٹھا کیا اور جنگ کا پانسا پلٹ دیا، اور آج اللہ کے فضل سے پاکستان میں امن ہے۔ کیا یہ سب آپ جانتے ہو۔۔۔؟

لہذا پی ٹی آئی کے نوجوانو، اگر یہاں ہماری بات سننے آئے ہو تو ادب اور لحاظ سے سنو۔ اس میں تمہارے لیے بہتری اور خیر ہے۔ یہ باتیں تمہیں کوئی اور نہیں بتائے گا، کوئی اور تمہاری غلطیوں کی نشاندہی نہیں کرے گا، کوئی اور تمہیں اصلاح کی نصیحت نہیں کرے گا، کوئی اور تمہیں اپنی نادانی میں پاکستان کو نقصان پہنچانے سے نہیں روکے گا۔ اپنے خیر خواہ کی عزت و ادب کرو!!!

https://www.facebook.com/syedzaidzamanhamid/posts/1760645060656964?__tn__=-R

Sunday, 29 July 2018

July 26th, 2018


عمران....! اپنے مشیروں کے معاملے میں اللہ سے ڈرتے رہنا۔ تمہارے اطراف میں، تمہارے انتہائی نزدیک بہت زہریلے سانپ موجود ہیں۔ ان میں سے اکثر کا اللہ اور اسکے رسولﷺ سے کوئی تعلق اور واسطہ نہیں ہے، شراب خور بھی ہیں اور زانی بھی، اور دین سے متنفر بھی۔ ان کے نزدیک مدینے کی اسلامی ریاست کا خواب محض ایک مذاق ہے۔




سیدنا علیؓ سے کسی نے پوچھا کہ کیا وجہ ہے کہ آپؓ سے پہلے تین خلفاءکے دور میں امن تھا، مگر آپؓ کے دور میں اتنا انتشار؟
سیدنا علیؓ نے فرمایا: ان کے دور میں امن اس لیے تھا کہ میں ان کا مشیر تھا، اور میرے دور میں فساد اس لیے ہے کہ تم جیسے لوگ میرے مشیر ہو۔

آج الیکشن کے بعد عمران خان کی تقریر سنی۔ اچھی بات کہی کہ میں پاکستان کو مدینے کی ریاست جیسا بنانا چاہتا ہوں۔
میرا سوال، کیا آپ کے پاس پاکستان کو مدینے جیسی ریاست بنانے کیلئے صاحب نظر، اہل بصیرت، حق گو اور بے باک مشیر بھی ہیں؟؟؟

میں عمران کو یہ نصیحت بھی کرنا چاہوں گا کہ مدینے کی اسلامی فلاحی ریاست کا مرکزی ستون دین، شریعت، قرآن و اسلام کے اخلاقی اصول اور روحانی معراج تھی۔ سیدی رسول اللہﷺ کی توجہ انسان سازی اور کردار سازی پر تھی نہ کہ معاشی ترقی پر۔

عمران....! اپنے مشیروں کے معاملے میں اللہ سے ڈرتے رہنا۔ تمہارے اطراف میں، تمہارے انتہائی نزدیک بہت زہریلے سانپ موجود ہیں۔ ان میں سے اکثر کا اللہ اور اسکے رسولﷺ سے کوئی تعلق اور واسطہ نہیں ہے، شراب خور بھی ہیں اور زانی بھی، اور دین سے متنفر بھی۔ ان کے نزدیک مدینے کی اسلامی ریاست کا خواب محض ایک مذاق ہے۔

عمران اس بات کو کبھی نہ بھلانا کہ اس پاک سرزمین کی تعمیر ایک مقدس اور مبارک نظریے پر ہوئی تھی۔ یہ پاک سرزمین ایک جغرافیہ ہی نہیں، بلکہ ایک اخلاقی، روحانی اور انقلابی نظریہ بھی ہے۔
اے طاہر لاہوتی، اس رزق سے موت اچھی
جس رزق سے آتی ہو، پرواز میں کوتاہی

آج ہماری قوم کا اصل المیہ نہ تو کمزور نظام ہے اور نہ ہی تعلیم و صحت کی کمزوری۔ اس قوم کا اصل المیہ اخلاقی زوال ہے۔ حرام اور حلال کی تمیز ختم ہوچکی ہے۔ شریعت، دین، بزرگوں اور انسانیت کا ادب ختم ہوچکا ہے۔ قافلہ بھی لٹا ہے، احساسِ زیاں بھی گیا ہے۔
کوئی ہے حکمران جو یہ ”تبدیلی“ لاسکے۔۔۔؟

عمران ، آپ نے اپنے ماضی میں کئی خوفناک ترین غلطیاں کی ہیں، مگر اب غلطی کی کوئی گنجائش نہ آپ کیلئے ہے، نہ اس ملک و قوم کیلئے۔ ہم صاف بتارہے ہیں کہ آپ کے مشیر آپ کا بیڑا غرق کروادینگے۔ دین و شریعت کے معاملات میں صاحب بصیرت لوگوں سے مشورہ لیں، قومی سلامتی کے معاملات میں پاک فوج سے!

ذاتی طور پر میں اب بھی اس فیصلے پر قائم ہوں کہ ہمیں انتخابات سے قبل احتساب اور نظام کی تبدیلی کا عمل مکمل کرنا چاہیے تھا۔
بہرحال اب جو ہونا تھا وہ ہوچکا۔ ہمیں ہر حال میں اس پاک سرزمین کا دفاع بھی کرنا ہے اور حکومت وقت کو ان کی تباہ کن غلطیوں سے روکنا ہے کہ جو ماضی میں ہوتی رہی ہیں۔

اداروں کو مضبوط کرنا، پولیس کا نظام ٹھیک کرنا، صحت و تعلیم میں ترقی کرنا، زراعت و تجارت کے فروغ کیلئے عمل کرنا سب اچھی باتیں ہیں۔ مگر اس کو ”تبدیلی“ نہیں کہتے۔ فقراءکے نزدیک تبدیلی وہ ہے کہ جب کفر اور گناہ میں لت پت انسانی معاشرے کو فکر اقبالؒ پر اخلاقی و روحانی معراج عطا کی جائے۔

پاکستان کی آنے والی حکومت پر یہ فرض ہوگا کہ پاکستان کے میڈیا، تعلیمی نظام اور معاشرے میں نظریہءپاکستان، انسانی ، اخلاقی اور روحانی اقدار اور کردار سازی کیلئے سخت ترین معیار بھی قائم کرے اور نگرانی بھی۔
پی ٹی آئی کی تاریخ اس حوالے سے کوئی زیادہ حوصلہ افزاءنہیں ہے۔

بھارت ہمارا ازلی ابدی دشمن ہے۔ امن کیلئے ان ظالم اور مکار مشرکوں کے آگے لیٹنے کی ضرورت نہیں ہے۔ نہ وہ امن چاہتے ہیں، نہ ہمیں امن سے رہنے دینگے۔ اپنے آپ کو اس غلط فہمی میں رکھنے کی ضرورت نہیں ہے کہ بھارت سے امن قائم کیا جاسکتا ہے۔ مشرقی سرحدوں پر امن چاہتے ہیں تو ان کے ساتھ وہ کریں جو آج وہ ہمارے ساتھ کررہے ہیں۔

بہرحال، ہنوز دلی دور است! ابھی نئی حکومت بنی بھی نہیں، مشیروں اور وزیروں کا تعین بھی نہیں ہوا، ہارنے والوں کا ردعمل بھی سامنے نہیں آیا، دشمن بھی وار کرنے کیلئے پینترے بدل رہے ہیں۔
ہم بہرحال اس نئی حکومت کی رہنمائی کریں گے، کوشش ہوگی کہ انکی کمزوریوں کی نشاندہی کرکے ان سے پاکستان کیلئے بہتر فیصلے کروائے جاسکیں۔

https://www.facebook.com/syedzaidzamanhamid/posts/1759256840795786