...

Friday, 20 March 2020

March 18th, 2020

خیال کیجئے


 خیال کیجئے
تحریر محمد اظہر حفیظ

سب کچھ رک گیا ھے، فضا میں خوف ھے، سکول، کالج، یونیورسٹیاں بند ھیں، کاروبار نہ ھونے کے برابر تو پہلے ھی تھے اب تو بلکل ھی نہیں ھے، دفتروں میں حاضری کم ھے، شادی ھال بند ھیں، سڑکیں خالی ھیں، مزدور سڑک کنارے فارغ بیٹھے ھیں مزدوری کوئی نہیں ھے، لوگ ملنا جلنا بند ھوگئے ھیں، ھاتھ ملانا بھی بیماری کا باعث ھوسکتا ھے، ماسک بازار میں نہیں ھیں، جو ھیں وہ مہنگے ھیں، احتیاط اچھی چیز ھے، سب سٹاک کرنا بھی بہتر ھے، پر خیال کیجئے انکا جو سٹاک نہیں کر سکتے، جن کو کئی دن سے مزدوری نہیں ملی، جو بے روزگار ھیں، ان کو تلاش کیجئے انکی مدد کیجئے، ھوسکتا ھے آپ کرونا سے بچ جائیں اور بے شرمی سے مر جائیں۔ نکلئے اپنے گھر سے ماسک پہنئیے، اور دیکھئے آپ کے آس پاس کوئی بھوکا تو نہیں ھے، کوئی ضرورتمند تو نہیں ھے ، اس کی مدد کیجئے۔ مجھے قوی امید ھے کہ آپ کا ایک احسن قدم آپ کو کرونا سے بچا کر بہت دور لے جائے گا، اپنی ضروت سے زیادہ کھانا بنائیے، تقسیم کیجئے، مستحقین میں ماسک، صابن تقسیم کیجئے انکی مالی امداد کیجئے، تنگی کا وقت ھے اپنے دل کشادہ کیجئے اور جمع کی بجائے تقسیم کا فارمولا اپنائیے اللہ اس کو ضرب دے کر واپس عطا کریں گے۔ انشاءاللہ ۔ کتنے لوگ بے روزگار ھوگئے ھیں ان چھٹیوں سے اندازہ کیجئے، سیروسیاحت رک گئ، وزیٹنگ ٹیچرز کی آمدن بند ھوگئی، غریب غربت کے اور نچلے لیول کی طرف جا رھا ھے، اپنا خیال ضرور رکھئے پر اپنے اردگرد لوگوں کو بھی نظر انداز مت کیجئے، مشکل وقت اکیلے گزارنا مشکل ھے ساتھ ساتھ رابطے میں رھنے سے جلد اور بہتر گزر جائے گا۔ اگر ممکن ھو تو ادھار مانگنے والے کی درخواست پر غور ضرور کریں۔ جو ممکن ھو اس کی مدد ضرور کریں۔ لوگوں کیلئے آسانی کریں، اللہ آپ کیلئے آسانیاں کریں گے انشاءاللہ۔ اگر ممکن ھو تو سفر سے گریز کریں، ضروری ھو تو احتیاطی تدابیر پر عمل کریں، ھر بس، ویگن سٹاپ پر ماسک مہیا کئے جائیں، کاغذ والے ماسک کو بھی گرم پانی میں بھگو کر دوبارہ استعمال کر سکتے ھیں بس اس کو ڈبو کر نکال لیں اور سکھا لیں، اگر کوئی کرونا سے ھلاک ھوتا ھے تو بداحتیاطی ھے مگر اگر کوئی آپکے آس پاس بھوک سے ھلاک ھوتا ھے تو اس کے ذمہ دار آپ ھیں۔ خیال کیجئے خیال رکھیئے، زندگی مشکل نہیں ھے مشکل مت بنائیے، جمع مت کیجئے تقسیم کیجئے، یہ وقت تقسیم کرنے کا ھے کرونا وائرس نہیں مال ودولت تقسیم کرنا ھے، سادگی اپنائیے، توبہ کیجئے صدقہ دیجئے حسب توفیق۔ یہ وقت بھی گزر جائے گا۔ حکومت تو ایک تقریر کے بعد بری الذمہ ھوگئی ھے اٹھئے اپنی مدد آپ کیجئے خیال کیجئے، آج کوئی بھوکا نہ سوئے، آپ کو پتہ ھے آپ کے آس پاس کون ضرورتمند ھے اگر نہیں تو پتہ کیجئے۔ کہیں دیر نہ ھوجائے۔ اس کی ضرورت پوری کیجئے۔ یہ آپ کی ذمہ داری ھے آپ پر فرض ھے، اس کا دین، مذھب، فرقہ مت دیکھئے بس مدد کیجئے خیال رکھیئے اللہ آپکا خیال رکھیں گے۔اگرصرف شادی ھال کی بندش کو لے لیں تو آپ کو اندازہ ھو جائے کہ کتنے لوگ بے روزگار ھوگئے، ویٹر، کھانا بنانے والے، کھانے کا سامان بیچنے والے، سٹیج بنانے والے،فلم اور فوٹو بنانے والے، شادی ھال والے، گاڑیوں والے سجاوٹ والے،ڈھول اور دھمال والے، سیکورٹی والے، ڈرائیورز، ان سب کا خیال کیجئے اس انڈسٹری سے وابستہ بہت سے لوگ بے روزگار ھوگئے جن کو روزانہ کی بنیاد پر ادائیگی ھوتی تھی۔ یہ تو ایک مثال ھے، پچاس لاکھ بچے مدرسوں سے گھروں کو واپس آئے ھیں جن کے کپڑے کھانا پینا مدرسے کی ذمہ داری تھا انکا خیال رکھئے، مزاروں پر لنگر بھی بہت سارے لوگوں کے روزگار اور خوراک کا ذریعہ تھے وہ بھی بند کر دیئے گئے، غربا اور مستحقین ھمارے ھی بہن بھائی اور بچے ھیں انکی کھلے دل سے مدد کیجئے، باقی دیکھنا، سوچنا، خیال رکھنا آپ کا کام ھے آئیے اس مشکل وقت کو آسان بنائیے۔

اللہ ھمارا مددگار ھو آمین۔ شکریہ

https://www.facebook.com/syedzaidzamanhamid/posts/2800058733382253?__tn__=K-R

Tuesday, 17 March 2020

March 17th, 2020

*رضیت باللہ ربا وبالاسلام دینا*




*رضیت باللہ ربا وبالاسلام دینا*

تحریر: سید زید ز مان حامد

قرآن پاک کو پڑھنے اور سمجھنے والا اللہ کا مزاج شناس ہوجاتا ہے، خودی کا ترجماں اور خدا کا رازدار ہوجاتا ہے۔اللہ نے قرآن میں پچھلی قوموں کے واقعات اسی لیے بیان فرمائے ہیں کہ ہم ان سے اپنے دور میں اللہ کے مزاج کو جان سکیں۔اللہ قرآن میں فرماتا ہے کہ وہ بعض لوگوں کے دلوں اور کانوں پر مہریں لگا دیتا ہے اور ان کی آنکھوں پر پردے ڈال دیتا ہے، اور انہی کیلئے(دنیا و آخرت میں) عظیم عذاب ہے۔کسی قوم پر سب سے بڑا عذاب ہی یہی ہے کہ اس پر مہریں لگا دی جائیں اور اس سے ہدایت اور توبہ کا موقع چھین لیا جائے۔

قرآن پاک ہی ہمیں بتایا ہے کہ جب اللہ عذاب کا فیصلہ کردے تو پھر توبہ کے دروازے بند کردیئے جاتے ہیں۔ مرنے سے پہلے تو فرعون بھی اللہ پر ایمان لے آیا تھا، مگر اللہ نے اس کی توبہ اس کے منہ پر ماری اور اسے غرق کردیا۔ توبہ کا دروازہ عذاب نازل ہونے کے بعد بند کردیا جاتا ہے۔سورة قریش میں اللہ تعالیٰ جب اپنے احسانات کو گنواتا ہے تو فرماتا ہے کہ جس کا مفہوم ہے کہ لوگوں کو اللہ کا شکر ادا کرنا چاہیے کہ جو ان کو بھوک اور خوف کے عذاب سے محفوظ کرکے رکھتا ہے۔ یعنی جب اللہ کسی کو سزا دینے لگتا ہے تو اس پر بھوک اور خوف کا عذاب ہی مسلط کرتا ہے۔قرآن پاک ہمیں یہ بھی بتایا ہے کہ یہ اللہ کی سنت ہے کہ وہ وقت کے فرعونوں کو اپنی کمزور ترین مخلوق سے تباہ و برباد بھی کرتا ہے اور رسواءبھی کرتا ہے۔ابراہہ کے لشکر کو ابابیلوں سے تباہ کروایا۔نمرود کو مچھر سے ہلاک کیا۔فرعون پر مینڈکوں اور ٹڈی دل کا عذاب بھیجا۔

سیدی رسول اللہﷺ نے ہمیں آج کے دور کے بارے میں اپنی کئی احادیث مبارکہ میں بہت واضح طور پر بتا دیا تھا کہ اس دور میں مسلمانوں پر کون کون سے فتنے اور عذاب نازل ہونگے۔علمائے سو کے ہاتھوں اسلام کی تباہی ، مسجدوں کا ہدایت سے خالی ہونا، قرآن میں صرف الفاظ رہ جاتا، سود کی کثرت ہونا، زنا کا عام ہونا اور فتنہءدجال۔۔۔!

کیا آپ نے کبھی غور کیا ہے کہ آج پوری دنیا میں کوئی ایک جگہ بھی باقی نہیں ہے کہ جہاں پر شریعت اور اللہ کا دین نافذ ہو۔۔۔؟سیدی رسول اللہﷺ کی حدیث شریف کے مطابق اسلام اپنے آخری دور اتنا ہی غریب ہوجائے گا کہ جتنا آغاز میں تھا۔۔۔مسجدیں تو بھری ہونگی، مگر ہدایت سے خالی۔۔۔

عربوں کی تباہی کے بارے میں بہت واضح احادیث مبارکہ موجود ہیں۔
عرب بت پرستی دوبارہ شروع کردیں گے۔اونچی اونچی عمارتیں بنانے میں ایک دوسرے سے مقابلہ کریں گے۔مکہ کی عمارتیں مکہ کے پہاڑوں سے بلند ہوجائیں گی۔عربوں میں موٹاپا عام ہوجائے گا۔

آج پوری دنیا میں جو مسلمانوں کو ذلت و رسوائی و تباہی کا سامنا ہے اس کے بارے میں سیدی رسول اللہﷺ نے بہت واضح فرمادیا تھا کہ مسلمان تعداد میں تو سمندر کی جھاگ کی طرح زیادہ ہونگے، مگر دنیا کی قومیں انہیں اس طرح کھائیں گی کہ جیسے بھوکے دستر خوان پر گرتے ہیں۔اور مسلمانوں کی اس ذلت و رسوائی کی وجہ بھی سیدی ﷺ نے بیان فرمادی تھی کہ وہ دنیا کی محبت اور موت کے خوف میں مبتلا ہوجائیں گے۔جب سیدیﷺ نے مسلمانوں کی یہ حالت بیان فرمائی تو وہ ان پر اللہ کے عذاب کی شکل بیان فرمائی تھی، ان پر اللہ کا فضل نہیں بیان فرمایا تھا۔

پورے قرآن کی حکمت اور سیدی رسول اللہﷺ کی احادیث مبارکہ کو سامنے رکھ کر آج کی دنیا کے حالات کو دیکھیں تو پھر کسی صاحب بصیرت کو اس بات پر شک نہیں ہے کہ ہم ایک بدترین زمانہ جاہلیت اور ظلم و کفر کے دور میں بس رہے ہیں۔ دجال کا نظام پوری طرح، پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے چکا ہے۔ہر وہ گناہ کہ جس پر اللہ نے پہلے کی پوری پوری بستیاں تباہ کیں، قومیں ہلاک کیں، آج وہ تمام گناہ پوری شدت کے ساتھ، پوری تشہیر کے ساتھ، تمام انسانیت میں رائج ہیں۔چاہے زنا ہو، لواطت ہو، سود ہو، قتل و غارت و فساد فی الارض ہو، کفر و شرک و بدعت ہو، اللہ کی شریعت کا انکار اور شیطان کی پوجا ہو۔

سیدی رسول اللہﷺ نے فتنوں اور دجال کے دور کے حوالے سے یہ بھی بیان فرمادیا تھا کہ حج اور عمرے بھی بند ہوجائیں گے۔آج جو کچھ پوری دنیا میں ہورہا ہے ہر صاحب نظر جانتا ہے کہ یہ اللہ کی پکڑ، اس کی جانب سے سختی اور سزا کا تازیانہ ہے۔وقت کے فرعون ایک نہ نظر آنے والے کیڑے کے ہاتھوں تباہ کیے جارہے ہیں، بھوک اور خوف کا عذاب مسلط کیا جارہا ہے۔

پاکستان کی بات کریں تو بحیثیت ایک قوم کونسی ذلالت، ظلم، گناہ اور بے حیائی ہے کہ جو ہم نہیں کررہے، حکمران ہوں، علماءہوں یا عام آدمی۔۔۔

صاحب بصیرت لوگ بہت عرصے سے تنبیہ و نصیحت کرتے آرہے تھے کہ اگر اس قوم نے توبہ نہ کی تو اس پر معیشت کی تباہی اور جان و مال و عزت و ایمان کی تباہی کا عذاب مسلط ہوگا۔اللہ کے عذاب کی ایک بہت بڑی نشانی یہ ہے کہ جن پر اللہ کا عذاب نازل ہورہا ہوتا ہے ان کو معلوم ہی نہیں ہوتا کہ اللہ جلال میں ہے اور اب ان کی سزا کا وقت آچکا ہے۔ وہ آخری وقت تک اپنی خرمستیوں میں ہی لگے رہتے ہیں اور خبردار کرنے والوں کی توہین و تذلیل کرتے رہتے ہیں حتیٰ کہ اللہ کا عذاب ان کو آپکڑتا ہے۔

اب جو کچھ دنیا میں ہورہا ہے اور پاکستان میں بھی، کیا یہ بھوک اور خوف کا عذاب نہیں ہے۔۔۔؟کیا ابھی بھی کوئی احمق یہ سمجھتا ہے کہ اللہ ہم سے بہت راضی ہے۔۔۔؟کیا تم لوگوں کو بتایا نہیں گیا تھا کہ جرات و دلیری و غیرت کا راستہ اختیار کرو ورنہ اللہ تم پر ذلت و بھوک و خوف کے عذاب مسلط کرے گا۔۔۔؟

اب اس قوم کے ساتھ جو کچھ ہوگا، اس بھٹی میں سے سب کو گزرنا ہوگا۔ اللہ بہت بے نیاز بادشاہ ہے، جس کو چاہے عذاب دے، جس کو چاہے بخش دے، جس کو چاہے انعام دے۔اب صبر اور استقامت سے اس وقت کو گزاریں۔جو فساد پھیلائے گا، ماتم کرے گا، وہی اللہ کے عذاب میں بھی ہوگا!

اللہ اس پاک سرزمین کی حفاظت فرمائے، مگر اس بستی میں بسنے والوں نے اپنی جانوں پر بہت ظلم کردیئے ہیں۔
یا اللہ گواہ رہنا کہ : رضیت باللہ ربا وبالاسلام دینا وبمحمد ﷺ نبیا ورسولا۔
٭٭٭٭٭

https://www.facebook.com/syedzaidzamanhamid/posts/2798013260253467?__tn__=K-R

Saturday, 14 March 2020

March 14th, 2020

اے بندے، ایک تیری چاہت ہے اور ایک میری چاہت ہے۔۔۔اور آخر میں ہو گا تو وہی جو میری چاہت ہے۔۔۔۔

اللہ اکبر!!


https://www.youtube.com/watch?v=Vyco7exRg0o&feature=youtu.be&fbclid=IwAR1CXyyeUruW8kEBt1PxvKTySc9coJmIgBDWkNQ5hK57D-nUYHhQOk5N37s

اے بندے، ایک تیری چاہت ہے اور ایک میری چاہت ہے۔۔۔اور آخر میں ہو گا تو وہی جو میری چاہت ہے۔۔۔۔

اللہ اکبر!!

https://www.facebook.com/syedzaidzamanhamid/posts/2790303867691073?__xts__%5B0%5D=68.ARA3sgOeQdA6RlIwWwT__t4YYCahzd06qOqNEmDoTeS6doV3vJlsb2uFMhhmu0uiGOFb5FxJ8-ug_T48HBNsiPzp75ufu0Vlr0h3tZiANn_ncFBRU9aRsPZA9rw53W0spTxHOwf00ljKFVLqVONjlJHZTMEiTmwnzJwe1HC2TV3pdq4yMPH81Paa8AK7GjKB_4Kzsc9oV_13lkjrKz3YLFoHlbLS-YNsmM9EPcYHlPuxw6Cp0p_xezXz5VNV8fUYpZOG3J__N3x0i3-_rGGzuSpbxojJH_ofeFkdJLj3bwyzxu7e979CxEHxVDyuW92R-vs0uv1X15mBr5wek8_lowo1Rg&__tn__=-R

Thursday, 12 March 2020

March 13th, 2020


I am personally convinced that #CoronavirusPandemic is a deliberate "Black Swan" event....another orchestrated trigger to bring about complete change into the Social, Economic, Political & Religious structure of the world.

A New world order


https://twitter.com/ZaidZamanHamid/status/1238152068654923776?s=19&fbclid=IwAR1BwniTbZy2VUppgpSnaKsOoOrUe3lcOqljmOPtkedW9Tlm35Qypb36Qno

I am personally convinced that #CoronavirusPandemic is a deliberate "Black Swan" event....another orchestrated trigger to bring about complete change into the Social, Economic, Political & Religious structure of the world.
A New world order.
It has started happening already.

Countries are turning into fortresses, population is being locked up in cities, military is being prepared & even deployed into urban centers, Govt's declaring emergency & grabbing dictatorial powers....
Fear is their main weapon & its being spread through careful Psy-Ops.

Those powers implementing this #NWO are too powerful at the moment & have unleashed their entire potential to bring about this global chaos. It is like being in the era of WW1 & WW2, where ordinary people had NO say in the great destruction being caused by the global players.

These are unprecedented times. Almost 95% population of the world have never seen anything like this & the fear, panic & confusion is understandable.
In first world super markets, people are fighting over toilet papers...as complete meltdown seems imminent.
US bans EU flights!

It was for these times that I was screaming that we must save & store our grains & protect our food supplies. Only those countries would ride through this chaos who are food sufficient.
Despite oil at under $30, global traveling has almost stopped, supply chains ruptured...

Those countries who were not prepared for this "Black Swan" would now suffer heavily. Global economy is in a shut down mode, trade is being stopped, transport is parked....service industry would be wrecked.
Economic chaos would bring social turmoils, many govts could topple.

Every country will need nerves of steel & rock solid determination to ride this wave. Those suffering from corruption, bad governance & untrained uneducated population could see urban wars, civil chaos & even Martial Laws.
We dont know how long this crisis will last !
Now pray!

https://www.facebook.com/syedzaidzamanhamid/posts/2786954431359350?__tn__=-R

Wednesday, 11 March 2020

March 11th, 2020

Alhamdolillah, our epic memoirs "From Indus to Oxus" is now translated in Arabic.  We are presenting it as a gift to Arabic speaking Muslims globally. You can download from this link free of cost



https://www.scribd.com/document/451245168/From-Indus-to-Oxus-Arabic-Language-by-Syed-Zaid-Zaman-Hamid?fbclid=IwAR1WlW-44hFACjwhqNLmoplgxxjQ__bb8LcjdAtwg2rDc8yze8RtqvPOT0I




Alhamdolillah, our epic memoirs "From Indus to Oxus" is now translated in Arabic.
We are presenting it as a gift to Arabic speaking Muslims globally. You can download from this link free of cost.

No such book exist in modern literature and it gives a unique insight into the history and present times if the Afghan conflict.
Book is already available in Urdu and English.
You may share the pdf with your Arab friends.
Stay blessed...

بحمد الله انتهينا من ترجمة كتابنا (من نهر السند إلى نهر جيحون) ونقدمه اليوم هدية لكل من يتحدث اللغة العربية حول العالم.
يمكنكم تحميل الكتاب من الرابط مجانا.
لا يوجد كتاب في العصر الحالي تحدث عن هذه المرحلة الحاسمة من التاريخ عن الصراع الأفغاني كما فعلنا

https://www.facebook.com/syedzaidzamanhamid/posts/2784387158282744?__xts__%5B0%5D=68.ARDdtdcMCv2M96I_0BDX6U2Ro-UVn0x5d818Bz6shLkn2o6LWvRBEzOnsBFwy1aWSfRewpPS--qF-GEewGgqsXaXcbv_eMlzTuKjqxmli72L6Dypyr1pRdC0D_YbRy3sYDtRjjNDkwQ6SmFRRImao4uyKNUg_E23oHpRIaShrJoHUGs89HSBtsZY-jJK_mGn2DbNY3cIGtLZfAdA3_P_eC74RjjShYtuympPrFbFn3goRRvV9jf7cBzVGqIM3r2WESgKSCXufspqrguDAzCpD5Gp2Ihc3Hg8AZLPl2r3HEJ95Z3d27u_0tcaHuQ2YXHWeEVTxkbSOI3LUNv8Urz_36ABFQ&__tn__=-R